<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Pakistan</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sat, 18 Jul 2026 21:44:55 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sat, 18 Jul 2026 21:44:55 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>اسپیکٹرم نیلامی: پی آئی اے کی نجکاری کی طرز پر اصلاحاتی پالیسی اپنانے کا مطالبہ</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40281050/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;ٹیلی کام آپریٹرز نے حکومت پر زور دیا ہے کہ وہ اسپیکٹرم کی نیلامی میں بھی وہی اصلاحاتی طرزِ عمل اپنائے جو پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز (پی آئی اے) کی نجکاری کے دوران اختیار کیا گیا تھا، اس اقدام کو ڈیجیٹل رابطوں کی مضبوطی اور معاشی ترقی کے لیے انتہائی اہم قرار دیا جارہا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پی آئی اے کی کامیاب نجکاری نے یہ ثابت کردیا ہے کہ جب پالیسی کو مارکیٹ کی حقیقتوں اور طویل مدتی قومی ترجیحات کی بنیاد پر وضع کیا جائے، تو ترقی ممکن ہو جاتی ہے اور حکومت کی ساکھ میں بھی اضافہ ہوتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسپیکٹرم وہ غیر مرئی بنیادی ڈھانچہ ہے جو ڈیجیٹل کنیکٹیوٹی کو آگے بڑھاتا ہے اور جدید زندگی کی بنیاد فراہم کرتا ہے۔ فن ٹیک کو فروغ دینے والی ایپس، فری لانسرز کو بااختیار بنانے والے پلیٹ فارمز اور اسکولوں اور اسپتالوں کیلئے ڈیجیٹل آلات، ان سب کا انحصار موبائل براڈ بینڈ کی گنجائش پر ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مسئلہ بالکل واضح ہے: انٹرنیٹ کنیکٹیوٹی کی طلب میں بے پناہ اضافہ ہوا ہے، لیکن اسپیکٹرم کی دستیابی اب بھی بہت کم ہے۔ ملک بھر میں صرف 274 میگاہرٹز  مختص ہونے کے ساتھ، پاکستان ایک ایسی ڈیجیٹل معیشت کو دو لین والی سڑک پر چلانے کی کوشش کر رہا ہے جہاں آٹھ رویہ شاہراہ کی ضرورت ہے۔ اس کا نتیجہ انٹرنیٹ کی سست رفتار، سروس کے ناقص معیار اور محدود اختراع کی صورت میں نکل رہا ہے، جو گھرانوں، کاروبار اور حکومت سب کے لیے رکاوٹ کا باعث ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جاز کے سی ای او عامر ابراہیم نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان کی آئندہ اسپیکٹرم نیلامی میں ٹیلی کام سیکٹر کی معاشی حقیقتوں کی عکاسی ہونی چاہیے۔ چونکہ آپریٹرز کی آمدنی پاکستانی روپوں میں ہوتی ہے، اس لیے اسپیکٹرم کی قیمت اور ادائیگی کا ڈھانچہ بھی اسی کرنسی (روپے) میں ہونا چاہیے تاکہ مالی دباؤ کم ہو اور نیٹ ورک کی توسیع کے عمل کو تیز کیا جا سکے۔ پاکستان کے ڈیجیٹل مستقبل کی راہیں کھولنے اور بڑے پیمانے پر سستا انٹرنیٹ فراہم کرنے کے لیے ایک عملی اور طویل مدتی نقطہ نظر ضروری ہے جو پی آئی اے  کی نیلامی کی طرح قومی مقاصد کے عین مطابق ہو۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فری لانسرز نے جولائی 2024 تا مارچ 2025 کے دوران 400 ملین ڈالر کی ترسیلات بھیجی  لیکن وہ اب بھی غیر مستحکم انٹرنیٹ کی وجہ سے مشکلات کا شکار ہیں۔ ملک کی تقریباً دو تہائی بالغ آبادی مالیاتی نظام سے باہر ہے، کیونکہ ڈیجیٹل بینکنگ اور مائیکرو فنانس مستحکم کنیکٹیوٹی کے بغیر وسعت حاصل نہیں کر سکتے۔ دوسری جانب، ٹیلی کام آپریٹرز کو فی صارف اوسط آمدنی صرف 1 ڈالر مل رہی ہے جو عالمی سطح پر کم ترین شرح میں سے ایک ہے جس کی وجہ سے ان کے لیے انفرااسٹرکچر میں دوبارہ سرمایہ کاری کرنا مشکل ہو گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حکومت کی اس رکاوٹ کو تسلیم کرنا اور 600 میگا ہرٹز سے زائد نئے اسپیکٹرم جاری کرنے کا فیصلہ ایک بنیادی اصلاحاتی اقدام ہے۔ یہ قومی ڈیجیٹل اہداف کے ساتھ ہم آہنگ ہے اور اے آئی اور آئی او ٹی جیسی ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز کی حمایت کرتا ہے۔ مسئلہ اب یہ نہیں کہ آیا پاکستان کو مزید اسپیکٹرم کی ضرورت ہے بلکہ یہ ہے کہ نیلامی کو کس طرح ڈیزائن کیا جائے تاکہ ڈیجیٹل ترقی کو تیز کیا جاسکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹیلی کام ایک سرمایہ طلب شعبہ ہے۔ اسپیکٹرم حاصل کرنے پر خرچ ہونے والا ہر روپیہ، کوریج بڑھانے، نیٹ ورک کی کارکردگی بہتر کرنے یا دیہی علاقوں میں سروس پہنچانے کے لیے خرچ نہیں ہوتا۔ تاریخی طور پر، نیلامیوں میں زیادہ پیشگی ادائیگیاں اور امریکی ڈالر میں قیمتیں شامل رہی ہیں، جس کی وجہ سے آپریٹرز مالی طور پر دباؤ میں رہتے ہیں اور نیٹ ورک کی توسیع میں تاخیر ہوتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاخیر کی یہ قیمت محض فرضی نہیں ہے۔ جی ایس ایم اے  کے تجزیے سے پتہ چلتا ہے کہ نئے اسپیکٹرم میں دو سال کی تاخیر سے جی ڈی پی کو 1.8 بلین ڈالر کا نقصان پہنچ سکتا ہے جبکہ 5 سال کی تاخیر یہ نقصان 4.3 بلین ڈالر سے بھی تجاوز کراسکتی ہے، غیر ہم آہنگ پالیسی کے نتیجے میں آج ملازمتیں ضائع ہو رہی ہیں، برآمدات کمزور ہیں اور جدت کی رفتار سست ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2025&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>ٹیلی کام آپریٹرز نے حکومت پر زور دیا ہے کہ وہ اسپیکٹرم کی نیلامی میں بھی وہی اصلاحاتی طرزِ عمل اپنائے جو پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز (پی آئی اے) کی نجکاری کے دوران اختیار کیا گیا تھا، اس اقدام کو ڈیجیٹل رابطوں کی مضبوطی اور معاشی ترقی کے لیے انتہائی اہم قرار دیا جارہا ہے۔</strong></p>
<p>پی آئی اے کی کامیاب نجکاری نے یہ ثابت کردیا ہے کہ جب پالیسی کو مارکیٹ کی حقیقتوں اور طویل مدتی قومی ترجیحات کی بنیاد پر وضع کیا جائے، تو ترقی ممکن ہو جاتی ہے اور حکومت کی ساکھ میں بھی اضافہ ہوتا ہے۔</p>
<p>اسپیکٹرم وہ غیر مرئی بنیادی ڈھانچہ ہے جو ڈیجیٹل کنیکٹیوٹی کو آگے بڑھاتا ہے اور جدید زندگی کی بنیاد فراہم کرتا ہے۔ فن ٹیک کو فروغ دینے والی ایپس، فری لانسرز کو بااختیار بنانے والے پلیٹ فارمز اور اسکولوں اور اسپتالوں کیلئے ڈیجیٹل آلات، ان سب کا انحصار موبائل براڈ بینڈ کی گنجائش پر ہے۔</p>
<p>مسئلہ بالکل واضح ہے: انٹرنیٹ کنیکٹیوٹی کی طلب میں بے پناہ اضافہ ہوا ہے، لیکن اسپیکٹرم کی دستیابی اب بھی بہت کم ہے۔ ملک بھر میں صرف 274 میگاہرٹز  مختص ہونے کے ساتھ، پاکستان ایک ایسی ڈیجیٹل معیشت کو دو لین والی سڑک پر چلانے کی کوشش کر رہا ہے جہاں آٹھ رویہ شاہراہ کی ضرورت ہے۔ اس کا نتیجہ انٹرنیٹ کی سست رفتار، سروس کے ناقص معیار اور محدود اختراع کی صورت میں نکل رہا ہے، جو گھرانوں، کاروبار اور حکومت سب کے لیے رکاوٹ کا باعث ہے۔</p>
<p>جاز کے سی ای او عامر ابراہیم نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان کی آئندہ اسپیکٹرم نیلامی میں ٹیلی کام سیکٹر کی معاشی حقیقتوں کی عکاسی ہونی چاہیے۔ چونکہ آپریٹرز کی آمدنی پاکستانی روپوں میں ہوتی ہے، اس لیے اسپیکٹرم کی قیمت اور ادائیگی کا ڈھانچہ بھی اسی کرنسی (روپے) میں ہونا چاہیے تاکہ مالی دباؤ کم ہو اور نیٹ ورک کی توسیع کے عمل کو تیز کیا جا سکے۔ پاکستان کے ڈیجیٹل مستقبل کی راہیں کھولنے اور بڑے پیمانے پر سستا انٹرنیٹ فراہم کرنے کے لیے ایک عملی اور طویل مدتی نقطہ نظر ضروری ہے جو پی آئی اے  کی نیلامی کی طرح قومی مقاصد کے عین مطابق ہو۔</p>
<p>فری لانسرز نے جولائی 2024 تا مارچ 2025 کے دوران 400 ملین ڈالر کی ترسیلات بھیجی  لیکن وہ اب بھی غیر مستحکم انٹرنیٹ کی وجہ سے مشکلات کا شکار ہیں۔ ملک کی تقریباً دو تہائی بالغ آبادی مالیاتی نظام سے باہر ہے، کیونکہ ڈیجیٹل بینکنگ اور مائیکرو فنانس مستحکم کنیکٹیوٹی کے بغیر وسعت حاصل نہیں کر سکتے۔ دوسری جانب، ٹیلی کام آپریٹرز کو فی صارف اوسط آمدنی صرف 1 ڈالر مل رہی ہے جو عالمی سطح پر کم ترین شرح میں سے ایک ہے جس کی وجہ سے ان کے لیے انفرااسٹرکچر میں دوبارہ سرمایہ کاری کرنا مشکل ہو گیا ہے۔</p>
<p>حکومت کی اس رکاوٹ کو تسلیم کرنا اور 600 میگا ہرٹز سے زائد نئے اسپیکٹرم جاری کرنے کا فیصلہ ایک بنیادی اصلاحاتی اقدام ہے۔ یہ قومی ڈیجیٹل اہداف کے ساتھ ہم آہنگ ہے اور اے آئی اور آئی او ٹی جیسی ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز کی حمایت کرتا ہے۔ مسئلہ اب یہ نہیں کہ آیا پاکستان کو مزید اسپیکٹرم کی ضرورت ہے بلکہ یہ ہے کہ نیلامی کو کس طرح ڈیزائن کیا جائے تاکہ ڈیجیٹل ترقی کو تیز کیا جاسکے۔</p>
<p>ٹیلی کام ایک سرمایہ طلب شعبہ ہے۔ اسپیکٹرم حاصل کرنے پر خرچ ہونے والا ہر روپیہ، کوریج بڑھانے، نیٹ ورک کی کارکردگی بہتر کرنے یا دیہی علاقوں میں سروس پہنچانے کے لیے خرچ نہیں ہوتا۔ تاریخی طور پر، نیلامیوں میں زیادہ پیشگی ادائیگیاں اور امریکی ڈالر میں قیمتیں شامل رہی ہیں، جس کی وجہ سے آپریٹرز مالی طور پر دباؤ میں رہتے ہیں اور نیٹ ورک کی توسیع میں تاخیر ہوتی ہے۔</p>
<p>تاخیر کی یہ قیمت محض فرضی نہیں ہے۔ جی ایس ایم اے  کے تجزیے سے پتہ چلتا ہے کہ نئے اسپیکٹرم میں دو سال کی تاخیر سے جی ڈی پی کو 1.8 بلین ڈالر کا نقصان پہنچ سکتا ہے جبکہ 5 سال کی تاخیر یہ نقصان 4.3 بلین ڈالر سے بھی تجاوز کراسکتی ہے، غیر ہم آہنگ پالیسی کے نتیجے میں آج ملازمتیں ضائع ہو رہی ہیں، برآمدات کمزور ہیں اور جدت کی رفتار سست ہے۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2025</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40281050</guid>
      <pubDate>Tue, 30 Dec 2025 13:16:00 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (طاہر امین)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/12/30131548ba7361a.webp" type="image/webp" medium="image" height="394" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/12/30131548ba7361a.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
