<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Pakistan</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 04 Jun 2026 01:52:37 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 04 Jun 2026 01:52:37 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ایف بی آر: 480 بڑے برآمد کنندگان کے ٹیکس ریکارڈز کی جانچ کی ہدایت</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40281121/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے برآمد کنندگان کو سہولت فراہم کرنے کے عزم کے باوجود، فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے 480 سے زائد سرِفہرست برآمد کنندگان کے ٹیکس ریکارڈز کی جانچ پڑتال کا حکم دے دیا ہے تاکہ اُن معاملات میں کارروائی کی جا سکے جہاں قابلِ ٹیکس آمدن مناسب جواز کے بغیر کم ظاہر کی گئی ہو۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس ضمن میں ایف بی آر نے  تمام چیف کمشنرز اِن لینڈ ریونیو کو ہدایات جاری کردی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایف بی آر کے اس نئے اقدام نے برآمد کنندگان کی پوری کمیونٹی میں ایک منفی پیغام پہنچایا ہے، جس سے ان میں خوف اور غیر یقینی کی صورتحال پیدا ہو گئی ہے۔ برآمد کنندگان اس بات پر حیران ہیں کہ ایف بی آر کس طرح 480 سرکردہ برآمد کنندگان کے ٹیکس ریکارڈ آڈٹ یا تحقیقات کے لیے کھول سکتا ہے جبکہ حکومت بار بار فیلڈ فارمیشنز میں ٹیکس حکام کی جانب سے ہراساں کیے جانے کے سلسلے کو ختم کرنے کی باتیں کررہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان بزنس کونسل اور پاکستان ریٹیل بزنس کونسل نے بھی ملک کے سرِفہرست برآمد کنندگان کے ٹیکس ریکارڈز کی جانچ پڑتال کے ایف بی آر کے فیصلے پر اپنے تحفظات اور تشویش کا اظہار کیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایف بی آر کی جانب سے فیلڈ فارمیشنز کو جاری ہدایت کے مطابق، ایف بی آر ہیڈکوارٹرز میں کیے گئے تجزیے سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ متعدد برآمد کنندگان (افراد، اے او پیز اور کمپنیاں) نے ٹیکس سال 2025 کے لیے اپنی ظاہر کردہ قابلِ ٹیکس آمدن میں نمایاں کمی کی ہے۔ یہ کمی فنانس ایکٹ 2024 کے ذریعے انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 کے سیکشن 154 میں کی گئی ترمیم کے بعد سامنے آئی، جس کے تحت برآمدی آمدن پر ٹیکس کا نظام فائنل ٹیکس سے تبدیل کر کے کم از کم ٹیکس (منی مم ٹیکس) کر دیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایف بی آر کے مطابق، مذکورہ صورتحال کے پیشِ نظر تمام فیلڈ فارمیشنز کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ اپنے متعلقہ دائرہ اختیار میں آنے والے بڑے برآمد کنندگان کی گوشواروں کا باریک بینی سے جائزہ لیں، تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ مذکورہ ترمیم کے بعد گوشواروں میں کسی غیر معمولی کمی، تضاد یا اعلان کے طریقۂ کار میں کسی تبدیلی کے آثار تو موجود نہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایف بی آر نے واضح کیا کہ جن معاملات میں مناسب جواز کے بغیر قابلِ ٹیکس آمدن میں نمایاں کمی کی گئی ہو، وہاں قانون کے مطابق مناسب کارروائی عمل میں لائی جا سکتی ہے۔ مزید برآں، فیلڈ فارمیشنز سے کہا گیا ہے کہ وہ اس زمرے میں آنے والے ایسے برآمد کنندگان کی فہرست مرتب کر کے یکم جنوری 2025 تک فراہم کریں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایک ٹیکس ماہر نے بزنس ریکارڈر کو بتایا کہ ایف بی آر کی حالیہ ہدایات، جو ہدایت نامہ نمبر 163507-R مورخہ 30 دسمبر 2025 کے تحت تمام چیف کمشنرز کو جاری کی گئی ہیں، کے ذریعے ملک کے سرِفہرست 480 برآمد کنندگان کے معاملات کی جانچ پڑتال کا حکم دیا گیا ہے اور اس میں کہا گیا ہے کہ ’’قانون کے مطابق مناسب کارروائی کی جا سکتی ہے‘‘۔ خط کے ساتھ منسلک اینکسچر میں ایف بی آر نے سفارش کی ہے کہ ان کیسز کا سیکشن 177 کے تحت آڈٹ کیا جائے، سیکشن 122(5A) اور سیکشن 175C انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 کے تحت کیسز دوبارہ کھولے جائیں جبکہ برآمد کنندگان کے کاروباری مقامات پر افسران کی تعیناتی بھی عمل میں لائی جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ ہدایات یہیں تک محدود نہیں رہتیں بلکہ ایف بی آر نے چیف کمشنرز سے ہر کیس میں کی گئی کارروائی سے متعلق تفصیلی رپورٹ طلب کرلی ہے۔ اس رپورٹ میں انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 کے سیکشن 177، 122(5A) اور/یا 175C کے تحت کی گئی کارروائی، سیکشن 177 اور 122(5A) کے تحت جاری کیے گئے احکامات، سیکشن 177 اور 122(5A) کے تحت عائد کی گئی ٹیکس ڈیمانڈ، نیز سیکشن 177، 122(5A) اور 147 کے تحت وصول کی گئی اضافی آمدن (ریونیو) کی تفصیلات شامل ہوں گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;برآمد کنندگان اور ٹیکس مشیروں کی رائے میں ایف بی آر کا یہ خط ایک نہایت افسوسناک ہدایت اور حکم ہے جو چیف کمشنرز کو دیا گیا ہے۔ ان کے مطابق یہ اقدام نہ صرف ہراسانی کا باعث بنے گا بلکہ ملک کے بڑے برآمد کنندگان کو برآمدی شعبوں میں مزید سرمایہ کاری سے شدید طور پر بددل اور حوصلہ شکن بھی کرے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیراعظم شہباز شریف نے 2 دسمبر 2025 کو ایک ٹیکس اصلاحات کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے برآمدات کی قیادت میں معاشی ترقی کا عزم ظاہر کیا، جس میں سینئر وزرا، افسران اور ورکنگ گروپ کے چیئرمین شہزاد سلیم بھی شریک تھے۔ وزیرِ خزانہ و ریونیو محمد اورنگزیب نے حال ہی میں ایک انٹرویو میں کہا کہ ملک ایک ایسی ترقیاتی حکمت عملی کی طرف بڑھ رہا ہے جو صارفیت اور قرض پر مبنی ماڈل سے ہٹ کر برآمدات پر مبنی حکمت عملی پر مرکوز ہوگی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیرِ منصوبہ بندی و ترقی احسن اقبال نے برآمدات کی قیادت میں ترقی کو پاکستان کی معاشی استحکام اور ترقی کی کلید قرار دیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;معاون خصوصی وزیرِاعظم ہارون اختر خان نے نومبر 2025 میں پاکستان پراسپیریٹی فورم 2025 سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ ہم ٹیرفز کو تجارتی رکاوٹ کے بجائے برآمدات کی قیادت میں ترقی کا انجن بنا رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماہرین کے مطابق، برآمدات پر مبنی ترقی ایک ایسی معاشی حکمت عملی ہے جس میں کوئی ملک اپنی اشیاء اور خدمات کی برآمدات پر توجہ مرکوز کر کے اور برآمدی شعبے کی حوصلہ افزائی کے ذریعے اپنی معیشت کو فروغ دیتا ہے۔ اس حکمت عملی میں اپنی تقابلی برتری والے شعبوں کا فائدہ اٹھا کر صنعت کاری کو تیز کیا جاتا ہے، غیر ملکی زرِ مبادلہ کمایا جاتا ہے، روزگار کے مواقع پیدا کیے جاتے ہیں اور سرمایہ کاری کو راغب کیا جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایک طرف تو پوری حکومتی قیادت برآمدات پر مبنی ترقی کی حوصلہ افزائی کر رہی ہے، لیکن دوسری جانب ایف بی آر کی یہ حالیہ ہدایت ان بڑے برآمد کنندگان کی حوصلہ شکنی کا باعث بنے گی جو پہلے ہی ٹیکسوں کی بلند شرح، توانائی کی مہنگی قیمتوں اور ایف بی آر کے پاس پھنسے ہوئے اربوں روپے کے ریفنڈز کی وجہ سے شدید مشکلات کا شکار ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2025&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے برآمد کنندگان کو سہولت فراہم کرنے کے عزم کے باوجود، فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے 480 سے زائد سرِفہرست برآمد کنندگان کے ٹیکس ریکارڈز کی جانچ پڑتال کا حکم دے دیا ہے تاکہ اُن معاملات میں کارروائی کی جا سکے جہاں قابلِ ٹیکس آمدن مناسب جواز کے بغیر کم ظاہر کی گئی ہو۔</strong></p>
<p>اس ضمن میں ایف بی آر نے  تمام چیف کمشنرز اِن لینڈ ریونیو کو ہدایات جاری کردی ہیں۔</p>
<p>ایف بی آر کے اس نئے اقدام نے برآمد کنندگان کی پوری کمیونٹی میں ایک منفی پیغام پہنچایا ہے، جس سے ان میں خوف اور غیر یقینی کی صورتحال پیدا ہو گئی ہے۔ برآمد کنندگان اس بات پر حیران ہیں کہ ایف بی آر کس طرح 480 سرکردہ برآمد کنندگان کے ٹیکس ریکارڈ آڈٹ یا تحقیقات کے لیے کھول سکتا ہے جبکہ حکومت بار بار فیلڈ فارمیشنز میں ٹیکس حکام کی جانب سے ہراساں کیے جانے کے سلسلے کو ختم کرنے کی باتیں کررہی ہے۔</p>
<p>پاکستان بزنس کونسل اور پاکستان ریٹیل بزنس کونسل نے بھی ملک کے سرِفہرست برآمد کنندگان کے ٹیکس ریکارڈز کی جانچ پڑتال کے ایف بی آر کے فیصلے پر اپنے تحفظات اور تشویش کا اظہار کیا ہے۔</p>
<p>ایف بی آر کی جانب سے فیلڈ فارمیشنز کو جاری ہدایت کے مطابق، ایف بی آر ہیڈکوارٹرز میں کیے گئے تجزیے سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ متعدد برآمد کنندگان (افراد، اے او پیز اور کمپنیاں) نے ٹیکس سال 2025 کے لیے اپنی ظاہر کردہ قابلِ ٹیکس آمدن میں نمایاں کمی کی ہے۔ یہ کمی فنانس ایکٹ 2024 کے ذریعے انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 کے سیکشن 154 میں کی گئی ترمیم کے بعد سامنے آئی، جس کے تحت برآمدی آمدن پر ٹیکس کا نظام فائنل ٹیکس سے تبدیل کر کے کم از کم ٹیکس (منی مم ٹیکس) کر دیا گیا ہے۔</p>
<p>ایف بی آر کے مطابق، مذکورہ صورتحال کے پیشِ نظر تمام فیلڈ فارمیشنز کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ اپنے متعلقہ دائرہ اختیار میں آنے والے بڑے برآمد کنندگان کی گوشواروں کا باریک بینی سے جائزہ لیں، تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ مذکورہ ترمیم کے بعد گوشواروں میں کسی غیر معمولی کمی، تضاد یا اعلان کے طریقۂ کار میں کسی تبدیلی کے آثار تو موجود نہیں۔</p>
<p>ایف بی آر نے واضح کیا کہ جن معاملات میں مناسب جواز کے بغیر قابلِ ٹیکس آمدن میں نمایاں کمی کی گئی ہو، وہاں قانون کے مطابق مناسب کارروائی عمل میں لائی جا سکتی ہے۔ مزید برآں، فیلڈ فارمیشنز سے کہا گیا ہے کہ وہ اس زمرے میں آنے والے ایسے برآمد کنندگان کی فہرست مرتب کر کے یکم جنوری 2025 تک فراہم کریں۔</p>
<p>ایک ٹیکس ماہر نے بزنس ریکارڈر کو بتایا کہ ایف بی آر کی حالیہ ہدایات، جو ہدایت نامہ نمبر 163507-R مورخہ 30 دسمبر 2025 کے تحت تمام چیف کمشنرز کو جاری کی گئی ہیں، کے ذریعے ملک کے سرِفہرست 480 برآمد کنندگان کے معاملات کی جانچ پڑتال کا حکم دیا گیا ہے اور اس میں کہا گیا ہے کہ ’’قانون کے مطابق مناسب کارروائی کی جا سکتی ہے‘‘۔ خط کے ساتھ منسلک اینکسچر میں ایف بی آر نے سفارش کی ہے کہ ان کیسز کا سیکشن 177 کے تحت آڈٹ کیا جائے، سیکشن 122(5A) اور سیکشن 175C انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 کے تحت کیسز دوبارہ کھولے جائیں جبکہ برآمد کنندگان کے کاروباری مقامات پر افسران کی تعیناتی بھی عمل میں لائی جائے۔</p>
<p>یہ ہدایات یہیں تک محدود نہیں رہتیں بلکہ ایف بی آر نے چیف کمشنرز سے ہر کیس میں کی گئی کارروائی سے متعلق تفصیلی رپورٹ طلب کرلی ہے۔ اس رپورٹ میں انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 کے سیکشن 177، 122(5A) اور/یا 175C کے تحت کی گئی کارروائی، سیکشن 177 اور 122(5A) کے تحت جاری کیے گئے احکامات، سیکشن 177 اور 122(5A) کے تحت عائد کی گئی ٹیکس ڈیمانڈ، نیز سیکشن 177، 122(5A) اور 147 کے تحت وصول کی گئی اضافی آمدن (ریونیو) کی تفصیلات شامل ہوں گی۔</p>
<p>برآمد کنندگان اور ٹیکس مشیروں کی رائے میں ایف بی آر کا یہ خط ایک نہایت افسوسناک ہدایت اور حکم ہے جو چیف کمشنرز کو دیا گیا ہے۔ ان کے مطابق یہ اقدام نہ صرف ہراسانی کا باعث بنے گا بلکہ ملک کے بڑے برآمد کنندگان کو برآمدی شعبوں میں مزید سرمایہ کاری سے شدید طور پر بددل اور حوصلہ شکن بھی کرے گا۔</p>
<p>وزیراعظم شہباز شریف نے 2 دسمبر 2025 کو ایک ٹیکس اصلاحات کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے برآمدات کی قیادت میں معاشی ترقی کا عزم ظاہر کیا، جس میں سینئر وزرا، افسران اور ورکنگ گروپ کے چیئرمین شہزاد سلیم بھی شریک تھے۔ وزیرِ خزانہ و ریونیو محمد اورنگزیب نے حال ہی میں ایک انٹرویو میں کہا کہ ملک ایک ایسی ترقیاتی حکمت عملی کی طرف بڑھ رہا ہے جو صارفیت اور قرض پر مبنی ماڈل سے ہٹ کر برآمدات پر مبنی حکمت عملی پر مرکوز ہوگی۔</p>
<p>وزیرِ منصوبہ بندی و ترقی احسن اقبال نے برآمدات کی قیادت میں ترقی کو پاکستان کی معاشی استحکام اور ترقی کی کلید قرار دیا ہے۔</p>
<p>معاون خصوصی وزیرِاعظم ہارون اختر خان نے نومبر 2025 میں پاکستان پراسپیریٹی فورم 2025 سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ ہم ٹیرفز کو تجارتی رکاوٹ کے بجائے برآمدات کی قیادت میں ترقی کا انجن بنا رہے ہیں۔</p>
<p>ماہرین کے مطابق، برآمدات پر مبنی ترقی ایک ایسی معاشی حکمت عملی ہے جس میں کوئی ملک اپنی اشیاء اور خدمات کی برآمدات پر توجہ مرکوز کر کے اور برآمدی شعبے کی حوصلہ افزائی کے ذریعے اپنی معیشت کو فروغ دیتا ہے۔ اس حکمت عملی میں اپنی تقابلی برتری والے شعبوں کا فائدہ اٹھا کر صنعت کاری کو تیز کیا جاتا ہے، غیر ملکی زرِ مبادلہ کمایا جاتا ہے، روزگار کے مواقع پیدا کیے جاتے ہیں اور سرمایہ کاری کو راغب کیا جاتا ہے۔</p>
<p>ایک طرف تو پوری حکومتی قیادت برآمدات پر مبنی ترقی کی حوصلہ افزائی کر رہی ہے، لیکن دوسری جانب ایف بی آر کی یہ حالیہ ہدایت ان بڑے برآمد کنندگان کی حوصلہ شکنی کا باعث بنے گی جو پہلے ہی ٹیکسوں کی بلند شرح، توانائی کی مہنگی قیمتوں اور ایف بی آر کے پاس پھنسے ہوئے اربوں روپے کے ریفنڈز کی وجہ سے شدید مشکلات کا شکار ہیں۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2025</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40281121</guid>
      <pubDate>Thu, 01 Jan 2026 10:30:54 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (سہیل سرفراز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/01/01100856c40bc4b.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/01/01100856c40bc4b.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
