<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Business &amp; Finance</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 19:39:32 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 19:39:32 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>اسٹاک ایکسچینج : ایک لاکھ 75 ہزار کی ریکارڈ سطح چھونے کے بعد 100 انڈیکس سال کے آخری روز منفی زون میں بند</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40281082/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں سال کے آخری کاروباری روز کا آغاز زبردست تیزی کے ساتھ ہوا جس کے نتیجے میں کے ایس ای 100 انڈیکس نے ملکی تاریخ میں پہلی بار پونے دولاکھ کی حد عبور کرکے نئی تاریخ رقم کردی، تاہم یہ تیزی زیادہ دیر برقرار نہ رہ سکی، پرافٹ ٹیکنگ کا رجحان غالب آنے سے تیزی کے اثرات زائل ہوگئے اور انڈیکس منفی زون میں بند ہوا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مارکیٹ کا کاربار کا آغاز انتہائی مثبت انداز میں ہوا، ٹریڈنگ کے دوران ایک موقع پر 100 انڈیکس دن ملکی تاریخ میں پہلی بار ایک لاکھ 75 ہزار کی بلند سطح عبور کرتے ہوئے 175,232.90 پوائنٹس پر جاپہنچا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بعدازاں منافع خوری کا رجحان غالب آنے سے 100 انڈیکس دن کی کم ترین سطح 173,564.33 پوائنٹس پر آگیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاروبار کے اختتام پرکے ایس ای 100 انڈیکس 418.47 پوائنٹس یا 0.24 فیصد کی کمی سے 174,054.32 پوائنٹس پربند ہوا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بروکریج ہاؤس عارف حبیب لمیٹڈ ( اے ایچ ایل ) کے مطابق اگرچہ سال کے آخری سیشن میں خسارے کے ساتھ اختتام ہوا، لیکن کے ایس ای 100 انڈیکس نے کیلنڈر سال 2025 میں شاندار 51 فیصد منافع حاصل کیا، نئی بلند سطح پر بند ہوا اور تین سالہ مسلسل دو ہندسوں کی نمو کا سلسلہ جاری رکھا، جو کہ کلینڈر سال 2023 میں 55 فیصد اور کلینڈر سال 2024 میں 84 فیصد رہا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اے ایچ ایل کے مطابق ’’انڈیکس سال کے دوران رومانیہ کے بعد دوسرے بہترین فرنٹیئر مارکیٹ پرفارمر کے طور پر بھی رہا۔‘‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بروکریج ہاؤس نے نوٹ کیا کہ کے ایس ای 100 انڈیکس نے دیگر اثاثہ جات جیسے رئیل اسٹیٹ (17 فیصد)، پی آئی بیز (12 فیصد)، ٹی بلز (12 فیصد)، ڈیفنس سیونگز سرٹیفکیٹس (11 فیصد) اور بینک ڈپازٹس (9 فیصد) سے بہتر کارکردگی دکھائی، جبکہ سونے (65 فیصد) نے اسی مدت میں زیادہ منافع فراہم کیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یاد رہے کہ منگل کو پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں مثبت رجحان جاری رہا اور کے ایس ای-100 انڈیکس ایک نئے ریکارڈ کے ساتھ مضبوط نوٹ پر بند ہوا۔ بینچ مارک انڈیکس میں 576.45 پوائنٹس کا اضافہ ہوا اور یہ 174,473 پوائنٹس کی نئی بلند ترین سطح پر بند ہوا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بین الاقوامی سطح پر، ایشیائی اسٹاک مارکیٹس سال کے آخری کاروباری دن گراوٹ کا شکار رہیں، ایک ایسا سال جس میں سرمایہ کاروں نے ٹیرف (محصولات) سے متعلق غیر یقینی صورتحال کو بڑی حد تک نظر انداز کیا اور ’مصنوعی ذہانت‘ کے چپس والے اسٹاکس کو دل کھول کر اپنایا۔ دوسری جانب ڈالر کے لیے یہ سال انتہائی مایوس کن رہا، جس کی وجہ سے یورو اور پاؤنڈ اسٹرلنگ کی قدر مستحکم رہی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جاپانی مارکیٹس اس ہفتے کے باقی دن بند رہیں گی اور چونکہ بیشتر مارکیٹس جمعرات کو نئے سال کے موقع پر بند رہیں گی، اس لیے حجم کم اور مارکیٹ کے اتار چڑھاؤ محدود رہنے کا امکان ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایم ایس سی آئی کا جاپان کے علاوہ ایشیا پیسفک حصص کا وسیع ترین انڈیکس بدھ کو 0.17 فیصد نیچے رہا، کیونکہ سرمایہ کاروں نے فیڈرل ریزرو کی دسمبر میٹنگ کے منٹس کا جائزہ لیا، جن میں امریکی شرح سود کے بارے میں پالیسی سازوں کے درمیان گہری تقسیم کو اجاگر کیا گیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سالانہ بنیاد پر یہ انڈیکس 27 فیصد اضافے کی جانب ہے جو 2017 کے بعد سب سے تیز رفتار اضافہ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چین کے بلیو چپ انڈیکس میں معمولی اضافہ دیکھا گیا جو سالانہ بنیاد پر 18 فیصد اضافے کی جانب گامزن ہے جبکہ ہانگ کانگ کا ہینگ سینگ انڈیکس 0.7 فیصد نیچے آیا، تاہم 2025 میں 28 فیصد اضافے کی جانب دیکھ رہا ہے کیونکہ سرمایہ کاروں نے تجارتی جنگ سے متعلق خدشات کو نظرانداز کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دریں اثناء انٹر بینک مارکیٹ میں بدھ کے روز امریکی ڈالر کے مقابلے میں پاکستانی روپیہ مضبوط ہوا اور آخری بینکنگ سیشن کے دوران اس کی قدر میں 0.01 فیصد کے اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ کاروبار کے اختتام پر مقامی کرنسی 280.12 پر بند ہوئی، جو ڈالر کے مقابلے میں 4 پیسے کا فائدہ ہوا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آل شیئر انڈیکس پر حجم 851.04 ملین سے بڑھ کر 957.24 ملین ہو گیا جبکہ حصص کی کل مالیت پچھلے سیشن کے 44.90 ارب روپے سے کم ہو کر 44.23 ارب روپے رہ گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کے الیکٹرک لمیٹڈ سب سے زیادہ حجم رکھنے والی کمپنی رہی جس کے 95.89 ملین حصص کا لین دین ہوا، اس کے بعد پی ائی اے ہولڈنگ کمپنی کے 61.81 ملین شیئرز اور پاک انٹرنیشنل بلک کے 47.66 ملین حصص کی خرید و فروخت ہوئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بدھ کو مجموعی طور پر 481 کمپنیوں کے شیئرز کا کاروبار ہوا، جن میں سے 221 میں اضافہ، 223 میں کمی اور 37 میں استحکام رہا۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full  sm:w-full  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://i.brecorder.com/primary/2025/12/311946181ce37de.webp'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.brecorder.com/primary/2025/12/311946181ce37de.webp'  alt='' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں سال کے آخری کاروباری روز کا آغاز زبردست تیزی کے ساتھ ہوا جس کے نتیجے میں کے ایس ای 100 انڈیکس نے ملکی تاریخ میں پہلی بار پونے دولاکھ کی حد عبور کرکے نئی تاریخ رقم کردی، تاہم یہ تیزی زیادہ دیر برقرار نہ رہ سکی، پرافٹ ٹیکنگ کا رجحان غالب آنے سے تیزی کے اثرات زائل ہوگئے اور انڈیکس منفی زون میں بند ہوا۔</strong></p>
<p>مارکیٹ کا کاربار کا آغاز انتہائی مثبت انداز میں ہوا، ٹریڈنگ کے دوران ایک موقع پر 100 انڈیکس دن ملکی تاریخ میں پہلی بار ایک لاکھ 75 ہزار کی بلند سطح عبور کرتے ہوئے 175,232.90 پوائنٹس پر جاپہنچا۔</p>
<p>بعدازاں منافع خوری کا رجحان غالب آنے سے 100 انڈیکس دن کی کم ترین سطح 173,564.33 پوائنٹس پر آگیا۔</p>
<p>کاروبار کے اختتام پرکے ایس ای 100 انڈیکس 418.47 پوائنٹس یا 0.24 فیصد کی کمی سے 174,054.32 پوائنٹس پربند ہوا۔</p>
<p>بروکریج ہاؤس عارف حبیب لمیٹڈ ( اے ایچ ایل ) کے مطابق اگرچہ سال کے آخری سیشن میں خسارے کے ساتھ اختتام ہوا، لیکن کے ایس ای 100 انڈیکس نے کیلنڈر سال 2025 میں شاندار 51 فیصد منافع حاصل کیا، نئی بلند سطح پر بند ہوا اور تین سالہ مسلسل دو ہندسوں کی نمو کا سلسلہ جاری رکھا، جو کہ کلینڈر سال 2023 میں 55 فیصد اور کلینڈر سال 2024 میں 84 فیصد رہا۔</p>
<p>اے ایچ ایل کے مطابق ’’انڈیکس سال کے دوران رومانیہ کے بعد دوسرے بہترین فرنٹیئر مارکیٹ پرفارمر کے طور پر بھی رہا۔‘‘</p>
<p>بروکریج ہاؤس نے نوٹ کیا کہ کے ایس ای 100 انڈیکس نے دیگر اثاثہ جات جیسے رئیل اسٹیٹ (17 فیصد)، پی آئی بیز (12 فیصد)، ٹی بلز (12 فیصد)، ڈیفنس سیونگز سرٹیفکیٹس (11 فیصد) اور بینک ڈپازٹس (9 فیصد) سے بہتر کارکردگی دکھائی، جبکہ سونے (65 فیصد) نے اسی مدت میں زیادہ منافع فراہم کیا ہے۔</p>
<p>یاد رہے کہ منگل کو پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں مثبت رجحان جاری رہا اور کے ایس ای-100 انڈیکس ایک نئے ریکارڈ کے ساتھ مضبوط نوٹ پر بند ہوا۔ بینچ مارک انڈیکس میں 576.45 پوائنٹس کا اضافہ ہوا اور یہ 174,473 پوائنٹس کی نئی بلند ترین سطح پر بند ہوا تھا۔</p>
<p>بین الاقوامی سطح پر، ایشیائی اسٹاک مارکیٹس سال کے آخری کاروباری دن گراوٹ کا شکار رہیں، ایک ایسا سال جس میں سرمایہ کاروں نے ٹیرف (محصولات) سے متعلق غیر یقینی صورتحال کو بڑی حد تک نظر انداز کیا اور ’مصنوعی ذہانت‘ کے چپس والے اسٹاکس کو دل کھول کر اپنایا۔ دوسری جانب ڈالر کے لیے یہ سال انتہائی مایوس کن رہا، جس کی وجہ سے یورو اور پاؤنڈ اسٹرلنگ کی قدر مستحکم رہی۔</p>
<p>جاپانی مارکیٹس اس ہفتے کے باقی دن بند رہیں گی اور چونکہ بیشتر مارکیٹس جمعرات کو نئے سال کے موقع پر بند رہیں گی، اس لیے حجم کم اور مارکیٹ کے اتار چڑھاؤ محدود رہنے کا امکان ہے۔</p>
<p>ایم ایس سی آئی کا جاپان کے علاوہ ایشیا پیسفک حصص کا وسیع ترین انڈیکس بدھ کو 0.17 فیصد نیچے رہا، کیونکہ سرمایہ کاروں نے فیڈرل ریزرو کی دسمبر میٹنگ کے منٹس کا جائزہ لیا، جن میں امریکی شرح سود کے بارے میں پالیسی سازوں کے درمیان گہری تقسیم کو اجاگر کیا گیا تھا۔</p>
<p>سالانہ بنیاد پر یہ انڈیکس 27 فیصد اضافے کی جانب ہے جو 2017 کے بعد سب سے تیز رفتار اضافہ ہے۔</p>
<p>چین کے بلیو چپ انڈیکس میں معمولی اضافہ دیکھا گیا جو سالانہ بنیاد پر 18 فیصد اضافے کی جانب گامزن ہے جبکہ ہانگ کانگ کا ہینگ سینگ انڈیکس 0.7 فیصد نیچے آیا، تاہم 2025 میں 28 فیصد اضافے کی جانب دیکھ رہا ہے کیونکہ سرمایہ کاروں نے تجارتی جنگ سے متعلق خدشات کو نظرانداز کیا۔</p>
<p>دریں اثناء انٹر بینک مارکیٹ میں بدھ کے روز امریکی ڈالر کے مقابلے میں پاکستانی روپیہ مضبوط ہوا اور آخری بینکنگ سیشن کے دوران اس کی قدر میں 0.01 فیصد کے اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ کاروبار کے اختتام پر مقامی کرنسی 280.12 پر بند ہوئی، جو ڈالر کے مقابلے میں 4 پیسے کا فائدہ ہوا۔</p>
<p>آل شیئر انڈیکس پر حجم 851.04 ملین سے بڑھ کر 957.24 ملین ہو گیا جبکہ حصص کی کل مالیت پچھلے سیشن کے 44.90 ارب روپے سے کم ہو کر 44.23 ارب روپے رہ گئی۔</p>
<p>کے الیکٹرک لمیٹڈ سب سے زیادہ حجم رکھنے والی کمپنی رہی جس کے 95.89 ملین حصص کا لین دین ہوا، اس کے بعد پی ائی اے ہولڈنگ کمپنی کے 61.81 ملین شیئرز اور پاک انٹرنیشنل بلک کے 47.66 ملین حصص کی خرید و فروخت ہوئی۔</p>
<p>بدھ کو مجموعی طور پر 481 کمپنیوں کے شیئرز کا کاروبار ہوا، جن میں سے 221 میں اضافہ، 223 میں کمی اور 37 میں استحکام رہا۔</p>
    <figure class='media  w-full  sm:w-full  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://i.brecorder.com/primary/2025/12/311946181ce37de.webp'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.brecorder.com/primary/2025/12/311946181ce37de.webp'  alt='' /></picture></div>
        
    </figure>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40281082</guid>
      <pubDate>Wed, 31 Dec 2025 20:36:39 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/12/31103158aafc570.webp" type="image/webp" medium="image" height="455" width="670">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/12/31103158aafc570.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
