<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Business &amp; Finance</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 04 Jun 2026 03:33:22 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 04 Jun 2026 03:33:22 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>کپاس کی برآمدات سے متعلق معاملات اسٹیٹ بینک کے حوالے کردیے گئے</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40281001/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;وفاقی حکومت نے کپاس کی برآمدات کے معاملات ٹریڈ ڈویلپمنٹ اتھارٹی آف پاکستان (ٹڈاپ) سے لے کر اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے سپرد کر دیے ہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس سلسلے میں وزارتِ تجارت نے ایس آر او (S.R.O. 2486(1)/2025) جاری کر دیا ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ امپورٹس اینڈ ایکسپورٹس (کنٹرول) ایکٹ، 1950 کے سیکشن 3 کے سب سیکشن (1) کے تحت حاصل اختیارات کو بروئے کار لاتے ہوئے، وفاقی حکومت نے ایکسپورٹ پالیسی آرڈر، 2022 میں درج ذیل مزید ترامیم کرنے کی ہدایت کی ہے، یعنی:“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سیرئیل نمبر 9 کے کالم (4) میں یہ درج ہوگا کہ (i) اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے پاس کنٹریکٹ کی کل مالیت کا 1 فیصد بطور سیکیورٹی ڈپازٹ جمع کروانا ہوگا اور شپنگ دستاویزات کے ساتھ کسٹمز حکام کو اسٹیٹ بینک کی جانب سے جاری کردہ اس کی تصدیقی دستاویز پیش کرنی ہوگی۔(ii) خریدار (امپورٹر) کی جانب سے ایک ناقابلِ واپسی لیٹر آف کریڈٹ  کھولا جائے گا اور کنٹریکٹ شدہ مقدار کی شپمنٹ 180 دنوں کے اندر مکمل کرنا ہوگی۔ مقررہ وقت کے اندر کنٹریکٹ پر عملدرآمد نہ ہونے کی صورت میں، اسٹیٹ بینک آف پاکستان اس مقدار کے تناسب سے سیکیورٹی ڈپازٹ ضبط کر لے گا جو برآمد نہیں کی گئی ہو گی۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2025&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>وفاقی حکومت نے کپاس کی برآمدات کے معاملات ٹریڈ ڈویلپمنٹ اتھارٹی آف پاکستان (ٹڈاپ) سے لے کر اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے سپرد کر دیے ہیں۔</strong></p>
<p>اس سلسلے میں وزارتِ تجارت نے ایس آر او (S.R.O. 2486(1)/2025) جاری کر دیا ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ امپورٹس اینڈ ایکسپورٹس (کنٹرول) ایکٹ، 1950 کے سیکشن 3 کے سب سیکشن (1) کے تحت حاصل اختیارات کو بروئے کار لاتے ہوئے، وفاقی حکومت نے ایکسپورٹ پالیسی آرڈر، 2022 میں درج ذیل مزید ترامیم کرنے کی ہدایت کی ہے، یعنی:“</p>
<p>سیرئیل نمبر 9 کے کالم (4) میں یہ درج ہوگا کہ (i) اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے پاس کنٹریکٹ کی کل مالیت کا 1 فیصد بطور سیکیورٹی ڈپازٹ جمع کروانا ہوگا اور شپنگ دستاویزات کے ساتھ کسٹمز حکام کو اسٹیٹ بینک کی جانب سے جاری کردہ اس کی تصدیقی دستاویز پیش کرنی ہوگی۔(ii) خریدار (امپورٹر) کی جانب سے ایک ناقابلِ واپسی لیٹر آف کریڈٹ  کھولا جائے گا اور کنٹریکٹ شدہ مقدار کی شپمنٹ 180 دنوں کے اندر مکمل کرنا ہوگی۔ مقررہ وقت کے اندر کنٹریکٹ پر عملدرآمد نہ ہونے کی صورت میں، اسٹیٹ بینک آف پاکستان اس مقدار کے تناسب سے سیکیورٹی ڈپازٹ ضبط کر لے گا جو برآمد نہیں کی گئی ہو گی۔“</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2025</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40281001</guid>
      <pubDate>Mon, 29 Dec 2025 10:35:18 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com ()</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/12/291019454f67395.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/12/291019454f67395.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
