<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Pakistan</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 04 Jun 2026 14:59:38 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 04 Jun 2026 14:59:38 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>438 ملین ڈالر کے کراچی موبلٹی پراجیکٹ کیلئے ورلڈ بینک سے 6 ماہ کی توسیع کی درخواست</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40280989/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;حکومت نے کراچی موبلٹی پروجیکٹ (کے ایم ایچ) کیلئے عالمی بینک سے 6 ماہ کی توسیع کی درخواست کی ہے۔ تقریباً 438 ملین ڈالر مالیت کا یہ منصوبہ شہری ٹرانسپورٹ کے اقدامات کے لیے انتہائی اہمیت کا حامل ہے جب کہ حکام اضافی مالی وسائل حاصل کرنے اور تعمیراتی کام کو مقررہ رفتار پر رکھنے کے لیے کوشاں ہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس توسیع سے منصوبے کی اختتامی تاریخ 31 دسمبر 2025 سے منتقل ہو کر 30 جون 2026 ہو جائے گی، جس کا مقصد بس ریپڈ ٹرانزٹ (بی آر ٹی) یلو کوریڈور اور اس سے منسلک انفرااسٹرکچر پر جاری کام کو اچانک رکنے سے بچانا ہے۔ یہ فیصلہ حکومتِ سندھ کی باضابطہ درخواست کے بعد سامنے آیا ہے جس میں تاخیر کی وجہ اندرونی حکومتی طریقہ کار اور اضافی مالیاتی پیکیج کی تیاری کو قرار دیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس توسیع کا مقصد عملدرآمد میں ہونے والی تاخیر کو کم کرنا اور منصوبے میں ان ممکنہ تعطلات کو روکنا ہے جو طویل حکومتی اندرونی طریقہ کار کی وجہ سے پیدا ہو سکتے ہیں، خاص طور پر 173.2 ملین ڈالر کے اضافی مالیاتی پیکج کی تیاری اور منظوری کے دوران، توقع ہے کہ اس نئی فنڈنگ سے منصوبے کی مدت میں 31 دسمبر 2028 تک مزید توسیع ہو جائے گی۔ اس دوران منصوبے کے دائرہ کار ، مقاصد، اجزاء، حفاظتی اقدامات، خریداری کے عمل یا نفاذ کے انتظامات میں کسی تبدیلی کی تجویز نہیں دی گئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کراچی موبلٹی پراجیکٹ کو جون 2019 میں منظور کیا گیا تھا اور اسے انٹرنیشنل بینک برائے ری کنسٹرکشن اینڈ ڈویلپمنٹ کے 382 ملین ڈالر قرضے کی معاونت حاصل ہے۔ اس کا مقصد پاکستان کے سب سے بڑے شہر میں اہم کوریڈرز پر نقل و حرکت، رسائی اور سڑک کی حفاظت کو بہتر بنانا ہے۔ مجموعی پراجیکٹ لاگت 438 ملین ڈالر ہے، جس میں حکومت سندھ کی جانب سے 18.4 ملین ڈالر اور نجی شعبے کی جانب سے 37.5 ملین ڈالر کی شراکت شامل ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ابتدائی رکاوٹوں کے باوجود جن میں عملے کی تبدیلی، کمزور سیاسی سرپرستی اور کووڈ-19 کی عالمی وبا کی وجہ سے پیدا ہونے والا تعطل شامل ہے،اس منصوبے نے گزشتہ ایک سال کے دوران کافی رفتار پکڑلی ہے۔ عالمی بینک کے مطابق منصوبے کی ترقی کے اہداف (پی ڈی او) اور اس پر عملدرآمد کی کارکردگی دونوں کو اب اطمینان بخش  قرار دیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>حکومت نے کراچی موبلٹی پروجیکٹ (کے ایم ایچ) کیلئے عالمی بینک سے 6 ماہ کی توسیع کی درخواست کی ہے۔ تقریباً 438 ملین ڈالر مالیت کا یہ منصوبہ شہری ٹرانسپورٹ کے اقدامات کے لیے انتہائی اہمیت کا حامل ہے جب کہ حکام اضافی مالی وسائل حاصل کرنے اور تعمیراتی کام کو مقررہ رفتار پر رکھنے کے لیے کوشاں ہیں۔</strong></p>
<p>اس توسیع سے منصوبے کی اختتامی تاریخ 31 دسمبر 2025 سے منتقل ہو کر 30 جون 2026 ہو جائے گی، جس کا مقصد بس ریپڈ ٹرانزٹ (بی آر ٹی) یلو کوریڈور اور اس سے منسلک انفرااسٹرکچر پر جاری کام کو اچانک رکنے سے بچانا ہے۔ یہ فیصلہ حکومتِ سندھ کی باضابطہ درخواست کے بعد سامنے آیا ہے جس میں تاخیر کی وجہ اندرونی حکومتی طریقہ کار اور اضافی مالیاتی پیکیج کی تیاری کو قرار دیا گیا ہے۔</p>
<p>اس توسیع کا مقصد عملدرآمد میں ہونے والی تاخیر کو کم کرنا اور منصوبے میں ان ممکنہ تعطلات کو روکنا ہے جو طویل حکومتی اندرونی طریقہ کار کی وجہ سے پیدا ہو سکتے ہیں، خاص طور پر 173.2 ملین ڈالر کے اضافی مالیاتی پیکج کی تیاری اور منظوری کے دوران، توقع ہے کہ اس نئی فنڈنگ سے منصوبے کی مدت میں 31 دسمبر 2028 تک مزید توسیع ہو جائے گی۔ اس دوران منصوبے کے دائرہ کار ، مقاصد، اجزاء، حفاظتی اقدامات، خریداری کے عمل یا نفاذ کے انتظامات میں کسی تبدیلی کی تجویز نہیں دی گئی ہے۔</p>
<p>کراچی موبلٹی پراجیکٹ کو جون 2019 میں منظور کیا گیا تھا اور اسے انٹرنیشنل بینک برائے ری کنسٹرکشن اینڈ ڈویلپمنٹ کے 382 ملین ڈالر قرضے کی معاونت حاصل ہے۔ اس کا مقصد پاکستان کے سب سے بڑے شہر میں اہم کوریڈرز پر نقل و حرکت، رسائی اور سڑک کی حفاظت کو بہتر بنانا ہے۔ مجموعی پراجیکٹ لاگت 438 ملین ڈالر ہے، جس میں حکومت سندھ کی جانب سے 18.4 ملین ڈالر اور نجی شعبے کی جانب سے 37.5 ملین ڈالر کی شراکت شامل ہے۔</p>
<p>ابتدائی رکاوٹوں کے باوجود جن میں عملے کی تبدیلی، کمزور سیاسی سرپرستی اور کووڈ-19 کی عالمی وبا کی وجہ سے پیدا ہونے والا تعطل شامل ہے،اس منصوبے نے گزشتہ ایک سال کے دوران کافی رفتار پکڑلی ہے۔ عالمی بینک کے مطابق منصوبے کی ترقی کے اہداف (پی ڈی او) اور اس پر عملدرآمد کی کارکردگی دونوں کو اب اطمینان بخش  قرار دیا گیا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40280989</guid>
      <pubDate>Sun, 28 Dec 2025 13:34:34 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (طاہر امین)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/12/281332288af30ba.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/12/281332288af30ba.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
