<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Business &amp; Finance</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 23:36:48 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 23:36:48 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>موبائل ایپ پر مبنی لین دین میں اضافہ، خردہ ادائیگیوں کا حجم بڑھ کر 2.8 ارب ٹرانزیکشنز تک پہنچ گیا</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40281058/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پاکستان کا ڈیجیٹل ادائیگیوں کا نظام تیزی سے ترقی کررہا ہے، مالی سال 2026 کی پہلی سہ ماہی میں موبائل ایپ کے ذریعے ہونے والی ٹرانزیکشنز 2 ارب تک پہنچ گئی ہیں، جو تمام ڈیجیٹل ادائیگیوں کا 80 فیصد سے زائد بنتی ہیں۔ یہ انکشاف اسٹیٹ بینک کی جانب سے منگل کو جاری کردہ مالی سال 2026 کی پہلی سہ ماہی کی پیمنٹ سسٹمز ریویو رپورٹ میں کیا گیا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ کے مطابق خردہ ادائیگیوں کا حجم بڑھ کر 2.8 ارب ٹرانزیکشنوں تک پہنچ گیا جو گزشتہ سہ ماہی کے مقابلے میں 10فیصد زیادہ ہے ، خردہ ادائیگیوں کی مالیت بڑھ کر 166 ٹریلین روپے تک پہنچ گئی جو گزشتہ سہ ماہی کی نسبت 6 فیصد زائد ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسٹیٹ بینک نے کہا کہ اس توسیع کا بنیادی محرک موبائل ایپ کے ذریعے بینکاری میں مسلسل اضافہ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ کے مطابق ڈیجیٹل ادائیگی کے ذرائع سے 2.5 ارب ٹرانزیکشن انجام پائیں جو مجموعی خردہ ادائیگیوں کا 90 فیصد بنتا ہےجبکہ پچھلی سہ ماہی میں یہ تناسب 87 فیصد تھا۔ ڈیجیٹل ذرائع سے ٹرانزیکشن کی مجموعی مالیت بڑھ کر 55 ٹریلین روپے تک پہنچ گئی جو ملکی معیشت میں ان ذرائع کے بڑھتے ہوئے استعمال کی عکاسی کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسٹیٹ بینک کی رپورٹ میں ظاہر ہوا کہ ڈیجیٹل منظرنامے میں موبائل ایپ سے ادائیگیوں کا حصہ سب سے زیادہ رہا جن میں بینکوں، برانچ لیس بینکاری فراہم کرنے والے اور الیکٹرانک منی اداروں (ای ایم آئی) کی ایپس کے ذریعے 2.0 ارب ٹرانزیکشن کی گئیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ ٹرانزیکشن مجموعی ڈیجیٹل ادائیگیوں کا 81 فیصد تھیں اور ان کی مالیت 33.7 ٹریلین روپے رہی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسٹیٹ بینک کے مطابق یہ چینل مختلف اقسام کی ڈیجیٹل ادائیگیوں کے لیے استعمال ہوتا ہےجن میں فرد سے فرد ادائیگی، بلوں کی ادائیگی اور اکاؤنٹ والٹ پر مبنی مرچنٹ ادائیگیاں شامل ہیں جو آن لائن پلیٹ فارم اور فزیکل ریٹیل آؤٹ لیٹ دونوں پر کی جاتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انٹرنیٹ بینکاری میں بھی مسلسل اضافہ دیکھنے میں آیا جہاں ڈیجیٹل چینلز کے ذریعے ٹرانزیکشن کرنے والے صارفین کی تعداد بڑھتی جا رہی ہے۔ کارڈز کے صارفین کی تعداد میں بھی اضافہ ہوا، چنانچہ زیرِ گردش پیمنٹ کارڈ کی تعداد 61.3 ملین تک پہنچ گئی جن میں سے 90 فیصد ڈیبٹ کارڈ جبکہ 4 فیصد کریڈٹ کارڈ ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;راست فوری ادائیگی کے نظام نے اپنی نمو کی مستحکم رفتار برقرار رکھی۔ دورانِ سہ ماہی فرد سے فرد (پی 2 پی) ٹرانزیکشن کی تعداد بڑھ کر 535 ملین ہو گئی (31 فیصد اضافہ) جن کی مالیت 11.3 ٹریلین روپے رہی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب راست کی فرد سے مرچنٹ (پی 2 ایم) ٹرانزیکشن دگنی ہو کر 4.3 ملین تک پہنچ گئیں جن کی مجموعی مالیت 17.0 ارب روپے رہی۔’’راست‘‘ کے ذریعے مجموعی طور پر 544 ملین ٹرانزیکشن انجام پائیں جن کی مالیت 12.8 ٹریلین روپے تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پی او ایس ٹرمینلز اور ای کامرس کی سرگرمیوں میں مسلسل اضافہ ہوا، کارڈز کے ذریعے یومیہ 1.5 ملین ٹرانزیکشن درج کی گئیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ملک بھر میں 20,527 اے ٹی ایم کے نیٹ ورک سے 267 ملین ٹرانزیکشن انجام پائیں ، جن کی مالیت 4.5 ٹریلین روپے رہی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بینک برانچوں نے 137 ملین ٹرانزیکشن پراسس کیں، جن کی مجموعی مالیت 110 ٹریلین روپے تھی، جبکہ برانچ لیس بینکاری ایجنٹوں نے 129 ملین ٹرانزیکشن میں سہولت فراہم کی، جن کی مجموعی مالیت 0.9 ٹریلین روپے رہی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ترجمان اسٹیٹ بنک کے مطابق بحیثیتِ مجموعی یہ امر پاکستان میں زیادہ موثر، شمولیتی، اور ڈیجیٹل ادائیگیوں کے ایکو سسٹم کی جانب مسلسل پیش رفت کا عکاس ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پاکستان کا ڈیجیٹل ادائیگیوں کا نظام تیزی سے ترقی کررہا ہے، مالی سال 2026 کی پہلی سہ ماہی میں موبائل ایپ کے ذریعے ہونے والی ٹرانزیکشنز 2 ارب تک پہنچ گئی ہیں، جو تمام ڈیجیٹل ادائیگیوں کا 80 فیصد سے زائد بنتی ہیں۔ یہ انکشاف اسٹیٹ بینک کی جانب سے منگل کو جاری کردہ مالی سال 2026 کی پہلی سہ ماہی کی پیمنٹ سسٹمز ریویو رپورٹ میں کیا گیا ہے۔</strong></p>
<p>رپورٹ کے مطابق خردہ ادائیگیوں کا حجم بڑھ کر 2.8 ارب ٹرانزیکشنوں تک پہنچ گیا جو گزشتہ سہ ماہی کے مقابلے میں 10فیصد زیادہ ہے ، خردہ ادائیگیوں کی مالیت بڑھ کر 166 ٹریلین روپے تک پہنچ گئی جو گزشتہ سہ ماہی کی نسبت 6 فیصد زائد ہے۔</p>
<p>اسٹیٹ بینک نے کہا کہ اس توسیع کا بنیادی محرک موبائل ایپ کے ذریعے بینکاری میں مسلسل اضافہ ہے۔</p>
<p>رپورٹ کے مطابق ڈیجیٹل ادائیگی کے ذرائع سے 2.5 ارب ٹرانزیکشن انجام پائیں جو مجموعی خردہ ادائیگیوں کا 90 فیصد بنتا ہےجبکہ پچھلی سہ ماہی میں یہ تناسب 87 فیصد تھا۔ ڈیجیٹل ذرائع سے ٹرانزیکشن کی مجموعی مالیت بڑھ کر 55 ٹریلین روپے تک پہنچ گئی جو ملکی معیشت میں ان ذرائع کے بڑھتے ہوئے استعمال کی عکاسی کرتا ہے۔</p>
<p>اسٹیٹ بینک کی رپورٹ میں ظاہر ہوا کہ ڈیجیٹل منظرنامے میں موبائل ایپ سے ادائیگیوں کا حصہ سب سے زیادہ رہا جن میں بینکوں، برانچ لیس بینکاری فراہم کرنے والے اور الیکٹرانک منی اداروں (ای ایم آئی) کی ایپس کے ذریعے 2.0 ارب ٹرانزیکشن کی گئیں۔</p>
<p>یہ ٹرانزیکشن مجموعی ڈیجیٹل ادائیگیوں کا 81 فیصد تھیں اور ان کی مالیت 33.7 ٹریلین روپے رہی۔</p>
<p>اسٹیٹ بینک کے مطابق یہ چینل مختلف اقسام کی ڈیجیٹل ادائیگیوں کے لیے استعمال ہوتا ہےجن میں فرد سے فرد ادائیگی، بلوں کی ادائیگی اور اکاؤنٹ والٹ پر مبنی مرچنٹ ادائیگیاں شامل ہیں جو آن لائن پلیٹ فارم اور فزیکل ریٹیل آؤٹ لیٹ دونوں پر کی جاتی ہیں۔</p>
<p>انٹرنیٹ بینکاری میں بھی مسلسل اضافہ دیکھنے میں آیا جہاں ڈیجیٹل چینلز کے ذریعے ٹرانزیکشن کرنے والے صارفین کی تعداد بڑھتی جا رہی ہے۔ کارڈز کے صارفین کی تعداد میں بھی اضافہ ہوا، چنانچہ زیرِ گردش پیمنٹ کارڈ کی تعداد 61.3 ملین تک پہنچ گئی جن میں سے 90 فیصد ڈیبٹ کارڈ جبکہ 4 فیصد کریڈٹ کارڈ ہیں۔</p>
<p>راست فوری ادائیگی کے نظام نے اپنی نمو کی مستحکم رفتار برقرار رکھی۔ دورانِ سہ ماہی فرد سے فرد (پی 2 پی) ٹرانزیکشن کی تعداد بڑھ کر 535 ملین ہو گئی (31 فیصد اضافہ) جن کی مالیت 11.3 ٹریلین روپے رہی۔</p>
<p>دوسری جانب راست کی فرد سے مرچنٹ (پی 2 ایم) ٹرانزیکشن دگنی ہو کر 4.3 ملین تک پہنچ گئیں جن کی مجموعی مالیت 17.0 ارب روپے رہی۔’’راست‘‘ کے ذریعے مجموعی طور پر 544 ملین ٹرانزیکشن انجام پائیں جن کی مالیت 12.8 ٹریلین روپے تھی۔</p>
<p>پی او ایس ٹرمینلز اور ای کامرس کی سرگرمیوں میں مسلسل اضافہ ہوا، کارڈز کے ذریعے یومیہ 1.5 ملین ٹرانزیکشن درج کی گئیں۔</p>
<p>ملک بھر میں 20,527 اے ٹی ایم کے نیٹ ورک سے 267 ملین ٹرانزیکشن انجام پائیں ، جن کی مالیت 4.5 ٹریلین روپے رہی۔</p>
<p>بینک برانچوں نے 137 ملین ٹرانزیکشن پراسس کیں، جن کی مجموعی مالیت 110 ٹریلین روپے تھی، جبکہ برانچ لیس بینکاری ایجنٹوں نے 129 ملین ٹرانزیکشن میں سہولت فراہم کی، جن کی مجموعی مالیت 0.9 ٹریلین روپے رہی۔</p>
<p>ترجمان اسٹیٹ بنک کے مطابق بحیثیتِ مجموعی یہ امر پاکستان میں زیادہ موثر، شمولیتی، اور ڈیجیٹل ادائیگیوں کے ایکو سسٹم کی جانب مسلسل پیش رفت کا عکاس ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40281058</guid>
      <pubDate>Tue, 30 Dec 2025 14:53:30 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/12/301436086333b19.webp" type="image/webp" medium="image" height="395" width="670">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/12/301436086333b19.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
