<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Markets - Energy</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sun, 19 Jul 2026 13:17:52 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sun, 19 Jul 2026 13:17:52 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>2020 کے بعد سب سے بڑے سالانہ خسارے کے بعد خام تیل کی قیمتوں میں مزید کمی</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40281167/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;سال 2026 کے پہلے کاروباری دن خام تیل کی قیمتوں میں کمی ریکارڈ کی گئی ۔ یہ کمی ایک ایسے سال کے بعد سامنے آئی ہے جس میں 2020 کے بعد سالانہ بنیادوں پر سب سے زیادہ خسارہ دیکھا گیا تھا۔ اس وقت سرمایہ کار جہاں اوورسپلائی کے خدشات کو مدنظر رکھ رہے ہیں، وہیں یوکرین جنگ اور وینزویلا کی برآمدات جیسے جیو پولیٹیکل (جغرافیائی و سیاسی) خطرات کا بھی جائزہ لے رہے ہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جمعہ کو برینٹ کروڈ کے سودوں میں 51 سینٹ کی کمی دیکھی گئی جس کے بعد قیمت 60.34 ڈالر فی بیرل پر آ گئی۔ اسی طرح امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (ڈبلیو ٹی آئی) خام تیل بھی 52 سینٹ کی کمی کے ساتھ 56.90 ڈالر پر جاپہنچا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ادھرنئے سال کے موقع پر روس اور یوکرین نے ایک دوسرے پر شہریوں کو نشانہ بنانے کے الزامات عائد کیے۔ یہ تناؤ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی زیرِ نگرانی مذاکرات جاری ہیں، جن کا مقصد تقریباً چار سال سے جاری اس جنگ کا خاتمہ کرنا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یوکرین نے حالیہ مہینوں میں روس کے توانائی کے بنیادی ڈھانچے (انرجی انفراسٹرکچر) پر حملوں میں شدت پیدا کر دی ہے، جس کا مقصد یوکرین میں اپنی فوجی مہم کے لیے ماسکو کے مالیاتی ذرائع کو ختم کرنا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب وینزویلا کے صدر نکولس مادورو پر دباؤ بڑھانے کیلئے ٹرمپ انتظامیہ کی کوششیں جاری ہیں جس کے تحت بدھ کوچار کمپنیوں اور ان سے وابستہ تیل بردار بحری جہازوں (ٹانکرز) پر پابندیاں عائد کر دی گئی ہیں۔ انتظامیہ کا موقف ہے کہ یہ کمپنیاں وینزویلا کے تیل کے شعبے میں سرگرم عمل تھیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مشرقِ وسطیٰ میں یمن کے معاملے پر اوپیک کے پیدا کنندہ ممالک سعودی عرب اور یو اے ای کے درمیان بحران اس وقت مزید سنگین ہو گیا جب جمعرات کو عدن کے ہوائی اڈے پر پروازیں معطل کر دی گئیں۔ یہ صورتحال 4 جنوری کو ہونے والے اوپیک پلس گروپ کے ورچوئل اجلاس سے ٹھیک پہلے پیدا ہوئی ہے جس میں پٹرولیم برآمد کرنے والے ممالک کی تنظیم اور اس کے اتحادی شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسپارٹا کموڈٹیزکی تجزیہ کار جون گو کا کہنا ہے کہ تاجروں کی بڑی تعداد یہ توقع کر رہی ہے کہ اوپیک پلس سال کی پہلی سہ ماہی میں تیل کی پیداوار میں اضافے کو روکنے کے عمل کو جاری رکھے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مزید کہا کہ سال 2026 سپلائی میں توازن برقرار رکھنے کے حوالے سے اوپیک پلس کے فیصلوں کا جائزہ لینے کے لیے ایک اہم سال ثابت ہوگا،چین سال کی پہلی ششماہی میں خام تیل کے ذخائر میں اضافہ جاری رکھے گا، جس سے تیل کی قیمتوں کو ایک سہارا ملے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;2025 کی قیمتوں میں کمی&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;برینٹ اور ڈبلیو ٹی آئی کے بینچ مارکس نے سال 2025 میں تقریباً 20 فیصد کا سالانہ خسارہ ریکارڈ کیا جو 2020 کے بعد سب سے بڑی گراوٹ ہے۔ اس کی وجہ یہ رہی کہ اوور سپلائی اور ٹیرف کے خدشات جیو پولیٹیکل خطرات پر حاوی رہے۔ برینٹ کے لیے یہ مسلسل تیسرا سال تھا جب اسے نقصان اٹھانا پڑا، جو کہ ریکارڈ پر اب تک کا طویل ترین سلسلہ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈی بی ایس کے انرجی اینالسٹ سوورو سرکار کا کہنا ہے کہ فی الحال ہم برینٹ آئل کی قیمتوں کے لیے ایک بے رونق سال کی توقع کر رہے ہیں جو کہ 60 سے 65 ڈالر فی بیرل کی حد تک محدود رہیں گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فلپ نووا کی تجزیہ کار پریانکا سچدیوا نے کہا کہ قیمتوں میں یہ دھیمی حرکت قلیل مدتی جیو پولیٹیکل خطرات اور مارکیٹ کے طویل مدتی بنیادی عوامل کے درمیان جاری کشمکش کی عکاسی کرتی ہے، جو مارکیٹ میں تیل کی وافر مقدار کی نشاندہی کر رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>سال 2026 کے پہلے کاروباری دن خام تیل کی قیمتوں میں کمی ریکارڈ کی گئی ۔ یہ کمی ایک ایسے سال کے بعد سامنے آئی ہے جس میں 2020 کے بعد سالانہ بنیادوں پر سب سے زیادہ خسارہ دیکھا گیا تھا۔ اس وقت سرمایہ کار جہاں اوورسپلائی کے خدشات کو مدنظر رکھ رہے ہیں، وہیں یوکرین جنگ اور وینزویلا کی برآمدات جیسے جیو پولیٹیکل (جغرافیائی و سیاسی) خطرات کا بھی جائزہ لے رہے ہیں۔</strong></p>
<p>جمعہ کو برینٹ کروڈ کے سودوں میں 51 سینٹ کی کمی دیکھی گئی جس کے بعد قیمت 60.34 ڈالر فی بیرل پر آ گئی۔ اسی طرح امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (ڈبلیو ٹی آئی) خام تیل بھی 52 سینٹ کی کمی کے ساتھ 56.90 ڈالر پر جاپہنچا۔</p>
<p>ادھرنئے سال کے موقع پر روس اور یوکرین نے ایک دوسرے پر شہریوں کو نشانہ بنانے کے الزامات عائد کیے۔ یہ تناؤ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی زیرِ نگرانی مذاکرات جاری ہیں، جن کا مقصد تقریباً چار سال سے جاری اس جنگ کا خاتمہ کرنا ہے۔</p>
<p>یوکرین نے حالیہ مہینوں میں روس کے توانائی کے بنیادی ڈھانچے (انرجی انفراسٹرکچر) پر حملوں میں شدت پیدا کر دی ہے، جس کا مقصد یوکرین میں اپنی فوجی مہم کے لیے ماسکو کے مالیاتی ذرائع کو ختم کرنا ہے۔</p>
<p>دوسری جانب وینزویلا کے صدر نکولس مادورو پر دباؤ بڑھانے کیلئے ٹرمپ انتظامیہ کی کوششیں جاری ہیں جس کے تحت بدھ کوچار کمپنیوں اور ان سے وابستہ تیل بردار بحری جہازوں (ٹانکرز) پر پابندیاں عائد کر دی گئی ہیں۔ انتظامیہ کا موقف ہے کہ یہ کمپنیاں وینزویلا کے تیل کے شعبے میں سرگرم عمل تھیں۔</p>
<p>مشرقِ وسطیٰ میں یمن کے معاملے پر اوپیک کے پیدا کنندہ ممالک سعودی عرب اور یو اے ای کے درمیان بحران اس وقت مزید سنگین ہو گیا جب جمعرات کو عدن کے ہوائی اڈے پر پروازیں معطل کر دی گئیں۔ یہ صورتحال 4 جنوری کو ہونے والے اوپیک پلس گروپ کے ورچوئل اجلاس سے ٹھیک پہلے پیدا ہوئی ہے جس میں پٹرولیم برآمد کرنے والے ممالک کی تنظیم اور اس کے اتحادی شامل ہیں۔</p>
<p>اسپارٹا کموڈٹیزکی تجزیہ کار جون گو کا کہنا ہے کہ تاجروں کی بڑی تعداد یہ توقع کر رہی ہے کہ اوپیک پلس سال کی پہلی سہ ماہی میں تیل کی پیداوار میں اضافے کو روکنے کے عمل کو جاری رکھے گا۔</p>
<p>انہوں نے مزید کہا کہ سال 2026 سپلائی میں توازن برقرار رکھنے کے حوالے سے اوپیک پلس کے فیصلوں کا جائزہ لینے کے لیے ایک اہم سال ثابت ہوگا،چین سال کی پہلی ششماہی میں خام تیل کے ذخائر میں اضافہ جاری رکھے گا، جس سے تیل کی قیمتوں کو ایک سہارا ملے گا۔</p>
<p><strong>2025 کی قیمتوں میں کمی</strong></p>
<p>برینٹ اور ڈبلیو ٹی آئی کے بینچ مارکس نے سال 2025 میں تقریباً 20 فیصد کا سالانہ خسارہ ریکارڈ کیا جو 2020 کے بعد سب سے بڑی گراوٹ ہے۔ اس کی وجہ یہ رہی کہ اوور سپلائی اور ٹیرف کے خدشات جیو پولیٹیکل خطرات پر حاوی رہے۔ برینٹ کے لیے یہ مسلسل تیسرا سال تھا جب اسے نقصان اٹھانا پڑا، جو کہ ریکارڈ پر اب تک کا طویل ترین سلسلہ ہے۔</p>
<p>ڈی بی ایس کے انرجی اینالسٹ سوورو سرکار کا کہنا ہے کہ فی الحال ہم برینٹ آئل کی قیمتوں کے لیے ایک بے رونق سال کی توقع کر رہے ہیں جو کہ 60 سے 65 ڈالر فی بیرل کی حد تک محدود رہیں گی۔</p>
<p>فلپ نووا کی تجزیہ کار پریانکا سچدیوا نے کہا کہ قیمتوں میں یہ دھیمی حرکت قلیل مدتی جیو پولیٹیکل خطرات اور مارکیٹ کے طویل مدتی بنیادی عوامل کے درمیان جاری کشمکش کی عکاسی کرتی ہے، جو مارکیٹ میں تیل کی وافر مقدار کی نشاندہی کر رہے ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Markets</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40281167</guid>
      <pubDate>Sat, 03 Jan 2026 00:53:32 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/01/02123243875f6b0.webp" type="image/webp" medium="image" height="768" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/01/02123243875f6b0.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
