<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Pakistan</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 20:36:49 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 20:36:49 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>“کیپٹیو پاور گیس، حکومت کا ماہانہ لیوی کا دائرہ کار تھرڈ پارٹی سپلائرز تک بڑھانے کا فیصلہ</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40281195/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;وفاقی حکومت نے ماہانہ لیوی کی اس شرح میں توسیع کی منظوری دے دی ہے، جو سوئی سدرن گیس کمپنی لمیٹڈ (ایس ایس جی سی ایل) اور سوئی ناردرن گیس پائپ لائنز لمیٹڈ (ایس این جی پی ایل) کے کیپٹیو پاور صارفین کے لیے متعین اور نوٹیفائی کی گئی تھی، اب اس شرح کا اطلاق ان تھرڈ پارٹی کمپنیوں کے صارفین پر بھی ہوگا جو کیپٹیو پاور پلانٹس کو گیس کی فروخت میں مصروف ہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ذرائع کے مطابق پٹرولیم ڈویژن کو متعلقہ ایکٹ کے شیڈول میں ترمیم کرنے کا اختیار بھی دے دیا گیا ہے، تاہم یہ ترمیم وزارتِ قانون سے جانچ پڑتال کروانے سے مشروط ہوگی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ذرائع نے تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ پارلیمانی منظوری اور صدرِ مملکت کی توثیق کے بعد، ’آف دی گرڈ (کیپٹیو پاور پلانٹس) لیوی ایکٹ 2025‘ (ایکٹ نمبر XIV آف 2025) نافذ کیا گیا اور اسے 10 جون 2025 کو پاکستان کے آفیشل گزٹ میں نوٹیفائی کیا گیا۔ یہ ایکٹ کیپٹیو پاور پلانٹس کی جانب سے قدرتی گیس کے استعمال پرآف دی گرڈ لیوی کی توثیق، نفاذ اور وصولی کا قانونی اختیار فراہم کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایکٹ کی دفعہ 2(ای) لیوی کی تعریف کرتی ہے کہ یہ ایک ’آف دی گرڈ‘ چارج ہے جو دفعہ 3 کے تحت قدرتی گیس یا آر ایل این جی پر چلنے والے کیپٹیو پاور پلانٹس پر لاگو ہوتا ہے۔ ایکٹ کی دفعہ 3 اور 4 اس لیوی کے نفاذ، وصولی اور حساب کتاب سے متعلق ہیں۔ دفعہ 3 کے تحت، ہر کیپٹیو پاور پلانٹ پابند ہے کہ وہ قدرتی گیس یا آر ایل این جی کے استعمال پر وفاقی حکومت کو ایک لیوی ادا کرے جو کہ اوگرا آرڈیننس 2002 کی دفعات 8 اور 43 بی کے تحت نوٹیفائی کردہ فروخت کی قیمت کے علاوہ ہوگی۔ یہ لیوی وفاقی حکومت کی جانب سے وقتاً فوقتاً جاری کردہ نرخوں پر وصول کی جائے گی۔ ایجنٹ کمپنی اس لیوی کی بلنگ، وصولی اور اسے مقررہ طریقے سے وفاقی حکومت کو منتقل کرنے کی ذمہ دار ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سیکشن 4 کے تحت، لیوی نوٹیفائی کرنے سے پہلے متعلقہ ڈویژنز، جو رولز آف بزنس 1973 کے تحت ہیں، لیوی کی شرح کا حساب کریں گی۔ اس میں نیپرا کی جانب سے نوٹیفائی کردہ صنعتی بی تھری پاور ٹیرف اور کیپٹیو پاور پلانٹس کی خود پیدا کردہ بجلی کی لاگت (اوگرا کی نوٹیفائی شدہ گیس نرخوں پر) کے درمیان فرق کو مدنظر رکھا جائے گا۔ لیوی کی شرح میں فوری طور پر پانچ فیصد اضافہ کیا جائے گا، جو جولائی 2025 تک دس فیصد، فروری 2026 تک پندرہ فیصد اور اگست 2026 تک بیس فیصد تک پہنچ جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایس ایس جی سی ایل اور ایس این جی پی ایل دونوں اس ایکٹ کے تحت باقاعدہ ’متعین ادارے ہیں۔ ایکٹ کی دفعہ 9، جسے شیڈول کے سیریل نمبر 3 کے ساتھ ملا کر پڑھا جائے، اس بات کی اجازت دیتی ہے کہ ’کیپٹیو پاور پلانٹس کو گیس فروخت کرنے والی کسی بھی دوسری کمپنی‘ کو بھی اس میں شامل کرنے کے لیے ترامیم کی جا سکتی ہیں، جیسا کہ آفیشل گزٹ میں نوٹیفائی کیا جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاور ڈویژن کے مطابق چونکہ (ایکٹ کی) دفعات 3 اور 4 اوگرا کی نوٹیفائی کردہ فروخت کی قیمتوں کے علاوہ لیوی کے نفاذ کی گنجائش فراہم کرتی ہیں جو فی الحال صرف ایس ایس جی سی ایل اور ایس این جی پی ایل پر لاگو ہے، اس لیے وزارتِ قانون سے ان کمپنیوں پر لیوی لگانے کے بارے میں رائے مانگی گئی تھی جو کیپٹیو پاور پلانٹس کو گیس فراہم کر رہی ہیں لیکن ان کی گیس کی خرید و فروخت کی قیمتیں اوگرا کے متعین کردہ نرخوں کے تحت نہیں آتیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزارتِ قانون نے واضح کیا کہ (ایکٹ کی) دفعہ 3 وفاقی حکومت کو یہ اختیار دیتی ہے کہ وہ ’شیڈول‘ میں ترمیم کر کے ان کمپنیوں کو شامل کر سکے جو کیپٹیو پاور پلانٹس کو گیس فراہم کر رہی ہیں۔ ایک بار نوٹیفائی ہونے کے بعد، ایسی کمپنیاں دفعہ 3(2) کے تحت بطور ’ایجنٹ‘ لیوی کا بل بھیجنے اور اسے وصول کرنے کی پابند ہوں گی۔ وزارت نے نوٹ کیا کہ اگرچہ پروڈیوسر سے تھرڈ پارٹی سپلائرز کو گیس کی فروخت ’ڈی ریگولیٹڈ‘ (غیر منظم) تصور کی جاتی ہے لیکن تھرڈ پارٹی سپلائرز سے کیپٹیو پاور پلانٹس کو گیس کی فروخت ڈی ریگولیٹڈ نہیں ہے؛ لہٰذا لیوی کی وصولی کے مقصد کے لیے اوگرا آرڈیننس کی دفعات 8(6)، 43A، اور 43B کے تحت اوگرا کی جانب سے اس کی ریگولیشن ضروری ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پٹرولیم ڈویژن نے نشاندہی کی ہے کہ اوگرا فی الوقت ایس ایس جی سی ایل اور ایس این جی پائپ لائنز کے نیٹ ورکس سے باہر کیپٹیو پاور پلانٹس کو گیس فراہم کرنے والی کمپنیوں کے لیے گیس کی خریداری اور صارفین کو فروخت کی قیمتیں متعین یا نوٹیفائی نہیں کرتا۔ چونکہ دفعہ 3 اور 4 کے تحت لیوی کا حساب کتاب اوگرا کے نوٹیفائی کردہ گیس نرخوں پر منحصر ہے، اس لیے تھرڈ پارٹی سپلائرز کے لیے نوٹیفائی کردہ قیمتوں کی عدم موجودگی میں لیوی کی الگ شرح کا تعین کرنا مشکل ہو سکتا ہے اور یہ حکومت کو قانونی چارہ جوئی کے خطرے سے دوچار کر سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان خدشات کے پیشِ نظر پٹرولیم ڈویژن نے وفاقی کابینہ کو دو تجاویز پیش کیں: (i) یہ کہ سوئی سدرن اور سوئی ناردرن کے کیپٹیو پاور صارفین کے لیے متعین اور نوٹیفائی کردہ ماہانہ لیوی کی شرح کا اطلاق تھرڈ پارٹی گیس سپلائرز کے صارفین پر بھی کر دیا جائے؛ اور (ii) یہ کہ پٹرولیم ڈویژن کو ایکٹ کے شیڈول میں ترمیم کرنے کا اختیار دیا جائے، جو وزارتِ قانون کی جانچ پڑتال سے مشروط ہو۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تفصیلی غور و خوض اور وزارت قانون و انصاف کے تبصروں کے پیشِ نظر، وفاقی کابینہ نے پٹرولیم ڈویژن کی تجاویز کی منظوری دے دی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>وفاقی حکومت نے ماہانہ لیوی کی اس شرح میں توسیع کی منظوری دے دی ہے، جو سوئی سدرن گیس کمپنی لمیٹڈ (ایس ایس جی سی ایل) اور سوئی ناردرن گیس پائپ لائنز لمیٹڈ (ایس این جی پی ایل) کے کیپٹیو پاور صارفین کے لیے متعین اور نوٹیفائی کی گئی تھی، اب اس شرح کا اطلاق ان تھرڈ پارٹی کمپنیوں کے صارفین پر بھی ہوگا جو کیپٹیو پاور پلانٹس کو گیس کی فروخت میں مصروف ہیں۔</strong></p>
<p>ذرائع کے مطابق پٹرولیم ڈویژن کو متعلقہ ایکٹ کے شیڈول میں ترمیم کرنے کا اختیار بھی دے دیا گیا ہے، تاہم یہ ترمیم وزارتِ قانون سے جانچ پڑتال کروانے سے مشروط ہوگی۔</p>
<p>ذرائع نے تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ پارلیمانی منظوری اور صدرِ مملکت کی توثیق کے بعد، ’آف دی گرڈ (کیپٹیو پاور پلانٹس) لیوی ایکٹ 2025‘ (ایکٹ نمبر XIV آف 2025) نافذ کیا گیا اور اسے 10 جون 2025 کو پاکستان کے آفیشل گزٹ میں نوٹیفائی کیا گیا۔ یہ ایکٹ کیپٹیو پاور پلانٹس کی جانب سے قدرتی گیس کے استعمال پرآف دی گرڈ لیوی کی توثیق، نفاذ اور وصولی کا قانونی اختیار فراہم کرتا ہے۔</p>
<p>ایکٹ کی دفعہ 2(ای) لیوی کی تعریف کرتی ہے کہ یہ ایک ’آف دی گرڈ‘ چارج ہے جو دفعہ 3 کے تحت قدرتی گیس یا آر ایل این جی پر چلنے والے کیپٹیو پاور پلانٹس پر لاگو ہوتا ہے۔ ایکٹ کی دفعہ 3 اور 4 اس لیوی کے نفاذ، وصولی اور حساب کتاب سے متعلق ہیں۔ دفعہ 3 کے تحت، ہر کیپٹیو پاور پلانٹ پابند ہے کہ وہ قدرتی گیس یا آر ایل این جی کے استعمال پر وفاقی حکومت کو ایک لیوی ادا کرے جو کہ اوگرا آرڈیننس 2002 کی دفعات 8 اور 43 بی کے تحت نوٹیفائی کردہ فروخت کی قیمت کے علاوہ ہوگی۔ یہ لیوی وفاقی حکومت کی جانب سے وقتاً فوقتاً جاری کردہ نرخوں پر وصول کی جائے گی۔ ایجنٹ کمپنی اس لیوی کی بلنگ، وصولی اور اسے مقررہ طریقے سے وفاقی حکومت کو منتقل کرنے کی ذمہ دار ہے۔</p>
<p>سیکشن 4 کے تحت، لیوی نوٹیفائی کرنے سے پہلے متعلقہ ڈویژنز، جو رولز آف بزنس 1973 کے تحت ہیں، لیوی کی شرح کا حساب کریں گی۔ اس میں نیپرا کی جانب سے نوٹیفائی کردہ صنعتی بی تھری پاور ٹیرف اور کیپٹیو پاور پلانٹس کی خود پیدا کردہ بجلی کی لاگت (اوگرا کی نوٹیفائی شدہ گیس نرخوں پر) کے درمیان فرق کو مدنظر رکھا جائے گا۔ لیوی کی شرح میں فوری طور پر پانچ فیصد اضافہ کیا جائے گا، جو جولائی 2025 تک دس فیصد، فروری 2026 تک پندرہ فیصد اور اگست 2026 تک بیس فیصد تک پہنچ جائے گا۔</p>
<p>ایس ایس جی سی ایل اور ایس این جی پی ایل دونوں اس ایکٹ کے تحت باقاعدہ ’متعین ادارے ہیں۔ ایکٹ کی دفعہ 9، جسے شیڈول کے سیریل نمبر 3 کے ساتھ ملا کر پڑھا جائے، اس بات کی اجازت دیتی ہے کہ ’کیپٹیو پاور پلانٹس کو گیس فروخت کرنے والی کسی بھی دوسری کمپنی‘ کو بھی اس میں شامل کرنے کے لیے ترامیم کی جا سکتی ہیں، جیسا کہ آفیشل گزٹ میں نوٹیفائی کیا جائے۔</p>
<p>پاور ڈویژن کے مطابق چونکہ (ایکٹ کی) دفعات 3 اور 4 اوگرا کی نوٹیفائی کردہ فروخت کی قیمتوں کے علاوہ لیوی کے نفاذ کی گنجائش فراہم کرتی ہیں جو فی الحال صرف ایس ایس جی سی ایل اور ایس این جی پی ایل پر لاگو ہے، اس لیے وزارتِ قانون سے ان کمپنیوں پر لیوی لگانے کے بارے میں رائے مانگی گئی تھی جو کیپٹیو پاور پلانٹس کو گیس فراہم کر رہی ہیں لیکن ان کی گیس کی خرید و فروخت کی قیمتیں اوگرا کے متعین کردہ نرخوں کے تحت نہیں آتیں۔</p>
<p>وزارتِ قانون نے واضح کیا کہ (ایکٹ کی) دفعہ 3 وفاقی حکومت کو یہ اختیار دیتی ہے کہ وہ ’شیڈول‘ میں ترمیم کر کے ان کمپنیوں کو شامل کر سکے جو کیپٹیو پاور پلانٹس کو گیس فراہم کر رہی ہیں۔ ایک بار نوٹیفائی ہونے کے بعد، ایسی کمپنیاں دفعہ 3(2) کے تحت بطور ’ایجنٹ‘ لیوی کا بل بھیجنے اور اسے وصول کرنے کی پابند ہوں گی۔ وزارت نے نوٹ کیا کہ اگرچہ پروڈیوسر سے تھرڈ پارٹی سپلائرز کو گیس کی فروخت ’ڈی ریگولیٹڈ‘ (غیر منظم) تصور کی جاتی ہے لیکن تھرڈ پارٹی سپلائرز سے کیپٹیو پاور پلانٹس کو گیس کی فروخت ڈی ریگولیٹڈ نہیں ہے؛ لہٰذا لیوی کی وصولی کے مقصد کے لیے اوگرا آرڈیننس کی دفعات 8(6)، 43A، اور 43B کے تحت اوگرا کی جانب سے اس کی ریگولیشن ضروری ہے۔</p>
<p>پٹرولیم ڈویژن نے نشاندہی کی ہے کہ اوگرا فی الوقت ایس ایس جی سی ایل اور ایس این جی پائپ لائنز کے نیٹ ورکس سے باہر کیپٹیو پاور پلانٹس کو گیس فراہم کرنے والی کمپنیوں کے لیے گیس کی خریداری اور صارفین کو فروخت کی قیمتیں متعین یا نوٹیفائی نہیں کرتا۔ چونکہ دفعہ 3 اور 4 کے تحت لیوی کا حساب کتاب اوگرا کے نوٹیفائی کردہ گیس نرخوں پر منحصر ہے، اس لیے تھرڈ پارٹی سپلائرز کے لیے نوٹیفائی کردہ قیمتوں کی عدم موجودگی میں لیوی کی الگ شرح کا تعین کرنا مشکل ہو سکتا ہے اور یہ حکومت کو قانونی چارہ جوئی کے خطرے سے دوچار کر سکتا ہے۔</p>
<p>ان خدشات کے پیشِ نظر پٹرولیم ڈویژن نے وفاقی کابینہ کو دو تجاویز پیش کیں: (i) یہ کہ سوئی سدرن اور سوئی ناردرن کے کیپٹیو پاور صارفین کے لیے متعین اور نوٹیفائی کردہ ماہانہ لیوی کی شرح کا اطلاق تھرڈ پارٹی گیس سپلائرز کے صارفین پر بھی کر دیا جائے؛ اور (ii) یہ کہ پٹرولیم ڈویژن کو ایکٹ کے شیڈول میں ترمیم کرنے کا اختیار دیا جائے، جو وزارتِ قانون کی جانچ پڑتال سے مشروط ہو۔</p>
<p>تفصیلی غور و خوض اور وزارت قانون و انصاف کے تبصروں کے پیشِ نظر، وفاقی کابینہ نے پٹرولیم ڈویژن کی تجاویز کی منظوری دے دی۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40281195</guid>
      <pubDate>Sat, 03 Jan 2026 13:55:01 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (مشتاق گھمن)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/01/031137393960907.webp" type="image/webp" medium="image" height="768" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/01/031137393960907.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
