<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Pakistan</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 04 Jun 2026 01:00:54 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 04 Jun 2026 01:00:54 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>بلاول بھٹو نے فوری انتخابات کو مسترد کر دیا ، سیاسی مفاہمت پر زور</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40280998/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے سیاسی جماعتوں پر مکالمے اور مفاہمت کو ترجیح دینے پر زور دیتے ہوئے  کہا کہ یہ بات “دیوار پر لکھی ہوئی ہے” کہ عام انتخابات فی الحال ہونے نہیں جا رہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لاڑکانہ میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ قومی مفاد میں سیاسی دائرہ کار کو وسعت دینا ناگزیر ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ ریاست کو سیاسی صفوں میں موجود انتہاپسندی سے سختی سے نمٹنا چاہیے، تاہم جو قوتیں آئینی حدود میں رہیں ان کے لیے جمہوری گنجائش موجود ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پارٹی کو کسی غیر معمولی جبر کا سامنا نہیں کرنا پڑا، تاہم اگر کوئی سیاسی جماعت انتہاپسند تنظیم کی طرز پر کام کرے تو ریاست قانون کے مطابق کارروائی کی پابند ہوتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے صدر آصف علی زرداری کو سیاسی ہم آہنگی میں کلیدی کردار قرار دیا اور شفافیت سے عاری یا الزامات کی زد میں آئے ابتدائی انتخابات کے خلاف خبردار کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بلاول بھٹو نے کہا کہ سیاسی جماعتوں کو سیاسی مسائل کا حل سیاسی طریقوں سے نکالنا چاہیے اور پی ٹی آئی کو اپنی سیاست کو سیاست کے دائرے میں لانا ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مزید کہا کہ سابق وزیراعظم بینظیر بھٹو کا پیغام ملکی ترقی کے لیے سیاسی مفاہمت تھا، جس کے لیے حکومت، اتحادی جماعتوں اور اپوزیشن سب کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کا کہنا تھا کہ ملک کو درپیش مسائل کا حل کسی ایک جماعت کی طویل اننگز میں نہیں بلکہ حقیقی سیاسی استحکام میں ہے اور اس کے لیے تمام سیاسی قوتوں کو ملک کی بہتری کے لیے عملی اقدامات پر غور کرنا چاہیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;معاشی صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے بلاول بھٹو نے تسلیم کیا کہ اگرچہ ملک کو اب بھی سنگین چیلنجز کا سامنا ہے، تاہم فوری طور پر دیوالیہ ہونے کا خطرہ ٹل چکا ہے۔ انہوں نے سندھ میں پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ (پی پی پی) ماڈل کو سب سے کامیاب انتظامی ماڈل قرار دیتے ہوئے وفاقی حکومت پر زور دیا کہ وہ بھی ایسی حکمت عملی اپنائے۔ ان کا کہنا تھا کہ قومی بحرانوں کا مستقل حل پالیسیوں کے تسلسل میں ہے، جو استحکام کی واحد ضمانت ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سابق وزیر خارجہ نے اٹھارویں آئینی ترمیم کے بعد سندھ کے صحت کے شعبے میں آنے والی نمایاں تبدیلیوں کو بھی اجاگر کیا۔ انہوں نے عالمی معیار کے طبی اداروں کے قیام اور بچوں کی اموات میں واضح کمی کو صوبائی کامیابی قرار دیتے ہوئے کہا کہ سندھ میں مریضوں کو  مفت طبی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے سیاسی جماعتوں پر مکالمے اور مفاہمت کو ترجیح دینے پر زور دیتے ہوئے  کہا کہ یہ بات “دیوار پر لکھی ہوئی ہے” کہ عام انتخابات فی الحال ہونے نہیں جا رہے۔</strong></p>
<p>لاڑکانہ میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ قومی مفاد میں سیاسی دائرہ کار کو وسعت دینا ناگزیر ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ ریاست کو سیاسی صفوں میں موجود انتہاپسندی سے سختی سے نمٹنا چاہیے، تاہم جو قوتیں آئینی حدود میں رہیں ان کے لیے جمہوری گنجائش موجود ہے۔</p>
<p>پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پارٹی کو کسی غیر معمولی جبر کا سامنا نہیں کرنا پڑا، تاہم اگر کوئی سیاسی جماعت انتہاپسند تنظیم کی طرز پر کام کرے تو ریاست قانون کے مطابق کارروائی کی پابند ہوتی ہے۔</p>
<p>انہوں نے صدر آصف علی زرداری کو سیاسی ہم آہنگی میں کلیدی کردار قرار دیا اور شفافیت سے عاری یا الزامات کی زد میں آئے ابتدائی انتخابات کے خلاف خبردار کیا۔</p>
<p>بلاول بھٹو نے کہا کہ سیاسی جماعتوں کو سیاسی مسائل کا حل سیاسی طریقوں سے نکالنا چاہیے اور پی ٹی آئی کو اپنی سیاست کو سیاست کے دائرے میں لانا ہوگا۔</p>
<p>انہوں نے مزید کہا کہ سابق وزیراعظم بینظیر بھٹو کا پیغام ملکی ترقی کے لیے سیاسی مفاہمت تھا، جس کے لیے حکومت، اتحادی جماعتوں اور اپوزیشن سب کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔</p>
<p>ان کا کہنا تھا کہ ملک کو درپیش مسائل کا حل کسی ایک جماعت کی طویل اننگز میں نہیں بلکہ حقیقی سیاسی استحکام میں ہے اور اس کے لیے تمام سیاسی قوتوں کو ملک کی بہتری کے لیے عملی اقدامات پر غور کرنا چاہیے۔</p>
<p>معاشی صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے بلاول بھٹو نے تسلیم کیا کہ اگرچہ ملک کو اب بھی سنگین چیلنجز کا سامنا ہے، تاہم فوری طور پر دیوالیہ ہونے کا خطرہ ٹل چکا ہے۔ انہوں نے سندھ میں پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ (پی پی پی) ماڈل کو سب سے کامیاب انتظامی ماڈل قرار دیتے ہوئے وفاقی حکومت پر زور دیا کہ وہ بھی ایسی حکمت عملی اپنائے۔ ان کا کہنا تھا کہ قومی بحرانوں کا مستقل حل پالیسیوں کے تسلسل میں ہے، جو استحکام کی واحد ضمانت ہے۔</p>
<p>سابق وزیر خارجہ نے اٹھارویں آئینی ترمیم کے بعد سندھ کے صحت کے شعبے میں آنے والی نمایاں تبدیلیوں کو بھی اجاگر کیا۔ انہوں نے عالمی معیار کے طبی اداروں کے قیام اور بچوں کی اموات میں واضح کمی کو صوبائی کامیابی قرار دیتے ہوئے کہا کہ سندھ میں مریضوں کو  مفت طبی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40280998</guid>
      <pubDate>Sun, 28 Dec 2025 19:19:02 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/12/28191215a2ae294.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/12/28191215a2ae294.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
