<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Editorials</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 04 Jun 2026 04:48:56 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 04 Jun 2026 04:48:56 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>نجی شعبے کے قرضے</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40281145/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پاکستان بینکس ایسوسی ایشن (پی بی اے) کی حالیہ تبصرہ نگاری اس بات پر روشنی ڈالتی ہے جسے وہ رواں مالی سال میں نجی شعبے کے قرضوں  میں زبردست اضافے اور بینکنگ صنعت کے ایڈوانس ٹو ڈپازٹ ریشو (اے ڈی آر) میں بہتری کے طور پر بیان کرتی ہے۔ ابتدائی سطح کا تجزیہ سالانہ بنیادوں پر ہونے والی اس متاثر کن کارکردگی کو نمایاں کرتا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جولائی سے ستمبر 2025 کے درمیان نجی شعبے کے قرضوں کے حصول میں گزشتہ سال کے انہی مہینوں کے مقابلے میں تقریباً 15 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، اگر ان اعدادوشمار کو ان کی ظاہری شکل  پر دیکھا جائے تو یہ ظاہر ہوتا ہے کہ بینکنگ سیکٹر میں خطرہ مول لینے کی صلاحیت  دوبارہ بحال ہورہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم ماہانہ بنیاد پر حاصل کردہ ڈیٹا زیادہ محتاط اور محدود کہانی بیان کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یاد رہے کہ نجی شعبے میں قرضوں کی فراہمی ستمبر 2024 سے مارچ 2025 کے درمیان خاص طور پر کارپوریٹس اور غیر بینک مالیاتی اداروں کو مختصر مدتی سہولیات میں تیزی سے بڑھ گئی تھی۔ یہ وہ دور تھا  جب تجارتی بینک اپنے ایڈوانس ٹو ڈپازٹ ریشو (اے ڈی آر) کی پوزیشنز کو منیج کر رہے تھے تاکہ دسمبر 2024 کے آخر میں ایک بار کی بنیاد پر عائد بینکوں پر لگنے والے لیوی سے بچا جا سکے، جس کے لیے اے ڈی آر 50 فیصد سے کم تھا۔  جب اس لیوی کی مدت ختم ہوئی، تو یہ عارضی پھیلاؤ واپس سمٹنا شروع ہوا اور 2025 کی دوسری سہ ماہی تک نجی قرضے ایک بلند تر بنیاد  پر مستحکم ہو گئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس مرحلے کے بعد پاکستان بینکس ایسوسی ایشن (پی بی اے) نے مضبوط بحالی کی نشاندہی کی ہے۔  تاہم مارچ 2025 کے بعد نجی شعبے کے قرضوں  میں اضافہ ہونے کے بجائے یہ زیادہ تر ایک ہی سطح پر برقرار رہے ہیں۔خاص طور پر، کارپوریٹ قرضے اپریل 2025 سے تقریباً 9.7 سے 9.9 ٹریلین روپے کے درمیان ٹھہر گئے اور اسٹیٹ بینک کے بعد کے ماہانہ اعداد و شمار میں ایک محدود دائرے میں ہی اتار چڑھاؤ دکھاتے رہے۔ اسی طرح، فکسڈ انویسٹمنٹ لونز (مستقل سرمایہ کاری کے قرضے) بھی 4.5 ٹریلین روپے کی سطح پر محدود رہے۔ ورکنگ کیپٹل کے قرضے بھی 2024 کے اواخر کی بلند ترین سطح سے نارمل ہونے کے بعد ہموار  ہوگئے۔ 2025 کے وسط اور اواخر تک مسلسل اور بتدریج اضافے کے شواہد بہت کم ملتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انڈسٹری کا مجموعی ایڈوانس ٹو ڈپازٹ ریشو بھی یہی کہانی بیان کرتا ہے۔ اگست 2024 میں انڈسٹری کا اے ڈی آر اپنی تاریخی کم ترین سطح 38.4 فیصد پر آگیا تھا۔ اکتوبر 2024 اور مارچ 2025 کے درمیان، یہ بڑھ کر اوسطاً 47 فیصد تک پہنچ گیا۔ تاہم، جیسے ہی عارضی طور پر دیے گئے قرضے پورے ہوئے، نومبر 2025 تک یہ دوبارہ گر کر 37.9 فیصد کی ایک نئی کم ترین سطح پر آگیا ہے۔ ایک حقیقی بحالی کا مطلب یہ ہوتا کہ قرضوں میں مسلسل اضافے کا رجحان  برقرار رہتا، لیکن فی الحال ایسا کوئی رجحان نظر نہیں آرہا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ فرق اس لیے اہمیت رکھتا ہے کیونکہ جس ترقی کا حوالہ پاکستان بینکس ایسوسی ایشن دے رہی ہے وہ تقریباً مکمل طور پر سالانہ بنیادوں پر ہے۔ یہ ترقی صرف اس لیے نظر آ رہی ہے کیونکہ اے ڈی آر کی بنیاد پر قرضوں میں آنے والے عارضی ابھار نے نجی شعبے کے قرضوں کو ایک بلند سطح  پر لا کھڑا کیا تھا۔ اگرچہ مجموعی قرضوں کا ذخیرہ گزشتہ سال کے مقابلے میں یقیناً زیادہ ہے، لیکن مارچ 2025 کے بعد قرضوں کے بہاؤ میں کوئی معنی خیز اضافہ نہیں ہوا۔ شماریاتی لحاظ سے، یہ نظام اب ایک جمود  کا شکار ہوچکا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;قرضوں کی ساخت یا ڈھانچہ بھی روایتی ہی رہا ہے۔ قرضوں کی مدت میں اب بھی قلیل مدتی (شارٹ ٹرم) قرضوں کا غلبہ ہے، جبکہ طویل مدتی قرضوں میں کوئی پائیدار اضافہ دیکھنے میں نہیں آیا۔ اسی طرح، مختلف شعبوں کو دیے جانے والے قرضے بھی وسعت اختیار کرنے کے بجائے اب بھی ٹیکسٹائل، ایگری بزنس (زرعی صنعت) اور کیمیکلز تک ہی محدود ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لہٰذا یہ کہنا درست ہوگا کہ نجی شعبے کے قرض آج یقینی طور پر پچھلے سال کے مقابلے میں زیادہ ہیں، لیکن یہ کہنا کہ یہ جون 2025 کے بعد نئی مالی سال میں بحالی یا قرض دینے کی دلچسپی اور اے ڈی آر میں بہتری کی علامت ہے، کم درست ہے۔ بحالی کا مطلب سمت میں اضافہ ہوتا ہے، لیکن اعداد و شمار ایک سطح پر مستحکم ہونے کا عندیہ دیتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پالیسی سازوں اور مارکیٹ مبصرین کے لیے یہ سبق بالکل واضح اور سیدھا ہے۔ سالانہ بنیاد پر ہونے والا اضافہ آپ کو یہ بتاتا ہے کہ بینکنگ کا نظام ماضی کے مقابلے میں کہاں کھڑا ہے جبکہ ماہانہ بنیادوں پر ہونے والی حرکت  یہ بتاتی ہے کہ آیا ترقی کی رفتار  اب بھی باقی ہے یا نہیں۔ جب تک اسٹیٹ بینک کے اعداد و شمار نجی شعبے کے قرضوں  میں مسلسل اضافے، طویل مدتی قرضوں میں بڑھوتری جو پیداواری صلاحیت میں توسیع اور جدید کاری  کی علامت ہے اور بیلنس شیٹ کی عارضی ’ونڈو ڈریسنگ‘ (مصنوعی سجاوٹ) کے واقعات سے ہٹ کر اے ڈی آر میں مستقل بہتری نہیں دکھاتے، تب تک نجی شعبے کے قرضوں کے ایک نئے چکر ) کی بات کرنا قبل از وقت ہو گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فی الحال صنعت وہیں نظر آتی ہے جہاں یہ 2025 کی پہلی ششماہی سے رہی ہے: مستحکم تو ہے لیکن نجی شعبے میں اپنا دائرہ بڑھا نہیں رہی۔ مستقبل میں اے ڈی آر میں بحالی کے دعووں میں باقی ماندہ بنیاد کے اثرات اور حقیقی آگے بڑھنے کی رفتار میں تمیز کرنا ضروری ہے۔ صرف حقیقی رفتار ہی پاکستان کے قرض کے چکر میں پائیدار تبدیلی کی نشاندہی کرتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2025&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پاکستان بینکس ایسوسی ایشن (پی بی اے) کی حالیہ تبصرہ نگاری اس بات پر روشنی ڈالتی ہے جسے وہ رواں مالی سال میں نجی شعبے کے قرضوں  میں زبردست اضافے اور بینکنگ صنعت کے ایڈوانس ٹو ڈپازٹ ریشو (اے ڈی آر) میں بہتری کے طور پر بیان کرتی ہے۔ ابتدائی سطح کا تجزیہ سالانہ بنیادوں پر ہونے والی اس متاثر کن کارکردگی کو نمایاں کرتا ہے۔</strong></p>
<p>جولائی سے ستمبر 2025 کے درمیان نجی شعبے کے قرضوں کے حصول میں گزشتہ سال کے انہی مہینوں کے مقابلے میں تقریباً 15 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، اگر ان اعدادوشمار کو ان کی ظاہری شکل  پر دیکھا جائے تو یہ ظاہر ہوتا ہے کہ بینکنگ سیکٹر میں خطرہ مول لینے کی صلاحیت  دوبارہ بحال ہورہی ہے۔</p>
<p>تاہم ماہانہ بنیاد پر حاصل کردہ ڈیٹا زیادہ محتاط اور محدود کہانی بیان کرتا ہے۔</p>
<p>یاد رہے کہ نجی شعبے میں قرضوں کی فراہمی ستمبر 2024 سے مارچ 2025 کے درمیان خاص طور پر کارپوریٹس اور غیر بینک مالیاتی اداروں کو مختصر مدتی سہولیات میں تیزی سے بڑھ گئی تھی۔ یہ وہ دور تھا  جب تجارتی بینک اپنے ایڈوانس ٹو ڈپازٹ ریشو (اے ڈی آر) کی پوزیشنز کو منیج کر رہے تھے تاکہ دسمبر 2024 کے آخر میں ایک بار کی بنیاد پر عائد بینکوں پر لگنے والے لیوی سے بچا جا سکے، جس کے لیے اے ڈی آر 50 فیصد سے کم تھا۔  جب اس لیوی کی مدت ختم ہوئی، تو یہ عارضی پھیلاؤ واپس سمٹنا شروع ہوا اور 2025 کی دوسری سہ ماہی تک نجی قرضے ایک بلند تر بنیاد  پر مستحکم ہو گئے۔</p>
<p>اس مرحلے کے بعد پاکستان بینکس ایسوسی ایشن (پی بی اے) نے مضبوط بحالی کی نشاندہی کی ہے۔  تاہم مارچ 2025 کے بعد نجی شعبے کے قرضوں  میں اضافہ ہونے کے بجائے یہ زیادہ تر ایک ہی سطح پر برقرار رہے ہیں۔خاص طور پر، کارپوریٹ قرضے اپریل 2025 سے تقریباً 9.7 سے 9.9 ٹریلین روپے کے درمیان ٹھہر گئے اور اسٹیٹ بینک کے بعد کے ماہانہ اعداد و شمار میں ایک محدود دائرے میں ہی اتار چڑھاؤ دکھاتے رہے۔ اسی طرح، فکسڈ انویسٹمنٹ لونز (مستقل سرمایہ کاری کے قرضے) بھی 4.5 ٹریلین روپے کی سطح پر محدود رہے۔ ورکنگ کیپٹل کے قرضے بھی 2024 کے اواخر کی بلند ترین سطح سے نارمل ہونے کے بعد ہموار  ہوگئے۔ 2025 کے وسط اور اواخر تک مسلسل اور بتدریج اضافے کے شواہد بہت کم ملتے ہیں۔</p>
<p>انڈسٹری کا مجموعی ایڈوانس ٹو ڈپازٹ ریشو بھی یہی کہانی بیان کرتا ہے۔ اگست 2024 میں انڈسٹری کا اے ڈی آر اپنی تاریخی کم ترین سطح 38.4 فیصد پر آگیا تھا۔ اکتوبر 2024 اور مارچ 2025 کے درمیان، یہ بڑھ کر اوسطاً 47 فیصد تک پہنچ گیا۔ تاہم، جیسے ہی عارضی طور پر دیے گئے قرضے پورے ہوئے، نومبر 2025 تک یہ دوبارہ گر کر 37.9 فیصد کی ایک نئی کم ترین سطح پر آگیا ہے۔ ایک حقیقی بحالی کا مطلب یہ ہوتا کہ قرضوں میں مسلسل اضافے کا رجحان  برقرار رہتا، لیکن فی الحال ایسا کوئی رجحان نظر نہیں آرہا۔</p>
<p>یہ فرق اس لیے اہمیت رکھتا ہے کیونکہ جس ترقی کا حوالہ پاکستان بینکس ایسوسی ایشن دے رہی ہے وہ تقریباً مکمل طور پر سالانہ بنیادوں پر ہے۔ یہ ترقی صرف اس لیے نظر آ رہی ہے کیونکہ اے ڈی آر کی بنیاد پر قرضوں میں آنے والے عارضی ابھار نے نجی شعبے کے قرضوں کو ایک بلند سطح  پر لا کھڑا کیا تھا۔ اگرچہ مجموعی قرضوں کا ذخیرہ گزشتہ سال کے مقابلے میں یقیناً زیادہ ہے، لیکن مارچ 2025 کے بعد قرضوں کے بہاؤ میں کوئی معنی خیز اضافہ نہیں ہوا۔ شماریاتی لحاظ سے، یہ نظام اب ایک جمود  کا شکار ہوچکا ہے۔</p>
<p>قرضوں کی ساخت یا ڈھانچہ بھی روایتی ہی رہا ہے۔ قرضوں کی مدت میں اب بھی قلیل مدتی (شارٹ ٹرم) قرضوں کا غلبہ ہے، جبکہ طویل مدتی قرضوں میں کوئی پائیدار اضافہ دیکھنے میں نہیں آیا۔ اسی طرح، مختلف شعبوں کو دیے جانے والے قرضے بھی وسعت اختیار کرنے کے بجائے اب بھی ٹیکسٹائل، ایگری بزنس (زرعی صنعت) اور کیمیکلز تک ہی محدود ہیں۔</p>
<p>لہٰذا یہ کہنا درست ہوگا کہ نجی شعبے کے قرض آج یقینی طور پر پچھلے سال کے مقابلے میں زیادہ ہیں، لیکن یہ کہنا کہ یہ جون 2025 کے بعد نئی مالی سال میں بحالی یا قرض دینے کی دلچسپی اور اے ڈی آر میں بہتری کی علامت ہے، کم درست ہے۔ بحالی کا مطلب سمت میں اضافہ ہوتا ہے، لیکن اعداد و شمار ایک سطح پر مستحکم ہونے کا عندیہ دیتے ہیں۔</p>
<p>پالیسی سازوں اور مارکیٹ مبصرین کے لیے یہ سبق بالکل واضح اور سیدھا ہے۔ سالانہ بنیاد پر ہونے والا اضافہ آپ کو یہ بتاتا ہے کہ بینکنگ کا نظام ماضی کے مقابلے میں کہاں کھڑا ہے جبکہ ماہانہ بنیادوں پر ہونے والی حرکت  یہ بتاتی ہے کہ آیا ترقی کی رفتار  اب بھی باقی ہے یا نہیں۔ جب تک اسٹیٹ بینک کے اعداد و شمار نجی شعبے کے قرضوں  میں مسلسل اضافے، طویل مدتی قرضوں میں بڑھوتری جو پیداواری صلاحیت میں توسیع اور جدید کاری  کی علامت ہے اور بیلنس شیٹ کی عارضی ’ونڈو ڈریسنگ‘ (مصنوعی سجاوٹ) کے واقعات سے ہٹ کر اے ڈی آر میں مستقل بہتری نہیں دکھاتے، تب تک نجی شعبے کے قرضوں کے ایک نئے چکر ) کی بات کرنا قبل از وقت ہو گا۔</p>
<p>فی الحال صنعت وہیں نظر آتی ہے جہاں یہ 2025 کی پہلی ششماہی سے رہی ہے: مستحکم تو ہے لیکن نجی شعبے میں اپنا دائرہ بڑھا نہیں رہی۔ مستقبل میں اے ڈی آر میں بحالی کے دعووں میں باقی ماندہ بنیاد کے اثرات اور حقیقی آگے بڑھنے کی رفتار میں تمیز کرنا ضروری ہے۔ صرف حقیقی رفتار ہی پاکستان کے قرض کے چکر میں پائیدار تبدیلی کی نشاندہی کرتی ہے۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2025</p>
]]></content:encoded>
      <category>Editorials</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40281145</guid>
      <pubDate>Thu, 01 Jan 2026 16:33:53 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (اداریہ)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/01/01161154e6ba1d5.webp" type="image/webp" medium="image" height="1080" width="1920">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/01/01161154e6ba1d5.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
