<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Business &amp; Finance</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 14:19:21 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 14:19:21 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ماہی گیری کی برآمدات پھلوں اور سبزیوں سے آگے، حجم 5 کروڑ ڈالر</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40281194/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پاکستان کی مچھلی اور سمندری خوراک کی برآمدات پھلوں اور سبزیوں کے مقابلے میں بہتر رہی جو کہ 500 ملین ڈالر تک پہنچ گئیں، یہ حجم پاکستان کی مجموعی قومی برآمدات کا 1.34 فیصد ہے جن کی کل مالیت 32.04 ارب ڈالر ریکارڈ کی گئی ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ بات ماہی گیری شعبے کے سینئر حکام نے ایک اجلاس میں وفاقی وزیر برائے بحری امور جنید انور چودھری کو بریفنگ دیتے ہوئے کہی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وفاقی وزیر نے اس شعبے کی اہمیت اور اس کے امکانات کو تسلیم کرتے ہوئے ماہی گیری کے شعبے میں فوری اصلاحات پر زور دیا اور کہا کہ قابل اعتماد توانائی کی فراہمی اور کم لاگت والے ان پٹ عوامل برآمدات بڑھانے اور پائیدار آمدنی پیدا کرنے کیلئے انتہائی ضروری ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بریفنگ کے دوران اسسٹنٹ فشریز کمشنر فرحان خان نے شرکاء کو اس شعبے (ماہی گیری) کو درپیش ڈھانچہ جاتی خامیوں اور آپریشنل چیلنجز سے آگاہ کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جنید چوہدری نے کہا کہ حکومت نجی شعبے کے ساتھ مل کر بجلی کی مسلسل قلت اور توانائی کی بلند قیمتوں سے نمٹنے کے لیے تمام ضروری اقدامات کرے گی، جو پیداوار میں رکاوٹ بن رہے ہیں اور پاکستانی سمندری خوراک (سی فوڈ) کے برآمد کنندگان کی عالمی مسابقت کو ختم کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس شعبے میں ترقی کی راہ ہموار کرنے اور ماہی گیری کو ایک مکمل صنعت کے طور پر تسلیم کرانے کے لیے بجلی کی بلا تعطل فراہمی، سستی خوراک (فیڈ) اور بجلی کی موثر پیداوار ناگزیر ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ’پاکستان کے پاس مچھلی، جھینگے، کیکڑے، لابسٹر، اسکویڈ، کٹل فش اور بائی ویلز سمیت وافر خام مال موجود ہے جو ویلیو ایڈڈ پروسیسنگ میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اجلاس کو بتایا گیا کہ پاکستانی سمندری خوراک (سی فوڈ) چین، خلیجی ممالک، جنوب مشرقی ایشیا، مشرقی ایشیا، امریکہ اور یورپی یونین سمیت 40 سے زائد منڈیوں میں برآمد کی جاتی ہے۔ مقدار کے لحاظ سے، یہ زرعی برآمدات میں دوسرے نمبر پر ہے اور سالانہ تقریباً 500 ملین ڈالر کا زرمبادلہ پیدا کرتی ہے، اگرچہ علاقائی مقابلے اور قیمتوں کے دباؤ کی وجہ سے آمدنی میں اتار چڑھاؤ آتا رہتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حکام نے اجلاس کو بتایا کہ ملک بھر میں 100 سے زائد مچھلی پروسیسنگ پلانٹس کام کر رہے ہیں، جن میں چھوٹے یونٹس سے لے کر بڑے تجارتی ادارے شامل ہیں، اور یہ تقریباً 400 رجسٹرڈ برآمد کنندگان کی معاونت سے چل رہے ہیں۔ زیادہ تر سہولیات کراچی میں مرکوز ہیں، جبکہ بلوچستان میں بنیادی ڈھانچے کی کمی ہے اور خیبر پختونخوا اور پنجاب شعبے کی ترقی میں نمایاں طور پر پیچھے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اقوام متحدہ کے ادارہ خوراک و زراعت کی رپورٹ کے مطابق، مچھلی اور مچھلی کی مصنوعات پاکستان کی اہم برآمدی اشیاء میں دسویں نمبر پر ہیں، جو مالی سال 2024–25 میں مجموعی برآمدات 32.04 ارب امریکی ڈالر میں 1.34 فیصد کی حصہ داری رکھتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس شعبے (ماہی گیری) نے پھلوں اور سبزیوں، ادویات (فارماسیوٹیکل)، کھیلوں کے سامان اور جراحی کے آلات (سرجیکل انسٹرومنٹس) کی برآمدات کو بھی پیچھے چھوڑ دیا ہے۔ عالمی سطح پر مچھلی اور اس سے تیار کردہ مصنوعات تجارت کی جانے والی خوراک کی سب سے بڑی اشیاء میں شامل ہیں جو تقریباً 230 ممالک تک پہنچتی ہیں اور 2022 میں ان کی مجموعی مالیت 195 ارب ڈالر تک پہنچ گئی تھی۔ دنیا میں مچھلی کے استعمال کی اوسط فی کس شرح 20.7 کلوگرام رہی اور مستقبل میں اس میں مزید اضافے کا امکان ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان میں ماہی گیری کا شعبہ جی ڈی پی میں تقریباً 1 فیصد اور زرعی شعبے میں 4 فیصد حصہ ڈالتا ہے۔ یہ شعبہ 10 لاکھ سے زائد افراد کو براہِ راست روزگار اور تقریباً 15 لاکھ افراد کو بالواسطہ ذریعہ معاش فراہم کررہا ہے۔ مالی سال 2024-25 کے دوران تقریباً 3 لاکھ ٹن مچھلی اور اس سے متعلقہ مصنوعات کو پروسیس کیا گیا جس میں سے 30 فیصد انسانی خوراک کے طور پر برآمد کی گئی، 40 فیصد کو پولٹری، ڈیری اور ایکوا کلچر کے لیے فش میل (مچھلی کا سفوف) میں تبدیل کیا گیا جبکہ بقیہ حصہ مقامی سطح پر استعمال ہوا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پاکستان کی مچھلی اور سمندری خوراک کی برآمدات پھلوں اور سبزیوں کے مقابلے میں بہتر رہی جو کہ 500 ملین ڈالر تک پہنچ گئیں، یہ حجم پاکستان کی مجموعی قومی برآمدات کا 1.34 فیصد ہے جن کی کل مالیت 32.04 ارب ڈالر ریکارڈ کی گئی ہے۔</strong></p>
<p>یہ بات ماہی گیری شعبے کے سینئر حکام نے ایک اجلاس میں وفاقی وزیر برائے بحری امور جنید انور چودھری کو بریفنگ دیتے ہوئے کہی۔</p>
<p>وفاقی وزیر نے اس شعبے کی اہمیت اور اس کے امکانات کو تسلیم کرتے ہوئے ماہی گیری کے شعبے میں فوری اصلاحات پر زور دیا اور کہا کہ قابل اعتماد توانائی کی فراہمی اور کم لاگت والے ان پٹ عوامل برآمدات بڑھانے اور پائیدار آمدنی پیدا کرنے کیلئے انتہائی ضروری ہیں۔</p>
<p>بریفنگ کے دوران اسسٹنٹ فشریز کمشنر فرحان خان نے شرکاء کو اس شعبے (ماہی گیری) کو درپیش ڈھانچہ جاتی خامیوں اور آپریشنل چیلنجز سے آگاہ کیا۔</p>
<p>جنید چوہدری نے کہا کہ حکومت نجی شعبے کے ساتھ مل کر بجلی کی مسلسل قلت اور توانائی کی بلند قیمتوں سے نمٹنے کے لیے تمام ضروری اقدامات کرے گی، جو پیداوار میں رکاوٹ بن رہے ہیں اور پاکستانی سمندری خوراک (سی فوڈ) کے برآمد کنندگان کی عالمی مسابقت کو ختم کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس شعبے میں ترقی کی راہ ہموار کرنے اور ماہی گیری کو ایک مکمل صنعت کے طور پر تسلیم کرانے کے لیے بجلی کی بلا تعطل فراہمی، سستی خوراک (فیڈ) اور بجلی کی موثر پیداوار ناگزیر ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ’پاکستان کے پاس مچھلی، جھینگے، کیکڑے، لابسٹر، اسکویڈ، کٹل فش اور بائی ویلز سمیت وافر خام مال موجود ہے جو ویلیو ایڈڈ پروسیسنگ میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔</p>
<p>اجلاس کو بتایا گیا کہ پاکستانی سمندری خوراک (سی فوڈ) چین، خلیجی ممالک، جنوب مشرقی ایشیا، مشرقی ایشیا، امریکہ اور یورپی یونین سمیت 40 سے زائد منڈیوں میں برآمد کی جاتی ہے۔ مقدار کے لحاظ سے، یہ زرعی برآمدات میں دوسرے نمبر پر ہے اور سالانہ تقریباً 500 ملین ڈالر کا زرمبادلہ پیدا کرتی ہے، اگرچہ علاقائی مقابلے اور قیمتوں کے دباؤ کی وجہ سے آمدنی میں اتار چڑھاؤ آتا رہتا ہے۔</p>
<p>حکام نے اجلاس کو بتایا کہ ملک بھر میں 100 سے زائد مچھلی پروسیسنگ پلانٹس کام کر رہے ہیں، جن میں چھوٹے یونٹس سے لے کر بڑے تجارتی ادارے شامل ہیں، اور یہ تقریباً 400 رجسٹرڈ برآمد کنندگان کی معاونت سے چل رہے ہیں۔ زیادہ تر سہولیات کراچی میں مرکوز ہیں، جبکہ بلوچستان میں بنیادی ڈھانچے کی کمی ہے اور خیبر پختونخوا اور پنجاب شعبے کی ترقی میں نمایاں طور پر پیچھے ہیں۔</p>
<p>اقوام متحدہ کے ادارہ خوراک و زراعت کی رپورٹ کے مطابق، مچھلی اور مچھلی کی مصنوعات پاکستان کی اہم برآمدی اشیاء میں دسویں نمبر پر ہیں، جو مالی سال 2024–25 میں مجموعی برآمدات 32.04 ارب امریکی ڈالر میں 1.34 فیصد کی حصہ داری رکھتی ہیں۔</p>
<p>اس شعبے (ماہی گیری) نے پھلوں اور سبزیوں، ادویات (فارماسیوٹیکل)، کھیلوں کے سامان اور جراحی کے آلات (سرجیکل انسٹرومنٹس) کی برآمدات کو بھی پیچھے چھوڑ دیا ہے۔ عالمی سطح پر مچھلی اور اس سے تیار کردہ مصنوعات تجارت کی جانے والی خوراک کی سب سے بڑی اشیاء میں شامل ہیں جو تقریباً 230 ممالک تک پہنچتی ہیں اور 2022 میں ان کی مجموعی مالیت 195 ارب ڈالر تک پہنچ گئی تھی۔ دنیا میں مچھلی کے استعمال کی اوسط فی کس شرح 20.7 کلوگرام رہی اور مستقبل میں اس میں مزید اضافے کا امکان ہے۔</p>
<p>پاکستان میں ماہی گیری کا شعبہ جی ڈی پی میں تقریباً 1 فیصد اور زرعی شعبے میں 4 فیصد حصہ ڈالتا ہے۔ یہ شعبہ 10 لاکھ سے زائد افراد کو براہِ راست روزگار اور تقریباً 15 لاکھ افراد کو بالواسطہ ذریعہ معاش فراہم کررہا ہے۔ مالی سال 2024-25 کے دوران تقریباً 3 لاکھ ٹن مچھلی اور اس سے متعلقہ مصنوعات کو پروسیس کیا گیا جس میں سے 30 فیصد انسانی خوراک کے طور پر برآمد کی گئی، 40 فیصد کو پولٹری، ڈیری اور ایکوا کلچر کے لیے فش میل (مچھلی کا سفوف) میں تبدیل کیا گیا جبکہ بقیہ حصہ مقامی سطح پر استعمال ہوا۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40281194</guid>
      <pubDate>Sat, 03 Jan 2026 13:55:30 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (عبدالرشید آزاد)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/01/0311072167fb9ce.webp" type="image/webp" medium="image" height="400" width="600">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/01/0311072167fb9ce.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
