<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Business &amp; Finance</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 19:18:27 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 19:18:27 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>تیسری سہ ماہی میں حکومت کا بینکنگ سیکٹر سے 5 کھرب روپے قرض لینے کا منصوبہ</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40281196/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;وفاقی حکومت مالی خسارہ پورا کرنے کیلئے جنوری تا مارچ 2026 کی سہ ماہی میں مقامی بینکنگ شعبے سے سرکاری سیکیورٹیز کی فروخت کے ذریعے تقریباً 5 کھرب روپے جمع کرنے کا ارادہ رکھتی ہے، جو فنڈنگ ضروریات پوری کرنے میں حکومت کے مقامی بینکوں پر مسلسل انحصار کو واضح کرتا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس حوالے سے اسٹیٹ بینک نے رواں مالی سال کی تیسری سہ ماہی کے لیے پاکستان انویسٹمنٹ بانڈز (پی آئی بیز) اور گورنمنٹ آف پاکستان مارکیٹ ٹریژری بلز (ایم ٹی بیز) کی نیلامی کے کیلنڈرز جاری کردیے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماہرین نے کہا کہ بیرونی مالی وسائل کی کمی کے پیشِ نظر، وفاقی حکومت اپنی زیادہ تر فنڈنگ ضروریات مقامی ذرائع سے پوری کرنے کا ارادہ رکھتی ہے، جس میں زیادہ تر قرضہ مختصر مدت کی سرکاری سیکیورٹیز، خاص طور پر مارکیٹ ٹریژری بلز (ایم ٹی بیز) کی فروخت کے ذریعے حاصل کیا جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسٹیٹ بینک کی جانب سے جاری نیلامی کیلنڈر کے مطابق وفاقی حکومت نے رواں مالی سال جنوری سے مارچ کے دوران ٹریژری بلز کی فروخت کے ذریعے تقریباً 3.25 ٹریلین (3250 ارب) روپے حاصل کرنے کا منصوبہ بنایا ہے، جبکہ اسی مدت میں 3.589 کھرب روپے کی میچورٹیز واجب الادا ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے علاوہ تقریباً 1.65 کھرب روپے پاکستان انویسٹمنٹ بانڈز (پی آئی بیز) کے ذریعے قرضہ لینے کا ہدف ہے جس میں 1.35 کھرب روپے فکسڈ ریٹ پی آئی بیز اور 300 ارب روپے سیمی اینوئل فلوٹنگ ریٹ پی آئی بی نیلامیوں کے ذریعے حاصل کیے جائیں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مجموعی طور پر مالیاتی خسارے کو پورا کرنے کے لیے اس سہ ماہی کے دوران ٹریژری بلز کی 6 نیلامیاں (یا ہر ماہ دو نیلامیاں) شیڈول کی گئی ہیں۔ مجموعی رقم میں سے تقریباً 1.55 کھرب روپے جنوری 2026 کی دو نیلامیوں کے ذریعے حاصل کیے جائیں گے جس کے بعد فروری 2026 میں 950 ارب روپے اور مارچ 2026 میں 750 ارب روپے کی رقم ہر ماہ دو نیلامیوں کے ذریعے جمع کی جائے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فکسڈ ریٹ والے پاکستان انویسٹمنٹ بانڈز کی نیلامیاں یکم جنوری، 6 فروری اور 11 مارچ 2026 کو شیڈول کی گئی ہیں جس میں ہر نیلامی کے ذریعے 450 ارب روپے قرض لینے کا ہدف رکھا گیا ہے۔ اس کے علاوہ، سہ ماہی کے دوران فلوٹنگ ریٹ (تبدیل ہونے والی شرح) والے بانڈز کی بھی 6 نیلامیاں کی جائیں گی، جن میں سے ہر ایک کا ہدف 50 ارب روپے ہے تاکہ 300 ارب روپے کا مجموعی ہدف پورا کیا جا سکے۔ مجموعی طور پر، اس سہ ماہی کے دوران (مختلف ذرائع سے) 4.9 ٹریلین روپے کی رقم اکٹھی کی جائے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بنیادی پالیسی ریٹ میں کمی کے باعث، سود کی ادائیگیوں کے پورے سال کے بجٹ شدہ تخمینے سے کم رہنے کی توقع ہے۔ اس سے حکومت کو مالیاتی خسارے کو قابو میں رکھنے اور قرضوں کے بوجھ کو کم کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسٹیٹ بینک کے مطابق ایف بی آر کی وصولیاں جولائی تا نومبر سالانہ بنیاد پر صرف 10.2 فیصد رہ گئی ہیں جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ بجٹ شدہ ٹیکس وصولی کے ہدف کو باقی سات مہینوں میں حاصل کرنے کے لیے نمایاں تیزی کی ضرورت ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسٹیٹ بینک کی مانیٹری پالیسی کمیٹی نے اپنے حالیہ اجلاس میں ڈھانچہ جاتی اصلاحات کی اہمیت پر بھی زور دیا، خاص طور پر ٹیکس نیٹ کو وسعت دینے اور خسارے میں چلنے والے سرکاری اداروں کی نجکاری پر، تاکہ مالیاتی استحکام کو مضبوط کیا جا سکے۔ اس کا مقصد عوامی سرمایہ کاری اور سماجی و اقتصادی بہبود کے لیے ضروری اخراجات کی گنجائش پیدا کرنا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>وفاقی حکومت مالی خسارہ پورا کرنے کیلئے جنوری تا مارچ 2026 کی سہ ماہی میں مقامی بینکنگ شعبے سے سرکاری سیکیورٹیز کی فروخت کے ذریعے تقریباً 5 کھرب روپے جمع کرنے کا ارادہ رکھتی ہے، جو فنڈنگ ضروریات پوری کرنے میں حکومت کے مقامی بینکوں پر مسلسل انحصار کو واضح کرتا ہے۔</strong></p>
<p>اس حوالے سے اسٹیٹ بینک نے رواں مالی سال کی تیسری سہ ماہی کے لیے پاکستان انویسٹمنٹ بانڈز (پی آئی بیز) اور گورنمنٹ آف پاکستان مارکیٹ ٹریژری بلز (ایم ٹی بیز) کی نیلامی کے کیلنڈرز جاری کردیے ہیں۔</p>
<p>ماہرین نے کہا کہ بیرونی مالی وسائل کی کمی کے پیشِ نظر، وفاقی حکومت اپنی زیادہ تر فنڈنگ ضروریات مقامی ذرائع سے پوری کرنے کا ارادہ رکھتی ہے، جس میں زیادہ تر قرضہ مختصر مدت کی سرکاری سیکیورٹیز، خاص طور پر مارکیٹ ٹریژری بلز (ایم ٹی بیز) کی فروخت کے ذریعے حاصل کیا جائے گا۔</p>
<p>اسٹیٹ بینک کی جانب سے جاری نیلامی کیلنڈر کے مطابق وفاقی حکومت نے رواں مالی سال جنوری سے مارچ کے دوران ٹریژری بلز کی فروخت کے ذریعے تقریباً 3.25 ٹریلین (3250 ارب) روپے حاصل کرنے کا منصوبہ بنایا ہے، جبکہ اسی مدت میں 3.589 کھرب روپے کی میچورٹیز واجب الادا ہیں۔</p>
<p>اس کے علاوہ تقریباً 1.65 کھرب روپے پاکستان انویسٹمنٹ بانڈز (پی آئی بیز) کے ذریعے قرضہ لینے کا ہدف ہے جس میں 1.35 کھرب روپے فکسڈ ریٹ پی آئی بیز اور 300 ارب روپے سیمی اینوئل فلوٹنگ ریٹ پی آئی بی نیلامیوں کے ذریعے حاصل کیے جائیں گے۔</p>
<p>مجموعی طور پر مالیاتی خسارے کو پورا کرنے کے لیے اس سہ ماہی کے دوران ٹریژری بلز کی 6 نیلامیاں (یا ہر ماہ دو نیلامیاں) شیڈول کی گئی ہیں۔ مجموعی رقم میں سے تقریباً 1.55 کھرب روپے جنوری 2026 کی دو نیلامیوں کے ذریعے حاصل کیے جائیں گے جس کے بعد فروری 2026 میں 950 ارب روپے اور مارچ 2026 میں 750 ارب روپے کی رقم ہر ماہ دو نیلامیوں کے ذریعے جمع کی جائے گی۔</p>
<p>فکسڈ ریٹ والے پاکستان انویسٹمنٹ بانڈز کی نیلامیاں یکم جنوری، 6 فروری اور 11 مارچ 2026 کو شیڈول کی گئی ہیں جس میں ہر نیلامی کے ذریعے 450 ارب روپے قرض لینے کا ہدف رکھا گیا ہے۔ اس کے علاوہ، سہ ماہی کے دوران فلوٹنگ ریٹ (تبدیل ہونے والی شرح) والے بانڈز کی بھی 6 نیلامیاں کی جائیں گی، جن میں سے ہر ایک کا ہدف 50 ارب روپے ہے تاکہ 300 ارب روپے کا مجموعی ہدف پورا کیا جا سکے۔ مجموعی طور پر، اس سہ ماہی کے دوران (مختلف ذرائع سے) 4.9 ٹریلین روپے کی رقم اکٹھی کی جائے گی۔</p>
<p>بنیادی پالیسی ریٹ میں کمی کے باعث، سود کی ادائیگیوں کے پورے سال کے بجٹ شدہ تخمینے سے کم رہنے کی توقع ہے۔ اس سے حکومت کو مالیاتی خسارے کو قابو میں رکھنے اور قرضوں کے بوجھ کو کم کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔</p>
<p>اسٹیٹ بینک کے مطابق ایف بی آر کی وصولیاں جولائی تا نومبر سالانہ بنیاد پر صرف 10.2 فیصد رہ گئی ہیں جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ بجٹ شدہ ٹیکس وصولی کے ہدف کو باقی سات مہینوں میں حاصل کرنے کے لیے نمایاں تیزی کی ضرورت ہے۔</p>
<p>اسٹیٹ بینک کی مانیٹری پالیسی کمیٹی نے اپنے حالیہ اجلاس میں ڈھانچہ جاتی اصلاحات کی اہمیت پر بھی زور دیا، خاص طور پر ٹیکس نیٹ کو وسعت دینے اور خسارے میں چلنے والے سرکاری اداروں کی نجکاری پر، تاکہ مالیاتی استحکام کو مضبوط کیا جا سکے۔ اس کا مقصد عوامی سرمایہ کاری اور سماجی و اقتصادی بہبود کے لیے ضروری اخراجات کی گنجائش پیدا کرنا ہے۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40281196</guid>
      <pubDate>Sat, 03 Jan 2026 13:55:13 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رضوان بھٹی)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/01/03120947ac25bab.webp" type="image/webp" medium="image" height="450" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/01/03120947ac25bab.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
