<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Pakistan</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 18:40:57 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 18:40:57 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ملک کا پہلا مکمل ڈیجیٹل ہاؤس ہولڈ انٹیگریٹڈ اکنامک سروے 25-2024 کا اجرا</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40281164/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;حکومت نے ملک کا پہلا ڈیجیٹل ہاؤس ہولڈ انٹیگریٹڈ اکنامک سروے 2024–25 جاری کر دیا جو خواندگی، انٹرنیٹ تک رسائی اور ویکسینیشن میں نمایاں بہتری ظاہر کرتا ہے اور پالیسی سازوں کو اقتصادی و سماجی منصوبہ بندی کیلئے بے مثال شواہد فراہم کرتا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وفاقی وزیرِ منصوبہ بندی احسن اقبال نے  باضابطہ طور پر ہاؤس ہولڈ انٹیگریٹڈ اکنامک سروے 2024–25 کا افتتاح کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;افتتاحی تقریب وزارتِ منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات میں منعقد ہوئی جس کی میزبانی چیف شماریات ڈاکٹر نعیم الظفر (ستارۂ امتیاز)، محمد سرور گوندل (ستارۂ امتیاز)، ممبر ایس ایس / آر ایم اور ڈپٹی ڈائریکٹر جنرل پی ایس ایل ایم / پی سی ایس رابعہ اعوان نے کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان بیورو آف شماریات کی طرف سے جاری سروے کے مطابق تعلیم، صحت، ڈیجیٹل رسائی اور معیارِ زندگی کے متعدد اشاریوں میں واضح بہتری ریکارڈ کی گئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;قومی سطح پر شرحِ خواندگی 60 فیصد سے بڑھ کر 63 فیصد ہو گئی ہے جبکہ اسکول سے باہر بچوں کی شرح 30 فیصد سے کم ہو کر 28 فیصد رہ گئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گھریلو سطح پر انٹرنیٹ تک رسائی میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے جو 34 فیصد سے بڑھ کر 70 فیصد تک پہنچ گئی جبکہ انٹرنیٹ استعمال کرنے والے افراد کا تناسب 17 فیصد سے بڑھ کر 57 فیصد ہو گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مکمل حفاظتی ٹیکہ جات (ریکارڈ کی بنیاد پر) کی کوریج 68 فیصد سے بڑھ کر 73 فیصد ہو گئی ہے اور صاف ایندھن کے استعمال میں اضافہ ہو کر 38 فیصد تک پہنچ گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ہاؤس ہولڈ انٹیگریٹڈ اکنامک سروے (HIES) 1963 سے قومی اور صوبائی سطح پر سماجی و معاشی اشاریوں کی نگرانی کر رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس موقع پر رابعہ اعوان نے سروے کے کلیدی نتائج پیش کرتے ہوئے بتایا کہ گھروں میں موبائل یا سمارٹ فون کی سہولت 96 فیصد تک پہنچ گئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ابتدائی تعلیم میں صنفی برابری 92 فیصد سے بڑھ کر 96 فیصد ہو گئی ہے، نوزائیدہ بچوں کی اموات کی شرح 41 سے کم ہو کر 35 فی ہزار زندہ پیدائشیں اور شیر خوار بچوں کی اموات کی شرح 60 سے کم ہو کر 47 فی ہزار زندہ پیدائشیں ہو گئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کل شرحِ پیدائش میں معمولی کمی ریکارڈ کی گئی ہے جبکہ گھریلو آمدنی اور اخراجات میں اضافہ ہوا ہے، جہاں قومی سطح پر اخراجات کا بڑا حصہ خوراک (37 فیصد) اور رہائش و ایندھن (26 فیصد) پر خرچ ہو رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وفاقی وزیر منصوبہ بندی و ترقی احسن اقبال نے کہا  کہ وزارتِ منصوبہ بندی اور پاکستان ادارہ شماریات کو جدید، ڈیٹا پر مبنی اداروں میں تبدیل کرنا ایک بڑی کامیابی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وفاقی وزیر نے زور دیا کہ تعلیم میں شمولیت کی شرح کو 90 فیصد تک بڑھانا ناگزیر ہے اور خواندگی کے بحران سے ہنگامی بنیادوں پر نمٹنا ہوگاکیونکہ تقریباً مکمل خواندگی کے بغیر حقیقی ترقی ممکن نہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے اُڑان پاکستان کے ’’5Es فریم ورک‘‘ پر مؤثر عملدرآمد، سیاسی استحکام اور پالیسیوں کے تسلسل کو پائیدار ترقی کے لئے ضروری قرار دیا اور 2035 تک پاکستان کو ایک ٹریلین ڈالر کی معیشت بنانے کے عزم کا اعادہ کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تقریب کے اختتام پر پاکستان ادارہ شماریات نے اس امر کو اجاگر کیا کہ ایچ آئی ای ایس 2024–25 تعلیم، صحت، ڈیجیٹل رسائی اور گھریلو آمدنی کے شعبوں میں نمایاں پیش رفت کی عکاسی کرتا ہے اور یہ سروے شواہد پر مبنی پالیسی سازی کے ذریعے ملک بھر میں معیارِ زندگی بہتر بنانے اور منصفانہ ترقی کے فروغ کے لئے ایک مضبوط بنیاد فراہم کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;br&gt;یہ انٹرا ڈے اپڈیٹ ہے&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>حکومت نے ملک کا پہلا ڈیجیٹل ہاؤس ہولڈ انٹیگریٹڈ اکنامک سروے 2024–25 جاری کر دیا جو خواندگی، انٹرنیٹ تک رسائی اور ویکسینیشن میں نمایاں بہتری ظاہر کرتا ہے اور پالیسی سازوں کو اقتصادی و سماجی منصوبہ بندی کیلئے بے مثال شواہد فراہم کرتا ہے۔</strong></p>
<p>وفاقی وزیرِ منصوبہ بندی احسن اقبال نے  باضابطہ طور پر ہاؤس ہولڈ انٹیگریٹڈ اکنامک سروے 2024–25 کا افتتاح کیا۔</p>
<p>افتتاحی تقریب وزارتِ منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات میں منعقد ہوئی جس کی میزبانی چیف شماریات ڈاکٹر نعیم الظفر (ستارۂ امتیاز)، محمد سرور گوندل (ستارۂ امتیاز)، ممبر ایس ایس / آر ایم اور ڈپٹی ڈائریکٹر جنرل پی ایس ایل ایم / پی سی ایس رابعہ اعوان نے کی۔</p>
<p>پاکستان بیورو آف شماریات کی طرف سے جاری سروے کے مطابق تعلیم، صحت، ڈیجیٹل رسائی اور معیارِ زندگی کے متعدد اشاریوں میں واضح بہتری ریکارڈ کی گئی ہے۔</p>
<p>قومی سطح پر شرحِ خواندگی 60 فیصد سے بڑھ کر 63 فیصد ہو گئی ہے جبکہ اسکول سے باہر بچوں کی شرح 30 فیصد سے کم ہو کر 28 فیصد رہ گئی ہے۔</p>
<p>گھریلو سطح پر انٹرنیٹ تک رسائی میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے جو 34 فیصد سے بڑھ کر 70 فیصد تک پہنچ گئی جبکہ انٹرنیٹ استعمال کرنے والے افراد کا تناسب 17 فیصد سے بڑھ کر 57 فیصد ہو گیا ہے۔</p>
<p>مکمل حفاظتی ٹیکہ جات (ریکارڈ کی بنیاد پر) کی کوریج 68 فیصد سے بڑھ کر 73 فیصد ہو گئی ہے اور صاف ایندھن کے استعمال میں اضافہ ہو کر 38 فیصد تک پہنچ گیا ہے۔</p>
<p>ہاؤس ہولڈ انٹیگریٹڈ اکنامک سروے (HIES) 1963 سے قومی اور صوبائی سطح پر سماجی و معاشی اشاریوں کی نگرانی کر رہا ہے۔</p>
<p>اس موقع پر رابعہ اعوان نے سروے کے کلیدی نتائج پیش کرتے ہوئے بتایا کہ گھروں میں موبائل یا سمارٹ فون کی سہولت 96 فیصد تک پہنچ گئی ہے۔</p>
<p>ابتدائی تعلیم میں صنفی برابری 92 فیصد سے بڑھ کر 96 فیصد ہو گئی ہے، نوزائیدہ بچوں کی اموات کی شرح 41 سے کم ہو کر 35 فی ہزار زندہ پیدائشیں اور شیر خوار بچوں کی اموات کی شرح 60 سے کم ہو کر 47 فی ہزار زندہ پیدائشیں ہو گئی ہے۔</p>
<p>کل شرحِ پیدائش میں معمولی کمی ریکارڈ کی گئی ہے جبکہ گھریلو آمدنی اور اخراجات میں اضافہ ہوا ہے، جہاں قومی سطح پر اخراجات کا بڑا حصہ خوراک (37 فیصد) اور رہائش و ایندھن (26 فیصد) پر خرچ ہو رہا ہے۔</p>
<p>وفاقی وزیر منصوبہ بندی و ترقی احسن اقبال نے کہا  کہ وزارتِ منصوبہ بندی اور پاکستان ادارہ شماریات کو جدید، ڈیٹا پر مبنی اداروں میں تبدیل کرنا ایک بڑی کامیابی ہے۔</p>
<p>وفاقی وزیر نے زور دیا کہ تعلیم میں شمولیت کی شرح کو 90 فیصد تک بڑھانا ناگزیر ہے اور خواندگی کے بحران سے ہنگامی بنیادوں پر نمٹنا ہوگاکیونکہ تقریباً مکمل خواندگی کے بغیر حقیقی ترقی ممکن نہیں۔</p>
<p>انہوں نے اُڑان پاکستان کے ’’5Es فریم ورک‘‘ پر مؤثر عملدرآمد، سیاسی استحکام اور پالیسیوں کے تسلسل کو پائیدار ترقی کے لئے ضروری قرار دیا اور 2035 تک پاکستان کو ایک ٹریلین ڈالر کی معیشت بنانے کے عزم کا اعادہ کیا۔</p>
<p>تقریب کے اختتام پر پاکستان ادارہ شماریات نے اس امر کو اجاگر کیا کہ ایچ آئی ای ایس 2024–25 تعلیم، صحت، ڈیجیٹل رسائی اور گھریلو آمدنی کے شعبوں میں نمایاں پیش رفت کی عکاسی کرتا ہے اور یہ سروے شواہد پر مبنی پالیسی سازی کے ذریعے ملک بھر میں معیارِ زندگی بہتر بنانے اور منصفانہ ترقی کے فروغ کے لئے ایک مضبوط بنیاد فراہم کرتا ہے۔</p>
<p><br>یہ انٹرا ڈے اپڈیٹ ہے</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40281164</guid>
      <pubDate>Fri, 02 Jan 2026 12:05:22 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (نوید بٹ)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/01/02114349935ca37.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/01/02114349935ca37.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
