<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - World</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 08:48:14 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 08:48:14 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>امریکہ نے وینزویلا کے صدر مادورو کو حراست میں لے کر بیرون ملک منتقل کردیا، صدر ٹرمپ</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40281206/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ امریکہ نے ہفتے کے روز وینزویلا پر حملہ کیا اور اس کے طویل عرصے تک حکمرانی کرنے والے آمرانہ صدر نکولس مادورو کو معزول کر دیا، یہ 1989 میں پاناما پر حملے کے بعد سے لاطینی امریکہ میں واشنگٹن کی انتہائی کھلی مداخلت ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹرمپ نے ٹروتھ سوشل پر پوسٹ میں کہا کہ امریکہ نے وینزویلا اور اس کے صدر نکولس مادورو کے خلاف ایک بڑے پیمانے پر کارروائی کامیابی سے مکمل کرلی ہے جنہیں ان کی اہلیہ سمیت گرفتار کرکے ملک سے باہر منتقل کر دیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رات بھر کے حملوں سے قبل، امریکہ نے مادورو پر ایک ” نارکو ریاست“ ( منشیات کی سرپرستی کرنے والی ریاست ) چلانے اور 2024 کے انتخابات میں دھاندلی کرنے کا الزام عائد کیا تھا، جسے اپوزیشن نے واضح اکثریت کے ساتھ جیتا بتایا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وینزویلا کے رہنما، 63 سالہ سابق بس ڈرائیور، جنہیں ہیگو شاویز نے 2013 میں اپنا جانشین منتخب کیا تھا، نے ان الزامات کی تردید کی اور کہا کہ واشنگٹن کا مقصد اس کے ملک کے تیل کے ذخائر پر کنٹرول حاصل کرنا ہے، جو دنیا میں سب سے بڑے ذخائر ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;37 سال قبل پاناما پر حملے کے بعد امریکہ نے اپنے ہمسایہ خطے میں اس نوعیت کی براہِ راست مداخلت نہیں کی تھی، جب وہ اسی طرح کے الزامات کی بنیاد پر فوجی رہنما مینویل نوریگا کو برطرف کر رہا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وینزویلا کی حکومت نے کہا ہے کہ ہفتے کے روز ہونے والے حملوں میں عام شہری اور فوجی اہلکار ہلاک ہوئے ہیں، تاہم ان ہلاکتوں کی تعداد نہیں بتائی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;مادورو کو امریکہ میں فوجداری مقدمات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹرمپ نے کہا ہے کہ یہ کارروائی ” امریکی قانون نافذ کرنے والے اداروں کے تعاون سے“ انجام دی گئی، اور فلوریڈا کے اپنے مار-اے-لاگو ریزورٹ میں صبح 11 بجے ( عالمی معیاری وقت کے مطابق شام چار بجے) ہونے والی پریس کانفرنس میں مزید تفصیلات بتانے کا وعدہ کیا ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full  sm:w-full  media--left  ' data-original-src='https://i.brecorder.com/large/2026/01/03182327e6c48e8.webp'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.brecorder.com/large/2026/01/03182327e6c48e8.webp'  alt='' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;رائٹرز کو ایک امریکی اہلکار نے بتایا کہ مادورو کو ایلیٹ اسپیشل فورسز کے اہلکاروں نے حراست میں لیا۔ رپبلکن امریکی سینیٹر مائیک لی نے کہا کہ سیکریٹری آف اسٹیٹ مارکو روبیو نے انہیں بتایا کہ مادورو کو امریکہ میں فوجداری الزامات کے تحت مقدمے کا سامنا کرنا پڑے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لی نے ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر لکھا کہ روبیو کا خیال ہے کہ مادورو کے امریکہ میں زیرِ حراست ہونے کے بعد وینزویلا میں مزید کارروائی کی ضرورت نہیں ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاناما کے معاملے میں، نوریگا کو 20 سال قید کی سزا سنائی گئی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وینزویلا کی نائب صدر ڈیلسی رودریگیز، جو حکومت کی ذمہ داری سنبھال سکتی ہیں، نے کہا کہ انہیں مادورو یا ان کی اہلیہ کا کوئی پتا نہیں ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رودریگیز نے سرکاری ٹی وی پر چلائے گئے ایک آڈیو پیغام میں کہا ہے کہ ” ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی حکومت فوری طور پر صدر مادورو اور فرسٹ لیڈی کی موجودگی کا ثبوت فراہم کرے۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیر دفاع ولادیمیر پادرینو نے اس مداخلت کی شدید مذمت کی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پادرینو نے سرکاری میڈیا پر ایک ویڈیو میں کہا ہے کہ ” آزاد، خودمختار اور خودمختاری رکھنے والا وینزویلا اپنی آزادی کی تاریخ کی تمام قوت کے ساتھ ان غیر ملکی فوجیوں کی موجودگی کو مسترد کرتا ہے، جنہوں نے صرف موت، درد اور تباہی پھیلا کر چھوڑا ہے۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مزید کہا کہ ” آج ہم اپنے حق کے دفاع میں اپنی قوت یکجا کرتے ہیں۔ آئیے متحد ہوں، کیونکہ عوام کی یکجہتی میں ہم مزاحمت اور فتح کا حوصلہ پائیں گے۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جب وینزویلا کے شہری نروس ہو کر اگلے اقدامات کے بارے میں سوچ رہے تھے، اندرونی امور کے وزیر ڈیوس ڈاڈو کیبیو سٹیٹ ٹی وی پر سڑک پر ہیلمٹ اور فلک جیکٹ پہنے نمودار ہوئے اور لوگوں پر زور دیا کہ وہ ” دہشت گرد دشمن“ کے ساتھ تعاون نہ کریں۔&lt;/p&gt;
&lt;h3&gt;&lt;a id="وینزویلا-میں-کارروائی-ماضی-کی-امریکی-مداخلتوں-کی-یاد-دلاتی-ہے" href="#وینزویلا-میں-کارروائی-ماضی-کی-امریکی-مداخلتوں-کی-یاد-دلاتی-ہے" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;وینزویلا میں کارروائی ماضی کی امریکی مداخلتوں کی یاد دلاتی ہے&lt;/h3&gt;
&lt;p&gt;اگرچہ مختلف لاطینی امریکی حکومتیں مادورو کی مخالفت کرتی ہیں اور کہتی ہیں کہ انہوں نے 2024 کے انتخابات میں دھاندلی کی، لیکن امریکہ کی براہِ راست کارروائی ماضی کی مداخلتوں کی تکلیف دہ یادیں تازہ کرتی ہے اور خطے کی حکومتوں اور عوام کی طرف سے عام طور پر سخت مخالفت کا سبب بنتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹرمپ کا اقدام مونرو ڈکٹورن (1823) کی یاد دلاتا ہے، جس میں صدر جیمز مونرو نے اس خطے میں امریکی اثر و رسوخ کا دعویٰ کیا تھا، اور اسی طرح 1900 کی دہائی کے اوائل میں تھیوڈور روزویلٹ کے دور میں دیکھی گئی “گن بوٹ ڈپلومیسی” کی جھلک بھی پیش کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وینزویلا کی اپوزیشن، جس کی قیادت حالیہ نوبل امن انعام یافتہ ماریا کورینا ماچادو کر رہی ہیں، نے ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ وہ اس واقعے پر کوئی سرکاری تبصرہ نہیں کر رہی۔ اپوزیشن کا کہنا ہے کہ مادورو نے بار بار انتخابات میں انہیں اقتدار سے محروم کیا، سڑک احتجاج کو دبایا اور اپوزیشن رہنماؤں کو قید کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مادورو نے ماچادو کو ٹرمپ کی جیب میں ہونے کا مذاق اڑایا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ہفتے کی ابتدائی صبح کے اوقات میں، وینزویلا کے دارالحکومت کاراکاس اور دیگر علاقوں میں دھماکوں کی آوازیں گونجیں، جس کے بعد مادورو کی حکومت نے قومی ہنگامی صورتحال کا اعلان کیا اور فوج کو متحرک کیا۔ حکومت کے مطابق حملے میرینڈا، آراگوا اور لا گویرا کے صوبوں میں بھی ہوئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تقریباً صبح 2 بجے ( عالمی معیاری وقت کے مطابق صبح کے چھ بجے) سے 90 منٹ تک کاراکاس میں دھماکے سنے گئے، ہوائی جہاز اور کالا دھواں دیکھا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;شہریوں نے دھوئیں اور آسمان میں روشن نارنجی روشنیوں کی ویڈیوز بنا کر خوف اور صدمے کا اظہار کیا۔ ایک خاتون نے ویڈیو میں کہا کہ ” میرے پیارے، اوہ نہیں، یہ دیکھو!“ اور دور سے سنائی دینے والے دھماکوں پر حیرت کا اظہارکیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاراکاس کے مشرقی علاقے کی 50 سالہ رہائشی کارمین مارکیز نے کہا کہ وہ چھت پر گئی اور مختلف بلندیوں پر پرواز کرتے ہوئے ہوائی جہازوں کی آوازیں سنیں، حالانکہ انہیں دیکھ نہیں سکی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ ” آسمان میں فلیئر جیسی روشنییں گزر رہی تھیں اور پھر دھماکوں کی آوازیں آئیں۔ ہم فکر مند ہیں کہ آگے کیا ہوگا۔ حکومت کی طرف سے کچھ نہیں معلوم، بس جو سرکاری ٹی وی بتاتا ہے وہ معلوم ہوتا ہے۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;شاہدین کے مطابق کاراکاس کے جنوبی علاقے میں، جو ایک بڑی فوجی اڈے کے قریب ہے، بجلی بھی بند رہی۔ حکومتی سوشلسٹ پارٹی سے منسلک ایک مقامی میڈیا نے بتایا کہ دھماکے فورٹے ٹیوینا اور لا کارلوٹا فوجی اڈوں کے قریب ہوئے۔&lt;/p&gt;
&lt;h3&gt;&lt;a id="امریکی-اہلکار-کا-پیغام--نئی-صبح-آمر-چلا-گیا-" href="#امریکی-اہلکار-کا-پیغام--نئی-صبح-آمر-چلا-گیا-" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;امریکی اہلکار کا پیغام: ” نئی صبح، آمر چلا گیا “&lt;/h3&gt;
&lt;p&gt;امریکی نائب وزیر خارجہ کرسٹوفر لینڈاؤ نے ایکس پر لکھا، ” وینزویلا کے لیے نئی صبح! آمر چلا گیا۔“&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--left  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/DeputySecState/status/2007393216535081418'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/DeputySecState/status/2007393216535081418"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;ہفتے کی صبح سورج نکلنے کے ساتھ وینزویلا کی سڑکیں نسبتاً پر سکون نظر آئیں۔ کچھ حصوں میں فوجی گشت کر رہے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماراکائے شہر کی 37 سالہ تاجرہ کارولینا پِمنٹل نے کہا، “میں خوش ہوں، ایک لمحے کے لیے مجھے یقین نہیں آ رہا تھا کہ یہ ہو رہا ہے کیونکہ یہ کسی فلم کی طرح لگتا ہے۔ اب سب کچھ پر سکون ہے، لیکن ایسا محسوس ہوتا ہے کہ کسی بھی لمحے سب جشن منانے نکل آئیں گے۔”&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وینزویلا کے حلیف روس، کیوبا اور ایران نے فوری طور پر حملوں کی مذمت کی۔ تہران نے اسے “قومی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی کھلی خلاف ورزی” قرار دیا اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سے “غیر قانونی جارحیت” روکنے کے لیے مداخلت کا مطالبہ کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹرمپ نے بار بار وینزویلا میں زمینی کارروائی کا وعدہ کیا اور پیر کو خبردار کیا کہ مادورو کے لیے بہتر ہوگا کہ وہ ملک چھوڑ دے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکہ نے خطے میں بڑے پیمانے پر فوجی تعیناتی کی ہے، جس میں ایک ایئرکرافٹ کیریئر، جنگی جہاز اور جدید لڑاکا طیارے کیریبین میں تعینات ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;h3&gt;&lt;a id="ٹرمپ-کے-لیے-سیاسی-ردعمل" href="#ٹرمپ-کے-لیے-سیاسی-ردعمل" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;ٹرمپ کے لیے سیاسی ردعمل؟&lt;/h3&gt;
&lt;p&gt;ٹرمپ نے وینزویلا کے تیل پر “محاصرہ” نافذ کرنے، مادورو حکومت کے خلاف پابندیاں بڑھانے اور پیسیفک اوشن اور کیریبین سمندر میں مبینہ طور پر منشیات کی سمگلنگ میں ملوث جہازوں پر دو درجن سے زائد حملے کرنے کی کوشش کی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹرمپ نے وینزویلا پر الزام لگایا کہ وہ امریکہ میں منشیات بھرتا رہا ہے اور اس کی انتظامیہ مہینوں سے ایسے جہاز بمباری کر رہی ہے، جس میں 110 سے زائد افراد ہلاک ہوئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بہت سے ممالک نے ان حملوں کو غیر قانونی قتل قرار دیا ہے اور مادورو کی حکومت نے ہمیشہ منشیات کی اسمگلنگ میں ملوث ہونے کی تردید کی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ واضح نہیں تھا کہ تازہ امریکی حملے کس قانونی اختیار کے تحت کیے گئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹرمپ کے اقدام سے امریکی کانگریس کی طرف سے ردعمل کا خطرہ ہے، جسے آئینی حق حاصل ہے کہ وہ جنگ کا اعلان کرے، اور ان کے اپنے سیاسی حامی بھی ناراض ہو سکتے ہیں، جو”امریکہ پہلے“ پالیسی کے حامی ہیں اور عام طور پر بیرون ملک فوجی مداخلت کے خلاف ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دو ذرائع نے بتایا کہ وینزویلا کی سرکاری توانائی کمپنی پی ڈی وی ایس اے کی تیل کی پیداوار اور ریفائننگ معمول کے مطابق ہے اور اس کی سب سے اہم تنصیبات کو ابتدائی جائزے کے مطابق کوئی نقصان نہیں پہنچا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاراکاس کے قریب لا گویرا بندرگاہ، جو ملک کی سب سے بڑی بندرگاہوں میں سے ایک ہے مگر تیل کے آپریشن کے لیے استعمال نہیں ہوتی، شدید نقصان کا شکار ہوئی، ایک ذریعہ نے بتایا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایم ایس ٹی مارکی تجزیہ کار سول کیوونک نے کہا کہ تیل کی قیمتیں قلیل مدتی طور پر سپلائی کے خطرے کی وجہ سے بڑھ سکتی ہیں، لیکن اگر نئی وینزویلا حکومت کے نتیجے میں پابندیاں ہٹائی جاتی ہیں اور غیر ملکی سرمایہ کاری دوبارہ آتی ہے تو امریکی حملہ درمیانے مدت میں قیمتوں پر دباؤ ڈال سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ امریکہ نے ہفتے کے روز وینزویلا پر حملہ کیا اور اس کے طویل عرصے تک حکمرانی کرنے والے آمرانہ صدر نکولس مادورو کو معزول کر دیا، یہ 1989 میں پاناما پر حملے کے بعد سے لاطینی امریکہ میں واشنگٹن کی انتہائی کھلی مداخلت ہے۔</strong></p>
<p>ٹرمپ نے ٹروتھ سوشل پر پوسٹ میں کہا کہ امریکہ نے وینزویلا اور اس کے صدر نکولس مادورو کے خلاف ایک بڑے پیمانے پر کارروائی کامیابی سے مکمل کرلی ہے جنہیں ان کی اہلیہ سمیت گرفتار کرکے ملک سے باہر منتقل کر دیا گیا ہے۔</p>
<p>رات بھر کے حملوں سے قبل، امریکہ نے مادورو پر ایک ” نارکو ریاست“ ( منشیات کی سرپرستی کرنے والی ریاست ) چلانے اور 2024 کے انتخابات میں دھاندلی کرنے کا الزام عائد کیا تھا، جسے اپوزیشن نے واضح اکثریت کے ساتھ جیتا بتایا۔</p>
<p>وینزویلا کے رہنما، 63 سالہ سابق بس ڈرائیور، جنہیں ہیگو شاویز نے 2013 میں اپنا جانشین منتخب کیا تھا، نے ان الزامات کی تردید کی اور کہا کہ واشنگٹن کا مقصد اس کے ملک کے تیل کے ذخائر پر کنٹرول حاصل کرنا ہے، جو دنیا میں سب سے بڑے ذخائر ہیں۔</p>
<p>37 سال قبل پاناما پر حملے کے بعد امریکہ نے اپنے ہمسایہ خطے میں اس نوعیت کی براہِ راست مداخلت نہیں کی تھی، جب وہ اسی طرح کے الزامات کی بنیاد پر فوجی رہنما مینویل نوریگا کو برطرف کر رہا تھا۔</p>
<p>وینزویلا کی حکومت نے کہا ہے کہ ہفتے کے روز ہونے والے حملوں میں عام شہری اور فوجی اہلکار ہلاک ہوئے ہیں، تاہم ان ہلاکتوں کی تعداد نہیں بتائی گئی۔</p>
<p><strong>مادورو کو امریکہ میں فوجداری مقدمات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے</strong></p>
<p>ٹرمپ نے کہا ہے کہ یہ کارروائی ” امریکی قانون نافذ کرنے والے اداروں کے تعاون سے“ انجام دی گئی، اور فلوریڈا کے اپنے مار-اے-لاگو ریزورٹ میں صبح 11 بجے ( عالمی معیاری وقت کے مطابق شام چار بجے) ہونے والی پریس کانفرنس میں مزید تفصیلات بتانے کا وعدہ کیا ہے۔</p>
    <figure class='media  w-full  sm:w-full  media--left  ' data-original-src='https://i.brecorder.com/large/2026/01/03182327e6c48e8.webp'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.brecorder.com/large/2026/01/03182327e6c48e8.webp'  alt='' /></picture></div>
        
    </figure>
<p>رائٹرز کو ایک امریکی اہلکار نے بتایا کہ مادورو کو ایلیٹ اسپیشل فورسز کے اہلکاروں نے حراست میں لیا۔ رپبلکن امریکی سینیٹر مائیک لی نے کہا کہ سیکریٹری آف اسٹیٹ مارکو روبیو نے انہیں بتایا کہ مادورو کو امریکہ میں فوجداری الزامات کے تحت مقدمے کا سامنا کرنا پڑے گا۔</p>
<p>لی نے ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر لکھا کہ روبیو کا خیال ہے کہ مادورو کے امریکہ میں زیرِ حراست ہونے کے بعد وینزویلا میں مزید کارروائی کی ضرورت نہیں ہے۔</p>
<p>پاناما کے معاملے میں، نوریگا کو 20 سال قید کی سزا سنائی گئی تھی۔</p>
<p>وینزویلا کی نائب صدر ڈیلسی رودریگیز، جو حکومت کی ذمہ داری سنبھال سکتی ہیں، نے کہا کہ انہیں مادورو یا ان کی اہلیہ کا کوئی پتا نہیں ہے۔</p>
<p>رودریگیز نے سرکاری ٹی وی پر چلائے گئے ایک آڈیو پیغام میں کہا ہے کہ ” ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی حکومت فوری طور پر صدر مادورو اور فرسٹ لیڈی کی موجودگی کا ثبوت فراہم کرے۔“</p>
<p>وزیر دفاع ولادیمیر پادرینو نے اس مداخلت کی شدید مذمت کی ہے۔</p>
<p>پادرینو نے سرکاری میڈیا پر ایک ویڈیو میں کہا ہے کہ ” آزاد، خودمختار اور خودمختاری رکھنے والا وینزویلا اپنی آزادی کی تاریخ کی تمام قوت کے ساتھ ان غیر ملکی فوجیوں کی موجودگی کو مسترد کرتا ہے، جنہوں نے صرف موت، درد اور تباہی پھیلا کر چھوڑا ہے۔“</p>
<p>انہوں نے مزید کہا کہ ” آج ہم اپنے حق کے دفاع میں اپنی قوت یکجا کرتے ہیں۔ آئیے متحد ہوں، کیونکہ عوام کی یکجہتی میں ہم مزاحمت اور فتح کا حوصلہ پائیں گے۔“</p>
<p>جب وینزویلا کے شہری نروس ہو کر اگلے اقدامات کے بارے میں سوچ رہے تھے، اندرونی امور کے وزیر ڈیوس ڈاڈو کیبیو سٹیٹ ٹی وی پر سڑک پر ہیلمٹ اور فلک جیکٹ پہنے نمودار ہوئے اور لوگوں پر زور دیا کہ وہ ” دہشت گرد دشمن“ کے ساتھ تعاون نہ کریں۔</p>
<h3><a id="وینزویلا-میں-کارروائی-ماضی-کی-امریکی-مداخلتوں-کی-یاد-دلاتی-ہے" href="#وینزویلا-میں-کارروائی-ماضی-کی-امریکی-مداخلتوں-کی-یاد-دلاتی-ہے" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>وینزویلا میں کارروائی ماضی کی امریکی مداخلتوں کی یاد دلاتی ہے</h3>
<p>اگرچہ مختلف لاطینی امریکی حکومتیں مادورو کی مخالفت کرتی ہیں اور کہتی ہیں کہ انہوں نے 2024 کے انتخابات میں دھاندلی کی، لیکن امریکہ کی براہِ راست کارروائی ماضی کی مداخلتوں کی تکلیف دہ یادیں تازہ کرتی ہے اور خطے کی حکومتوں اور عوام کی طرف سے عام طور پر سخت مخالفت کا سبب بنتی ہے۔</p>
<p>ٹرمپ کا اقدام مونرو ڈکٹورن (1823) کی یاد دلاتا ہے، جس میں صدر جیمز مونرو نے اس خطے میں امریکی اثر و رسوخ کا دعویٰ کیا تھا، اور اسی طرح 1900 کی دہائی کے اوائل میں تھیوڈور روزویلٹ کے دور میں دیکھی گئی “گن بوٹ ڈپلومیسی” کی جھلک بھی پیش کرتا ہے۔</p>
<p>وینزویلا کی اپوزیشن، جس کی قیادت حالیہ نوبل امن انعام یافتہ ماریا کورینا ماچادو کر رہی ہیں، نے ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ وہ اس واقعے پر کوئی سرکاری تبصرہ نہیں کر رہی۔ اپوزیشن کا کہنا ہے کہ مادورو نے بار بار انتخابات میں انہیں اقتدار سے محروم کیا، سڑک احتجاج کو دبایا اور اپوزیشن رہنماؤں کو قید کیا۔</p>
<p>مادورو نے ماچادو کو ٹرمپ کی جیب میں ہونے کا مذاق اڑایا ہے۔</p>
<p>ہفتے کی ابتدائی صبح کے اوقات میں، وینزویلا کے دارالحکومت کاراکاس اور دیگر علاقوں میں دھماکوں کی آوازیں گونجیں، جس کے بعد مادورو کی حکومت نے قومی ہنگامی صورتحال کا اعلان کیا اور فوج کو متحرک کیا۔ حکومت کے مطابق حملے میرینڈا، آراگوا اور لا گویرا کے صوبوں میں بھی ہوئے۔</p>
<p>تقریباً صبح 2 بجے ( عالمی معیاری وقت کے مطابق صبح کے چھ بجے) سے 90 منٹ تک کاراکاس میں دھماکے سنے گئے، ہوائی جہاز اور کالا دھواں دیکھا گیا۔</p>
<p>شہریوں نے دھوئیں اور آسمان میں روشن نارنجی روشنیوں کی ویڈیوز بنا کر خوف اور صدمے کا اظہار کیا۔ ایک خاتون نے ویڈیو میں کہا کہ ” میرے پیارے، اوہ نہیں، یہ دیکھو!“ اور دور سے سنائی دینے والے دھماکوں پر حیرت کا اظہارکیا۔</p>
<p>کاراکاس کے مشرقی علاقے کی 50 سالہ رہائشی کارمین مارکیز نے کہا کہ وہ چھت پر گئی اور مختلف بلندیوں پر پرواز کرتے ہوئے ہوائی جہازوں کی آوازیں سنیں، حالانکہ انہیں دیکھ نہیں سکی۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ ” آسمان میں فلیئر جیسی روشنییں گزر رہی تھیں اور پھر دھماکوں کی آوازیں آئیں۔ ہم فکر مند ہیں کہ آگے کیا ہوگا۔ حکومت کی طرف سے کچھ نہیں معلوم، بس جو سرکاری ٹی وی بتاتا ہے وہ معلوم ہوتا ہے۔“</p>
<p>شاہدین کے مطابق کاراکاس کے جنوبی علاقے میں، جو ایک بڑی فوجی اڈے کے قریب ہے، بجلی بھی بند رہی۔ حکومتی سوشلسٹ پارٹی سے منسلک ایک مقامی میڈیا نے بتایا کہ دھماکے فورٹے ٹیوینا اور لا کارلوٹا فوجی اڈوں کے قریب ہوئے۔</p>
<h3><a id="امریکی-اہلکار-کا-پیغام--نئی-صبح-آمر-چلا-گیا-" href="#امریکی-اہلکار-کا-پیغام--نئی-صبح-آمر-چلا-گیا-" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>امریکی اہلکار کا پیغام: ” نئی صبح، آمر چلا گیا “</h3>
<p>امریکی نائب وزیر خارجہ کرسٹوفر لینڈاؤ نے ایکس پر لکھا، ” وینزویلا کے لیے نئی صبح! آمر چلا گیا۔“</p>
    <figure class='media  w-full  w-full  media--left  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/DeputySecState/status/2007393216535081418'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/DeputySecState/status/2007393216535081418"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure>
<p>ہفتے کی صبح سورج نکلنے کے ساتھ وینزویلا کی سڑکیں نسبتاً پر سکون نظر آئیں۔ کچھ حصوں میں فوجی گشت کر رہے تھے۔</p>
<p>ماراکائے شہر کی 37 سالہ تاجرہ کارولینا پِمنٹل نے کہا، “میں خوش ہوں، ایک لمحے کے لیے مجھے یقین نہیں آ رہا تھا کہ یہ ہو رہا ہے کیونکہ یہ کسی فلم کی طرح لگتا ہے۔ اب سب کچھ پر سکون ہے، لیکن ایسا محسوس ہوتا ہے کہ کسی بھی لمحے سب جشن منانے نکل آئیں گے۔”</p>
<p>وینزویلا کے حلیف روس، کیوبا اور ایران نے فوری طور پر حملوں کی مذمت کی۔ تہران نے اسے “قومی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی کھلی خلاف ورزی” قرار دیا اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سے “غیر قانونی جارحیت” روکنے کے لیے مداخلت کا مطالبہ کیا۔</p>
<p>ٹرمپ نے بار بار وینزویلا میں زمینی کارروائی کا وعدہ کیا اور پیر کو خبردار کیا کہ مادورو کے لیے بہتر ہوگا کہ وہ ملک چھوڑ دے۔</p>
<p>امریکہ نے خطے میں بڑے پیمانے پر فوجی تعیناتی کی ہے، جس میں ایک ایئرکرافٹ کیریئر، جنگی جہاز اور جدید لڑاکا طیارے کیریبین میں تعینات ہیں۔</p>
<h3><a id="ٹرمپ-کے-لیے-سیاسی-ردعمل" href="#ٹرمپ-کے-لیے-سیاسی-ردعمل" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>ٹرمپ کے لیے سیاسی ردعمل؟</h3>
<p>ٹرمپ نے وینزویلا کے تیل پر “محاصرہ” نافذ کرنے، مادورو حکومت کے خلاف پابندیاں بڑھانے اور پیسیفک اوشن اور کیریبین سمندر میں مبینہ طور پر منشیات کی سمگلنگ میں ملوث جہازوں پر دو درجن سے زائد حملے کرنے کی کوشش کی ہے۔</p>
<p>ٹرمپ نے وینزویلا پر الزام لگایا کہ وہ امریکہ میں منشیات بھرتا رہا ہے اور اس کی انتظامیہ مہینوں سے ایسے جہاز بمباری کر رہی ہے، جس میں 110 سے زائد افراد ہلاک ہوئے۔</p>
<p>بہت سے ممالک نے ان حملوں کو غیر قانونی قتل قرار دیا ہے اور مادورو کی حکومت نے ہمیشہ منشیات کی اسمگلنگ میں ملوث ہونے کی تردید کی ہے۔</p>
<p>یہ واضح نہیں تھا کہ تازہ امریکی حملے کس قانونی اختیار کے تحت کیے گئے۔</p>
<p>ٹرمپ کے اقدام سے امریکی کانگریس کی طرف سے ردعمل کا خطرہ ہے، جسے آئینی حق حاصل ہے کہ وہ جنگ کا اعلان کرے، اور ان کے اپنے سیاسی حامی بھی ناراض ہو سکتے ہیں، جو”امریکہ پہلے“ پالیسی کے حامی ہیں اور عام طور پر بیرون ملک فوجی مداخلت کے خلاف ہیں۔</p>
<p>دو ذرائع نے بتایا کہ وینزویلا کی سرکاری توانائی کمپنی پی ڈی وی ایس اے کی تیل کی پیداوار اور ریفائننگ معمول کے مطابق ہے اور اس کی سب سے اہم تنصیبات کو ابتدائی جائزے کے مطابق کوئی نقصان نہیں پہنچا۔</p>
<p>کاراکاس کے قریب لا گویرا بندرگاہ، جو ملک کی سب سے بڑی بندرگاہوں میں سے ایک ہے مگر تیل کے آپریشن کے لیے استعمال نہیں ہوتی، شدید نقصان کا شکار ہوئی، ایک ذریعہ نے بتایا۔</p>
<p>ایم ایس ٹی مارکی تجزیہ کار سول کیوونک نے کہا کہ تیل کی قیمتیں قلیل مدتی طور پر سپلائی کے خطرے کی وجہ سے بڑھ سکتی ہیں، لیکن اگر نئی وینزویلا حکومت کے نتیجے میں پابندیاں ہٹائی جاتی ہیں اور غیر ملکی سرمایہ کاری دوبارہ آتی ہے تو امریکی حملہ درمیانے مدت میں قیمتوں پر دباؤ ڈال سکتا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40281206</guid>
      <pubDate>Sat, 03 Jan 2026 22:27:53 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/01/0318383982333c6.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/01/0318383982333c6.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
