<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Business &amp; Finance</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 04 Jun 2026 05:23:00 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 04 Jun 2026 05:23:00 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>غیر معقول ویلیو ایڈیشن : گولڈ صنعت کی نظرثانی کیلئے قومی اسمبلی کی کمیٹی سے مداخلت کی اپیل</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40280984/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پاکستان کی گولڈ انڈسٹری نے سونے کے زیورات کے لیے غیرمعقول ویلیو ایڈیشن کے قواعد و ضوابط پر نظرثانی کے لیے قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے تجارت سے مداخلت کی درخواست کی ہے۔ صنعتی نمائندوں نے زور دیا کہ برآمدات کے فروغ کیلئے ان قواعد کو بین الاقوامی بہترین طریقوں کے مطابق بنایا جائے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے تجارت کے چیئرمین جاوید حنیف خان کو لکھے گئے ایک خط میں سونے کی صنعت کے اہم نمائندے عارف پٹیل نے واضح کیا کہ ایس آر او 760(I)/2013 وہ قانونی فریم ورک ہے جو سونے کے زیورات کی برآمدات کے شعبے کو کنٹرول کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم انہوں نے کہا کہ اس (ایس آر او) کی کئی دفعات خاص طور پر شق 10غیر تعمیری یا نقصان دہ ثابت ہورہی ہیں کیونکہ ان میں بین الاقوامی سونے کی قیمتوں سے منسلک ویلیو ایڈیشن کے ایسے معیار مقرر کیے گئے ہیں جو غیر حقیقی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایس آر او 760 کے تحت ویلیو ایڈیشن کی شرائط کو اس طرح طے کیا گیا کہ سادہ چوڑیوں اور چینز کیلئے بین الاقوامی سطح پر سونے کی رائج قیمت کا 8 فیصد، دیگر سادہ زیورات کے لیے 12 فیصد، جبکہ نگینوں والے یا جڑاؤ زیورات کے لیے سونے کی عالمی قیمت کا 13 فیصد ویلیو ایڈیشن کے طور پر حاصل کرنا لازمی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;صنعت کے مطابق یہ فیصد خالص سونے کے زیورات کے لیے عالمی مارکیٹ کی اصل حقیقتوں کی عکاسی نہیں کرتے اور عالمی تجارتی تنظیم  کے کسٹمز ویلیویشن کے اصولوں سے بھی متصادم ہیں۔ ان کا مؤقف ہے کہ ویلیو ایڈیشن کا تعین من مانی فیصد کے بجائے زیورات کی تیاری کی اصل لاگت اور مناسب منافع کی بنیاد پر ہونا چاہیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;صنعت کا دعویٰ ہے کہ موجودہ فریم ورک جائز برآمد کنندگان کے لیے قانونی تقاضوں کو پورا کرنا عملی طور پر ناممکن بنا دیتا ہے اور یہ وزارتِ تجارت  کے قانونی اختیارات سے بھی تجاوز ہے۔ خط میں نشاندہی کی گئی ہے کہ ایکسپورٹ پالیسی آرڈر  کے شیڈول-IV میں کم از کم برآمدی قیمت  صرف جراحی کے آلات کے لیے مقرر ہے؛ لہذا، زیورات کے لیے ویلیو ایڈیشن کے معیار مقرر کرنا ’الٹرا وائرس‘ یعنی قانونی اختیارات سے باہر اور وزارتِ تجارت کے دائرہ اختیار سے تجاوز ہے۔ مزید برآں، پاکستان اور بھارت کے علاوہ دنیا کا کوئی بھی ملک سونے کے زیورات کی برآمد پر کم از کم برآمدی قیمت یا اس جیسی دیگر پابندیاں عائد نہیں کرتا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;علاقائی طریقوں کا موازنہ کرتے ہوئے صنعت نے نشاندہی کی کہ بھارت میں ویلیو ایڈیشن کے معیار سادہ زیورات کے لیے 3 فیصد اور جڑاؤ یا نگینوں والے زیورات کے لیے 6 فیصد ہیں، جبکہ پاکستان میں اس کے مقابلے میں یہ شرح بالترتیب 6 فیصد، 8 فیصد اور 13 فیصد ہے۔ اس کے نتیجے میں، پاکستان کی شرح بھارت کے مقابلے میں بالترتیب 37.5 فیصد اور 46 فیصد زیادہ ہے، جس نے عالمی منڈیوں میں پاکستانی برآمد کنندگان کی مسابقت کو شدید متاثر کیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خط میں مزید واضح کیا گیا ہے کہ عالمی سطح پر زیورات سونے کی قیمتوں کے تناسب  کے بجائے فی گرام مزدوری  کی بنیاد پر فروخت کیے جاتے ہیں، جس کی وجہ سے پاکستان کا موجودہ طریقہ کار غیر منطقی اور غیر منصفانہ ہے۔ جب 2013 میں SRO 760 جاری کیا گیا تھا، تب سونے کی بین الاقوامی قیمت تقریباً 1,380 ڈالر فی اونس (تقریباً 44 ڈالر فی گرام) تھی۔ اب سونے کی قیمتیں بڑھ کر 4,100 ڈالر فی اونس (تقریباً 132 ڈالر فی گرام) سے تجاوز کر چکی ہیں  جو کہ تقریباً 300 فیصد اضافہ بنتا ہے — لیکن ویلیو ایڈیشن کے وہی پرانے فیصد اب بھی برقرار ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;موجودہ قیمتوں پر 13 فیصد ویلیو ایڈیشن تقریباً 17 ڈالر فی گرام میکنگ چارجز بنتے ہیں، جبکہ برآمد کنندگان بین الاقوامی مارکیٹ میں صرف 4 سے 5 ڈالر فی گرام وصول کر سکتے ہیں۔ اس سے برآمد کنندگان کو اضافی 13 ڈالر فی گرام جمع کرانا پڑتا ہے، جو تجارتی لحاظ سے غیر ممکن ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2025&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پاکستان کی گولڈ انڈسٹری نے سونے کے زیورات کے لیے غیرمعقول ویلیو ایڈیشن کے قواعد و ضوابط پر نظرثانی کے لیے قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے تجارت سے مداخلت کی درخواست کی ہے۔ صنعتی نمائندوں نے زور دیا کہ برآمدات کے فروغ کیلئے ان قواعد کو بین الاقوامی بہترین طریقوں کے مطابق بنایا جائے۔</strong></p>
<p>قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے تجارت کے چیئرمین جاوید حنیف خان کو لکھے گئے ایک خط میں سونے کی صنعت کے اہم نمائندے عارف پٹیل نے واضح کیا کہ ایس آر او 760(I)/2013 وہ قانونی فریم ورک ہے جو سونے کے زیورات کی برآمدات کے شعبے کو کنٹرول کرتا ہے۔</p>
<p>تاہم انہوں نے کہا کہ اس (ایس آر او) کی کئی دفعات خاص طور پر شق 10غیر تعمیری یا نقصان دہ ثابت ہورہی ہیں کیونکہ ان میں بین الاقوامی سونے کی قیمتوں سے منسلک ویلیو ایڈیشن کے ایسے معیار مقرر کیے گئے ہیں جو غیر حقیقی ہیں۔</p>
<p>ایس آر او 760 کے تحت ویلیو ایڈیشن کی شرائط کو اس طرح طے کیا گیا کہ سادہ چوڑیوں اور چینز کیلئے بین الاقوامی سطح پر سونے کی رائج قیمت کا 8 فیصد، دیگر سادہ زیورات کے لیے 12 فیصد، جبکہ نگینوں والے یا جڑاؤ زیورات کے لیے سونے کی عالمی قیمت کا 13 فیصد ویلیو ایڈیشن کے طور پر حاصل کرنا لازمی ہے۔</p>
<p>صنعت کے مطابق یہ فیصد خالص سونے کے زیورات کے لیے عالمی مارکیٹ کی اصل حقیقتوں کی عکاسی نہیں کرتے اور عالمی تجارتی تنظیم  کے کسٹمز ویلیویشن کے اصولوں سے بھی متصادم ہیں۔ ان کا مؤقف ہے کہ ویلیو ایڈیشن کا تعین من مانی فیصد کے بجائے زیورات کی تیاری کی اصل لاگت اور مناسب منافع کی بنیاد پر ہونا چاہیے۔</p>
<p>صنعت کا دعویٰ ہے کہ موجودہ فریم ورک جائز برآمد کنندگان کے لیے قانونی تقاضوں کو پورا کرنا عملی طور پر ناممکن بنا دیتا ہے اور یہ وزارتِ تجارت  کے قانونی اختیارات سے بھی تجاوز ہے۔ خط میں نشاندہی کی گئی ہے کہ ایکسپورٹ پالیسی آرڈر  کے شیڈول-IV میں کم از کم برآمدی قیمت  صرف جراحی کے آلات کے لیے مقرر ہے؛ لہذا، زیورات کے لیے ویلیو ایڈیشن کے معیار مقرر کرنا ’الٹرا وائرس‘ یعنی قانونی اختیارات سے باہر اور وزارتِ تجارت کے دائرہ اختیار سے تجاوز ہے۔ مزید برآں، پاکستان اور بھارت کے علاوہ دنیا کا کوئی بھی ملک سونے کے زیورات کی برآمد پر کم از کم برآمدی قیمت یا اس جیسی دیگر پابندیاں عائد نہیں کرتا۔</p>
<p>علاقائی طریقوں کا موازنہ کرتے ہوئے صنعت نے نشاندہی کی کہ بھارت میں ویلیو ایڈیشن کے معیار سادہ زیورات کے لیے 3 فیصد اور جڑاؤ یا نگینوں والے زیورات کے لیے 6 فیصد ہیں، جبکہ پاکستان میں اس کے مقابلے میں یہ شرح بالترتیب 6 فیصد، 8 فیصد اور 13 فیصد ہے۔ اس کے نتیجے میں، پاکستان کی شرح بھارت کے مقابلے میں بالترتیب 37.5 فیصد اور 46 فیصد زیادہ ہے، جس نے عالمی منڈیوں میں پاکستانی برآمد کنندگان کی مسابقت کو شدید متاثر کیا ہے۔</p>
<p>خط میں مزید واضح کیا گیا ہے کہ عالمی سطح پر زیورات سونے کی قیمتوں کے تناسب  کے بجائے فی گرام مزدوری  کی بنیاد پر فروخت کیے جاتے ہیں، جس کی وجہ سے پاکستان کا موجودہ طریقہ کار غیر منطقی اور غیر منصفانہ ہے۔ جب 2013 میں SRO 760 جاری کیا گیا تھا، تب سونے کی بین الاقوامی قیمت تقریباً 1,380 ڈالر فی اونس (تقریباً 44 ڈالر فی گرام) تھی۔ اب سونے کی قیمتیں بڑھ کر 4,100 ڈالر فی اونس (تقریباً 132 ڈالر فی گرام) سے تجاوز کر چکی ہیں  جو کہ تقریباً 300 فیصد اضافہ بنتا ہے — لیکن ویلیو ایڈیشن کے وہی پرانے فیصد اب بھی برقرار ہیں۔</p>
<p>موجودہ قیمتوں پر 13 فیصد ویلیو ایڈیشن تقریباً 17 ڈالر فی گرام میکنگ چارجز بنتے ہیں، جبکہ برآمد کنندگان بین الاقوامی مارکیٹ میں صرف 4 سے 5 ڈالر فی گرام وصول کر سکتے ہیں۔ اس سے برآمد کنندگان کو اضافی 13 ڈالر فی گرام جمع کرانا پڑتا ہے، جو تجارتی لحاظ سے غیر ممکن ہے۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2025</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40280984</guid>
      <pubDate>Sun, 28 Dec 2025 18:42:27 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (مشتاق گھمن)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/12/281248244c96fff.webp" type="image/webp" medium="image" height="320" width="480">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/12/281248244c96fff.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
