<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Editorials</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 04 Jun 2026 01:53:18 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 04 Jun 2026 01:53:18 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ٹیکس نفاذ میں بڑی پیش رفت: ایف بی آر کا اسپتالوں میں افسران تعینات کرنے کا فیصلہ</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40281205/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;نجی اسپتالوں کے اندر ٹیکس افسران تعینات کرنے کا ایف بی آر کا فیصلہ اچانک یا بلاوجہ نہیں لیا گیا۔ یہ فیصلہ برسوں کے اس ڈیٹا کے بعد سامنے آیا ہے جو ظاہر کرتا ہے کہ پاکستان کے پڑھے لکھے اور سب سے زیادہ کمانے والے پیشوں میں سے ایک (ڈاکٹرز) ٹیکس نظام کی تعمیل کے معاملے میں سب سے پیچھے رہا ہے۔ لہٰذا، ایف بی آر کے اس اقدام کو کسی اچانک سخت کارروائی کے بجائے ٹیکس نافذ کرنے کے عمل میں طویل عرصے سے جاری ناکامی کی درستی کے طور پر دیکھنا زیادہ مناسب ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;صرف اعداد و شمار ہی یہ بتانے کے لیے کافی ہیں کہ یہ قدم اٹھانا کیوں ناگزیر ہو چکا تھا۔ ملک بھر میں 3 لاکھ 19 ہزار سے زائد رجسٹرڈ ڈاکٹروں میں سے صرف ایک لاکھ 30 ہزار کے قریب انکم ٹیکس کے ریکارڈ پر موجود ہیں۔ ان میں سے بھی ٹیکس گوشوارے جمع کرانے والوں کی تعداد اس سے بھی کم ہے۔ جو لوگ گوشوارے جمع کراتے ہیں، ان کی ظاہر کردہ آمدنی بھی حیران کن حد تک کم ہے؛ جن کی اکثریت اپنی سالانہ آمدنی 20 لاکھ روپے سے بھی کم بتاتی ہے جبکہ ہزاروں ایسے ہیں جنہوں نے اپنی آمدنی ’صفر‘ ظاہر کی ہے۔ یہ اعداد و شمار پاکستان میں نجی شعبہ طب کی اصل صورتحال سے بالکل مطابقت نہیں رکھتے، جہاں کمرشل اسپتالوں کے ریٹس کسی مہنگے ترین ہوٹل کی سہولیات کے برابر ہیں اور بڑے شہروں میں پرائیویٹ کلینکس پر مریضوں کا بے پناہ رش رہتا ہے۔ کمانے کی صلاحیت اور ظاہر کردہ آمدنی کے درمیان یہ فرق اتنا بڑھ چکا ہے کہ اسے محض ایک معمولی غلطی قرار دے کر نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہی وجہ ہے کہ موجودہ قانونی دفعات کے تحت ان لینڈ ریونیو افسران کو تعینات کرنے کا ایف بی آر کا فیصلہ اہمیت کا حامل ہے۔ یہ اقدام براہِ راست اس مقام کو نشانہ بناتا ہے جہاں آمدنی پیدا اور ریکارڈ کی جاتی ہے، بجائے اس کے کہ ان کاغذی اعلامیوں  پر انحصار کیا جائے جو بارہا ناقابلِ اعتبار ثابت ہوچکے ہیں۔ ایک ایسے شعبے میں جہاں آمدنی کو کم ظاہر کرنا ایک منظم صورت اختیار کر چکا ہو، وہاں رسیدوں اور خدمات کی فراہمی کی حقیقی وقت میں نگرانی کرنا ایک متناسب اور موزوں جواب ہے۔ یہ اقدام ایک واضح پیغام بھی دیتا ہے کہ پیشہ ورانہ مقام و مرتبہ کسی کو بنیادی مالیاتی ذمہ داریوں سے استثنیٰ فراہم نہیں کرتا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جیسا کہ توقع ہے، کچھ لوگ اس اقدام کو مداخلت یا ضرورت سے زیادہ سختی قرار دیں گے لیکن اس دلیل کو برقرار رکھنا مشکل ہے۔ ڈاکٹرز کوئی ایسا پسماندہ طبقہ نہیں ہیں جو غیر دستاویزی معیشت کے رحم و کرم پر بقا کی جنگ لڑ رہے ہوں۔ وہ ایک ایسے پیشے سے وابستہ ہیں جو اعلیٰ سماجی مقام، وسیع تعلیم اور کئی صورتوں میں نجی آمدنی کے کثیر ذرائع رکھتا ہے۔ ایسے شعبے میں ٹیکس کی مسلسل عدم تعمیل آگاہی کی کمی نہیں بلکہ نظام کا دانستہ غلط استعمال ہے۔ جب تنخواہ دار طبقے اور دستاویزی کاروبار کا ایک محدود حلقہ ٹیکسوں کا سارا بوجھ اٹھاتا ہے اور دوسری طرف منافع بخش پیشے چھان بین سے بچ نکلتے ہیں، تو اس کا نتیجہ مالیاتی ناانصافی اور معاشی بگاڑ کی صورت میں نکلتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس اقدام کا وقت بھی انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ پاکستان کی معیشت اس وقت شدید مالیاتی رکاوٹوں کا شکار ہے، جہاں ٹیکس نیٹ کو وسعت دیے بغیر محصولات بڑھانے کی گنجائش نہ ہونے کے برابر ہے۔ برسوں سے یکے بعد دیگرے آنے والی حکومتوں نے اصلاحات کی باتیں تو کیں لیکن بااثر پیشہ ور گروہوں کے ساتھ تصادم سے گریز کیا۔ اس کا نتیجہ وہی نکلا جس کی توقع تھی: ٹیکس کی تعمیل جمود کا شکار رہی، ساکھ متاثر ہوئی اور قوانین کا نفاذ انتخابی (یعنی پسند و ناپسند کی بنیاد پر) بن گیا۔ اس تناظر میں، صحت کے شعبے کے خلاف یہ کریک ڈاؤن کافی عرصے سے واجب تھا اور ایف بی آر اس بات پر کریڈٹ کا مستحق ہے کہ اس نے بالآخر ان شواہد پر کارروائی کی جو اس کے پاس ایک طویل عرصے سے موجود تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس اقدام کے اثرات صرف ڈاکٹروں تک محدود نہیں ہیں۔ اگر اسے برقرار رکھا گیا، تو یہ ان دیگر زیادہ آمدنی والے شعبوں کے لیے بھی ’رول بیسڈ ٹیکسیشن‘ (اصول پر مبنی ٹیکس نظام) کے طور پر ایک ٹیسٹ کیس ثابت ہو سکتا ہے اور ہونا چاہیے، جو واضح آمدنی کے باوجود اب تک بہت کم ٹیکس ادا کر رہے ہیں۔ ریٹیل (خوردہ فروشی)، رئیل اسٹیٹ اور دیگر پیشہ ورانہ خدمات کے شعبے بھی اسی طرح کی کم رپورٹنگ اور انتخابی تعمیل (یعنی مرضی کا ٹیکس دینے) کے نمونے ظاہر کرتے ہیں۔ اگر معیشت کو عام قواعد و ضوابط کے مطابق چلانا ہے، تو ان تمام شعبوں میں قانون کے معتبر نفاذ کو وسعت دینا انتہائی ضروری ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم یہاں ایک انتباہ ضروری ہے۔ قانون کا نفاذ بلا تفریق اور قانونی بنیادوں پر ہونا چاہیے، نہ کہ ہنگامی یا محض دکھاوے  کے لیے۔ اسپتالوں کے اندر افسران کی تعیناتی کے ساتھ ساتھ واضح ضابطہ اخلاق ، شفافیت اور رشوت ستانی  کے خلاف حفاظتی اقدامات بھی ہونے چاہئیں۔ مقصد ٹیکس کی تعمیل ہے، نہ کہ ہراساں کرنا۔ ابتدائی اشارے، جو ظاہر کرتے ہیں کہ نوٹسز جاری ہونے کے بعد رضاکارانہ طور پر گوشوارے جمع کرانے کے رجحان میں اضافہ ہوا ہے، اس بات کی دلیل ہیں کہ جب چھان بین کا ڈر حقیقت بن جائے تو رویے تبدیل ہونا شروع ہو جاتے ہیں۔ اس تسلسل کو محض وقتی مہمات کے بجائے مستقل پیروی  کے ذریعے برقرار رکھا جانا چاہیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ بات بھی واضح طور پر بیان کرنا ضروری ہے کہ یہ اقدام محض بیرونی قرض دہندگان کو مطمئن کرنے کے لیے نہیں ہے۔ اگرچہ ٹیکس نیٹ کو وسعت دینا بنیادی طور پر آئی ایم ایف  پروگرام کی ایک شرط ہے، لیکن اصل معاملہ مقامی نوعیت کا ہے۔ کوئی بھی معیشت اس وقت تک صحیح طریقے سے نہیں چل سکتی جب تک بڑے اور خوشحال طبقات مالیاتی نیٹ سے باہر رہیں۔ عوامی خدمات، بشمول خود صحت کے شعبے کے، بالآخر ٹیکسوں کے ذریعے ہی چلائی جاتی ہیں۔ جب وہ لوگ جو تعاون کرنے کی بہترین پوزیشن میں ہوں (یعنی صاحبِ ثروت)، اپنا حصہ نہیں ڈالتے، تو نظام اندر سے کھوکھلا ہونا شروع ہو جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگر ایف بی آر اس کوشش کو مستقل مزاجی سے جاری رکھتا ہے اور (دباؤ میں آکر) پیچھے ہٹنے کے روایتی چکر کے خلاف مزاحمت کرتا ہے تو موجودہ کارروائی ایک اہم موڑ ثابت ہوسکتی ہے۔ ٹیکس کی تعمیل اشرافیہ کے پیشوں کے لیے محض ایک انتخاب نہیں رہنی چاہیے جبکہ قوانین کا نفاذ صرف ان لوگوں پر مرکوز رہے جن میں مزاحمت کی سب سے کم صلاحیت ہے۔ ایک فعال معیشت کے لیے ساکھ، برابری اور قوانین کا نفاذ ناگزیر ہے۔ صحت کے شعبے کو قانون کے دائرے میں لانا ایک ضروری آغاز ہے اور یہ آخری قدم نہیں ہونا چاہیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>نجی اسپتالوں کے اندر ٹیکس افسران تعینات کرنے کا ایف بی آر کا فیصلہ اچانک یا بلاوجہ نہیں لیا گیا۔ یہ فیصلہ برسوں کے اس ڈیٹا کے بعد سامنے آیا ہے جو ظاہر کرتا ہے کہ پاکستان کے پڑھے لکھے اور سب سے زیادہ کمانے والے پیشوں میں سے ایک (ڈاکٹرز) ٹیکس نظام کی تعمیل کے معاملے میں سب سے پیچھے رہا ہے۔ لہٰذا، ایف بی آر کے اس اقدام کو کسی اچانک سخت کارروائی کے بجائے ٹیکس نافذ کرنے کے عمل میں طویل عرصے سے جاری ناکامی کی درستی کے طور پر دیکھنا زیادہ مناسب ہے۔</strong></p>
<p>صرف اعداد و شمار ہی یہ بتانے کے لیے کافی ہیں کہ یہ قدم اٹھانا کیوں ناگزیر ہو چکا تھا۔ ملک بھر میں 3 لاکھ 19 ہزار سے زائد رجسٹرڈ ڈاکٹروں میں سے صرف ایک لاکھ 30 ہزار کے قریب انکم ٹیکس کے ریکارڈ پر موجود ہیں۔ ان میں سے بھی ٹیکس گوشوارے جمع کرانے والوں کی تعداد اس سے بھی کم ہے۔ جو لوگ گوشوارے جمع کراتے ہیں، ان کی ظاہر کردہ آمدنی بھی حیران کن حد تک کم ہے؛ جن کی اکثریت اپنی سالانہ آمدنی 20 لاکھ روپے سے بھی کم بتاتی ہے جبکہ ہزاروں ایسے ہیں جنہوں نے اپنی آمدنی ’صفر‘ ظاہر کی ہے۔ یہ اعداد و شمار پاکستان میں نجی شعبہ طب کی اصل صورتحال سے بالکل مطابقت نہیں رکھتے، جہاں کمرشل اسپتالوں کے ریٹس کسی مہنگے ترین ہوٹل کی سہولیات کے برابر ہیں اور بڑے شہروں میں پرائیویٹ کلینکس پر مریضوں کا بے پناہ رش رہتا ہے۔ کمانے کی صلاحیت اور ظاہر کردہ آمدنی کے درمیان یہ فرق اتنا بڑھ چکا ہے کہ اسے محض ایک معمولی غلطی قرار دے کر نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔</p>
<p>یہی وجہ ہے کہ موجودہ قانونی دفعات کے تحت ان لینڈ ریونیو افسران کو تعینات کرنے کا ایف بی آر کا فیصلہ اہمیت کا حامل ہے۔ یہ اقدام براہِ راست اس مقام کو نشانہ بناتا ہے جہاں آمدنی پیدا اور ریکارڈ کی جاتی ہے، بجائے اس کے کہ ان کاغذی اعلامیوں  پر انحصار کیا جائے جو بارہا ناقابلِ اعتبار ثابت ہوچکے ہیں۔ ایک ایسے شعبے میں جہاں آمدنی کو کم ظاہر کرنا ایک منظم صورت اختیار کر چکا ہو، وہاں رسیدوں اور خدمات کی فراہمی کی حقیقی وقت میں نگرانی کرنا ایک متناسب اور موزوں جواب ہے۔ یہ اقدام ایک واضح پیغام بھی دیتا ہے کہ پیشہ ورانہ مقام و مرتبہ کسی کو بنیادی مالیاتی ذمہ داریوں سے استثنیٰ فراہم نہیں کرتا۔</p>
<p>جیسا کہ توقع ہے، کچھ لوگ اس اقدام کو مداخلت یا ضرورت سے زیادہ سختی قرار دیں گے لیکن اس دلیل کو برقرار رکھنا مشکل ہے۔ ڈاکٹرز کوئی ایسا پسماندہ طبقہ نہیں ہیں جو غیر دستاویزی معیشت کے رحم و کرم پر بقا کی جنگ لڑ رہے ہوں۔ وہ ایک ایسے پیشے سے وابستہ ہیں جو اعلیٰ سماجی مقام، وسیع تعلیم اور کئی صورتوں میں نجی آمدنی کے کثیر ذرائع رکھتا ہے۔ ایسے شعبے میں ٹیکس کی مسلسل عدم تعمیل آگاہی کی کمی نہیں بلکہ نظام کا دانستہ غلط استعمال ہے۔ جب تنخواہ دار طبقے اور دستاویزی کاروبار کا ایک محدود حلقہ ٹیکسوں کا سارا بوجھ اٹھاتا ہے اور دوسری طرف منافع بخش پیشے چھان بین سے بچ نکلتے ہیں، تو اس کا نتیجہ مالیاتی ناانصافی اور معاشی بگاڑ کی صورت میں نکلتا ہے۔</p>
<p>اس اقدام کا وقت بھی انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ پاکستان کی معیشت اس وقت شدید مالیاتی رکاوٹوں کا شکار ہے، جہاں ٹیکس نیٹ کو وسعت دیے بغیر محصولات بڑھانے کی گنجائش نہ ہونے کے برابر ہے۔ برسوں سے یکے بعد دیگرے آنے والی حکومتوں نے اصلاحات کی باتیں تو کیں لیکن بااثر پیشہ ور گروہوں کے ساتھ تصادم سے گریز کیا۔ اس کا نتیجہ وہی نکلا جس کی توقع تھی: ٹیکس کی تعمیل جمود کا شکار رہی، ساکھ متاثر ہوئی اور قوانین کا نفاذ انتخابی (یعنی پسند و ناپسند کی بنیاد پر) بن گیا۔ اس تناظر میں، صحت کے شعبے کے خلاف یہ کریک ڈاؤن کافی عرصے سے واجب تھا اور ایف بی آر اس بات پر کریڈٹ کا مستحق ہے کہ اس نے بالآخر ان شواہد پر کارروائی کی جو اس کے پاس ایک طویل عرصے سے موجود تھے۔</p>
<p>اس اقدام کے اثرات صرف ڈاکٹروں تک محدود نہیں ہیں۔ اگر اسے برقرار رکھا گیا، تو یہ ان دیگر زیادہ آمدنی والے شعبوں کے لیے بھی ’رول بیسڈ ٹیکسیشن‘ (اصول پر مبنی ٹیکس نظام) کے طور پر ایک ٹیسٹ کیس ثابت ہو سکتا ہے اور ہونا چاہیے، جو واضح آمدنی کے باوجود اب تک بہت کم ٹیکس ادا کر رہے ہیں۔ ریٹیل (خوردہ فروشی)، رئیل اسٹیٹ اور دیگر پیشہ ورانہ خدمات کے شعبے بھی اسی طرح کی کم رپورٹنگ اور انتخابی تعمیل (یعنی مرضی کا ٹیکس دینے) کے نمونے ظاہر کرتے ہیں۔ اگر معیشت کو عام قواعد و ضوابط کے مطابق چلانا ہے، تو ان تمام شعبوں میں قانون کے معتبر نفاذ کو وسعت دینا انتہائی ضروری ہے۔</p>
<p>تاہم یہاں ایک انتباہ ضروری ہے۔ قانون کا نفاذ بلا تفریق اور قانونی بنیادوں پر ہونا چاہیے، نہ کہ ہنگامی یا محض دکھاوے  کے لیے۔ اسپتالوں کے اندر افسران کی تعیناتی کے ساتھ ساتھ واضح ضابطہ اخلاق ، شفافیت اور رشوت ستانی  کے خلاف حفاظتی اقدامات بھی ہونے چاہئیں۔ مقصد ٹیکس کی تعمیل ہے، نہ کہ ہراساں کرنا۔ ابتدائی اشارے، جو ظاہر کرتے ہیں کہ نوٹسز جاری ہونے کے بعد رضاکارانہ طور پر گوشوارے جمع کرانے کے رجحان میں اضافہ ہوا ہے، اس بات کی دلیل ہیں کہ جب چھان بین کا ڈر حقیقت بن جائے تو رویے تبدیل ہونا شروع ہو جاتے ہیں۔ اس تسلسل کو محض وقتی مہمات کے بجائے مستقل پیروی  کے ذریعے برقرار رکھا جانا چاہیے۔</p>
<p>یہ بات بھی واضح طور پر بیان کرنا ضروری ہے کہ یہ اقدام محض بیرونی قرض دہندگان کو مطمئن کرنے کے لیے نہیں ہے۔ اگرچہ ٹیکس نیٹ کو وسعت دینا بنیادی طور پر آئی ایم ایف  پروگرام کی ایک شرط ہے، لیکن اصل معاملہ مقامی نوعیت کا ہے۔ کوئی بھی معیشت اس وقت تک صحیح طریقے سے نہیں چل سکتی جب تک بڑے اور خوشحال طبقات مالیاتی نیٹ سے باہر رہیں۔ عوامی خدمات، بشمول خود صحت کے شعبے کے، بالآخر ٹیکسوں کے ذریعے ہی چلائی جاتی ہیں۔ جب وہ لوگ جو تعاون کرنے کی بہترین پوزیشن میں ہوں (یعنی صاحبِ ثروت)، اپنا حصہ نہیں ڈالتے، تو نظام اندر سے کھوکھلا ہونا شروع ہو جاتا ہے۔</p>
<p>اگر ایف بی آر اس کوشش کو مستقل مزاجی سے جاری رکھتا ہے اور (دباؤ میں آکر) پیچھے ہٹنے کے روایتی چکر کے خلاف مزاحمت کرتا ہے تو موجودہ کارروائی ایک اہم موڑ ثابت ہوسکتی ہے۔ ٹیکس کی تعمیل اشرافیہ کے پیشوں کے لیے محض ایک انتخاب نہیں رہنی چاہیے جبکہ قوانین کا نفاذ صرف ان لوگوں پر مرکوز رہے جن میں مزاحمت کی سب سے کم صلاحیت ہے۔ ایک فعال معیشت کے لیے ساکھ، برابری اور قوانین کا نفاذ ناگزیر ہے۔ صحت کے شعبے کو قانون کے دائرے میں لانا ایک ضروری آغاز ہے اور یہ آخری قدم نہیں ہونا چاہیے۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026</p>
]]></content:encoded>
      <category>Editorials</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40281205</guid>
      <pubDate>Sat, 03 Jan 2026 15:07:17 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (اداریہ)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/01/0314514095e8672.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/01/0314514095e8672.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
