<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - World</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 12:40:42 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 12:40:42 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>سعودی عرب کی یمن کے جنوبی دھڑوں کو ریاض میں مذاکرات کی دعوت</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40281203/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;سعودی عرب کی وزارت خارجہ نے ہفتے کو یمن کے جنوبی دھڑوں کو ریاض میں مذاکرات میں شرکت کی دعوت دی ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سوشل میڈیا پر پوسٹ کیے گئے ایک بیان میں سعودی وزارت نے ریاض میں ایک جامع کانفرنس کے انعقاد پر زور دیا ہے تاکہ جنوبی یمن کے تمام دھڑوں کو اکٹھا کرکے جنوبی کاز کے منصفانہ حل پر تبادلہ خیال کیا جاسکے۔ ریاض کا کہنا ہے کہ مذاکرات کے لیے یہ دعوت یمنی حکومت کی جانب سے جاری کی گئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات نے برسوں سے یمن کے سرکاری علاقوں میں موجود مختلف دھڑوں کی حمایت کی ہے اور پڑوسی ملک کے طویل عرصے سے جاری خانہ جنگی میں مداخلت کرتے رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان دھڑوں میں سے ایک، متحدہ عرب امارات  کا حمایت یافتہ سدرن ٹرانزیشنل کونسل (ایس ٹی سی)، اب آزادی کے اعلان اور ایک الگ ریاست کے قیام کے لیے زور دے رہا ہے جس سے عرب کا سب سے غریب ملک دو حصوں میں تقسیم ہو جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایس ٹی سی جس نے حالیہ ہفتوں میں وسیع علاقوں پر قبضہ کرلیا ہے اور جنوب میں ایک علیحدہ ریاست کے قیام کے لیے دو سالہ عبوری عمل کے منصوبے کا اعلان کر چکا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;علیحدگی پسندوں کے مطابق جمعہ کو سعودی قیادت میں قائم اتحاد کے فضائی حملوں میں 20 افراد ہلاک ہوگئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سعودی حمایت یافتہ یہ اتحاد 2015 میں یمن کے شمال سے حوثی باغیوں کو نکالنے کی کوشش کے لیے بنایا گیا تھا۔ لیکن ایک دہائی پر محیط  خانہ جنگی کے بعد بھی حوثی اپنے قدم جمائے ہوئے ہیں جبکہ دوسری طرف جنوب میں سعودی اور اماراتی حمایت یافتہ دھڑے ایک دوسرے پر حملے کررہے ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>سعودی عرب کی وزارت خارجہ نے ہفتے کو یمن کے جنوبی دھڑوں کو ریاض میں مذاکرات میں شرکت کی دعوت دی ہے۔</strong></p>
<p>سوشل میڈیا پر پوسٹ کیے گئے ایک بیان میں سعودی وزارت نے ریاض میں ایک جامع کانفرنس کے انعقاد پر زور دیا ہے تاکہ جنوبی یمن کے تمام دھڑوں کو اکٹھا کرکے جنوبی کاز کے منصفانہ حل پر تبادلہ خیال کیا جاسکے۔ ریاض کا کہنا ہے کہ مذاکرات کے لیے یہ دعوت یمنی حکومت کی جانب سے جاری کی گئی ہے۔</p>
<p>سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات نے برسوں سے یمن کے سرکاری علاقوں میں موجود مختلف دھڑوں کی حمایت کی ہے اور پڑوسی ملک کے طویل عرصے سے جاری خانہ جنگی میں مداخلت کرتے رہے ہیں۔</p>
<p>ان دھڑوں میں سے ایک، متحدہ عرب امارات  کا حمایت یافتہ سدرن ٹرانزیشنل کونسل (ایس ٹی سی)، اب آزادی کے اعلان اور ایک الگ ریاست کے قیام کے لیے زور دے رہا ہے جس سے عرب کا سب سے غریب ملک دو حصوں میں تقسیم ہو جائے گا۔</p>
<p>ایس ٹی سی جس نے حالیہ ہفتوں میں وسیع علاقوں پر قبضہ کرلیا ہے اور جنوب میں ایک علیحدہ ریاست کے قیام کے لیے دو سالہ عبوری عمل کے منصوبے کا اعلان کر چکا ہے۔</p>
<p>علیحدگی پسندوں کے مطابق جمعہ کو سعودی قیادت میں قائم اتحاد کے فضائی حملوں میں 20 افراد ہلاک ہوگئے۔</p>
<p>سعودی حمایت یافتہ یہ اتحاد 2015 میں یمن کے شمال سے حوثی باغیوں کو نکالنے کی کوشش کے لیے بنایا گیا تھا۔ لیکن ایک دہائی پر محیط  خانہ جنگی کے بعد بھی حوثی اپنے قدم جمائے ہوئے ہیں جبکہ دوسری طرف جنوب میں سعودی اور اماراتی حمایت یافتہ دھڑے ایک دوسرے پر حملے کررہے ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40281203</guid>
      <pubDate>Sat, 03 Jan 2026 14:25:59 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (اے ایف پی)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/01/031425516ad5804.webp" type="image/webp" medium="image" height="768" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/01/031425516ad5804.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
