<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Business &amp; Finance</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 04 Jun 2026 01:52:37 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 04 Jun 2026 01:52:37 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>336 ارب کا شارٹ فال: جولائی تا دسمبر ٹیکس وصولی 6,154 ارب رہی</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40281125/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے مالی سال 26-2025 کے پہلے چھ ماہ (جولائی تا دسمبر) کے دوران عبوری طور پر 6,154 ارب روپے جمع کیے ہیں جبکہ اس مدت کا ہدف 6,490 ارب روپے مقرر کیا گیا تھا۔ اس طرح ٹیکس وصولی میں 336 ارب روپے کی کمی (شارٹ فال) ریکارڈ کی گئی ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دسمبر 2025 کے دوران ٹیکس وصولی میں ہونے والی یہ کمی (شارٹ فال) حکومت کو ان ہنگامی اقدامات کو فعال کرنے پر مجبور کر سکتی ہے جن پر بین الاقوامی مالیاتی فنڈ  کے ساتھ اتفاق کیا گیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بدھ کو مرتب کیے گئے عبوری اعداد و شمار کے مطابق دسمبر 2025 میں عبوری ٹیکس وصولی 1,421 ارب روپے رہی جبکہ ماہانہ ہدف 1,446 ارب روپے تھا،س طرح صرف دسمبر  میں 25 ارب روپے کی کمی (شارٹ فال) ریکارڈ کی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایف بی آر کے ٹیکس وصولی کے ہدف پر نظرثانی کرتے ہوئے اسے کم کر دیا گیا ہے۔ مالی سال 26-2025 کے لیے ہدف 14,307 ارب روپے سے گھٹا کر 13,979 ارب روپے کر دیا گیا ہے جو کہ 328 ارب روپے کی کمی کو ظاہر کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایف بی آر  کے مطابق مالی سال 26-2025 کے پہلے چھ ماہ (جولائی تا دسمبر) کے دوران مقررہ ہدف کے حصول کی شرح 94.8 فیصد رہی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مالی سال 26-2025 کے پہلے چھ ماہ (جولائی تا دسمبر) کے دوران مجموعی ٹیکس وصولی 6,447.4 ارب روپے رہی۔ 292.6 ارب روپے کے ریفنڈز کی ادائیگی کے بعد، زیرِ جائزہ مدت کے دوران خالص وصولی 6,154.8 ارب روپے رہی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حکومت نے آئی ایم ایف کو یقین دلایا ہے کہ اگر ایف بی آر کی ٹیکس وصولی میں دسمبر 2025 تک کمی برقرار رہی تو وہ طے شدہ ہنگامی ریونیو اقدامات نافذ کرے گی، جن میں کھاد اور کیمیائی ادویات پر 5 فیصد فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی اور  میٹھی اشیاء پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حکومت نے آئی ایم ایف کو باقاعدہ یقین دہانی کرائی ہے کہ اگر دسمبر 2025 کے اختتام تک محصولات توقعات سے کم رہے تو مالیاتی اہداف کے تحفظ کے لیے اضافی اقدامات کیے جائیں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2025&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے مالی سال 26-2025 کے پہلے چھ ماہ (جولائی تا دسمبر) کے دوران عبوری طور پر 6,154 ارب روپے جمع کیے ہیں جبکہ اس مدت کا ہدف 6,490 ارب روپے مقرر کیا گیا تھا۔ اس طرح ٹیکس وصولی میں 336 ارب روپے کی کمی (شارٹ فال) ریکارڈ کی گئی ہے۔</strong></p>
<p>دسمبر 2025 کے دوران ٹیکس وصولی میں ہونے والی یہ کمی (شارٹ فال) حکومت کو ان ہنگامی اقدامات کو فعال کرنے پر مجبور کر سکتی ہے جن پر بین الاقوامی مالیاتی فنڈ  کے ساتھ اتفاق کیا گیا تھا۔</p>
<p>بدھ کو مرتب کیے گئے عبوری اعداد و شمار کے مطابق دسمبر 2025 میں عبوری ٹیکس وصولی 1,421 ارب روپے رہی جبکہ ماہانہ ہدف 1,446 ارب روپے تھا،س طرح صرف دسمبر  میں 25 ارب روپے کی کمی (شارٹ فال) ریکارڈ کی گئی۔</p>
<p>ایف بی آر کے ٹیکس وصولی کے ہدف پر نظرثانی کرتے ہوئے اسے کم کر دیا گیا ہے۔ مالی سال 26-2025 کے لیے ہدف 14,307 ارب روپے سے گھٹا کر 13,979 ارب روپے کر دیا گیا ہے جو کہ 328 ارب روپے کی کمی کو ظاہر کرتا ہے۔</p>
<p>ایف بی آر  کے مطابق مالی سال 26-2025 کے پہلے چھ ماہ (جولائی تا دسمبر) کے دوران مقررہ ہدف کے حصول کی شرح 94.8 فیصد رہی۔</p>
<p>مالی سال 26-2025 کے پہلے چھ ماہ (جولائی تا دسمبر) کے دوران مجموعی ٹیکس وصولی 6,447.4 ارب روپے رہی۔ 292.6 ارب روپے کے ریفنڈز کی ادائیگی کے بعد، زیرِ جائزہ مدت کے دوران خالص وصولی 6,154.8 ارب روپے رہی۔</p>
<p>حکومت نے آئی ایم ایف کو یقین دلایا ہے کہ اگر ایف بی آر کی ٹیکس وصولی میں دسمبر 2025 تک کمی برقرار رہی تو وہ طے شدہ ہنگامی ریونیو اقدامات نافذ کرے گی، جن میں کھاد اور کیمیائی ادویات پر 5 فیصد فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی اور  میٹھی اشیاء پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی شامل ہیں۔</p>
<p>حکومت نے آئی ایم ایف کو باقاعدہ یقین دہانی کرائی ہے کہ اگر دسمبر 2025 کے اختتام تک محصولات توقعات سے کم رہے تو مالیاتی اہداف کے تحفظ کے لیے اضافی اقدامات کیے جائیں گے۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2025</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40281125</guid>
      <pubDate>Thu, 01 Jan 2026 11:53:58 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (سہیل سرفراز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/01/01113023d65c487.webp" type="image/webp" medium="image" height="768" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/01/01113023d65c487.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
