<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Pakistan</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 21:59:45 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 21:59:45 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پاکستان نے فلسطینیوں کو صومالی لینڈ منتقل کرنے کے اسرائیلی منصوبے کو مسترد کردیا</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40281055/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پاکستان نے اسرائیل کی جانب سے صومالی لینڈ کو ایک آزاد اور خود مختار ریاست تسلیم کرنے کی مذمت کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ یہ قرن افریقہ میں استحکام کے لیے خطرہ اور موغادیشو کی خودمختاری و سیاسی اتحاد کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔ اسلام آباد نے اسرائیل کے فلسطینیوں کو زبردستی صومالیہ کے شمال مغربی علاقے میں منتقل کرنے کے منصوبے یا تجویز کو بھی مسترد کردیا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اقوام متحدہ میں پاکستان کے نائب مستقل مندوب عثمان جدون نے کہاکہ صومالی لینڈ علاقہ صومالیہ کا لازمی، اٹوٹ اور ناقابلِ تقسیم حصہ ہے اور کوئی بیرونی طاقت اس حقیقت کو بدلنے کا قانونی یا اخلاقی حق نہیں رکھتی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مزید کہا کہ کوئی بھی ایسا اقدام جو توجہ کو بھٹکائے، اتحاد کو کمزور کرے یا تقسیم کو ہوا دے، وہ انتہائی غیر ذمہ دارانہ ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--left  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/PakistanPR_UN/status/2005857749897245143?'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/PakistanPR_UN/status/2005857749897245143?"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مزید کہا کہ اسرائیل کا فلسطینی زمین پر قبضہ دہائیوں سے مشرق وسطیٰ میں عدم استحکام اور تنازعات کا بنیادی سبب رہا ہے اور اب یہ قرن افریقہ میں بھی غیر مستحکم رویہ منتقل کررہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بحث میں زیادہ تر مقررین نے اسرائیلی اقدام کی واضح الفاظ میں مذمت کی، جبکہ صرف امریکہ اور اسرائیل نے اس کا دفاع کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکہ کی نائب مستقل مندوب، ٹیمی بروس نے 15 رکنی کونسل کو بتایا کہ اسرائیل کو وہی حق حاصل ہے کہ وہ سفارتی تعلقات استوار کرے جو کسی بھی دوسری خود مختار ریاست کو حاصل ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مزید کہا کہ ہم صومالی لینڈ کی امریکی شناخت کے حوالے سے کوئی اعلان نہیں کررہے اور امریکی پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسرائیل کے اعلان نے علاقائی اور بین الاقوامی سطح پر بڑے پیمانے پر مخالفت کو جنم دیا، جس میں مشرقِ وسطیٰ، ایشیا اور افریقہ کے 20 ممالک کا وہ مشترکہ بیان بھی شامل ہے جس میں اس اقدام کو مسترد اور اس کی مذمت کی گئی ہے۔ پاکستان اس بیان پر دستخط کرنے والے ممالک میں شامل ہے۔ علاقائی تنظیموں اور شراکت داروں، بشمول عرب لیگ، ایسٹرن افریقن کمیونٹی، او آئی سی (او آئی سی) اور یورپی یونین نے صومالیہ کی وحدت، خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے احترام کی ضرورت پر زور دیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اپنے ریمارکس میں، پاکستانی مندوب سفیر عثمان جدون نے صومالیہ کی خود مختاری، اتحاد اور علاقائی سالمیت کے لیے پاکستان کی ’غیر متزلزل اور مستقل‘ حمایت کا اعادہ کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ صدر حسن شیخ محمود کی قیادت میں صومالیہ نے قومی مفاہمت، آئینی اصلاحات اور ریاستی اداروں کی بحالی میں نمایاں پیش رفت کی ہے۔ اس بات کی بھی نشاندہی کی گئی کہ مالیاتی شعبے میں مثبت رجحانات، خاص طور پر اقتصادی قانون سازی اور ’ایک شخص ایک ووٹ‘ کی بنیاد پر ہمہ گیر انتخابات کی تیاریاں، صومالی جمہوریت اور استحکام کو مستحکم کرنے کی جانب اہم اقدامات ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسی طرح انہوں نے مزید کہا کہ صومالیہ میں اقوام متحدہ کی موجودگی کی دو سالہ مرحلہ وار منتقلی کا عمل خوش اسلوبی سے جاری ہے؛ ’یونائیٹڈ نیشنز ٹرانزیشنل اسسٹنس مشن ان صومالیہ‘  کے پہلے مرحلے کے تحت ذمہ داریوں کی منتقلی مکمل ہو چکی ہے، جبکہ دوسرے اور آخری مرحلے کے لیے روڈ میپ کو حتمی شکل دے دی گئی ہے۔ یہ مشن 31 اکتوبر کو اپنی کارروائیاں بند کرنے کے لیے تیار ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستانی سفیر نے کہا کہ یہ مثبت پیش رفت محفوظ اور مضبوط ہونی چاہیے، نہ کہ ایسے اقدامات سے متاثر ہو جو ملک کو تقسیم کریں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس اہم موقع پر جب صومالیہ انتہا پسندی کو شکست دینے پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہے، کوئی بھی اقدام جو توجہ ہٹائے، یکجہتی کو کمزور کرے یا تقسیم کو ہوا دے، نہایت غیر ذمہ دارانہ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستانی مندوب نے کہا کہ اسرائیل کی جانب سے پہلے صومالی لینڈ کو فلسطینی عوام، خاص طور پر غزہ سے، منتقل کرنے کی منزل کے طور پر ظاہر کرنا اور پھر اس علاقے کو غیر قانونی طور پر تسلیم کرنا انتہائی تشویشناک ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ پاکستان فلسطینیوں کی جبری بے دخلی کے کسی بھی منصوبے یا تجویز کو دو ٹوک انداز میں مسترد کرتا ہے۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ سلامتی کونسل کی قرارداد نمبر 2803 میں غزہ تنازع کے خاتمے کے لیے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ’جامع منصوبے کی توثیق کی گئی ہے جس میں واضح طور پر درج ہے کہ: ’کسی کو بھی غزہ چھوڑنے پر مجبور نہیں کیا جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سفیر عثمان جدون نے کہا کہ کوئی بھی ایسا اقدام جو جبری نقل مکانی یا دوبارہ آبادکاری کی حمایت کرے یا اس کی طرف اشارہ کرے، وہ نہ صرف بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہے بلکہ ایک منصفانہ اور پائیدار امن کی راہ میں بھی رکاوٹ ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پاکستان نے اسرائیل کی جانب سے صومالی لینڈ کو ایک آزاد اور خود مختار ریاست تسلیم کرنے کی مذمت کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ یہ قرن افریقہ میں استحکام کے لیے خطرہ اور موغادیشو کی خودمختاری و سیاسی اتحاد کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔ اسلام آباد نے اسرائیل کے فلسطینیوں کو زبردستی صومالیہ کے شمال مغربی علاقے میں منتقل کرنے کے منصوبے یا تجویز کو بھی مسترد کردیا۔</strong></p>
<p>اقوام متحدہ میں پاکستان کے نائب مستقل مندوب عثمان جدون نے کہاکہ صومالی لینڈ علاقہ صومالیہ کا لازمی، اٹوٹ اور ناقابلِ تقسیم حصہ ہے اور کوئی بیرونی طاقت اس حقیقت کو بدلنے کا قانونی یا اخلاقی حق نہیں رکھتی۔</p>
<p>انہوں نے مزید کہا کہ کوئی بھی ایسا اقدام جو توجہ کو بھٹکائے، اتحاد کو کمزور کرے یا تقسیم کو ہوا دے، وہ انتہائی غیر ذمہ دارانہ ہے۔</p>
    <figure class='media  w-full  w-full  media--left  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/PakistanPR_UN/status/2005857749897245143?'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/PakistanPR_UN/status/2005857749897245143?"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure>
<p>انہوں نے مزید کہا کہ اسرائیل کا فلسطینی زمین پر قبضہ دہائیوں سے مشرق وسطیٰ میں عدم استحکام اور تنازعات کا بنیادی سبب رہا ہے اور اب یہ قرن افریقہ میں بھی غیر مستحکم رویہ منتقل کررہا ہے۔</p>
<p>بحث میں زیادہ تر مقررین نے اسرائیلی اقدام کی واضح الفاظ میں مذمت کی، جبکہ صرف امریکہ اور اسرائیل نے اس کا دفاع کیا۔</p>
<p>امریکہ کی نائب مستقل مندوب، ٹیمی بروس نے 15 رکنی کونسل کو بتایا کہ اسرائیل کو وہی حق حاصل ہے کہ وہ سفارتی تعلقات استوار کرے جو کسی بھی دوسری خود مختار ریاست کو حاصل ہے۔</p>
<p>انہوں نے مزید کہا کہ ہم صومالی لینڈ کی امریکی شناخت کے حوالے سے کوئی اعلان نہیں کررہے اور امریکی پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے۔</p>
<p>اسرائیل کے اعلان نے علاقائی اور بین الاقوامی سطح پر بڑے پیمانے پر مخالفت کو جنم دیا، جس میں مشرقِ وسطیٰ، ایشیا اور افریقہ کے 20 ممالک کا وہ مشترکہ بیان بھی شامل ہے جس میں اس اقدام کو مسترد اور اس کی مذمت کی گئی ہے۔ پاکستان اس بیان پر دستخط کرنے والے ممالک میں شامل ہے۔ علاقائی تنظیموں اور شراکت داروں، بشمول عرب لیگ، ایسٹرن افریقن کمیونٹی، او آئی سی (او آئی سی) اور یورپی یونین نے صومالیہ کی وحدت، خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے احترام کی ضرورت پر زور دیا ہے۔</p>
<p>اپنے ریمارکس میں، پاکستانی مندوب سفیر عثمان جدون نے صومالیہ کی خود مختاری، اتحاد اور علاقائی سالمیت کے لیے پاکستان کی ’غیر متزلزل اور مستقل‘ حمایت کا اعادہ کیا۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ صدر حسن شیخ محمود کی قیادت میں صومالیہ نے قومی مفاہمت، آئینی اصلاحات اور ریاستی اداروں کی بحالی میں نمایاں پیش رفت کی ہے۔ اس بات کی بھی نشاندہی کی گئی کہ مالیاتی شعبے میں مثبت رجحانات، خاص طور پر اقتصادی قانون سازی اور ’ایک شخص ایک ووٹ‘ کی بنیاد پر ہمہ گیر انتخابات کی تیاریاں، صومالی جمہوریت اور استحکام کو مستحکم کرنے کی جانب اہم اقدامات ہیں۔</p>
<p>اسی طرح انہوں نے مزید کہا کہ صومالیہ میں اقوام متحدہ کی موجودگی کی دو سالہ مرحلہ وار منتقلی کا عمل خوش اسلوبی سے جاری ہے؛ ’یونائیٹڈ نیشنز ٹرانزیشنل اسسٹنس مشن ان صومالیہ‘  کے پہلے مرحلے کے تحت ذمہ داریوں کی منتقلی مکمل ہو چکی ہے، جبکہ دوسرے اور آخری مرحلے کے لیے روڈ میپ کو حتمی شکل دے دی گئی ہے۔ یہ مشن 31 اکتوبر کو اپنی کارروائیاں بند کرنے کے لیے تیار ہے۔</p>
<p>پاکستانی سفیر نے کہا کہ یہ مثبت پیش رفت محفوظ اور مضبوط ہونی چاہیے، نہ کہ ایسے اقدامات سے متاثر ہو جو ملک کو تقسیم کریں۔</p>
<p>اس اہم موقع پر جب صومالیہ انتہا پسندی کو شکست دینے پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہے، کوئی بھی اقدام جو توجہ ہٹائے، یکجہتی کو کمزور کرے یا تقسیم کو ہوا دے، نہایت غیر ذمہ دارانہ ہے۔</p>
<p>پاکستانی مندوب نے کہا کہ اسرائیل کی جانب سے پہلے صومالی لینڈ کو فلسطینی عوام، خاص طور پر غزہ سے، منتقل کرنے کی منزل کے طور پر ظاہر کرنا اور پھر اس علاقے کو غیر قانونی طور پر تسلیم کرنا انتہائی تشویشناک ہے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ پاکستان فلسطینیوں کی جبری بے دخلی کے کسی بھی منصوبے یا تجویز کو دو ٹوک انداز میں مسترد کرتا ہے۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ سلامتی کونسل کی قرارداد نمبر 2803 میں غزہ تنازع کے خاتمے کے لیے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ’جامع منصوبے کی توثیق کی گئی ہے جس میں واضح طور پر درج ہے کہ: ’کسی کو بھی غزہ چھوڑنے پر مجبور نہیں کیا جائے گا۔</p>
<p>سفیر عثمان جدون نے کہا کہ کوئی بھی ایسا اقدام جو جبری نقل مکانی یا دوبارہ آبادکاری کی حمایت کرے یا اس کی طرف اشارہ کرے، وہ نہ صرف بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہے بلکہ ایک منصفانہ اور پائیدار امن کی راہ میں بھی رکاوٹ ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40281055</guid>
      <pubDate>Tue, 30 Dec 2025 13:58:09 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/12/3013220094bfcac.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/12/3013220094bfcac.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
