<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Markets</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 22:10:32 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 22:10:32 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پاکستان کی نئے چینی سال سے قبل پانڈا بانڈ لانچ کرنے کی تیاری ، وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب کا اعلان</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40281063/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;وفاقی وزیر خزانہ و محصولات سینیٹر محمد اورنگزیب نے اعلان کیا ہے کہ پاکستان چینی نئے سال سے قبل اپنا پہلا  پانڈا بانڈ لانچ کرنے کے لیے پرامید ہے اور انہوں نے اسے پاکستان کی بیرونی مالیاتی حکمتِ عملی میں ایک سنگ میل قرار دیا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چائنا گلوبل ٹیلی ویژن نیٹ ورک (سی جی ٹی این) کو انٹرویو دیتے ہوئے وزیر خزانہ نے کہا کہ اس بانڈ کے اجرا سے پاکستان کو دنیا کی دوسری سب سے بڑی  کیپٹل مارکیٹ تک رسائی ملے گی جس سے امریکی ڈالر پر حد سے زیادہ انحصار کم کرنے اور فنڈنگ کے ذرائع کو متنوع بنانے میں مدد ملے گی، جبکہ یہ یورو اور سکوک مارکیٹس تک موجودہ رسائی کی تکمیل ثابت ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے اعتراف کیا کہ پاکستان نے ماضی میں اس موقع سے بھرپور فائدہ نہیں اٹھایا لیکن اب وہ چینی مارکیٹ میں سرمایہ کاروں کی دلچسپی کے حوالے سے بہت پرامید ہیں۔ پانڈا بانڈ دراصل چینی کرنسی (رینمنبی) میں جاری کردہ وہ بانڈ ہے جو کوئی غیر چینی ادارہ یا حکومت چین کی مقامی مارکیٹ میں جاری کرتی ہے، تاکہ وہاں کے سرمایہ کاروں تک رسائی حاصل کی جا سکے۔ واضح رہے کہ چینی نیا سال جسے بہار کا تہوار بھی کہا جاتا ہے 17 فروری 2026 کو آ رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے چین کو پاکستان کا سب سے بڑا تجارتی شراکت دار قرار دیتے ہوئے کہا کہ چین کے ساتھ سال کے پہلے آٹھ مہینوں میں دو طرفہ تجارت 17 ارب ڈالر کے قریب رہی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;محمد اورنگزیب نے زور دیا کہ دونوں ممالک کے تعلقات دہائیوں سے مسلسل مضبوط ہو رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ چین بین الاقوامی محاذوں پر پاکستان کے ساتھ کھڑا رہا ہے اور سی پیک  کے ذریعے پاکستان کی معاشی ترقی میں کلیدی کردار ادا کیا ہے جو بیلٹ اینڈ روڈ انیشیٹو کا اہم ترین منصوبہ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیر خزانہ نے وضاحت کی کہ جہاں سی پیک کے پہلے مرحلے کی توجہ سڑکوں، بندرگاہوں اور توانائی جیسے بنیادی ڈھانچے پر تھی، وہیں اب دوسرا مرحلہ باضابطہ طور پر شروع ہو چکا ہے جس کا محور موجودہ انفرااسٹرکچر سے مالی فائدہ اٹھانا اور نجی شعبے کے درمیان (بی ٹوبی) تعاون کو فروغ دینا ہے ،تاکہ پائیدار ترقی کو یقینی بنایا جا سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے زراعت، معدنیات، مصنوعی ذہانت اور ڈیجیٹل اکانومی کو چینی سرمایہ کاری کے لیے اہم شعبے قرار دیا اور کہا کہ اس مرحلے میں سرمائے کے ساتھ ساتھ تکنیکی مہارت اور علم کی منتقلی پر بھی توجہ دی جا رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عالمی غیر یقینی صورتحال اور جیو پولیٹیکل تناؤ کے حوالے سے بات کرتے ہوئے وزیر خزانہ نے کہا کہ پاکستان کی ترجیح چین کے ساتھ اپنی دیرینہ شراکت داری کو مزید مستحکم کرنا ہے۔ انہوں نے نوٹ کیا کہ چین نے نہ صرف تجارت بلکہ مشکل معاشی حالات اور آئی ایم ایف پروگرام کے دوران بھی پاکستان کی بھرپور مدد کی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آخر میں انہوں نے کہا کہ حالیہ اعلیٰ سطح کی ملاقاتوں کے بعد اب دونوں ممالک کے پاس ایک واضح معاشی روڈ میپ موجود ہے اور دونوں ممالک طویل مدتی معاشی ایجنڈے پر مکمل طور پر ہم آہنگ ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>وفاقی وزیر خزانہ و محصولات سینیٹر محمد اورنگزیب نے اعلان کیا ہے کہ پاکستان چینی نئے سال سے قبل اپنا پہلا  پانڈا بانڈ لانچ کرنے کے لیے پرامید ہے اور انہوں نے اسے پاکستان کی بیرونی مالیاتی حکمتِ عملی میں ایک سنگ میل قرار دیا ہے۔</strong></p>
<p>چائنا گلوبل ٹیلی ویژن نیٹ ورک (سی جی ٹی این) کو انٹرویو دیتے ہوئے وزیر خزانہ نے کہا کہ اس بانڈ کے اجرا سے پاکستان کو دنیا کی دوسری سب سے بڑی  کیپٹل مارکیٹ تک رسائی ملے گی جس سے امریکی ڈالر پر حد سے زیادہ انحصار کم کرنے اور فنڈنگ کے ذرائع کو متنوع بنانے میں مدد ملے گی، جبکہ یہ یورو اور سکوک مارکیٹس تک موجودہ رسائی کی تکمیل ثابت ہوگا۔</p>
<p>انہوں نے اعتراف کیا کہ پاکستان نے ماضی میں اس موقع سے بھرپور فائدہ نہیں اٹھایا لیکن اب وہ چینی مارکیٹ میں سرمایہ کاروں کی دلچسپی کے حوالے سے بہت پرامید ہیں۔ پانڈا بانڈ دراصل چینی کرنسی (رینمنبی) میں جاری کردہ وہ بانڈ ہے جو کوئی غیر چینی ادارہ یا حکومت چین کی مقامی مارکیٹ میں جاری کرتی ہے، تاکہ وہاں کے سرمایہ کاروں تک رسائی حاصل کی جا سکے۔ واضح رہے کہ چینی نیا سال جسے بہار کا تہوار بھی کہا جاتا ہے 17 فروری 2026 کو آ رہا ہے۔</p>
<p>انہوں نے چین کو پاکستان کا سب سے بڑا تجارتی شراکت دار قرار دیتے ہوئے کہا کہ چین کے ساتھ سال کے پہلے آٹھ مہینوں میں دو طرفہ تجارت 17 ارب ڈالر کے قریب رہی۔</p>
<p>محمد اورنگزیب نے زور دیا کہ دونوں ممالک کے تعلقات دہائیوں سے مسلسل مضبوط ہو رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ چین بین الاقوامی محاذوں پر پاکستان کے ساتھ کھڑا رہا ہے اور سی پیک  کے ذریعے پاکستان کی معاشی ترقی میں کلیدی کردار ادا کیا ہے جو بیلٹ اینڈ روڈ انیشیٹو کا اہم ترین منصوبہ ہے۔</p>
<p>وزیر خزانہ نے وضاحت کی کہ جہاں سی پیک کے پہلے مرحلے کی توجہ سڑکوں، بندرگاہوں اور توانائی جیسے بنیادی ڈھانچے پر تھی، وہیں اب دوسرا مرحلہ باضابطہ طور پر شروع ہو چکا ہے جس کا محور موجودہ انفرااسٹرکچر سے مالی فائدہ اٹھانا اور نجی شعبے کے درمیان (بی ٹوبی) تعاون کو فروغ دینا ہے ،تاکہ پائیدار ترقی کو یقینی بنایا جا سکے۔</p>
<p>انہوں نے زراعت، معدنیات، مصنوعی ذہانت اور ڈیجیٹل اکانومی کو چینی سرمایہ کاری کے لیے اہم شعبے قرار دیا اور کہا کہ اس مرحلے میں سرمائے کے ساتھ ساتھ تکنیکی مہارت اور علم کی منتقلی پر بھی توجہ دی جا رہی ہے۔</p>
<p>عالمی غیر یقینی صورتحال اور جیو پولیٹیکل تناؤ کے حوالے سے بات کرتے ہوئے وزیر خزانہ نے کہا کہ پاکستان کی ترجیح چین کے ساتھ اپنی دیرینہ شراکت داری کو مزید مستحکم کرنا ہے۔ انہوں نے نوٹ کیا کہ چین نے نہ صرف تجارت بلکہ مشکل معاشی حالات اور آئی ایم ایف پروگرام کے دوران بھی پاکستان کی بھرپور مدد کی ہے۔</p>
<p>آخر میں انہوں نے کہا کہ حالیہ اعلیٰ سطح کی ملاقاتوں کے بعد اب دونوں ممالک کے پاس ایک واضح معاشی روڈ میپ موجود ہے اور دونوں ممالک طویل مدتی معاشی ایجنڈے پر مکمل طور پر ہم آہنگ ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Markets</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40281063</guid>
      <pubDate>Tue, 30 Dec 2025 15:44:43 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/12/301532219699ad4.webp" type="image/webp" medium="image" height="768" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/12/301532219699ad4.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
