<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Business &amp; Finance</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 23:36:29 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 23:36:29 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ریٹیل ادائیگیوں کی مجموعی مالیت میں 6 فیصد اضافہ، حجم 166 کھرب روپے تک پہنچ گیا</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40281081/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پاکستان میں مالی سال 26 کی پہلی سہ ماہی کے دوران ریٹیل ادائیگیوں میں نمایاں تیزی دیکھنے میں آئی، جہاں لین دین کی تعداد بڑھ کر 2.8 ارب تک پہنچ گئی جو گزشتہ سہ ماہی کے مقابلے میں 10 فیصد اضافہ ہے، جبکہ ادائیگیوں کی مجموعی مالیت 6 فیصد بڑھ کر 166 کھرب روپے ہو گئی۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ نمو بڑی حد تک موبائل ایپ پر مبنی بینکاری کی جانب مسلسل رجحان کے باعث ہوئی، جو صارفین اور کاروباری اداروں میں ڈیجیٹل نظام کے بڑھتے ہوئے استعمال کی عکاسی کرتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی) نے منگل کے روز ادائیگیوں کے نظام سے متعلق اپنی سہ ماہی رپورٹ جاری کی، جس میں ملک کے موجودہ ادائیگیاتی ایکو سسٹم کا جامع تجزیہ، ادائیگیوں کے منظرنامے کو تشکیل دینے والے اہم ابھرتے رجحانات، اور مالی سال 2025-26 کی پہلی سہ ماہی کے دوران اس شعبے میں حاصل ہونے والی نمایاں پیش رفت کو اجاگر کیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ریٹیل ادائیگیوں کی تعداد کے اعتبار سے سب سے بڑا حصہ 1,445 ملین فنڈ ٹرانسفرز پر مشتمل رہا، اس کے بعد 400 ملین مرچنٹ ادائیگیاں، 353 ملین بل ادائیگیاں اور ٹاپ اَپس، 311 ملین اے ٹی ایمز، بینک برانچز اور ایجنٹس کے ذریعے نقد رقم نکلوانے کے لین دین، جبکہ 87 ملین نقد رقوم جمع کرانے کے معاملات شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مالیت کے لحاظ سے بھی ریٹیل ادائیگیوں میں فنڈ ٹرانسفرز سرفہرست رہے، جن کی مجموعی رقم 123 کھرب روپے رہی، اس کے بعد نقد رقم نکلوانے اور نقد/آلات جمع کرانے کے لین دین شامل ہیں جن کی مالیت 28 کھرب روپے رہی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فنڈ ٹرانسفرز ڈیجیٹل ذرائع جیسے اے ٹی ایمز، موبائل بینکاری ایپس، انٹرنیٹ بینکاری اور او ٹی سی چینلز کے ذریعے کیے جا سکتے ہیں، جن میں بی بی ایجنٹس اور بینک برانچز (چیکس کے ذریعے) شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈیجیٹل ادائیگی کے ذرائع کے ذریعے 2.5 ارب لین دین ریکارڈ کیے گئے، جو مجموعی ریٹیل ادائیگیوں کا 90 فیصد بنتے ہیں، جبکہ گزشتہ سال اسی سہ ماہی میں یہ شرح 87 فیصد تھی۔ ڈیجیٹل چینلز کے ذریعے لین دین کی مجموعی مالیت 55 کھرب روپے تک پہنچ گئی، جو معیشت میں ان ذرائع کے بڑھتے ہوئے استعمال کو نمایاں کرتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈیجیٹل ادائیگیوں کے منظرنامے میں موبائل ایپ پر مبنی ادائیگیاں غالب رہیں، جہاں بینکوں، برانچ لیس بینکاری (بی بی) فراہم کنندگان اور الیکٹرانک منی اداروں (ای ایم آئیز) کی جانب سے فراہم کردہ ایپس کے ذریعے 2.0 ارب لین دین انجام دیے گئے۔ یہ لین دین مجموعی ڈیجیٹل ادائیگیوں کا 81 فیصد بنتے ہیں جبکہ ان کی مجموعی مالیت 33.7 کھرب روپے رہی۔ یہ چینل مختلف اقسام کی ڈیجیٹل ادائیگیوں کے لیے استعمال ہورہا ہے جن میں فرد سے فرد ادائیگیاں، بلوں کی ادائیگی اور آن لائن پلیٹ فارمز کے ساتھ ساتھ فزیکل ریٹیل دکانوں پر اکاؤنٹ اور والٹ پر مبنی مرچنٹ ادائیگیاں شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انٹرنیٹ بینکاری میں بھی بتدریج توسیع دیکھنے میں آئی، جہاں صارفین کی بڑھتی ہوئی تعداد ڈیجیٹل ذرائع سے لین دین کر رہی ہے۔ ادائیگی کارڈز کے استعمال میں بھی اضافہ ہوا اور زیرِ گردش پیمنٹ کارڈز کی تعداد بڑھ کر 61.3 ملین تک پہنچ گئی، جن میں سے 90 فیصد ڈیبٹ کارڈز جبکہ 4 فیصد کریڈٹ کارڈز ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;راست انسٹنٹ پیمنٹ سسٹم نے بھی مضبوط ترقی کی رفتار برقرار رکھی۔ اس دوران فرد سے فرد (پی ٹو پی) لین دین کی تعداد بڑھ کر 535 ملین ہو گئی جو 31 فیصد اضافہ ظاہر کرتی ہے، جبکہ ان کی مجموعی مالیت 11.3 کھرب روپے رہی۔ دوسری جانب راست کے تحت مرچنٹس کو کی جانے والی (پی ٹو ایم) ادائیگیاں دگنی ہو کر 4.3 ملین تک پہنچ گئیں، جن کی مالیت 17.0 ارب روپے رہی۔ مجموعی طور پر راست کے ذریعے 544 ملین لین دین انجام دیے گئے جن کی کل مالیت 12.8 کھرب روپے رہی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پوائنٹ آف سیل  ٹرمینلز اور ای کامرس سرگرمیوں میں اضافہ جاری رہا، جہاں کارڈ پر مبنی یومیہ لین دین کی تعداد 15 لاکھ تک پہنچ گئی۔ ملک بھر میں 20,527 اے ٹی ایمز کے نیٹ ورک کے ذریعے 267 ملین لین دین انجام دیے گئے، جن کی مجموعی مالیت 4.5 کھرب روپے رہی۔اوسطاً ہر اے ٹی ایم نے روزانہ 142 لین دین نمٹائے جبکہ فی لین دین اوسط رقم 16,800 روپے رہی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اے ٹی ایمز اور دیگر ڈیجیٹل ذرائع کے ساتھ ساتھ فزیکل ٹچ پوائنٹس بھی ریٹیل ادائیگیوں میں اہم کردار ادا کرتے رہے۔ ملک بھر میں 19,852 بینک برانچز اور 756,480 برانچ لیس بینکاری (بی بی) ایجنٹس کے ذریعے اوور دی کاؤنٹر (او ٹی سی) خدمات فراہم کی گئیں، جن میں نقد رقم جمع کرانا، نکلوانا، فنڈ ٹرانسفرز اور بلوں کی ادائیگیاں شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بینک برانچز کے ذریعے 137 ملین لین دین انجام دیے گئے جن کی مجموعی مالیت 110 کھرب روپے رہی جبکہ بی بی ایجنٹس نے 129 ملین لین دین سہولت فراہم کی جن کی مالیت 0.9 کھرب روپے رہی۔ یہ تمام پیشرفت مجموعی طور پر پاکستان میں زیادہ جامع، مؤثر اور ڈیجیٹل طور پر فعال ادائیگیاتی نظام کی جانب مسلسل پیش قدمی کی عکاسی کرتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2025&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پاکستان میں مالی سال 26 کی پہلی سہ ماہی کے دوران ریٹیل ادائیگیوں میں نمایاں تیزی دیکھنے میں آئی، جہاں لین دین کی تعداد بڑھ کر 2.8 ارب تک پہنچ گئی جو گزشتہ سہ ماہی کے مقابلے میں 10 فیصد اضافہ ہے، جبکہ ادائیگیوں کی مجموعی مالیت 6 فیصد بڑھ کر 166 کھرب روپے ہو گئی۔</strong></p>
<p>یہ نمو بڑی حد تک موبائل ایپ پر مبنی بینکاری کی جانب مسلسل رجحان کے باعث ہوئی، جو صارفین اور کاروباری اداروں میں ڈیجیٹل نظام کے بڑھتے ہوئے استعمال کی عکاسی کرتی ہے۔</p>
<p>اسٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی) نے منگل کے روز ادائیگیوں کے نظام سے متعلق اپنی سہ ماہی رپورٹ جاری کی، جس میں ملک کے موجودہ ادائیگیاتی ایکو سسٹم کا جامع تجزیہ، ادائیگیوں کے منظرنامے کو تشکیل دینے والے اہم ابھرتے رجحانات، اور مالی سال 2025-26 کی پہلی سہ ماہی کے دوران اس شعبے میں حاصل ہونے والی نمایاں پیش رفت کو اجاگر کیا گیا ہے۔</p>
<p>ریٹیل ادائیگیوں کی تعداد کے اعتبار سے سب سے بڑا حصہ 1,445 ملین فنڈ ٹرانسفرز پر مشتمل رہا، اس کے بعد 400 ملین مرچنٹ ادائیگیاں، 353 ملین بل ادائیگیاں اور ٹاپ اَپس، 311 ملین اے ٹی ایمز، بینک برانچز اور ایجنٹس کے ذریعے نقد رقم نکلوانے کے لین دین، جبکہ 87 ملین نقد رقوم جمع کرانے کے معاملات شامل ہیں۔</p>
<p>مالیت کے لحاظ سے بھی ریٹیل ادائیگیوں میں فنڈ ٹرانسفرز سرفہرست رہے، جن کی مجموعی رقم 123 کھرب روپے رہی، اس کے بعد نقد رقم نکلوانے اور نقد/آلات جمع کرانے کے لین دین شامل ہیں جن کی مالیت 28 کھرب روپے رہی۔</p>
<p>فنڈ ٹرانسفرز ڈیجیٹل ذرائع جیسے اے ٹی ایمز، موبائل بینکاری ایپس، انٹرنیٹ بینکاری اور او ٹی سی چینلز کے ذریعے کیے جا سکتے ہیں، جن میں بی بی ایجنٹس اور بینک برانچز (چیکس کے ذریعے) شامل ہیں۔</p>
<p>ڈیجیٹل ادائیگی کے ذرائع کے ذریعے 2.5 ارب لین دین ریکارڈ کیے گئے، جو مجموعی ریٹیل ادائیگیوں کا 90 فیصد بنتے ہیں، جبکہ گزشتہ سال اسی سہ ماہی میں یہ شرح 87 فیصد تھی۔ ڈیجیٹل چینلز کے ذریعے لین دین کی مجموعی مالیت 55 کھرب روپے تک پہنچ گئی، جو معیشت میں ان ذرائع کے بڑھتے ہوئے استعمال کو نمایاں کرتی ہے۔</p>
<p>ڈیجیٹل ادائیگیوں کے منظرنامے میں موبائل ایپ پر مبنی ادائیگیاں غالب رہیں، جہاں بینکوں، برانچ لیس بینکاری (بی بی) فراہم کنندگان اور الیکٹرانک منی اداروں (ای ایم آئیز) کی جانب سے فراہم کردہ ایپس کے ذریعے 2.0 ارب لین دین انجام دیے گئے۔ یہ لین دین مجموعی ڈیجیٹل ادائیگیوں کا 81 فیصد بنتے ہیں جبکہ ان کی مجموعی مالیت 33.7 کھرب روپے رہی۔ یہ چینل مختلف اقسام کی ڈیجیٹل ادائیگیوں کے لیے استعمال ہورہا ہے جن میں فرد سے فرد ادائیگیاں، بلوں کی ادائیگی اور آن لائن پلیٹ فارمز کے ساتھ ساتھ فزیکل ریٹیل دکانوں پر اکاؤنٹ اور والٹ پر مبنی مرچنٹ ادائیگیاں شامل ہیں۔</p>
<p>انٹرنیٹ بینکاری میں بھی بتدریج توسیع دیکھنے میں آئی، جہاں صارفین کی بڑھتی ہوئی تعداد ڈیجیٹل ذرائع سے لین دین کر رہی ہے۔ ادائیگی کارڈز کے استعمال میں بھی اضافہ ہوا اور زیرِ گردش پیمنٹ کارڈز کی تعداد بڑھ کر 61.3 ملین تک پہنچ گئی، جن میں سے 90 فیصد ڈیبٹ کارڈز جبکہ 4 فیصد کریڈٹ کارڈز ہیں۔</p>
<p>راست انسٹنٹ پیمنٹ سسٹم نے بھی مضبوط ترقی کی رفتار برقرار رکھی۔ اس دوران فرد سے فرد (پی ٹو پی) لین دین کی تعداد بڑھ کر 535 ملین ہو گئی جو 31 فیصد اضافہ ظاہر کرتی ہے، جبکہ ان کی مجموعی مالیت 11.3 کھرب روپے رہی۔ دوسری جانب راست کے تحت مرچنٹس کو کی جانے والی (پی ٹو ایم) ادائیگیاں دگنی ہو کر 4.3 ملین تک پہنچ گئیں، جن کی مالیت 17.0 ارب روپے رہی۔ مجموعی طور پر راست کے ذریعے 544 ملین لین دین انجام دیے گئے جن کی کل مالیت 12.8 کھرب روپے رہی۔</p>
<p>پوائنٹ آف سیل  ٹرمینلز اور ای کامرس سرگرمیوں میں اضافہ جاری رہا، جہاں کارڈ پر مبنی یومیہ لین دین کی تعداد 15 لاکھ تک پہنچ گئی۔ ملک بھر میں 20,527 اے ٹی ایمز کے نیٹ ورک کے ذریعے 267 ملین لین دین انجام دیے گئے، جن کی مجموعی مالیت 4.5 کھرب روپے رہی۔اوسطاً ہر اے ٹی ایم نے روزانہ 142 لین دین نمٹائے جبکہ فی لین دین اوسط رقم 16,800 روپے رہی۔</p>
<p>اے ٹی ایمز اور دیگر ڈیجیٹل ذرائع کے ساتھ ساتھ فزیکل ٹچ پوائنٹس بھی ریٹیل ادائیگیوں میں اہم کردار ادا کرتے رہے۔ ملک بھر میں 19,852 بینک برانچز اور 756,480 برانچ لیس بینکاری (بی بی) ایجنٹس کے ذریعے اوور دی کاؤنٹر (او ٹی سی) خدمات فراہم کی گئیں، جن میں نقد رقم جمع کرانا، نکلوانا، فنڈ ٹرانسفرز اور بلوں کی ادائیگیاں شامل ہیں۔</p>
<p>بینک برانچز کے ذریعے 137 ملین لین دین انجام دیے گئے جن کی مجموعی مالیت 110 کھرب روپے رہی جبکہ بی بی ایجنٹس نے 129 ملین لین دین سہولت فراہم کی جن کی مالیت 0.9 کھرب روپے رہی۔ یہ تمام پیشرفت مجموعی طور پر پاکستان میں زیادہ جامع، مؤثر اور ڈیجیٹل طور پر فعال ادائیگیاتی نظام کی جانب مسلسل پیش قدمی کی عکاسی کرتی ہے۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2025</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40281081</guid>
      <pubDate>Wed, 31 Dec 2025 10:29:30 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ریکارڈر رپورٹ)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/12/311028014594f4b.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/12/311028014594f4b.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
