<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Editorials</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 04 Jun 2026 01:51:24 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 04 Jun 2026 01:51:24 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>معاشی نمو کا جائزہ</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40281179/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;نیشنل اکاؤنٹس کمیٹی (این اے سی ) نے رواں ہفتے کے آغاز میں مالی سال 2026 کی پہلی سہ ماہی کے لیے جی ڈی پی کی شرح نمو 3.71 فیصد منظور کی ہے جبکہ مالی سال 2025 کی آخری سہ ماہی کی شرح نمو پر نظرثانی کرتے ہوئے اسے بڑھا کر 6.17 فیصد کردیا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ اعدادوشمار توقع سے زیادہ ہیں لیکن بہت سے لوگوں کے لیے یہ حیران کن نہیں ہے، کیونکہ مسلم لیگ (ن) شاید نمو (گروتھ) کے اعداد و شمار کو بڑھا چڑھا کر پیش کرنے کی اپنی روایت پر قائم ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چند ماہ قبل سرکاری حکام ڈونرز سے فنڈز حاصل کرنے اور آئی ایم ایف  سے نرم پالیسیاں منظور کروانے کی کوشش میں سیلاب کی وجہ سے ملکی معیشت کو ہونے والے نقصانات کے بڑے بڑے دعوے کر رہے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اب جبکہ یہ چال (سیلاب کے نقصانات بڑھا کر دکھانے کی) کام نہ آئی، تو اب شرحِ نمو (گروتھ) کو مبالغہ آرائی کے ساتھ پیش کیا جا رہا ہے۔ مثال کے طور پر، سیلاب کے بدترین اثرات لائیو اسٹاک (مال مویشی) کے شعبے پر پڑے تھے، اس کے باوجود مبینہ طور پر اس شعبے میں 6.3 فیصد کی شرح سے ترقی دکھائی گئی ہے جو کہ غالباً تاریخ کی بلند ترین شرح ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگر ہم اخراجات کے طریقہ کار یعنی سی پلس جی پلس آئی پلس (ایکس - ایم ) کے ذریعے جی ڈی پی  کی شرح نمو کا جائزہ لیں، تو ایسا معلوم ہوتا ہے کہ شرح نمو کا 100 فیصد سے بھی زائد حصہ صرف کسسمپشن سے آ رہا ہے، کیونکہ خالص برآمدات  بدستور شدید منفی ہیں اور سرمایہ کاری انتہائی کمزور ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حکومت کے لیے سال کے اختتام پر ان اعداد و شمار کی مطابقت ثابت کرنا مشکل ہو سکتا ہے۔ مجموعی طور پر، رپورٹ کردہ 3.7 فیصد کی شرح نمو میں زراعت میں 2.9 فیصد، صنعت میں 9.4 فیصد، جبکہ خدمات (سروسز) کے شعبے میں 2.4 فیصد کی ترقی شامل ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;زراعت کے شعبے میں فصلوں کی پیداوار میں 3.7 فیصد کی کمی واقع ہوئی ہے، کیونکہ اہم فصلیں، دیگر فصلیں اور کاٹن جننگ (روئی کی چھانٹی) کے شعبے، سبھی خسارے (منفی زون) میں ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے باوجود زرعی شعبے نے 2.9 فیصد کی شرح نمو ریکارڈ کی ہے جس کی بڑی وجہ لائیو اسٹاک (مال مویشی) کی غیر معمولی کارکردگی ہے۔ یہ بات عقلِ کے برعکس محسوس ہوتی ہے، کیونکہ بڑے اور چھوٹے گوشت کی بڑھتی ہوئی قیمتیں لائیو اسٹاک کی سپلائی اور جانوروں کے ذبیحہ کے عمل میں دباؤ کی نشاندہی کرتی ہیں۔ تاہم، رپورٹ کردہ اعداد و شمار ایک بالکل مختلف تصویر پیش کرتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سب سے زیادہ حیران کن عدد صنعت میں 9.4 فیصد کی شرح نمو ہے جبکہ بڑے پیمانے کی صنعتوں  کی ترقی صرف 4.1 فیصد رہی ہے۔ بلا شبہ بعض صنعتوں میں بحالی دیکھی گئی ہے جن میں گاڑیوں (آٹو موبیل) کا شعبہ سرِفہرست ہے لیکن یہ بہتری پہلے ہی ایل ایس ایم کے ڈیٹا میں واضح طور پر شامل ہو چکی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;“کوئی یہ سوال اٹھا سکتا ہے کہ چھوٹے پیمانے کی صنعت (ایس ایس ایم) کی 10.2 فیصد شرح نمو، بڑے پیمانے کی صنعت (ایل ایس ایم ) کے مقابلے میں دو گنا سے بھی زیادہ کیسے ہوسکتی ہے۔ یہ بات عقل کے برعکس ہے کیونکہ عموماً بڑے اور چھوٹے پیمانے کی صنعتوں کی ترقی کے درمیان ایک گہرا تعلق  پایا جاتا ہے۔ اسی طرح، جانوروں کے ذبیحہ  میں 7.5 فیصد کی شرح نمو بھی مرغی اور سرخ گوشت کی منڈیوں کی صورتحال سے میل نہیں کھاتی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ترقی کی سب سے زیادہ شرح بجلی، گیس اور پانی کی فراہمی کے شعبے میں 25.5 فیصد ریکارڈ کی گئی ہے جو کہ گزشتہ سہ ماہی میں 100 فیصد سے زائد کی شرح نمو کے بعد سامنے آئی ہے۔ مالی سال 2026 کی پہلی سہ ماہی میں بجلی کی کھپت میں صرف 1 فیصد اضافہ ہوا اور اس ذیلی شعبے میں بلند شرح نمو کی بڑی وجہ بڑھتی ہوئی سبسڈیز (رعایتی رقوم) ہیں، جو محض گردشی قرضوں کے خلا کو پر کرتی ہیں۔ یہ ڈیٹا اکٹھا کرنے کے طریقہ کار  کا مسئلہ ہے جو ترقی کے اعداد و شمار کو مصنوعی طور پر بڑھا چڑھا کر دکھا رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری سب سے بڑی نمو تعمیرات کے شعبے میں 21.0 فیصد رہی۔ یہاں دو ہندسوں کی شرح نمو ممکن ہے، کیونکہ سیمنٹ کی پیداوار 15 فیصد بڑھی۔ اگرچہ یہ اب بھی قدرے زیادہ لگتی ہے، لیکن یہ نمایاں حد تک مبالغہ آمیز نہیں دکھائی دیتی۔ خدمات کے شعبے میں 2.35 فیصد کی نمو زیادہ حقیقت پسندانہ تصویر پیش کرتی ہے۔ اقتصادی طلب میں عمومی بہتری دیکھی جا سکتی ہے جو ایل ایس ایم کی بحالی اور ہول سیل و ریٹیل ٹریڈ کی 3.1 فیصد نمو میں ظاہر ہوتی ہے، تاہم مالیات اور بیمہ میں دو ہندسوں کی شرح نمو وضاحت طلب ہے، جیسا کہ خدمات کے کچھ دیگر ذیلی شعبے بھی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مختصر یہ کہ معیشت بحال ہو رہی ہے، لیکن وہ رفتار جس کا عندیہ شائع شدہ اعداد و شمار دیتے ہیں، حقیقت میں موجود نہیں۔ بحالی سست ہے، اور درست بھی ہے، کیونکہ اقتصادی ڈھانچے میں بنیادی خامیاں نمو کو 3 سے 4 فیصد سے زیادہ نہیں ہونے دیتیں۔ یہ غیر متوازن اعداد و شمار کاغذ پر بہتر نظر آ سکتے ہیں، لیکن روزگار کے مواقع پیدا کرنے میں مدد نہیں کریں گے۔ اگر حکومت اعداد و شمار میں مبالغہ جاری رکھے گی تو اس کی ساکھ متاثر ہو سکتی ہے۔ حقیقت پسند رہنا بہتر ہے، کیونکہ اس سے پالیسی ساز محتاط رہیں گے اور ضروری اصلاحات کے نفاذ میں مدد ملے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2025&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>نیشنل اکاؤنٹس کمیٹی (این اے سی ) نے رواں ہفتے کے آغاز میں مالی سال 2026 کی پہلی سہ ماہی کے لیے جی ڈی پی کی شرح نمو 3.71 فیصد منظور کی ہے جبکہ مالی سال 2025 کی آخری سہ ماہی کی شرح نمو پر نظرثانی کرتے ہوئے اسے بڑھا کر 6.17 فیصد کردیا ہے۔</strong></p>
<p>یہ اعدادوشمار توقع سے زیادہ ہیں لیکن بہت سے لوگوں کے لیے یہ حیران کن نہیں ہے، کیونکہ مسلم لیگ (ن) شاید نمو (گروتھ) کے اعداد و شمار کو بڑھا چڑھا کر پیش کرنے کی اپنی روایت پر قائم ہے۔</p>
<p>چند ماہ قبل سرکاری حکام ڈونرز سے فنڈز حاصل کرنے اور آئی ایم ایف  سے نرم پالیسیاں منظور کروانے کی کوشش میں سیلاب کی وجہ سے ملکی معیشت کو ہونے والے نقصانات کے بڑے بڑے دعوے کر رہے تھے۔</p>
<p>اب جبکہ یہ چال (سیلاب کے نقصانات بڑھا کر دکھانے کی) کام نہ آئی، تو اب شرحِ نمو (گروتھ) کو مبالغہ آرائی کے ساتھ پیش کیا جا رہا ہے۔ مثال کے طور پر، سیلاب کے بدترین اثرات لائیو اسٹاک (مال مویشی) کے شعبے پر پڑے تھے، اس کے باوجود مبینہ طور پر اس شعبے میں 6.3 فیصد کی شرح سے ترقی دکھائی گئی ہے جو کہ غالباً تاریخ کی بلند ترین شرح ہے۔</p>
<p>اگر ہم اخراجات کے طریقہ کار یعنی سی پلس جی پلس آئی پلس (ایکس - ایم ) کے ذریعے جی ڈی پی  کی شرح نمو کا جائزہ لیں، تو ایسا معلوم ہوتا ہے کہ شرح نمو کا 100 فیصد سے بھی زائد حصہ صرف کسسمپشن سے آ رہا ہے، کیونکہ خالص برآمدات  بدستور شدید منفی ہیں اور سرمایہ کاری انتہائی کمزور ہے۔</p>
<p>حکومت کے لیے سال کے اختتام پر ان اعداد و شمار کی مطابقت ثابت کرنا مشکل ہو سکتا ہے۔ مجموعی طور پر، رپورٹ کردہ 3.7 فیصد کی شرح نمو میں زراعت میں 2.9 فیصد، صنعت میں 9.4 فیصد، جبکہ خدمات (سروسز) کے شعبے میں 2.4 فیصد کی ترقی شامل ہے۔</p>
<p>زراعت کے شعبے میں فصلوں کی پیداوار میں 3.7 فیصد کی کمی واقع ہوئی ہے، کیونکہ اہم فصلیں، دیگر فصلیں اور کاٹن جننگ (روئی کی چھانٹی) کے شعبے، سبھی خسارے (منفی زون) میں ہیں۔</p>
<p>اس کے باوجود زرعی شعبے نے 2.9 فیصد کی شرح نمو ریکارڈ کی ہے جس کی بڑی وجہ لائیو اسٹاک (مال مویشی) کی غیر معمولی کارکردگی ہے۔ یہ بات عقلِ کے برعکس محسوس ہوتی ہے، کیونکہ بڑے اور چھوٹے گوشت کی بڑھتی ہوئی قیمتیں لائیو اسٹاک کی سپلائی اور جانوروں کے ذبیحہ کے عمل میں دباؤ کی نشاندہی کرتی ہیں۔ تاہم، رپورٹ کردہ اعداد و شمار ایک بالکل مختلف تصویر پیش کرتے ہیں۔</p>
<p>سب سے زیادہ حیران کن عدد صنعت میں 9.4 فیصد کی شرح نمو ہے جبکہ بڑے پیمانے کی صنعتوں  کی ترقی صرف 4.1 فیصد رہی ہے۔ بلا شبہ بعض صنعتوں میں بحالی دیکھی گئی ہے جن میں گاڑیوں (آٹو موبیل) کا شعبہ سرِفہرست ہے لیکن یہ بہتری پہلے ہی ایل ایس ایم کے ڈیٹا میں واضح طور پر شامل ہو چکی ہے۔</p>
<p>“کوئی یہ سوال اٹھا سکتا ہے کہ چھوٹے پیمانے کی صنعت (ایس ایس ایم) کی 10.2 فیصد شرح نمو، بڑے پیمانے کی صنعت (ایل ایس ایم ) کے مقابلے میں دو گنا سے بھی زیادہ کیسے ہوسکتی ہے۔ یہ بات عقل کے برعکس ہے کیونکہ عموماً بڑے اور چھوٹے پیمانے کی صنعتوں کی ترقی کے درمیان ایک گہرا تعلق  پایا جاتا ہے۔ اسی طرح، جانوروں کے ذبیحہ  میں 7.5 فیصد کی شرح نمو بھی مرغی اور سرخ گوشت کی منڈیوں کی صورتحال سے میل نہیں کھاتی۔</p>
<p>ترقی کی سب سے زیادہ شرح بجلی، گیس اور پانی کی فراہمی کے شعبے میں 25.5 فیصد ریکارڈ کی گئی ہے جو کہ گزشتہ سہ ماہی میں 100 فیصد سے زائد کی شرح نمو کے بعد سامنے آئی ہے۔ مالی سال 2026 کی پہلی سہ ماہی میں بجلی کی کھپت میں صرف 1 فیصد اضافہ ہوا اور اس ذیلی شعبے میں بلند شرح نمو کی بڑی وجہ بڑھتی ہوئی سبسڈیز (رعایتی رقوم) ہیں، جو محض گردشی قرضوں کے خلا کو پر کرتی ہیں۔ یہ ڈیٹا اکٹھا کرنے کے طریقہ کار  کا مسئلہ ہے جو ترقی کے اعداد و شمار کو مصنوعی طور پر بڑھا چڑھا کر دکھا رہا ہے۔</p>
<p>دوسری سب سے بڑی نمو تعمیرات کے شعبے میں 21.0 فیصد رہی۔ یہاں دو ہندسوں کی شرح نمو ممکن ہے، کیونکہ سیمنٹ کی پیداوار 15 فیصد بڑھی۔ اگرچہ یہ اب بھی قدرے زیادہ لگتی ہے، لیکن یہ نمایاں حد تک مبالغہ آمیز نہیں دکھائی دیتی۔ خدمات کے شعبے میں 2.35 فیصد کی نمو زیادہ حقیقت پسندانہ تصویر پیش کرتی ہے۔ اقتصادی طلب میں عمومی بہتری دیکھی جا سکتی ہے جو ایل ایس ایم کی بحالی اور ہول سیل و ریٹیل ٹریڈ کی 3.1 فیصد نمو میں ظاہر ہوتی ہے، تاہم مالیات اور بیمہ میں دو ہندسوں کی شرح نمو وضاحت طلب ہے، جیسا کہ خدمات کے کچھ دیگر ذیلی شعبے بھی ہیں۔</p>
<p>مختصر یہ کہ معیشت بحال ہو رہی ہے، لیکن وہ رفتار جس کا عندیہ شائع شدہ اعداد و شمار دیتے ہیں، حقیقت میں موجود نہیں۔ بحالی سست ہے، اور درست بھی ہے، کیونکہ اقتصادی ڈھانچے میں بنیادی خامیاں نمو کو 3 سے 4 فیصد سے زیادہ نہیں ہونے دیتیں۔ یہ غیر متوازن اعداد و شمار کاغذ پر بہتر نظر آ سکتے ہیں، لیکن روزگار کے مواقع پیدا کرنے میں مدد نہیں کریں گے۔ اگر حکومت اعداد و شمار میں مبالغہ جاری رکھے گی تو اس کی ساکھ متاثر ہو سکتی ہے۔ حقیقت پسند رہنا بہتر ہے، کیونکہ اس سے پالیسی ساز محتاط رہیں گے اور ضروری اصلاحات کے نفاذ میں مدد ملے گی۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2025</p>
]]></content:encoded>
      <category>Editorials</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40281179</guid>
      <pubDate>Fri, 02 Jan 2026 20:14:52 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (اداریہ)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/01/02151948d7c2645.webp" type="image/webp" medium="image" height="768" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/01/02151948d7c2645.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
