<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Business &amp; Finance</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 04 Jun 2026 02:09:17 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 04 Jun 2026 02:09:17 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>سپر نیٹ عالمی سطح پر منتقل، دبئی کو اپنا علاقائی مرکز بنالیا</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40281090/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;ٹیلی کارڈ کی مکمل ملکیتی ذیلی کمپنی سپر نیٹ نے اپنا نام تبدیل کر کے ’سپر نیٹ گلوبل‘  رکھنے کا اعلان کیا ہے۔ اس ری برانڈنگ کے ساتھ ہی کمپنی نے مشرقِ وسطیٰ، افریقہ اور وسطی ایشیا کی تیزی سے ترقی کرتی ہوئی بین الاقوامی ڈیجیٹل مارکیٹوں میں منتخب طریقے سے قدم جمانے کی حکمتِ عملی بھی واضح کی ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لسٹڈ کمپنی نے ایک بیان میں کہا کہ یہ اقدام ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب مشرقِ وسطیٰ اور افریقہ میں آئی سی ٹی  پر سالانہ اخراجات 230 سے 250 ارب ڈالر سے تجاوز کر چکے ہیں۔ اس اضافے کی بنیادی وجہ بڑے پیمانے پر حکومتی ڈیجیٹلائزیشن، سائبر سیکیورٹی میں سرمایہ کاری، کلاؤڈ ٹیکنالوجی کو اپنانا اور کارپوریٹ اداروں کی جدید کاری ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کمپنی نے آگاہ کیا ہے کہ مذکورہ خطے میں صرف سائبر سیکیورٹی پر ہونے والے اخراجات آنے والی دہائی کے دوران اربوں ڈالر تک بڑھنے کا امکان ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کمپنی نے مزید کہا کہ اسی کے ساتھ  عالمی سیٹلائٹ کمیونیکیشنز (سیٹلائٹ کے ذریعے مواصلات) کی مارکیٹ، جو کہ سپر نیٹ کی ایک بنیادی مہارت ہے، 2024-25 میں 90 سے 108 ارب ڈالر کی مالیت رکھتی ہے، 2030 تک اس میں نمایاں اضافے کی پیش گوئی کی گئی ہے جبکہ مشرقِ وسطیٰ میں سیٹلائٹ سے حاصل ہونے والی آمدنی رواں دہائی کے اختتام تک 5 ارب ڈالر سے تجاوز کرنے کی توقع ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;1995 میں قائم ہونے والی سپر نیٹ پاکستان میں آئی سی ٹی  اور کنیکٹیوٹی کی خدمات فراہم کرنے والے قدیم ترین اداروں میں سے ایک ہے جو بینکنگ، توانائی ، ٹیلی کام، سرکاری شعبے اور بڑے کارپوریٹ اداروں کو اپنی خدمات فراہم کر رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بیان کے مطابق دبئی سپر نیٹ گلوبل کے پہلے علاقائی مرکز کے طور پر کام کرے گا۔ اس مقصد کے لیے کمپنی متحدہ عرب امارات میں اپنی ذیلی شاخ فینکس گلوبل ایف زیڈ ای سے  فائدہ اٹھائے گی جو 2018 سے وہاں فعال ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کمپنی نے کہا کہ دبئی سے سپر نیٹ گلوبل مختلف خطوں میں کارپوریٹ اداروں، ٹیلی کام کیریئرز اور ادارہ جاتی کلائنٹس کو اپنی خدمات فراہم کرے گی۔ تاہم، ٹیکنیکل ڈیلیوری، انجینئرنگ اور مینیجڈ سروسز کی صلاحیتیں بدستور پاکستان میں مرکوز رہیں گی جس سے ڈیجیٹل سروسز کی برآمدات  کے مرکز کے طور پر پاکستان کا کردار مزید مستحکم ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹیکنالوجی کمپنی نے اپنی اس توسیعی حکمتِ عملی کو نپی تلی اور شراکت داروں کے تعاون پر مبنی قرار دیا ہے، جس میں توجہ تیز رفتاری کے بجائے پائیدار ترقی پر مرکوز کی گئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کمپنی نے برانڈ کے تبدیلی پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ سپرنیٹ گلوبل ہمارے اس عزم کی نمائندگی کرتا ہے کہ ہم عالمی ڈیجیٹل مارکیٹس میں بامعنی طور پر حصہ لیں اور پاکستانی مہارت، ٹیلنٹ اور ٹیکنالوجی کو برآمد کریں۔ یہ حکمت عملی ہمیں بین الاقوامی سطح پر ترقی کرنے کی اجازت دیتی ہے جبکہ پاکستان کی آئی ٹی برآمدات اور طویل المدتی زرمبادلہ آمدنی میں حصہ ڈالتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کمپنی نے تصدیق کی کہ پاکستان میں موجود تمام موجودہ آپریشنز اور صارفین سے وابستہ وعدے بغیر تبدیلی کے برقرار رہیں گے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>ٹیلی کارڈ کی مکمل ملکیتی ذیلی کمپنی سپر نیٹ نے اپنا نام تبدیل کر کے ’سپر نیٹ گلوبل‘  رکھنے کا اعلان کیا ہے۔ اس ری برانڈنگ کے ساتھ ہی کمپنی نے مشرقِ وسطیٰ، افریقہ اور وسطی ایشیا کی تیزی سے ترقی کرتی ہوئی بین الاقوامی ڈیجیٹل مارکیٹوں میں منتخب طریقے سے قدم جمانے کی حکمتِ عملی بھی واضح کی ہے۔</strong></p>
<p>لسٹڈ کمپنی نے ایک بیان میں کہا کہ یہ اقدام ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب مشرقِ وسطیٰ اور افریقہ میں آئی سی ٹی  پر سالانہ اخراجات 230 سے 250 ارب ڈالر سے تجاوز کر چکے ہیں۔ اس اضافے کی بنیادی وجہ بڑے پیمانے پر حکومتی ڈیجیٹلائزیشن، سائبر سیکیورٹی میں سرمایہ کاری، کلاؤڈ ٹیکنالوجی کو اپنانا اور کارپوریٹ اداروں کی جدید کاری ہے۔</p>
<p>کمپنی نے آگاہ کیا ہے کہ مذکورہ خطے میں صرف سائبر سیکیورٹی پر ہونے والے اخراجات آنے والی دہائی کے دوران اربوں ڈالر تک بڑھنے کا امکان ہے۔</p>
<p>کمپنی نے مزید کہا کہ اسی کے ساتھ  عالمی سیٹلائٹ کمیونیکیشنز (سیٹلائٹ کے ذریعے مواصلات) کی مارکیٹ، جو کہ سپر نیٹ کی ایک بنیادی مہارت ہے، 2024-25 میں 90 سے 108 ارب ڈالر کی مالیت رکھتی ہے، 2030 تک اس میں نمایاں اضافے کی پیش گوئی کی گئی ہے جبکہ مشرقِ وسطیٰ میں سیٹلائٹ سے حاصل ہونے والی آمدنی رواں دہائی کے اختتام تک 5 ارب ڈالر سے تجاوز کرنے کی توقع ہے۔</p>
<p>1995 میں قائم ہونے والی سپر نیٹ پاکستان میں آئی سی ٹی  اور کنیکٹیوٹی کی خدمات فراہم کرنے والے قدیم ترین اداروں میں سے ایک ہے جو بینکنگ، توانائی ، ٹیلی کام، سرکاری شعبے اور بڑے کارپوریٹ اداروں کو اپنی خدمات فراہم کر رہی ہے۔</p>
<p>بیان کے مطابق دبئی سپر نیٹ گلوبل کے پہلے علاقائی مرکز کے طور پر کام کرے گا۔ اس مقصد کے لیے کمپنی متحدہ عرب امارات میں اپنی ذیلی شاخ فینکس گلوبل ایف زیڈ ای سے  فائدہ اٹھائے گی جو 2018 سے وہاں فعال ہے۔</p>
<p>کمپنی نے کہا کہ دبئی سے سپر نیٹ گلوبل مختلف خطوں میں کارپوریٹ اداروں، ٹیلی کام کیریئرز اور ادارہ جاتی کلائنٹس کو اپنی خدمات فراہم کرے گی۔ تاہم، ٹیکنیکل ڈیلیوری، انجینئرنگ اور مینیجڈ سروسز کی صلاحیتیں بدستور پاکستان میں مرکوز رہیں گی جس سے ڈیجیٹل سروسز کی برآمدات  کے مرکز کے طور پر پاکستان کا کردار مزید مستحکم ہوگا۔</p>
<p>ٹیکنالوجی کمپنی نے اپنی اس توسیعی حکمتِ عملی کو نپی تلی اور شراکت داروں کے تعاون پر مبنی قرار دیا ہے، جس میں توجہ تیز رفتاری کے بجائے پائیدار ترقی پر مرکوز کی گئی ہے۔</p>
<p>کمپنی نے برانڈ کے تبدیلی پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ سپرنیٹ گلوبل ہمارے اس عزم کی نمائندگی کرتا ہے کہ ہم عالمی ڈیجیٹل مارکیٹس میں بامعنی طور پر حصہ لیں اور پاکستانی مہارت، ٹیلنٹ اور ٹیکنالوجی کو برآمد کریں۔ یہ حکمت عملی ہمیں بین الاقوامی سطح پر ترقی کرنے کی اجازت دیتی ہے جبکہ پاکستان کی آئی ٹی برآمدات اور طویل المدتی زرمبادلہ آمدنی میں حصہ ڈالتی ہے۔</p>
<p>کمپنی نے تصدیق کی کہ پاکستان میں موجود تمام موجودہ آپریشنز اور صارفین سے وابستہ وعدے بغیر تبدیلی کے برقرار رہیں گے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40281090</guid>
      <pubDate>Wed, 31 Dec 2025 12:44:57 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/12/31122107db46c9c.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/12/31122107db46c9c.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
