<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Business &amp; Finance</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 16:13:09 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 16:13:09 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>عالمی منڈی میں چاندی پہلی بار 77 ڈالر سے اوپر، سونا اور پلاٹینم بھی بلند سطح پر</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40280994/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;امریکی فیڈرل ریزرو کی جانب سے شرح سود میں کمی کی توقعات اور جغرافیائی سیاسی تناؤ کے باعث محفوظ سرمایہ کاری کی طلب میں اضافے کے نتیجے میں جمعہ کو چاندی کی قیمت پہلی بار 77 امریکی ڈالر کی سطح عبور کر گئی جبکہ سونا اور پلاٹینم بھی ریکارڈ بلندیوں پر پہنچ گئے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عالمی مارکیٹ میں چاندی کی فی اونس قیمت  7.5 فیصد اضافے سے 77.30 امریکی ڈالر پر پہنچ گئی جبکہ اس سے قبل آج ہی اس نے 77.40 ڈالر کی بلند ترین سطح کو چھو کر ایک نیا عالمی ریکارڈ قائم کیا۔ چاندی کی قیمتوں میں سال کی شروعات سے اب تک 167 فیصد کا غیر معمولی اضافہ ہو چکا ہے، جس کی بنیادی وجوہات رسد میں کمی، امریکہ کی جانب سے اسے انتہائی اہم معدنیات قرار دینا اور سرمایہ کاروں کی جانب سے اس میں بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسپاٹ سونا 1.2 فیصد اضافہ سے  ڈالر4,531.41 فی اونس پر رہا جبکہ اس نے پہلے ریکارڈ  4,549.71  ڈالر بھی چھوا۔ امریکہ میں فروری ڈیلیوری کے لیے سونے کے فیوچرز 1.1 فیصد اضافہ کے ساتھ  4,552.70 ڈالر پر بند ہوئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;زینر میٹلز  کے نائب صدر اور سینئر میٹلز اسٹریٹیجسٹ، پیٹر گرانٹ نے کہا ہے ک ہ سنہ 2026 میں فیڈرل ریزرو کی جانب سے (شرحِ سود میں) مزید نرمی کی توقعات، ڈالر کی کمزوری اور بڑھتے ہوئے جغرافیائی و سیاسی تناؤ کی وجہ سے منڈیوں میں اتار چڑھاؤ دیکھا جا رہا ہے۔ اگرچہ سال کے اختتام سے قبل منافع کے حصول  کے لیے فروخت کا کچھ خطرہ موجود ہے، تاہم قیمتوں میں اضافے کا یہ رجحان بدستور مضبوط ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>امریکی فیڈرل ریزرو کی جانب سے شرح سود میں کمی کی توقعات اور جغرافیائی سیاسی تناؤ کے باعث محفوظ سرمایہ کاری کی طلب میں اضافے کے نتیجے میں جمعہ کو چاندی کی قیمت پہلی بار 77 امریکی ڈالر کی سطح عبور کر گئی جبکہ سونا اور پلاٹینم بھی ریکارڈ بلندیوں پر پہنچ گئے۔</strong></p>
<p>عالمی مارکیٹ میں چاندی کی فی اونس قیمت  7.5 فیصد اضافے سے 77.30 امریکی ڈالر پر پہنچ گئی جبکہ اس سے قبل آج ہی اس نے 77.40 ڈالر کی بلند ترین سطح کو چھو کر ایک نیا عالمی ریکارڈ قائم کیا۔ چاندی کی قیمتوں میں سال کی شروعات سے اب تک 167 فیصد کا غیر معمولی اضافہ ہو چکا ہے، جس کی بنیادی وجوہات رسد میں کمی، امریکہ کی جانب سے اسے انتہائی اہم معدنیات قرار دینا اور سرمایہ کاروں کی جانب سے اس میں بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری ہے۔</p>
<p>اسپاٹ سونا 1.2 فیصد اضافہ سے  ڈالر4,531.41 فی اونس پر رہا جبکہ اس نے پہلے ریکارڈ  4,549.71  ڈالر بھی چھوا۔ امریکہ میں فروری ڈیلیوری کے لیے سونے کے فیوچرز 1.1 فیصد اضافہ کے ساتھ  4,552.70 ڈالر پر بند ہوئے۔</p>
<p>زینر میٹلز  کے نائب صدر اور سینئر میٹلز اسٹریٹیجسٹ، پیٹر گرانٹ نے کہا ہے ک ہ سنہ 2026 میں فیڈرل ریزرو کی جانب سے (شرحِ سود میں) مزید نرمی کی توقعات، ڈالر کی کمزوری اور بڑھتے ہوئے جغرافیائی و سیاسی تناؤ کی وجہ سے منڈیوں میں اتار چڑھاؤ دیکھا جا رہا ہے۔ اگرچہ سال کے اختتام سے قبل منافع کے حصول  کے لیے فروخت کا کچھ خطرہ موجود ہے، تاہم قیمتوں میں اضافے کا یہ رجحان بدستور مضبوط ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40280994</guid>
      <pubDate>Sun, 28 Dec 2025 14:26:07 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/12/2814254119cd067.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/12/2814254119cd067.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
