<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Pakistan</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 04 Jun 2026 22:55:41 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 04 Jun 2026 22:55:41 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>وزیراعظم نے اقتصادی گورننس اصلاحات کا آغاز کر دیا</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40281124/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;وزیراعظم شہباز شریف نے پاکستان کی معاشی گورننس کی اصلاحات  کا آغاز کردیا ہے۔ انہوں نے اعلان کیا کہ دو سالہ مشکل مگر ناگزیر فیصلوں کے بعد ملک اب بحرانی کیفیت  سے باہر نکل آیا ہے, وزیراعظم نے ان اصلاحات کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ان اقدامات کی بدولت ملک میں استحکام بحال ہوا ہے، مہنگائی ریکارڈ کم ترین سطح 4.5 فیصد پر آگئی ہے اور ملک کے غیر ملکی زرِ مبادلہ ذخائر بڑھ کر 21 ارب ڈالر تک پہنچ گئے ہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اقتصادی گورننس اصلاحات کی افتتاحی تقریب سے ویڈیو لنک کے ذریعے خطاب کرتے ہوئے شہباز شریف نے 2024 کے اوائل میں حکومت سنبھالنے کے وقت معیشت کی ابتر صورتحال پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے اس دور کی منظر کشی کرتے ہوئے بتایا کہ ملک تقریباً 30 فیصد مہنگائی، غیر ملکی زرِ مبادلہ کے انتہائی کم ذخائر، کمزور اداروں اور عالمی اقتصادی نظام سے پاکستان کی دوری کا شکار تھا۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس سنگین بحران میں کسی بھی قسم کے شارٹ کٹس یا پاپولزم (عوامی مقبولیت کے سستے نعروں) کی کوئی گنجائش باقی نہیں بچی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیراعظم شہباز شریف نے گزشتہ دو سالوں کے دوران کیے گئے مشکل فیصلوں پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ معیشت کی بحالی کے لیے ایسے سخت فیصلے ضروری تھے۔ ہمیں غیر پائیدار سبسڈیز ختم کرنا پڑیں، مالیاتی نظم و ضبط بحال کیا، عوامی مالیاتی انتظام کو مضبوط بنایا اور طویل عرصے سے التواء کا شکار نجکاری کی اصلاحات کا آغاز کیا۔ یہ محض نمائشی اقدامات  نہیں تھے، بلکہ ناگزیر ڈھانچہ جاتی اصلاحات تھیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;شہباز شریف نے نمایاں پیش رفت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بتایا کہ مہنگائی 29.2 فیصد سے کم ہو کر 4.5 فیصد تک آ گئی اور غیر ملکی زرِ مبادلہ کے ذخائر 9.2 ارب ڈالر سے بڑھ کر 21 ارب ڈالر سے زائد ہو گئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مزید کہا کرنٹ اکاؤنٹ خسارے سے بہتر ہو کر 3.3 ارب ڈالر کے خسارے سے 1.9 ارب ڈالر کے سرپلس میں تبدیل ہو گیا، ہم پرائمری خسارے سے پرائمری سرپلس کی جانب بڑھ گئے، جس سے مجموعی مالی خسارہ کم ہوا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیراعظم نے ریونیو اصلاحات پر بھی زور دیا اور کہا کہ پاکستان نے طویل عرصے سے موجود مالی بے ترتیبی کو درست کیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا ٹیکس ٹو جی ڈی پی تناسب تقریباً 8 فیصد سے بڑھ کر 10 فیصد سے زیادہ ہو گیا اور ایک ملین سے زائد نئے ٹیکس دہندگان باقاعدہ معیشت میں شامل ہوئے۔ ٹیکس کی وصولی 2025 میں 26 فیصد بڑھی جس میں حکومتی نظاموں کی وسیع پیمانے پر ڈیجیٹائزیشن نے مدد فراہم کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے ریاستی ملکیت کے اداروں کی نجکاری، جن میں پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز اور فرسٹ وومن بینک شامل ہیں، کو بھی اجاگر کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ یہ اقدامات دہائیوں کی غیر فعال حکمت عملی سے ایک نیا موڑ ہیں۔ ریاستی ملکیت کے اداروں میں مزید اصلاحات زیرِ عمل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ہمارے استحکام اور اصلاحاتی اقدامات کو بین الاقوامی کریڈٹ ریٹنگ ایجنسیز اور ترقیاتی شراکت داروں نے تسلیم کیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آگے دیکھتے ہوئے وزیراعظم نے زور دیا کہ جب میکرو اکنامک اشاریے مستحکم ہو چکے ہیں، پاکستان کی توجہ اب ترقی کو تیز کرنے، برآمدات بڑھانے اور ملک کو کاروبار کے لیے مزید پرکشش بنانے کی طرف منتقل ہو گئی ہے،“ہمارا اصلاحاتی ایجنڈا بحران کے انتظام سے ادارہ سازی کی طرف ایک اہم موڑ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیراعظم نے ان اصلاحات کے طویل مدتی ہونے پر بھی زور دیا اور بتایا کہ اقتصادی گورننس اصلاحات کل 142 اقدامات پر مشتمل ہیں۔ ان میں 59 ترجیحی اصلاحات اور 83 معاون اقدامات شامل ہیں، جن پر 58 ادارے مقررہ وقت کے اندر عمل درآمد کریں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اہم شعبوں میں ٹیکس نظام، توانائی، نجکاری، ریاستی ملکیتی ادارے، پنشنز، ٹیرف کی مناسب سازی، ریگولیٹری سادگی، وفاقی حکومت کا مناسب سائز اور ڈیجیٹل گورننس شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;شہباز شریف نے کہا کہ یہ اصلاحات مکمل طور پر ملکی نوعیت کی اور ناقابل واپسی ایجنڈا ہیں جو اداروں میں استحکام کو جکڑنے اور پائیدار، پرائیویٹ سیکٹر کی قیادت میں ترقی کو ممکن بنانے کے لیے بنائی گئی ہیں۔ پاکستان کے عوام نے بھاری قیمت ادا کی ہے۔ ہم پرانی پالیسیوں کی طرف واپس نہیں جائیں گے اور ماضی کی طرف نہیں دیکھیں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس سے قبل وفاقی وزیر خزانہ و ریونیو محمد اورنگزیب نے اقتصادی اصلاحات اور کارکردگی کے اشاریوں کا جائزہ پیش کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ جی ڈی پی  کی شرح نمو مالی سال 25 میں 3.1 فیصد تک پہنچی اور مالی سال 26 کی پہلی سہ ماہی میں یہ 3.71 فیصد تک بڑھ گئی۔ موسمیاتی جھٹکوں کے باوجود مالی سال 26 کے پہلے پانچ ماہ میں مہنگائی تقریباً 5 فیصد پر قابو میں رہی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;محمد اورنگزیب نے مالی نظم و ضبط میں بہتری کی جانب بھی اشارہ کیا، جس میں مسلسل پرائمری سرپلس شامل ہیں، جن میں جی ڈی پی  کا 2.7 فیصد سرپلس بھی شامل ہے۔ ٹیکس ٹو جی ڈی پی تناسب مالی سال 25 میں 10.2 فیصد تک پہنچ گیا، جو پچھلے 25 سال میں سب سے زیادہ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خارجہ محاذ پر انہوں نے بتایا کہ اسٹیٹ بینک کے ذخائر 15.9 ارب ڈالر تک پہنچ گئے، جو گزشتہ چار سال میں سب سے زیادہ ہے اور درآمدات کا احاطہ 2.6 ماہ تک بہتر ہوا۔ مالی سال 26 کے پہلے پانچ ماہ میں کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ 812 ملین ڈالر رہا، جو ہدف کے اندر ہے۔ رمیٹینس مالی سال 25 میں 38 ارب ڈالر تک پہنچ گئی اور روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹ کے ذریعے آمدنی 11.5 ارب ڈالر تک بڑھ گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2025&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>وزیراعظم شہباز شریف نے پاکستان کی معاشی گورننس کی اصلاحات  کا آغاز کردیا ہے۔ انہوں نے اعلان کیا کہ دو سالہ مشکل مگر ناگزیر فیصلوں کے بعد ملک اب بحرانی کیفیت  سے باہر نکل آیا ہے, وزیراعظم نے ان اصلاحات کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ان اقدامات کی بدولت ملک میں استحکام بحال ہوا ہے، مہنگائی ریکارڈ کم ترین سطح 4.5 فیصد پر آگئی ہے اور ملک کے غیر ملکی زرِ مبادلہ ذخائر بڑھ کر 21 ارب ڈالر تک پہنچ گئے ہیں۔</strong></p>
<p>اقتصادی گورننس اصلاحات کی افتتاحی تقریب سے ویڈیو لنک کے ذریعے خطاب کرتے ہوئے شہباز شریف نے 2024 کے اوائل میں حکومت سنبھالنے کے وقت معیشت کی ابتر صورتحال پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے اس دور کی منظر کشی کرتے ہوئے بتایا کہ ملک تقریباً 30 فیصد مہنگائی، غیر ملکی زرِ مبادلہ کے انتہائی کم ذخائر، کمزور اداروں اور عالمی اقتصادی نظام سے پاکستان کی دوری کا شکار تھا۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس سنگین بحران میں کسی بھی قسم کے شارٹ کٹس یا پاپولزم (عوامی مقبولیت کے سستے نعروں) کی کوئی گنجائش باقی نہیں بچی تھی۔</p>
<p>وزیراعظم شہباز شریف نے گزشتہ دو سالوں کے دوران کیے گئے مشکل فیصلوں پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ معیشت کی بحالی کے لیے ایسے سخت فیصلے ضروری تھے۔ ہمیں غیر پائیدار سبسڈیز ختم کرنا پڑیں، مالیاتی نظم و ضبط بحال کیا، عوامی مالیاتی انتظام کو مضبوط بنایا اور طویل عرصے سے التواء کا شکار نجکاری کی اصلاحات کا آغاز کیا۔ یہ محض نمائشی اقدامات  نہیں تھے، بلکہ ناگزیر ڈھانچہ جاتی اصلاحات تھیں۔</p>
<p>شہباز شریف نے نمایاں پیش رفت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بتایا کہ مہنگائی 29.2 فیصد سے کم ہو کر 4.5 فیصد تک آ گئی اور غیر ملکی زرِ مبادلہ کے ذخائر 9.2 ارب ڈالر سے بڑھ کر 21 ارب ڈالر سے زائد ہو گئے۔</p>
<p>انہوں نے مزید کہا کرنٹ اکاؤنٹ خسارے سے بہتر ہو کر 3.3 ارب ڈالر کے خسارے سے 1.9 ارب ڈالر کے سرپلس میں تبدیل ہو گیا، ہم پرائمری خسارے سے پرائمری سرپلس کی جانب بڑھ گئے، جس سے مجموعی مالی خسارہ کم ہوا۔</p>
<p>وزیراعظم نے ریونیو اصلاحات پر بھی زور دیا اور کہا کہ پاکستان نے طویل عرصے سے موجود مالی بے ترتیبی کو درست کیا ہے۔</p>
<p>انہوں نے کہا ٹیکس ٹو جی ڈی پی تناسب تقریباً 8 فیصد سے بڑھ کر 10 فیصد سے زیادہ ہو گیا اور ایک ملین سے زائد نئے ٹیکس دہندگان باقاعدہ معیشت میں شامل ہوئے۔ ٹیکس کی وصولی 2025 میں 26 فیصد بڑھی جس میں حکومتی نظاموں کی وسیع پیمانے پر ڈیجیٹائزیشن نے مدد فراہم کی۔</p>
<p>انہوں نے ریاستی ملکیت کے اداروں کی نجکاری، جن میں پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز اور فرسٹ وومن بینک شامل ہیں، کو بھی اجاگر کیا۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ یہ اقدامات دہائیوں کی غیر فعال حکمت عملی سے ایک نیا موڑ ہیں۔ ریاستی ملکیت کے اداروں میں مزید اصلاحات زیرِ عمل ہیں۔</p>
<p>ہمارے استحکام اور اصلاحاتی اقدامات کو بین الاقوامی کریڈٹ ریٹنگ ایجنسیز اور ترقیاتی شراکت داروں نے تسلیم کیا ہے۔</p>
<p>آگے دیکھتے ہوئے وزیراعظم نے زور دیا کہ جب میکرو اکنامک اشاریے مستحکم ہو چکے ہیں، پاکستان کی توجہ اب ترقی کو تیز کرنے، برآمدات بڑھانے اور ملک کو کاروبار کے لیے مزید پرکشش بنانے کی طرف منتقل ہو گئی ہے،“ہمارا اصلاحاتی ایجنڈا بحران کے انتظام سے ادارہ سازی کی طرف ایک اہم موڑ ہے۔</p>
<p>وزیراعظم نے ان اصلاحات کے طویل مدتی ہونے پر بھی زور دیا اور بتایا کہ اقتصادی گورننس اصلاحات کل 142 اقدامات پر مشتمل ہیں۔ ان میں 59 ترجیحی اصلاحات اور 83 معاون اقدامات شامل ہیں، جن پر 58 ادارے مقررہ وقت کے اندر عمل درآمد کریں گے۔</p>
<p>اہم شعبوں میں ٹیکس نظام، توانائی، نجکاری، ریاستی ملکیتی ادارے، پنشنز، ٹیرف کی مناسب سازی، ریگولیٹری سادگی، وفاقی حکومت کا مناسب سائز اور ڈیجیٹل گورننس شامل ہیں۔</p>
<p>شہباز شریف نے کہا کہ یہ اصلاحات مکمل طور پر ملکی نوعیت کی اور ناقابل واپسی ایجنڈا ہیں جو اداروں میں استحکام کو جکڑنے اور پائیدار، پرائیویٹ سیکٹر کی قیادت میں ترقی کو ممکن بنانے کے لیے بنائی گئی ہیں۔ پاکستان کے عوام نے بھاری قیمت ادا کی ہے۔ ہم پرانی پالیسیوں کی طرف واپس نہیں جائیں گے اور ماضی کی طرف نہیں دیکھیں گے۔</p>
<p>اس سے قبل وفاقی وزیر خزانہ و ریونیو محمد اورنگزیب نے اقتصادی اصلاحات اور کارکردگی کے اشاریوں کا جائزہ پیش کیا۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ جی ڈی پی  کی شرح نمو مالی سال 25 میں 3.1 فیصد تک پہنچی اور مالی سال 26 کی پہلی سہ ماہی میں یہ 3.71 فیصد تک بڑھ گئی۔ موسمیاتی جھٹکوں کے باوجود مالی سال 26 کے پہلے پانچ ماہ میں مہنگائی تقریباً 5 فیصد پر قابو میں رہی۔</p>
<p>محمد اورنگزیب نے مالی نظم و ضبط میں بہتری کی جانب بھی اشارہ کیا، جس میں مسلسل پرائمری سرپلس شامل ہیں، جن میں جی ڈی پی  کا 2.7 فیصد سرپلس بھی شامل ہے۔ ٹیکس ٹو جی ڈی پی تناسب مالی سال 25 میں 10.2 فیصد تک پہنچ گیا، جو پچھلے 25 سال میں سب سے زیادہ ہے۔</p>
<p>خارجہ محاذ پر انہوں نے بتایا کہ اسٹیٹ بینک کے ذخائر 15.9 ارب ڈالر تک پہنچ گئے، جو گزشتہ چار سال میں سب سے زیادہ ہے اور درآمدات کا احاطہ 2.6 ماہ تک بہتر ہوا۔ مالی سال 26 کے پہلے پانچ ماہ میں کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ 812 ملین ڈالر رہا، جو ہدف کے اندر ہے۔ رمیٹینس مالی سال 25 میں 38 ارب ڈالر تک پہنچ گئی اور روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹ کے ذریعے آمدنی 11.5 ارب ڈالر تک بڑھ گئی۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2025</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40281124</guid>
      <pubDate>Thu, 01 Jan 2026 11:27:23 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ذوالفقار احمد)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/01/0111043665c323d.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/01/0111043665c323d.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
