<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Markets</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 19:57:58 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 19:57:58 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>طوفان کے بعد سکون: 2025 میں پاکستان میں مہنگائی</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40281146/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;سال 2025 پاکستان کی معیشت کے لیے طویل عرصے بعد درکار سکون کا باعث بنا، کیونکہ مسلسل کئی برسوں کی دوہرے ہندسے کی مہنگائی کے بعد بالآخر افراطِ زر میں نمایاں کمی دیکھنے میں آئی۔ اگرچہ رخصت ہونے والا سال نمایاں حد تک مہنگائی میں کمی (ڈس انفلیشن) کا مظہر رہا، تاہم اس نے زندہ رہنے کی لاگت اور معاشی نظم و نسق سے متعلق مسلسل چیلنجز کو بھی اجاگر کیا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بروکریج ہاؤس عارف حبیب لمیٹڈ کے مطابق مالی سال 2025 کے دوران ہیڈلائن کنزیومر پرائس انڈیکس ( سی پی آئی ) کی اوسط محض 4.49 فیصد رہی، جو گزشتہ مالی سال میں 23.4 فیصد کے مقابلے میں نمایاں کمی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بروکریج ہاؤس نے اپنی تازہ رپورٹ پاکستان اسٹریٹجی 2026 - دی ایکویٹی ایج کنٹینیوز میں کہا ہے کہ ” مہنگائی میں یہ غیر معمولی کمی بنیادی طور پر سخت مانیٹری پالیسی، سبسڈیز میں کمی، آئی ایم ایف (بین الاقوامی مالیاتی فنڈ) پروگرام کے تحت منضبط مالی نظم و نسق، اور عالمی اجناس کی قیمتوں میں نرمی کے باعث درآمدی مہنگائی میں واضح کمی کا نتیجہ ہے۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم، المیزان انویسٹمنٹس کی امرین سورانی نے وضاحت کی کہ اگرچہ مہنگائی کی رفتار سست ہوئی،” لیکن زندہ رہنے کی لاگت بدستور ایک بڑا مسئلہ رہی، کیونکہ اجرتوں میں اضافہ گزشتہ دو برسوں کے دوران جمع ہونے والے 50 فیصد سے زائد قیمتوں کے اضافے کا مقابلہ نہیں کر سکا۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ 2025 میں پاکستان میں قیمتیں بڑھتی رہیں، اگرچہ رفتار سست تھی،“ اسی لیے یہ سال ڈس انفلیشن کا حامل رہا، ڈیفلیشن کا نہیں، جس کا مطلب قیمتوں میں کمی ہوتا ہے۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان بیورو آف اسٹیٹسٹکس ( پی بی ایس ) کے مطابق ماہانہ مہنگائی کے اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ 2025 کی پہلی سہ ماہی نسبتاً پُرسکون رہی، جہاں جنوری میں مہنگائی 2.4 فیصد، فروری میں 1.5 فیصد اور مارچ میں 0.7 فیصد ریکارڈ کی گئی۔ یہ مضبوط بیس ایفیکٹس اور عالمی اجناس کی نرم قیمتوں کے اثرات کی عکاسی کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اپریل میں مہنگائی مزید کم ہو کر صرف 0.3 فیصد رہ گئی، جو سال کے ابتدائی حصے کو حالیہ تاریخ کے کم ترین ادوار میں شامل کرتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم دوسری سہ ماہی میں مہنگائی کی رفتار میں دوبارہ تیزی آئی، جہاں مئی میں شرح 3.5 فیصد اور جون میں 3.2 فیصد رہی، کیونکہ موسمی ایڈجسٹمنٹس اور طلب میں اضافے نے قیمتوں پر اثر ڈالنا شروع کیا۔ جولائی میں مہنگائی مزید بڑھ کر 4.1 فیصد تک پہنچ گئی، جس کے بعد اگست میں معمولی کمی کے ساتھ یہ 3 فیصد رہی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سال کے آخری حصے میں خوراک کی قیمتوں میں اضافے اور موسمی سپلائی شاکس کے باعث مہنگائی میں زیادہ نمایاں اضافہ دیکھا گیا، جہاں ستمبر میں شرح 5.6 فیصد، اکتوبر میں 6.2 فیصد اور نومبر میں 6.1 فیصد تک پہنچ گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ مجموعی رجحان اس امر کی عکاسی کرتا ہے کہ سال کے ابتدائی حصے میں کم بیس ایفیکٹس نے ہیڈلائن مہنگائی کو دبائے رکھا، جبکہ سپلائی میں رکاوٹوں، سیلاب اور موسمی عوامل نے 2025 کے دوسرے نصف میں بتدریج اضافے میں کردار ادا کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی ردِعمل اور پالیسی&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی) نے پالیسی ریٹ میں نرمی کا اقدام کرتے ہوئے اسے مجموعی طور پر 1,150 بنیاد پوائنٹس کم کیا، جو اس کے 22 فیصد کے عروج سے گھٹ کر سال کے اختتام تک 10.5 فیصد تک آ گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;المیزان انویسٹمنٹس کی امرین سورانی کے مطابق ” رفتار عمومی طور پر مناسب سمجھی گئی، حالانکہ احتیاطی رہی۔ بعض ناقدین کا کہنا تھا کہ موجودہ حقیقی مثبت شرح سود کی بنیاد پر کمی بہت سست تھی، جس سے صنعتی ترقی سست ہوئی۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مزید کہا، “تاہم، اسٹیٹ بینک نے توانائی کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ اور عالمی تجارتی منظرنامے میں دیگر تبدیلیوں کے خلاف ایک بفر برقرار رکھا۔”&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جے ایس گلوبل کے ہیڈ آف ریسرچ وقاص غنی کے مطابق  مارکیٹ کا رجحان تقسیم شدہ ہے، لیکن مزید ریٹ کم ہونے کی توقعات برقرار ہیں۔“ ہم صرف ایک اور 50 بنیاد پوائنٹس کی کمی کی گنجائش دیکھتے ہیں، جس سے پالیسی ریٹ تقریباً 10 فیصد تک پہنچنے کی توقع ہے۔“&lt;/p&gt;
&lt;hr /&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;خوراک اور بنیادی مہنگائی&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;موسمی سیلاب نے پیداوار اور لاجسٹکس پر اثر ڈالا، جس کے نتیجے میں ستمبر میں ماہانہ خوراک کی مہنگائی 5.5 فیصد تک پہنچ گئی۔ اے ایچ ایل کی رپورٹ کے مطابق، “تاہم اس کا اثر توقع سے نمایاں طور پر کم اور عارضی رہا، کیونکہ نومبر میں خوراک کے انڈیکس میں ماہانہ 0.2 فیصد کمی بھی دیکھی گئی، جو استحکام کی طرف واپسی کی علامت ہے۔”&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ ” مالی سال 26 کے باقی حصے میں، خوراک کی مہنگائی ماہانہ اوسطاً صرف 0.4 فیصد رہنے کی توقع ہے، حتیٰ کہ رمضان جیسے موسمی اتار چڑھاؤ کو مدنظر رکھتے ہوئے بھی۔ یہ مہنگائی کے عمومی دباؤ کے خلاف ایک اہم بفر فراہم کرتا ہے، خاص طور پر ایسے ملک میں جہاں خوراک کا وزن صارفین کی ٹوکری میں زیادہ ہے۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خوراک اور توانائی کو خارج کر کے بنیادی مہنگائی بھی مستحکم رہی اور مالی سال 26 کے لیے اسے 7.44 فیصد پر تخمینہ لگایا گیا ہے جبکہ مالی سال 27 میں بھی اسی رجحان کی توقع ہے۔ ” یہ ظاہر کرتا ہے کہ ہیڈلائن سی پی آئی میں بحالی کے باوجود بنیادی مہنگائی کے دباؤ محدود ہیں۔“&lt;/p&gt;
&lt;hr /&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;مالی سال 26 اور 27 کے لیے پیش گوئی&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;2025 کے کم بیس کی بنیاد پر، مہنگائی کے معمول پر آنے کی توقع ہے، اور تجزیہ کاروں کے مطابق مالی سال 26 میں ہیڈلائن مہنگائی تقریباً 6.9 فیصد ہوگی، جو اسٹیٹ بینک کے درمیانی مدتی ہدف 5–7 فیصد کے اندر ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مالی سال 27 کے لیے مہنگائی میں معمولی اضافہ متوقع ہے، تقریباً 8 فیصد تک۔ اے ایچ ایل کے مطابق  ” یہ ہلکا سا اضافہ معاشی حالات کے معمول پر آنے کی عکاسی کرتا ہے، نہ کہ کسی شدید خرابی کی۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خطرات میں شامل ہیں: زر مبادلہ کی اتار چڑھاؤ، عالمی اجناس کی قیمتوں میں تغیر، توانائی کے ٹیرف میں دوبارہ تبدیلی، یا سپلائی میں رکاوٹیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جے ایس گلوبل کے وقاص غنی کہتے ہیں کہ ” آگے چل کر سیلاب اور زیادہ بارش زرعی سپلائی میں رکاوٹ ڈال سکتی ہے، جس سے مہنگائی کے خطرات بڑھ سکتے ہیں۔ عالمی اجناس کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ یا مقامی سبسڈی اور پاس تھرو ایڈجسٹمنٹس توانائی کی قیمتوں میں عدم استحکام پیدا کر سکتے ہیں، جس سے نقل و حمل اور صنعتی لاگت بڑھ سکتی ہے۔ اس کے ساتھ، اگر افغان سرحد پر رکاوٹیں برقرار رہیں اور تجارتی بہاؤ محدود ہو تو زر مبادلہ کی غیر مستحکم صورتحال درآمدی لاگت میں اضافہ کر سکتی ہے۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;غنی نے مزید کہا کہ ” ممکنہ جھٹکوں کو برداشت کرنے اور اقتصادی بحالی میں سہارا فراہم کرنے کے لیے بیرونی اور مالی بفرز کو مضبوط کرتے رہنے کی ضرورت ہے، ساتھ ہی مربوط مانیٹری اور مالیاتی پالیسیاں برقرار رکھنا اور ساختی اصلاحات کو آگے بڑھانا ضروری ہے تاکہ پائیدار نمو کو یقینی بنایا جا سکے۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;2025 پاکستانیوں کے لیے سکون کا سال رہا، کیونکہ مہنگائی میں کمی کے رجحانات نے سانس لینے کی گنجائش فراہم کی اور مہنگائی کی توقعات کو مستحکم کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;المیزان انویسٹمنٹس کی ہیڈ آف ریسرچ ثناء توفیق کے مطابق ” اس سال ہمارے موجودہ کھاتے ( کرنٹ اکاؤنٹ ) کی توقع 1.4–1.6 ارب ڈالر کے خسارے کی ہے، اور اگلے سال یہ تقریباً 2.8 ارب ڈالر رہے گا، جو اب بھی ایک قابلِ انتظام سطح ہے۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مزید کہا کہ ” ریزروز بڑھ رہی ہیں، اسٹیٹ بینک کا ہدف جون 2026 تک 17 ارب ڈالر ہے، لہٰذا کرنسی کی قیمت کے حوالے سے کوئی تشویش نہیں ہے۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم، پاکستان میں زندگی گزارنے کی لاگت اب بھی زیادہ ہے، اور معیشت موسمی اور بیرونی صدمات کا سامنا کرتی رہتی ہے۔ 2026 اور اس کے بعد بھی مہنگائی کو قابو میں رکھنے کے ساتھ نمو کی حمایت کے لیے محتاط پالیسی مینجمنٹ کی ضرورت ہوگی۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>سال 2025 پاکستان کی معیشت کے لیے طویل عرصے بعد درکار سکون کا باعث بنا، کیونکہ مسلسل کئی برسوں کی دوہرے ہندسے کی مہنگائی کے بعد بالآخر افراطِ زر میں نمایاں کمی دیکھنے میں آئی۔ اگرچہ رخصت ہونے والا سال نمایاں حد تک مہنگائی میں کمی (ڈس انفلیشن) کا مظہر رہا، تاہم اس نے زندہ رہنے کی لاگت اور معاشی نظم و نسق سے متعلق مسلسل چیلنجز کو بھی اجاگر کیا ہے۔</strong></p>
<p>بروکریج ہاؤس عارف حبیب لمیٹڈ کے مطابق مالی سال 2025 کے دوران ہیڈلائن کنزیومر پرائس انڈیکس ( سی پی آئی ) کی اوسط محض 4.49 فیصد رہی، جو گزشتہ مالی سال میں 23.4 فیصد کے مقابلے میں نمایاں کمی ہے۔</p>
<p>بروکریج ہاؤس نے اپنی تازہ رپورٹ پاکستان اسٹریٹجی 2026 - دی ایکویٹی ایج کنٹینیوز میں کہا ہے کہ ” مہنگائی میں یہ غیر معمولی کمی بنیادی طور پر سخت مانیٹری پالیسی، سبسڈیز میں کمی، آئی ایم ایف (بین الاقوامی مالیاتی فنڈ) پروگرام کے تحت منضبط مالی نظم و نسق، اور عالمی اجناس کی قیمتوں میں نرمی کے باعث درآمدی مہنگائی میں واضح کمی کا نتیجہ ہے۔“</p>
<p>تاہم، المیزان انویسٹمنٹس کی امرین سورانی نے وضاحت کی کہ اگرچہ مہنگائی کی رفتار سست ہوئی،” لیکن زندہ رہنے کی لاگت بدستور ایک بڑا مسئلہ رہی، کیونکہ اجرتوں میں اضافہ گزشتہ دو برسوں کے دوران جمع ہونے والے 50 فیصد سے زائد قیمتوں کے اضافے کا مقابلہ نہیں کر سکا۔“</p>
<p>انہوں نے کہا کہ 2025 میں پاکستان میں قیمتیں بڑھتی رہیں، اگرچہ رفتار سست تھی،“ اسی لیے یہ سال ڈس انفلیشن کا حامل رہا، ڈیفلیشن کا نہیں، جس کا مطلب قیمتوں میں کمی ہوتا ہے۔“</p>
<p>پاکستان بیورو آف اسٹیٹسٹکس ( پی بی ایس ) کے مطابق ماہانہ مہنگائی کے اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ 2025 کی پہلی سہ ماہی نسبتاً پُرسکون رہی، جہاں جنوری میں مہنگائی 2.4 فیصد، فروری میں 1.5 فیصد اور مارچ میں 0.7 فیصد ریکارڈ کی گئی۔ یہ مضبوط بیس ایفیکٹس اور عالمی اجناس کی نرم قیمتوں کے اثرات کی عکاسی کرتا ہے۔</p>
<p>اپریل میں مہنگائی مزید کم ہو کر صرف 0.3 فیصد رہ گئی، جو سال کے ابتدائی حصے کو حالیہ تاریخ کے کم ترین ادوار میں شامل کرتی ہے۔</p>
<p>تاہم دوسری سہ ماہی میں مہنگائی کی رفتار میں دوبارہ تیزی آئی، جہاں مئی میں شرح 3.5 فیصد اور جون میں 3.2 فیصد رہی، کیونکہ موسمی ایڈجسٹمنٹس اور طلب میں اضافے نے قیمتوں پر اثر ڈالنا شروع کیا۔ جولائی میں مہنگائی مزید بڑھ کر 4.1 فیصد تک پہنچ گئی، جس کے بعد اگست میں معمولی کمی کے ساتھ یہ 3 فیصد رہی۔</p>
<p>سال کے آخری حصے میں خوراک کی قیمتوں میں اضافے اور موسمی سپلائی شاکس کے باعث مہنگائی میں زیادہ نمایاں اضافہ دیکھا گیا، جہاں ستمبر میں شرح 5.6 فیصد، اکتوبر میں 6.2 فیصد اور نومبر میں 6.1 فیصد تک پہنچ گئی۔</p>
<p>یہ مجموعی رجحان اس امر کی عکاسی کرتا ہے کہ سال کے ابتدائی حصے میں کم بیس ایفیکٹس نے ہیڈلائن مہنگائی کو دبائے رکھا، جبکہ سپلائی میں رکاوٹوں، سیلاب اور موسمی عوامل نے 2025 کے دوسرے نصف میں بتدریج اضافے میں کردار ادا کیا۔</p>
<p><strong>اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی ردِعمل اور پالیسی</strong></p>
<p>اسٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی) نے پالیسی ریٹ میں نرمی کا اقدام کرتے ہوئے اسے مجموعی طور پر 1,150 بنیاد پوائنٹس کم کیا، جو اس کے 22 فیصد کے عروج سے گھٹ کر سال کے اختتام تک 10.5 فیصد تک آ گیا۔</p>
<p>المیزان انویسٹمنٹس کی امرین سورانی کے مطابق ” رفتار عمومی طور پر مناسب سمجھی گئی، حالانکہ احتیاطی رہی۔ بعض ناقدین کا کہنا تھا کہ موجودہ حقیقی مثبت شرح سود کی بنیاد پر کمی بہت سست تھی، جس سے صنعتی ترقی سست ہوئی۔“</p>
<p>انہوں نے مزید کہا، “تاہم، اسٹیٹ بینک نے توانائی کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ اور عالمی تجارتی منظرنامے میں دیگر تبدیلیوں کے خلاف ایک بفر برقرار رکھا۔”</p>
<p>جے ایس گلوبل کے ہیڈ آف ریسرچ وقاص غنی کے مطابق  مارکیٹ کا رجحان تقسیم شدہ ہے، لیکن مزید ریٹ کم ہونے کی توقعات برقرار ہیں۔“ ہم صرف ایک اور 50 بنیاد پوائنٹس کی کمی کی گنجائش دیکھتے ہیں، جس سے پالیسی ریٹ تقریباً 10 فیصد تک پہنچنے کی توقع ہے۔“</p>
<hr />
<p><strong>خوراک اور بنیادی مہنگائی</strong></p>
<p>موسمی سیلاب نے پیداوار اور لاجسٹکس پر اثر ڈالا، جس کے نتیجے میں ستمبر میں ماہانہ خوراک کی مہنگائی 5.5 فیصد تک پہنچ گئی۔ اے ایچ ایل کی رپورٹ کے مطابق، “تاہم اس کا اثر توقع سے نمایاں طور پر کم اور عارضی رہا، کیونکہ نومبر میں خوراک کے انڈیکس میں ماہانہ 0.2 فیصد کمی بھی دیکھی گئی، جو استحکام کی طرف واپسی کی علامت ہے۔”</p>
<p>رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ ” مالی سال 26 کے باقی حصے میں، خوراک کی مہنگائی ماہانہ اوسطاً صرف 0.4 فیصد رہنے کی توقع ہے، حتیٰ کہ رمضان جیسے موسمی اتار چڑھاؤ کو مدنظر رکھتے ہوئے بھی۔ یہ مہنگائی کے عمومی دباؤ کے خلاف ایک اہم بفر فراہم کرتا ہے، خاص طور پر ایسے ملک میں جہاں خوراک کا وزن صارفین کی ٹوکری میں زیادہ ہے۔“</p>
<p>خوراک اور توانائی کو خارج کر کے بنیادی مہنگائی بھی مستحکم رہی اور مالی سال 26 کے لیے اسے 7.44 فیصد پر تخمینہ لگایا گیا ہے جبکہ مالی سال 27 میں بھی اسی رجحان کی توقع ہے۔ ” یہ ظاہر کرتا ہے کہ ہیڈلائن سی پی آئی میں بحالی کے باوجود بنیادی مہنگائی کے دباؤ محدود ہیں۔“</p>
<hr />
<p><strong>مالی سال 26 اور 27 کے لیے پیش گوئی</strong></p>
<p>2025 کے کم بیس کی بنیاد پر، مہنگائی کے معمول پر آنے کی توقع ہے، اور تجزیہ کاروں کے مطابق مالی سال 26 میں ہیڈلائن مہنگائی تقریباً 6.9 فیصد ہوگی، جو اسٹیٹ بینک کے درمیانی مدتی ہدف 5–7 فیصد کے اندر ہے۔</p>
<p>مالی سال 27 کے لیے مہنگائی میں معمولی اضافہ متوقع ہے، تقریباً 8 فیصد تک۔ اے ایچ ایل کے مطابق  ” یہ ہلکا سا اضافہ معاشی حالات کے معمول پر آنے کی عکاسی کرتا ہے، نہ کہ کسی شدید خرابی کی۔“</p>
<p>خطرات میں شامل ہیں: زر مبادلہ کی اتار چڑھاؤ، عالمی اجناس کی قیمتوں میں تغیر، توانائی کے ٹیرف میں دوبارہ تبدیلی، یا سپلائی میں رکاوٹیں۔</p>
<p>جے ایس گلوبل کے وقاص غنی کہتے ہیں کہ ” آگے چل کر سیلاب اور زیادہ بارش زرعی سپلائی میں رکاوٹ ڈال سکتی ہے، جس سے مہنگائی کے خطرات بڑھ سکتے ہیں۔ عالمی اجناس کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ یا مقامی سبسڈی اور پاس تھرو ایڈجسٹمنٹس توانائی کی قیمتوں میں عدم استحکام پیدا کر سکتے ہیں، جس سے نقل و حمل اور صنعتی لاگت بڑھ سکتی ہے۔ اس کے ساتھ، اگر افغان سرحد پر رکاوٹیں برقرار رہیں اور تجارتی بہاؤ محدود ہو تو زر مبادلہ کی غیر مستحکم صورتحال درآمدی لاگت میں اضافہ کر سکتی ہے۔“</p>
<p>غنی نے مزید کہا کہ ” ممکنہ جھٹکوں کو برداشت کرنے اور اقتصادی بحالی میں سہارا فراہم کرنے کے لیے بیرونی اور مالی بفرز کو مضبوط کرتے رہنے کی ضرورت ہے، ساتھ ہی مربوط مانیٹری اور مالیاتی پالیسیاں برقرار رکھنا اور ساختی اصلاحات کو آگے بڑھانا ضروری ہے تاکہ پائیدار نمو کو یقینی بنایا جا سکے۔“</p>
<p>2025 پاکستانیوں کے لیے سکون کا سال رہا، کیونکہ مہنگائی میں کمی کے رجحانات نے سانس لینے کی گنجائش فراہم کی اور مہنگائی کی توقعات کو مستحکم کیا۔</p>
<p>المیزان انویسٹمنٹس کی ہیڈ آف ریسرچ ثناء توفیق کے مطابق ” اس سال ہمارے موجودہ کھاتے ( کرنٹ اکاؤنٹ ) کی توقع 1.4–1.6 ارب ڈالر کے خسارے کی ہے، اور اگلے سال یہ تقریباً 2.8 ارب ڈالر رہے گا، جو اب بھی ایک قابلِ انتظام سطح ہے۔“</p>
<p>انہوں نے مزید کہا کہ ” ریزروز بڑھ رہی ہیں، اسٹیٹ بینک کا ہدف جون 2026 تک 17 ارب ڈالر ہے، لہٰذا کرنسی کی قیمت کے حوالے سے کوئی تشویش نہیں ہے۔“</p>
<p>تاہم، پاکستان میں زندگی گزارنے کی لاگت اب بھی زیادہ ہے، اور معیشت موسمی اور بیرونی صدمات کا سامنا کرتی رہتی ہے۔ 2026 اور اس کے بعد بھی مہنگائی کو قابو میں رکھنے کے ساتھ نمو کی حمایت کے لیے محتاط پالیسی مینجمنٹ کی ضرورت ہوگی۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Markets</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40281146</guid>
      <pubDate>Thu, 01 Jan 2026 16:54:20 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (علی احمد)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/01/011726043d7f7f7.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/01/011726043d7f7f7.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
