<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Opinion</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 04 Jun 2026 06:35:04 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 04 Jun 2026 06:35:04 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پی آئی اے کی نجکاری: قیمت، سیاست اور بنیادی حساب</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40281030/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پی آئی اے کی نجکاری نے روایتی طوفانِ غصہ، شبہات اور سازشی تھیوریز کو جنم دیا ہے۔ ہر کسی کی رائے ہے کہ ایئرلائن بہت سستی، بہت دیر سے، یا غلط فریق کو بیچی گئی۔ اس شور میں زیادہ تر لوگ بنیادی مالیات کو نظر انداز کر دیتے ہیں۔ یہ مضمون اس لین دین کو سادہ الفاظ میں بیان کرنے کی کوشش کرتا ہے تاکہ تنقید کم از کم اعداد و شمار کی بنیاد پر شروع ہو، نہ کہ قیاس آرائیوں پر۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حکومت کو اس فروخت سے جو مالیاتی قیمت حاصل ہوئی وہ تقریباً 55 ارب روپے ہے، نہ کہ صرف وہ 10 ارب روپے نقد جو براہِ راست موصول ہو رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس قیمت کا تعین کرنے کے لیے عالمی سطح پر تسلیم شدہ پری منی ایکویٹی ویلیوایشن ماڈل استعمال کیا گیا ہے۔ اس ماڈل کے تحت خریدار نے 75 فیصد حصص کے لیے کل 135 ارب روپے کی سرمایہ کاری کی یقین دہانی کرائی ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ پی آئی اے کی پوسٹ منی ایکویٹی ویلیو 180 ارب روپے بنتی ہے۔ اس میں سے کمپنی میں جانے والا نیا سرمایہ 125 ارب روپے نکال دیں، جو کل 180 ارب میں شامل ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ موجودہ حصص دار، یعنی ریاست کے لیے پری منی ایکویٹی ویلیو تقریباً 55 ارب روپے بنتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسرا بنیادی نکتہ یہ ہے کہ کسی ادارے کا موازنہ صرف اس کے اثاثوں کی بنیاد پر نہیں کیا جا سکتا، بلکہ اس میں ذمہ داریاں (لائیبلیٹیز) بھی شامل کرنا ضروری ہے۔ مالیاتی اکاؤنٹنگ کے بنیادی اصول کے مطابق: اثاثے = ذمہ داریاں جمع حصہ دارانہ سرمایہ، اس لیے حصہ دارانہ سرمایہ = اثاثے تفریق  ذمہ داریاں&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سادہ الفاظ میں اگر کوئی جائیداد ایک ارب روپے کی ہے لیکن اس پر 800 ملین روپے کا قرضہ ہے تو ایکویٹی صرف 200 ملین روپے ہوگی، نہ کہ ایک ارب۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کئی لوگوں کا کہنا ہے کہ ایک جہاز کی قیمت اربوں روپے ہے اور 18 جہازوں کی بیچنے کی قیمت بہت کم ہے۔ تاہم، بعض جہاز لیز پر ہیں اور اپنی ذمہ داریاں رکھتے ہیں۔ قارئین کو یاد ہوگا کہ 2021 میں  پی آئی اے کا بوئنگ 777 ملائیشا میں عدم ادائیگی کی وجہ سے ضبط کیا گیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے علاوہ پی آئی اے کی فلیٹ پرانے جہازوں پر مشتمل ہے اور نئے جہازوں کی قیمت سے موازنہ نہیں کیا جا سکتا۔ یہ حقائق بیلنس شیٹ میں ظاہر ہیں۔ 31 دسمبر 2024 تک پی آئی اے کی ایکویٹی 9.1 ارب روپے تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تمام اثاثوں کو مارکیٹ ویلیو پر بھی رکھنے کے بعد، ایکویٹی 40 ارب روپے سے کم رہتی ہے۔ اس پس منظر میں، 55 ارب روپے وصول کرنا برا نتیجہ نہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایک اور تنقید یہ ہے کہ نجکاری کا کوئی فائدہ نہیں اگر ٹیکس دہندگان کو 600 ارب روپے کے سابقہ قرضے کی ذمہ داری برقرار رہے۔ تاہم، بغیر اس قرضے کی صفائی کے کوئی معاہدہ ممکن نہ تھا، جو کہ اقتصادی طور پر پہلے سے خرچ شدہ سرمایہ (سنک کوسٹ) تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آج بھی صفائی کے بعد حکومت عملی طور پر بمشکل بریک ایون کر رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;2024 میں پی آئی اے نے 26 ارب روپے کا نیٹ منافع رپورٹ کیا، جس کی وجہ 32 ارب روپے کے موخر شدہ ٹیکس اثاثے( ڈیفرڈ ٹیکس ایسٹس) کی پہچان تھی۔ اس کو ایڈجسٹ کرنے کے بعد ایئرلائن نے صاف بیلنس شیٹ پر 6 ارب روپے کا خالص نقصان اٹھایا۔ 2025 میں ریونیو کا ہدف 270 ارب روپے ہے، مگر بہتر انداز میں پی آئی اے شاید 190 ارب روپے حاصل کرے اور عملی طور پر نفع و نقصان کا توازن تک پہنچے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایئرلائن آج پیسہ نہیں کما رہی۔ اگر نجکاری نہ ہوئی تو مزید قرضے جمع ہوتے رہیں گے اور آخر کار بند ہونا ہی حقیقت پسندانہ اختیار ہوگا۔ نجی ملکیت کے تحت نیا آغاز بہتر متبادل ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دنیا بھر میں  شہری ہوابازی ایک مشکل اور انتہائی مسابقتی کاروبار ہے، جس میں متعدد متحرک عناصر شامل ہیں۔ یہ کسی ایسے شعبے کی طرح نہیں جہاں گارنٹی شدہ فری کیش فلو ہو، جیسے کھاد یا آئی پی پیز۔ ایئرلائنز کو فلیٹ اور سسٹمز کی اپ گریڈ کے لیے مستقل سرمایہ کاری کی ضرورت ہوتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس لحاظ سے یہ شعبہ روایتی رینٹ سیکنگ انڈسٹریز کے بجائے ٹیلی کام کے زیادہ قریب ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بولی کا عمل خود ظاہر کرتا ہے کہ پی آئی اے سستی نہیں بیچی گئی۔ دو دیگر بولی دہندگان بھی تھے، جن میں سے ایک کے پاس پہلے سے ایک ایئرلائن ہے اور اس نے سب سے کم بولی دی۔ اگر اثاثہ واقعی کم قیمت پر ہوتا، تو ایئر بلیو کی پیشکش اتنی کم کیوں تھی؟&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسرے راؤنڈ میں ہارنے والی پارٹی لکی کنسورشیم کی قیادت میں تھی، جو پاکستان کے سب سے بڑے اور پیچیدہ کاروباری گروپس میں سے ایک ہے۔ ان کے پاس مضبوط بیلنس شیٹ، قابل انتظام ٹیم، پاکستان سے باہر کام کرنے کا تجربہ اور طاقتور پارٹنرز ہیں۔ انہوں نے کروڑوں ڈالر اور بے شمار گھنٹے پیشگی بولی کے عمل میں صرف کیے، پھر ہار مان لی کیونکہ انہیں لگتا تھا کہ ویلیوایشن پہلے ہی بہت زیادہ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پی آئی اے موجودہ حالت میں کم ترجیح دی جانے والی ایئرلائنز میں شامل ہے۔ اس کی واحد حقیقی کشش محدود تعداد میں براہِ راست بین الاقوامی راستے ہیں۔ یہ اب ”ہوائی سفر کے لیے بہترین لوگ“ نہیں رہی۔ پاکستان میں ناقد اکثر ایسے ہیں جیسے ساس جو کہتی ہے حکومت جو بھی بیچے بہت سستا اور جو بھی خریدے بہت مہنگا ہے۔ کچھ بھی ان کو مطمئن نہیں کرتا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بحث کا محور صرف قیمت نہیں ہونا چاہیے۔ اعلی فروخت کی قیمت کامیابی کی ضمانت نہیں دیتی۔پی ٹی سی ایل مثال ہے۔ اسے اس وقت تقریباً دوگنا قیمت پر بیچا گیا، مگر بعد میں سرمایہ کاری نہ ہونے کی وجہ سے کمپنی کمزور ہوئی اور نجکاری کے ایک تہائی فوائد کبھی حاصل نہ ہو سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پی آئی اے کے معاملے میں کمپنی میں 125 ارب روپے کی سرمایہ کاری کی جا رہی ہے، جو اس کے بحالی کے امکانات کو بڑھا دیتی ہے۔ ایئرلائن کی فلیٹ پرانے جہازوں پر مشتمل ہے اور اسے وسیع سرمایہ کاری کی ضرورت ہے۔ اگر یہ اچھی طرح منظم ہو، تو پی آئی اے ملک کی تصویر بہتر بنانے کی صلاحیت رکھتی ہے نہ کہ نقصان پہنچانے کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان، جس کی آبادی 250 ملین ہے، کی قومی فلیٹ میں بمشکل 50 جہاز موجود ہیں۔ اسی وجہ سے بین الاقوامی ہوائی سفر کا زیادہ تر انحصار غیر ملکی کیریئرز پر ہے۔ پی آئی اے کی بحالی کے بعد، اس کاروبار کا کچھ حصہ دوبارہ ملک میں واپس آ سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پی آئی اے کا مقصد بین الاقوامی کھلاڑیوں کے ساتھ مقابلہ کرنا ہے۔ قومی مفاد میں ہے کہ خریداری کرنے والے کنسورشیم کی کامیابی کی خواہش کی جائے تاکہ ایئرلائن کو دوبارہ عالمی سطح پر نمایاں کیا جا سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پی آئی اے کی نجکاری نے روایتی طوفانِ غصہ، شبہات اور سازشی تھیوریز کو جنم دیا ہے۔ ہر کسی کی رائے ہے کہ ایئرلائن بہت سستی، بہت دیر سے، یا غلط فریق کو بیچی گئی۔ اس شور میں زیادہ تر لوگ بنیادی مالیات کو نظر انداز کر دیتے ہیں۔ یہ مضمون اس لین دین کو سادہ الفاظ میں بیان کرنے کی کوشش کرتا ہے تاکہ تنقید کم از کم اعداد و شمار کی بنیاد پر شروع ہو، نہ کہ قیاس آرائیوں پر۔</strong></p>
<p>حکومت کو اس فروخت سے جو مالیاتی قیمت حاصل ہوئی وہ تقریباً 55 ارب روپے ہے، نہ کہ صرف وہ 10 ارب روپے نقد جو براہِ راست موصول ہو رہے ہیں۔</p>
<p>اس قیمت کا تعین کرنے کے لیے عالمی سطح پر تسلیم شدہ پری منی ایکویٹی ویلیوایشن ماڈل استعمال کیا گیا ہے۔ اس ماڈل کے تحت خریدار نے 75 فیصد حصص کے لیے کل 135 ارب روپے کی سرمایہ کاری کی یقین دہانی کرائی ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ پی آئی اے کی پوسٹ منی ایکویٹی ویلیو 180 ارب روپے بنتی ہے۔ اس میں سے کمپنی میں جانے والا نیا سرمایہ 125 ارب روپے نکال دیں، جو کل 180 ارب میں شامل ہے۔</p>
<p>نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ موجودہ حصص دار، یعنی ریاست کے لیے پری منی ایکویٹی ویلیو تقریباً 55 ارب روپے بنتی ہے۔</p>
<p>دوسرا بنیادی نکتہ یہ ہے کہ کسی ادارے کا موازنہ صرف اس کے اثاثوں کی بنیاد پر نہیں کیا جا سکتا، بلکہ اس میں ذمہ داریاں (لائیبلیٹیز) بھی شامل کرنا ضروری ہے۔ مالیاتی اکاؤنٹنگ کے بنیادی اصول کے مطابق: اثاثے = ذمہ داریاں جمع حصہ دارانہ سرمایہ، اس لیے حصہ دارانہ سرمایہ = اثاثے تفریق  ذمہ داریاں</p>
<p>سادہ الفاظ میں اگر کوئی جائیداد ایک ارب روپے کی ہے لیکن اس پر 800 ملین روپے کا قرضہ ہے تو ایکویٹی صرف 200 ملین روپے ہوگی، نہ کہ ایک ارب۔</p>
<p>کئی لوگوں کا کہنا ہے کہ ایک جہاز کی قیمت اربوں روپے ہے اور 18 جہازوں کی بیچنے کی قیمت بہت کم ہے۔ تاہم، بعض جہاز لیز پر ہیں اور اپنی ذمہ داریاں رکھتے ہیں۔ قارئین کو یاد ہوگا کہ 2021 میں  پی آئی اے کا بوئنگ 777 ملائیشا میں عدم ادائیگی کی وجہ سے ضبط کیا گیا تھا۔</p>
<p>اس کے علاوہ پی آئی اے کی فلیٹ پرانے جہازوں پر مشتمل ہے اور نئے جہازوں کی قیمت سے موازنہ نہیں کیا جا سکتا۔ یہ حقائق بیلنس شیٹ میں ظاہر ہیں۔ 31 دسمبر 2024 تک پی آئی اے کی ایکویٹی 9.1 ارب روپے تھی۔</p>
<p>تمام اثاثوں کو مارکیٹ ویلیو پر بھی رکھنے کے بعد، ایکویٹی 40 ارب روپے سے کم رہتی ہے۔ اس پس منظر میں، 55 ارب روپے وصول کرنا برا نتیجہ نہیں۔</p>
<p>ایک اور تنقید یہ ہے کہ نجکاری کا کوئی فائدہ نہیں اگر ٹیکس دہندگان کو 600 ارب روپے کے سابقہ قرضے کی ذمہ داری برقرار رہے۔ تاہم، بغیر اس قرضے کی صفائی کے کوئی معاہدہ ممکن نہ تھا، جو کہ اقتصادی طور پر پہلے سے خرچ شدہ سرمایہ (سنک کوسٹ) تھا۔</p>
<p>آج بھی صفائی کے بعد حکومت عملی طور پر بمشکل بریک ایون کر رہی ہے۔</p>
<p>2024 میں پی آئی اے نے 26 ارب روپے کا نیٹ منافع رپورٹ کیا، جس کی وجہ 32 ارب روپے کے موخر شدہ ٹیکس اثاثے( ڈیفرڈ ٹیکس ایسٹس) کی پہچان تھی۔ اس کو ایڈجسٹ کرنے کے بعد ایئرلائن نے صاف بیلنس شیٹ پر 6 ارب روپے کا خالص نقصان اٹھایا۔ 2025 میں ریونیو کا ہدف 270 ارب روپے ہے، مگر بہتر انداز میں پی آئی اے شاید 190 ارب روپے حاصل کرے اور عملی طور پر نفع و نقصان کا توازن تک پہنچے۔</p>
<p>ایئرلائن آج پیسہ نہیں کما رہی۔ اگر نجکاری نہ ہوئی تو مزید قرضے جمع ہوتے رہیں گے اور آخر کار بند ہونا ہی حقیقت پسندانہ اختیار ہوگا۔ نجی ملکیت کے تحت نیا آغاز بہتر متبادل ہے۔</p>
<p>دنیا بھر میں  شہری ہوابازی ایک مشکل اور انتہائی مسابقتی کاروبار ہے، جس میں متعدد متحرک عناصر شامل ہیں۔ یہ کسی ایسے شعبے کی طرح نہیں جہاں گارنٹی شدہ فری کیش فلو ہو، جیسے کھاد یا آئی پی پیز۔ ایئرلائنز کو فلیٹ اور سسٹمز کی اپ گریڈ کے لیے مستقل سرمایہ کاری کی ضرورت ہوتی ہے۔</p>
<p>اس لحاظ سے یہ شعبہ روایتی رینٹ سیکنگ انڈسٹریز کے بجائے ٹیلی کام کے زیادہ قریب ہے۔</p>
<p>بولی کا عمل خود ظاہر کرتا ہے کہ پی آئی اے سستی نہیں بیچی گئی۔ دو دیگر بولی دہندگان بھی تھے، جن میں سے ایک کے پاس پہلے سے ایک ایئرلائن ہے اور اس نے سب سے کم بولی دی۔ اگر اثاثہ واقعی کم قیمت پر ہوتا، تو ایئر بلیو کی پیشکش اتنی کم کیوں تھی؟</p>
<p>دوسرے راؤنڈ میں ہارنے والی پارٹی لکی کنسورشیم کی قیادت میں تھی، جو پاکستان کے سب سے بڑے اور پیچیدہ کاروباری گروپس میں سے ایک ہے۔ ان کے پاس مضبوط بیلنس شیٹ، قابل انتظام ٹیم، پاکستان سے باہر کام کرنے کا تجربہ اور طاقتور پارٹنرز ہیں۔ انہوں نے کروڑوں ڈالر اور بے شمار گھنٹے پیشگی بولی کے عمل میں صرف کیے، پھر ہار مان لی کیونکہ انہیں لگتا تھا کہ ویلیوایشن پہلے ہی بہت زیادہ ہے۔</p>
<p>پی آئی اے موجودہ حالت میں کم ترجیح دی جانے والی ایئرلائنز میں شامل ہے۔ اس کی واحد حقیقی کشش محدود تعداد میں براہِ راست بین الاقوامی راستے ہیں۔ یہ اب ”ہوائی سفر کے لیے بہترین لوگ“ نہیں رہی۔ پاکستان میں ناقد اکثر ایسے ہیں جیسے ساس جو کہتی ہے حکومت جو بھی بیچے بہت سستا اور جو بھی خریدے بہت مہنگا ہے۔ کچھ بھی ان کو مطمئن نہیں کرتا۔</p>
<p>بحث کا محور صرف قیمت نہیں ہونا چاہیے۔ اعلی فروخت کی قیمت کامیابی کی ضمانت نہیں دیتی۔پی ٹی سی ایل مثال ہے۔ اسے اس وقت تقریباً دوگنا قیمت پر بیچا گیا، مگر بعد میں سرمایہ کاری نہ ہونے کی وجہ سے کمپنی کمزور ہوئی اور نجکاری کے ایک تہائی فوائد کبھی حاصل نہ ہو سکے۔</p>
<p>پی آئی اے کے معاملے میں کمپنی میں 125 ارب روپے کی سرمایہ کاری کی جا رہی ہے، جو اس کے بحالی کے امکانات کو بڑھا دیتی ہے۔ ایئرلائن کی فلیٹ پرانے جہازوں پر مشتمل ہے اور اسے وسیع سرمایہ کاری کی ضرورت ہے۔ اگر یہ اچھی طرح منظم ہو، تو پی آئی اے ملک کی تصویر بہتر بنانے کی صلاحیت رکھتی ہے نہ کہ نقصان پہنچانے کی۔</p>
<p>پاکستان، جس کی آبادی 250 ملین ہے، کی قومی فلیٹ میں بمشکل 50 جہاز موجود ہیں۔ اسی وجہ سے بین الاقوامی ہوائی سفر کا زیادہ تر انحصار غیر ملکی کیریئرز پر ہے۔ پی آئی اے کی بحالی کے بعد، اس کاروبار کا کچھ حصہ دوبارہ ملک میں واپس آ سکتا ہے۔</p>
<p>پی آئی اے کا مقصد بین الاقوامی کھلاڑیوں کے ساتھ مقابلہ کرنا ہے۔ قومی مفاد میں ہے کہ خریداری کرنے والے کنسورشیم کی کامیابی کی خواہش کی جائے تاکہ ایئرلائن کو دوبارہ عالمی سطح پر نمایاں کیا جا سکے۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025</p>
]]></content:encoded>
      <category>Opinion</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40281030</guid>
      <pubDate>Mon, 29 Dec 2025 18:16:08 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (علی خضر)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/12/29173013ef1b1a8.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/12/29173013ef1b1a8.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
