<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - BR Research</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 23:36:28 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 23:36:28 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>یو اے ای-فوجی فاؤنڈیشن ڈیل کے پسِ پردہ حقائق</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40281067/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;ہفتے کے آخر میں نائب وزیرِاعظم  نے کہا کہ متحدہ عرب امارات (یو اے ای) فوجی فاؤنڈیشن کے کچھ حصص حاصل کررہا ہے، اس کے بدلے میں اسٹیٹ بینک کے ساتھ ایک ارب ڈالر کے ڈپازٹس کو ایکویٹی میں تبدیل کیا جارہا ہے۔ مارکیٹ میں عام تاثر یہ پایا جارہا ہے کہ فوجی فاؤنڈیشن اپنی اہم لسٹڈ کمپنیوں بنیادی طور پر فوجی فرٹیلائزر کمپنی (ایف ایف سی) اور ماری انرجیز میں اپنے حصص کا ایک بڑا حصہ متحدہ عرب امارات کے حوالے کر رہی ہے۔ یہ تاثر غلط اور بے بنیاد ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فوجی فاؤنڈیشن ماری کے 40 فیصد اور ایف ایف سی کے 45 فیصد حصص کی مالک ہے، اور اپنی ملکیت کا قریباً نصف حصہ فروخت کرنے سے اس کے حصص کی قدر میں نمایاں کمی آئے گی اور وہ اپنا کنٹرول کھو سکتی ہے۔ ان کمپنیوں کے قریبی ذرائع انکشاف کرتے ہیں کہ یہ ڈیل ویسی نہیں ہے جیسا کہ (اسحاق) ڈار کے بیان سے عام تاثر مل رہا ہے۔ اور کوئی یہ سوچنے پر مجبور ہو سکتا ہے کہ ایک سرکاری عہدیدار کس حیثیت میں ایک غیر سرکاری گروپ (فوجی فاؤنڈیشن) کی طرف سے بات کررہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بہر حال یہ معاہدہ زیرِ تکمیل ہے جس کے تحت متحدہ عرب امارات، فوجی فاؤنڈیشن میں ایک ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کرنے کا عزم ظاہر کررہا ہے۔ اس سے ملک میں کوئی نیا پیسہ نہیں آئے گا۔ اس کے بجائے اسٹیٹ بینک کے پاس موجود ایک ارب ڈالر کے موجودہ ذخائر کو فوجی فاؤنڈیشن میں سرمایہ کاری میں تبدیل کردیا جائے گا۔اس سے اسٹیٹ بینک کے مجموعی ذخائر میں کوئی تبدیلی نہیں آئے گی۔ قرضے اور واجبات میں ایک ارب ڈالر کی کمی آئے گی اور براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری  میں ایک ارب ڈالر کا اضافہ ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسٹیٹ بینک آف پاکستان تقریباً 280 ارب روپے کے مساوی پاکستانی روپے تخلیق کرے گا اور اسے فوجی فاؤنڈیشن کو منتقل کرے گا، جہاں فوجی فاؤنڈیشن کے ساتھ برابر کی شراکت داری پر مبنی ایک نیا فنڈ (یا ٹرسٹ) قائم کیا جائے گا۔ متحدہ عرب امارات کے فنڈ کا حصہ نقدی (ایک ارب ڈالر) کی صورت میں ہوگا جبکہ فوجی فاؤنڈیشن اپنی کمپنیوں کے ایک ارب ڈالر کے برابر مالیت کے حصص (طے شدہ قیمت پر) اس میں شامل کرے گی۔ بازگشت یہ ہے کہ ان حصص میں ایف ایف سی ، عسکری بینک، فوجی سیمنٹ اور دیگر شامل ہو سکتے ہیں (لیکن ماری انرجیز اس میں شامل نہیں ہے)۔ بظاہر منصوبہ یہ ہے کہ یہ نیا فنڈ زیادہ تر نئے منصوبوں (ممکنہ طور پر زراعت، توانائی اور کان کنی) میں سرمایہ کاری کرے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ ایک بلین ڈالر شاید برسوں کی سب سے بڑی غیر ملکی سرمایہ کاری ہو سکتی ہے اور اسے خوش آئند اقدام قرار دیا جائے گا۔ جغرافیائی و سیاسی نقطہ نظر سے پاکستان کا یو اے ای  کے ساتھ تعلق مضبوط ہورہا ہے جبکہ سعودی عرب کی جانب سے اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری میں دلچسپی اب کم ہوتی نظر آ رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم حکومت کی کوئی مربوط حکمتِ عملی نظر نہیں آتی۔ پہلے متحدہ عرب امارات  نے معمولی سرمایہ کاری کے ساتھ ایک چھوٹا بینک خریدا۔ پھر اس نے کنٹینر ٹرمینل خرید کر سمندری بندرگاہ کا کنٹرول حاصل کر لیا لیکن اس کے باوجود کوئی غیر ملکی سرمایہ کاری نہیں آ رہی، کیونکہ وہ ٹرمینل اب مقامی بینکوں سے مالی امداد  کا طلب گار ہے۔ اس طرح، صرف کنٹرول حاصل کیا گیا، غیر ملکی سرمایہ کاری نہیں۔ پھر اسلام آباد ایئرپورٹ کی ڈیل بھی دم توڑ رہی ہے۔ اور اب فوجی فاؤنڈیشن ٹرسٹ میں سرمایہ کاری کی بات ہو رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کوئی واضح ڈھانچہ موجود نہیں ہے۔ ہم ہر حال میں پیسہ لانے کے لیے بے تاب ہیں، چاہے وہ کسی بھی طریقے سے آئے۔ بہرحال، جو بھی راستہ ہو، ملک میں 1 بلین امریکی ڈالر کی سرمایہ کاری خوشی کا باعث ہوگی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2025&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>ہفتے کے آخر میں نائب وزیرِاعظم  نے کہا کہ متحدہ عرب امارات (یو اے ای) فوجی فاؤنڈیشن کے کچھ حصص حاصل کررہا ہے، اس کے بدلے میں اسٹیٹ بینک کے ساتھ ایک ارب ڈالر کے ڈپازٹس کو ایکویٹی میں تبدیل کیا جارہا ہے۔ مارکیٹ میں عام تاثر یہ پایا جارہا ہے کہ فوجی فاؤنڈیشن اپنی اہم لسٹڈ کمپنیوں بنیادی طور پر فوجی فرٹیلائزر کمپنی (ایف ایف سی) اور ماری انرجیز میں اپنے حصص کا ایک بڑا حصہ متحدہ عرب امارات کے حوالے کر رہی ہے۔ یہ تاثر غلط اور بے بنیاد ہے۔</strong></p>
<p>فوجی فاؤنڈیشن ماری کے 40 فیصد اور ایف ایف سی کے 45 فیصد حصص کی مالک ہے، اور اپنی ملکیت کا قریباً نصف حصہ فروخت کرنے سے اس کے حصص کی قدر میں نمایاں کمی آئے گی اور وہ اپنا کنٹرول کھو سکتی ہے۔ ان کمپنیوں کے قریبی ذرائع انکشاف کرتے ہیں کہ یہ ڈیل ویسی نہیں ہے جیسا کہ (اسحاق) ڈار کے بیان سے عام تاثر مل رہا ہے۔ اور کوئی یہ سوچنے پر مجبور ہو سکتا ہے کہ ایک سرکاری عہدیدار کس حیثیت میں ایک غیر سرکاری گروپ (فوجی فاؤنڈیشن) کی طرف سے بات کررہا ہے۔</p>
<p>بہر حال یہ معاہدہ زیرِ تکمیل ہے جس کے تحت متحدہ عرب امارات، فوجی فاؤنڈیشن میں ایک ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کرنے کا عزم ظاہر کررہا ہے۔ اس سے ملک میں کوئی نیا پیسہ نہیں آئے گا۔ اس کے بجائے اسٹیٹ بینک کے پاس موجود ایک ارب ڈالر کے موجودہ ذخائر کو فوجی فاؤنڈیشن میں سرمایہ کاری میں تبدیل کردیا جائے گا۔اس سے اسٹیٹ بینک کے مجموعی ذخائر میں کوئی تبدیلی نہیں آئے گی۔ قرضے اور واجبات میں ایک ارب ڈالر کی کمی آئے گی اور براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری  میں ایک ارب ڈالر کا اضافہ ہوگا۔</p>
<p>اسٹیٹ بینک آف پاکستان تقریباً 280 ارب روپے کے مساوی پاکستانی روپے تخلیق کرے گا اور اسے فوجی فاؤنڈیشن کو منتقل کرے گا، جہاں فوجی فاؤنڈیشن کے ساتھ برابر کی شراکت داری پر مبنی ایک نیا فنڈ (یا ٹرسٹ) قائم کیا جائے گا۔ متحدہ عرب امارات کے فنڈ کا حصہ نقدی (ایک ارب ڈالر) کی صورت میں ہوگا جبکہ فوجی فاؤنڈیشن اپنی کمپنیوں کے ایک ارب ڈالر کے برابر مالیت کے حصص (طے شدہ قیمت پر) اس میں شامل کرے گی۔ بازگشت یہ ہے کہ ان حصص میں ایف ایف سی ، عسکری بینک، فوجی سیمنٹ اور دیگر شامل ہو سکتے ہیں (لیکن ماری انرجیز اس میں شامل نہیں ہے)۔ بظاہر منصوبہ یہ ہے کہ یہ نیا فنڈ زیادہ تر نئے منصوبوں (ممکنہ طور پر زراعت، توانائی اور کان کنی) میں سرمایہ کاری کرے گا۔</p>
<p>یہ ایک بلین ڈالر شاید برسوں کی سب سے بڑی غیر ملکی سرمایہ کاری ہو سکتی ہے اور اسے خوش آئند اقدام قرار دیا جائے گا۔ جغرافیائی و سیاسی نقطہ نظر سے پاکستان کا یو اے ای  کے ساتھ تعلق مضبوط ہورہا ہے جبکہ سعودی عرب کی جانب سے اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری میں دلچسپی اب کم ہوتی نظر آ رہی ہے۔</p>
<p>تاہم حکومت کی کوئی مربوط حکمتِ عملی نظر نہیں آتی۔ پہلے متحدہ عرب امارات  نے معمولی سرمایہ کاری کے ساتھ ایک چھوٹا بینک خریدا۔ پھر اس نے کنٹینر ٹرمینل خرید کر سمندری بندرگاہ کا کنٹرول حاصل کر لیا لیکن اس کے باوجود کوئی غیر ملکی سرمایہ کاری نہیں آ رہی، کیونکہ وہ ٹرمینل اب مقامی بینکوں سے مالی امداد  کا طلب گار ہے۔ اس طرح، صرف کنٹرول حاصل کیا گیا، غیر ملکی سرمایہ کاری نہیں۔ پھر اسلام آباد ایئرپورٹ کی ڈیل بھی دم توڑ رہی ہے۔ اور اب فوجی فاؤنڈیشن ٹرسٹ میں سرمایہ کاری کی بات ہو رہی ہے۔</p>
<p>کوئی واضح ڈھانچہ موجود نہیں ہے۔ ہم ہر حال میں پیسہ لانے کے لیے بے تاب ہیں، چاہے وہ کسی بھی طریقے سے آئے۔ بہرحال، جو بھی راستہ ہو، ملک میں 1 بلین امریکی ڈالر کی سرمایہ کاری خوشی کا باعث ہوگی۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2025</p>
]]></content:encoded>
      <category>BR Research</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40281067</guid>
      <pubDate>Tue, 30 Dec 2025 16:24:04 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ریسرچ)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/12/301557456e2244d.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/12/301557456e2244d.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
