<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - World</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sat, 06 Jun 2026 10:04:42 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sat, 06 Jun 2026 10:04:42 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>سوئٹزرلینڈ: بار میں لگنے والی ہلاکت خیز آگ کے متاثرین کی شناخت کا کٹھن عمل جاری</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40281175/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;سوئٹزر لینڈ کے پرتعیش سکی ریزورٹ کرانز مونٹانا میں نئے سال کی تقریب کے دوران  پرہجوم بارمیں لگنے والی  ہولناک آگ نے خوشیوں کو ماتم میں بدل دیا۔اس واقعے میں تقریباً 40 افراد ہلاک اور 115 زخمی ہوئے، جن میں سے بیشتر نوجوان ہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تحقیقاتی حکام کے مطابق لاشیں اس قدر جھلس چکی ہیں کہ ان کی شناخت کے لیے ڈی این اے اور دانتوں کے نمونوں کا سہارا لیا جا رہا ہے، جس میں کئی دن لگ سکتے ہیں۔ کینٹن ویلیس کے حکام کا کہنا ہے کہ جب تک سو فیصد یقین نہ ہو جائے اہل خانہ کو معلومات فراہم نہیں کی جا سکتیں۔ اگرچہ آگ لگنے کی حتمی وجہ تاحال معلوم نہیں ہو سکی، تاہم ابتدائی شواہد اسے تخریب کاری کے بجائے ایک حادثہ قرار دے رہے ہیں۔ عینی شاہدین کے مطابق چھت سے لٹکی آتش گیر موم بتیوں سے لگی آگ پلک جھپکتے میں پورے ہال میں پھیل گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مقامی باشندے اور سیاح اس المیے پر گہرے صدمے میں ہیں۔ جائے وقوعہ کے قریب سینکڑوں لوگوں نے خاموشی اختیار کر کے اور شمعیں روشن کر کے ہلاک شدگان کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔ پولیس نے علاقے کو گھیرے میں لے رکھا ہے اور لاشوں کو نکالنے اور شناخت کا عمل چوبیس گھنٹے جاری رکھنے کا عزم ظاہر کیا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>سوئٹزر لینڈ کے پرتعیش سکی ریزورٹ کرانز مونٹانا میں نئے سال کی تقریب کے دوران  پرہجوم بارمیں لگنے والی  ہولناک آگ نے خوشیوں کو ماتم میں بدل دیا۔اس واقعے میں تقریباً 40 افراد ہلاک اور 115 زخمی ہوئے، جن میں سے بیشتر نوجوان ہیں۔</strong></p>
<p>تحقیقاتی حکام کے مطابق لاشیں اس قدر جھلس چکی ہیں کہ ان کی شناخت کے لیے ڈی این اے اور دانتوں کے نمونوں کا سہارا لیا جا رہا ہے، جس میں کئی دن لگ سکتے ہیں۔ کینٹن ویلیس کے حکام کا کہنا ہے کہ جب تک سو فیصد یقین نہ ہو جائے اہل خانہ کو معلومات فراہم نہیں کی جا سکتیں۔ اگرچہ آگ لگنے کی حتمی وجہ تاحال معلوم نہیں ہو سکی، تاہم ابتدائی شواہد اسے تخریب کاری کے بجائے ایک حادثہ قرار دے رہے ہیں۔ عینی شاہدین کے مطابق چھت سے لٹکی آتش گیر موم بتیوں سے لگی آگ پلک جھپکتے میں پورے ہال میں پھیل گئی۔</p>
<p>مقامی باشندے اور سیاح اس المیے پر گہرے صدمے میں ہیں۔ جائے وقوعہ کے قریب سینکڑوں لوگوں نے خاموشی اختیار کر کے اور شمعیں روشن کر کے ہلاک شدگان کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔ پولیس نے علاقے کو گھیرے میں لے رکھا ہے اور لاشوں کو نکالنے اور شناخت کا عمل چوبیس گھنٹے جاری رکھنے کا عزم ظاہر کیا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40281175</guid>
      <pubDate>Fri, 02 Jan 2026 14:12:18 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/01/021402537c1e56a.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/01/021402537c1e56a.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
