<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Business &amp; Finance</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 14:43:55 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 14:43:55 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>درآمد شدہ الیکٹرک گاڑیوں پر ٹیکس عائد کرنے کی کوششیں کی جارہی ہیں، سینیٹ کمیٹی کو بریفنگ</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40281036/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے صنعت و پیداوار کو پیر کو بتایا گیا ہے کہ حکومت ٹرانسپورٹ سیکٹر کے 9 ارب ڈالر کے درآمدی بل کو کم کرنے کے لیے درآمد شدہ الیکٹرک گاڑیوں (ای ویز) پر ٹیکس عائد کرنے پر غور کررہی ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چیئرپرسن سینیٹر خالدہ عتیب کی صدارت میں ہونے والی میٹنگ میں سینیٹرز دانش کمار، سید مسرور احسن اور وزارتِ صنعت و پیداوار اور فیڈرل بورڈ آف ریونیو ( ایف بی آر) کے حکام نے شرکت کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سینیٹ سیکریٹریٹ کے بیان کے مطابق حکام نے بتایا کہ درآمد شدہ الیکٹرک گاڑیوں پر ٹیکس عائد کرنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔ مقامی طور پر تیار شدہ الیکٹرک گاڑیوں پر ٹیکس بہت کم یا صفر ہوگا۔ ای وی کے وہ پرزے جنہیں مقامی طور پر تیار کیا جا رہا ہے، ان کی درآمد پر اضافی محصولات عائد کر دیے گئے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دریں اثنا وزارتِ صنعت و پیداوار نے صوبائی حکومتوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ الیکٹرک گاڑیوں ( ای ویز) پر رجسٹریشن فیس نہ لگائیں، پورے ملک میں یکساں نمبر پلیٹس فراہم کریں، اور ای وی گاڑیوں سے کم ٹول چارج کریں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سینیٹ کمیٹی کو ملک میں الیکٹرک گاڑیوں، بالخصوص موٹر سائیکلوں اور بائیکس کے مینوفیکچرنگ یونٹس قائم کرنے کی موجودہ پالیسی کے حوالے سے بریفنگ دی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حکام کے مطابق اب تک ملک میں تین پہیوں کے لیے 17 لائسنس اور دو پہیوں کے لیے 77 لائسنس جاری کیے جا چکے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان کی حکومت کا ہدف ہے کہ 2030 تک ملک کی گاڑیوں کا 30 فیصد حصہ ای ویز میں منتقل کیا جائے۔&lt;br&gt;بیان کے مطابق 2030 تک 2.2 ملین گاڑیاں عوام میں حکومت کی سبسڈی کے ذریعے تقسیم کی جائیں گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حکام نے بتایا کہ ملک میں 20 ملین گاڑیاں اور 20 ملین سے زائد موٹر سائیکلیں موجود ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس سال عوام کو 116,000 موٹر سائیکلیں اور 3,170 رکشے فراہم کیے جائیں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگلے پانچ سال میں کاربن لیوی سے 120 ارب روپے حاصل کیے جائیں گے، جو الیکٹرک گاڑیوں پر سبسڈی دینے میں استعمال ہوں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کمیٹی کو بتایا گیا کہ بورڈ آف انویسٹمنٹ کے تعاون سے ون ونڈو آپریشن پر کام جاری ہے اور جو مینوفیکچررز برآمدات نہیں کر رہے، ان کے لائسنس منسوخ کر دیے گئے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;h3&gt;&lt;a id="نیو-انرجی-وہیکلز-این-ای-وی-پالیسی-2025-30" href="#نیو-انرجی-وہیکلز-این-ای-وی-پالیسی-2025-30" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;نیو انرجی وہیکلز (این ای وی) پالیسی 2025-30&lt;/h3&gt;
&lt;p&gt;نیو انرجی وہیکلز پالیسی 2025-30 کے مقاصد میں گاڑیوں سے ہونے والے ایمیشن میں کمی، فضائی معیار کی بہتری ، نظام میں اضافی بجلی کی پیداوار کو موثر استعمال میں لانا، تیل کی درآمد کم کرنا شامل ہیں ۔ یہ پالیسی مقامی این ای وی صنعت کی ترقی، ٹیکنالوجی کی منتقلی اور گرین جابز کے مواقع پیدا کرنے کی بنیاد بھی رکھتی ہے اور وفاقی و صوبائی حکومتوں کے درمیان ہم آہنگی بڑھانے کی نیت رکھتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پالیسی کے تحت 2030 تک بائیکس، رکشے، مسافر گاڑیاں، لائٹ کمرشل گاڑیاں، بسیں اور ٹرکوں کی نئی فروخت کا 30 فیصد حصہ نیو انرجی وہیکلز ( این ای ویز) میں منتقل کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پالیسی کی مدت کے بعد ملک کی خواہش ہے کہ 2040 تک این ای وی کی فروخت 50 فیصد تک پہنچ جائے اور 2060 تک ٹرانسپورٹ کے شعبے میں نیٹ زیرو فلِیٹ حاصل کیا جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پالیسی میں یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ پاکستان میں این ای وی اپنانے میں سب سے بڑی رکاوٹ ابتدائی زیادہ قیمت ہے، جس کے پیش نظر اقدامات کیے جائیں گے تاکہ قیمتیں انٹرنل کمبسشن انجن ( آئی سی ای) گاڑیوں کے قریب لائی جائیں، جیسا کہ علاقائی اور عالمی معیار میں کیا جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے صنعت و پیداوار کو پیر کو بتایا گیا ہے کہ حکومت ٹرانسپورٹ سیکٹر کے 9 ارب ڈالر کے درآمدی بل کو کم کرنے کے لیے درآمد شدہ الیکٹرک گاڑیوں (ای ویز) پر ٹیکس عائد کرنے پر غور کررہی ہے۔</strong></p>
<p>چیئرپرسن سینیٹر خالدہ عتیب کی صدارت میں ہونے والی میٹنگ میں سینیٹرز دانش کمار، سید مسرور احسن اور وزارتِ صنعت و پیداوار اور فیڈرل بورڈ آف ریونیو ( ایف بی آر) کے حکام نے شرکت کی۔</p>
<p>سینیٹ سیکریٹریٹ کے بیان کے مطابق حکام نے بتایا کہ درآمد شدہ الیکٹرک گاڑیوں پر ٹیکس عائد کرنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔ مقامی طور پر تیار شدہ الیکٹرک گاڑیوں پر ٹیکس بہت کم یا صفر ہوگا۔ ای وی کے وہ پرزے جنہیں مقامی طور پر تیار کیا جا رہا ہے، ان کی درآمد پر اضافی محصولات عائد کر دیے گئے ہیں۔</p>
<p>دریں اثنا وزارتِ صنعت و پیداوار نے صوبائی حکومتوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ الیکٹرک گاڑیوں ( ای ویز) پر رجسٹریشن فیس نہ لگائیں، پورے ملک میں یکساں نمبر پلیٹس فراہم کریں، اور ای وی گاڑیوں سے کم ٹول چارج کریں۔</p>
<p>سینیٹ کمیٹی کو ملک میں الیکٹرک گاڑیوں، بالخصوص موٹر سائیکلوں اور بائیکس کے مینوفیکچرنگ یونٹس قائم کرنے کی موجودہ پالیسی کے حوالے سے بریفنگ دی گئی۔</p>
<p>حکام کے مطابق اب تک ملک میں تین پہیوں کے لیے 17 لائسنس اور دو پہیوں کے لیے 77 لائسنس جاری کیے جا چکے ہیں۔</p>
<p>پاکستان کی حکومت کا ہدف ہے کہ 2030 تک ملک کی گاڑیوں کا 30 فیصد حصہ ای ویز میں منتقل کیا جائے۔<br>بیان کے مطابق 2030 تک 2.2 ملین گاڑیاں عوام میں حکومت کی سبسڈی کے ذریعے تقسیم کی جائیں گی۔</p>
<p>حکام نے بتایا کہ ملک میں 20 ملین گاڑیاں اور 20 ملین سے زائد موٹر سائیکلیں موجود ہیں۔</p>
<p>اس سال عوام کو 116,000 موٹر سائیکلیں اور 3,170 رکشے فراہم کیے جائیں گے۔</p>
<p>اگلے پانچ سال میں کاربن لیوی سے 120 ارب روپے حاصل کیے جائیں گے، جو الیکٹرک گاڑیوں پر سبسڈی دینے میں استعمال ہوں گے۔</p>
<p>کمیٹی کو بتایا گیا کہ بورڈ آف انویسٹمنٹ کے تعاون سے ون ونڈو آپریشن پر کام جاری ہے اور جو مینوفیکچررز برآمدات نہیں کر رہے، ان کے لائسنس منسوخ کر دیے گئے ہیں۔</p>
<h3><a id="نیو-انرجی-وہیکلز-این-ای-وی-پالیسی-2025-30" href="#نیو-انرجی-وہیکلز-این-ای-وی-پالیسی-2025-30" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>نیو انرجی وہیکلز (این ای وی) پالیسی 2025-30</h3>
<p>نیو انرجی وہیکلز پالیسی 2025-30 کے مقاصد میں گاڑیوں سے ہونے والے ایمیشن میں کمی، فضائی معیار کی بہتری ، نظام میں اضافی بجلی کی پیداوار کو موثر استعمال میں لانا، تیل کی درآمد کم کرنا شامل ہیں ۔ یہ پالیسی مقامی این ای وی صنعت کی ترقی، ٹیکنالوجی کی منتقلی اور گرین جابز کے مواقع پیدا کرنے کی بنیاد بھی رکھتی ہے اور وفاقی و صوبائی حکومتوں کے درمیان ہم آہنگی بڑھانے کی نیت رکھتی ہے۔</p>
<p>پالیسی کے تحت 2030 تک بائیکس، رکشے، مسافر گاڑیاں، لائٹ کمرشل گاڑیاں، بسیں اور ٹرکوں کی نئی فروخت کا 30 فیصد حصہ نیو انرجی وہیکلز ( این ای ویز) میں منتقل کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔</p>
<p>پالیسی کی مدت کے بعد ملک کی خواہش ہے کہ 2040 تک این ای وی کی فروخت 50 فیصد تک پہنچ جائے اور 2060 تک ٹرانسپورٹ کے شعبے میں نیٹ زیرو فلِیٹ حاصل کیا جائے۔</p>
<p>پالیسی میں یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ پاکستان میں این ای وی اپنانے میں سب سے بڑی رکاوٹ ابتدائی زیادہ قیمت ہے، جس کے پیش نظر اقدامات کیے جائیں گے تاکہ قیمتیں انٹرنل کمبسشن انجن ( آئی سی ای) گاڑیوں کے قریب لائی جائیں، جیسا کہ علاقائی اور عالمی معیار میں کیا جاتا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40281036</guid>
      <pubDate>Tue, 30 Dec 2025 10:55:02 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ریحان ایوب)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/12/292149109f2d9d3.webp" type="image/webp" medium="image" height="464" width="620">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/12/292149109f2d9d3.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
