<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Pakistan</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 14:18:25 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 14:18:25 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پاکستان کا وقار دنیا بھر میں بلند ہوا:اسحاق ڈار</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40280980/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;نائب وزیرِ اعظم اور وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ موجودہ قیادت کی جانب سے اپنائی گئی اصولی، فعال اور نتائج پر مبنی سفارت کاری کی بدولت پاکستان کے بین الاقوامی وقار میں بہتری آئی ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ بات  اسحاق ڈار نے میڈیا سے گفتگو کے دوران پاکستان کی 2025 میں سفارتی کوششوں کا جائزہ دیتے ہوئے کہی۔ انہوں نے پاک بھاری جنگ، حالیہ دورۂ بنگلہ دیش، چین کے ساتھ تعلقات، سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدہ اور دیگر اہم وسطی ایشیائی اور خلیجی ریاستوں کے ساتھ روابط پر بات کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مئی میں دونوں ممالک کے درمیان فوجی کشیدگی کے دوران بھارت پر پاکستان کی کامیابی کو سراہا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ مئی میں پاکستان کی فتح کے ساتھ دنیا کو ایک مضبوط پیغام بھیجا گیا۔ انہوں نے کہا کہ ایک سال قبل پاکستان کو سفارتی طور پر الگ تھلگ ملک کے طور پر جانا جاتا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مئی کے تنازع پر گفتگو کرتے ہوئے، نائب وزیرِ اعظم نے کہا کہ پاکستانی افواج نے بھارت کے علاقائی بالادستی کے دعوے کو ملیا میٹ کر دیا اور چار روزہ کشیدگی کے دوران بھارت کا علاقائی سلامتی کا ضامن ہونے کا دعویٰ بھی بری طرح ناکام ثابت ہوا۔&lt;br&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ نور خان ایئر بیس پر حملہ بھارت کی بڑی غلطی تھی، اور پاکستانی افواج نے بھارت کے غرور کو خاک میں ملا دیا۔ 9 مئی کی رات کو ملکی اور فوجی قیادت نے بھارت کو جواب دینے کا فیصلہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان نے بہترین حکمت عملی اپنائی اور بھارت کی جارحیت کا شایانِ شان جواب دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان اور بنگلہ دیش کے تعلقات میں برف پگھلنے کا آغاز&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نائب وزیراعظم نے یہ بھی بتایا کہ بنگلہ دیش کے ساتھ تعلقات میں ایک اہم برف شکن پیش رفت ہوئی ہے کیونکہ دونوں ممالک کے روابط دوبارہ بحال ہو گئے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسحاق ڈار نے یاد دلایا کہ 2012 میں حنا ربانی نے بنگلہ دیش کا دورہ کیا تھا، لیکن اس کے بعد وہاں کی ”پاکستان مخالف“ حکومت کی وجہ سے کوئی رابطہ نہیں ہوا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا، ”میرا بنگلہ دیش کا 36 گھنٹے کا دورہ بہت تعمیری رہا۔ میں نے وہاں چیف ایگزیکٹو، وزیرِ خارجہ اور کابینہ کے وزراء و مشیروں کے ساتھ ملاقاتیں کیں۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسحاق ڈار نے کہا کہ میرے 36 گھنٹے کے دورے کے دوران، میں نے پاکستان کے لیے خیرسگالی کے بڑے اشارے دیکھے،“ اور یہ بھی کہا کہ اسلام آباد فروری کے انتخابات کے بعد ڈھاکہ کے ساتھ فعال رابطہ رکھے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وفاقی وزیر نے کہا کہ بحران کے دوران پاکستان کی سفارت کاری نے ہمارے فعال رویے کو ظاہر کیا اور یہ دکھایا کہ ہم چیلنجز کو مواقع میں تبدیل کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں اور اصولی مصروفیت کے ذریعے مؤثر بیانیہ پیش کر سکتے ہیں۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکہ کے ساتھ مثبت تعلقات: نائب وزیراعظم نے کہا کہ امریکی صدر نے پاکستان کی فتح کے بارے میں دنیا کو 60 سے زیادہ بار آگاہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اور امریکہ کے درمیان تجارتی حجم 13.28 ارب ڈالر تک پہنچ گیا ہے، ہمارے پاس تجارتی فائدہ ہے، اور دہشت گردی کے خلاف تعاون میں اضافہ ہوا ہے۔ امریکہ نے اس سال بی ایل اے اور ماجد بریگیڈ کو عالمی دہشت گرد تنظیمیں قرار دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے پاکستان-بھارت جنگ بندی میں امریکہ کے فعال کردار کو سراہا۔ انہوں نے کہا، ”اسی وجہ سے ہم نے 11 جون کو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو نوبل امن انعام 2026 کے لیے نامزد کیا۔“ ڈار نے مزاحیہ انداز میں کہا، ”صدر ٹرمپ نے مئی کے تنازعے میں ہماری کامیابی کی سب سے زیادہ تبلیغ کی۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نائب وزیراعظم نے کہا کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر تبادلہ خیال کیا اور زور دیا کہ مسئلہ کشمیر کو ریفرنڈم کے ذریعے حل کیا جائے تاکہ کشمیری عوام اپنا مستقبل خود طے کر سکیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسحاق ڈار نے مزید کہا کہ جب تک کشمیر کا مسئلہ حل نہیں ہوتا، اس خطے میں دیرپا امن قائم نہیں ہو سکتا۔ انہوں نے کہا کہ بھارت نے پہلگام واقعے کے حوالے سے پاکستان پر بے بنیاد الزامات لگائے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ حکومت کو پاکستان کو معاشی طاقت بنانا ہے اور وزیراعظم شہباز شریف ملک کو معاشی طور پر مضبوط اور مستحکم بنانے کی کوششیں کر رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2025&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>نائب وزیرِ اعظم اور وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ موجودہ قیادت کی جانب سے اپنائی گئی اصولی، فعال اور نتائج پر مبنی سفارت کاری کی بدولت پاکستان کے بین الاقوامی وقار میں بہتری آئی ہے۔</strong></p>
<p>یہ بات  اسحاق ڈار نے میڈیا سے گفتگو کے دوران پاکستان کی 2025 میں سفارتی کوششوں کا جائزہ دیتے ہوئے کہی۔ انہوں نے پاک بھاری جنگ، حالیہ دورۂ بنگلہ دیش، چین کے ساتھ تعلقات، سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدہ اور دیگر اہم وسطی ایشیائی اور خلیجی ریاستوں کے ساتھ روابط پر بات کی۔</p>
<p>انہوں نے مئی میں دونوں ممالک کے درمیان فوجی کشیدگی کے دوران بھارت پر پاکستان کی کامیابی کو سراہا۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ مئی میں پاکستان کی فتح کے ساتھ دنیا کو ایک مضبوط پیغام بھیجا گیا۔ انہوں نے کہا کہ ایک سال قبل پاکستان کو سفارتی طور پر الگ تھلگ ملک کے طور پر جانا جاتا تھا۔</p>
<p>مئی کے تنازع پر گفتگو کرتے ہوئے، نائب وزیرِ اعظم نے کہا کہ پاکستانی افواج نے بھارت کے علاقائی بالادستی کے دعوے کو ملیا میٹ کر دیا اور چار روزہ کشیدگی کے دوران بھارت کا علاقائی سلامتی کا ضامن ہونے کا دعویٰ بھی بری طرح ناکام ثابت ہوا۔<br></p>
<p>انہوں نے کہا کہ نور خان ایئر بیس پر حملہ بھارت کی بڑی غلطی تھی، اور پاکستانی افواج نے بھارت کے غرور کو خاک میں ملا دیا۔ 9 مئی کی رات کو ملکی اور فوجی قیادت نے بھارت کو جواب دینے کا فیصلہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان نے بہترین حکمت عملی اپنائی اور بھارت کی جارحیت کا شایانِ شان جواب دیا۔</p>
<p>پاکستان اور بنگلہ دیش کے تعلقات میں برف پگھلنے کا آغاز</p>
<p>نائب وزیراعظم نے یہ بھی بتایا کہ بنگلہ دیش کے ساتھ تعلقات میں ایک اہم برف شکن پیش رفت ہوئی ہے کیونکہ دونوں ممالک کے روابط دوبارہ بحال ہو گئے ہیں۔</p>
<p>اسحاق ڈار نے یاد دلایا کہ 2012 میں حنا ربانی نے بنگلہ دیش کا دورہ کیا تھا، لیکن اس کے بعد وہاں کی ”پاکستان مخالف“ حکومت کی وجہ سے کوئی رابطہ نہیں ہوا۔</p>
<p>انہوں نے کہا، ”میرا بنگلہ دیش کا 36 گھنٹے کا دورہ بہت تعمیری رہا۔ میں نے وہاں چیف ایگزیکٹو، وزیرِ خارجہ اور کابینہ کے وزراء و مشیروں کے ساتھ ملاقاتیں کیں۔“</p>
<p>اسحاق ڈار نے کہا کہ میرے 36 گھنٹے کے دورے کے دوران، میں نے پاکستان کے لیے خیرسگالی کے بڑے اشارے دیکھے،“ اور یہ بھی کہا کہ اسلام آباد فروری کے انتخابات کے بعد ڈھاکہ کے ساتھ فعال رابطہ رکھے گا۔</p>
<p>وفاقی وزیر نے کہا کہ بحران کے دوران پاکستان کی سفارت کاری نے ہمارے فعال رویے کو ظاہر کیا اور یہ دکھایا کہ ہم چیلنجز کو مواقع میں تبدیل کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں اور اصولی مصروفیت کے ذریعے مؤثر بیانیہ پیش کر سکتے ہیں۔“</p>
<p>امریکہ کے ساتھ مثبت تعلقات: نائب وزیراعظم نے کہا کہ امریکی صدر نے پاکستان کی فتح کے بارے میں دنیا کو 60 سے زیادہ بار آگاہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اور امریکہ کے درمیان تجارتی حجم 13.28 ارب ڈالر تک پہنچ گیا ہے، ہمارے پاس تجارتی فائدہ ہے، اور دہشت گردی کے خلاف تعاون میں اضافہ ہوا ہے۔ امریکہ نے اس سال بی ایل اے اور ماجد بریگیڈ کو عالمی دہشت گرد تنظیمیں قرار دیا۔</p>
<p>انہوں نے پاکستان-بھارت جنگ بندی میں امریکہ کے فعال کردار کو سراہا۔ انہوں نے کہا، ”اسی وجہ سے ہم نے 11 جون کو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو نوبل امن انعام 2026 کے لیے نامزد کیا۔“ ڈار نے مزاحیہ انداز میں کہا، ”صدر ٹرمپ نے مئی کے تنازعے میں ہماری کامیابی کی سب سے زیادہ تبلیغ کی۔“</p>
<p>نائب وزیراعظم نے کہا کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر تبادلہ خیال کیا اور زور دیا کہ مسئلہ کشمیر کو ریفرنڈم کے ذریعے حل کیا جائے تاکہ کشمیری عوام اپنا مستقبل خود طے کر سکیں۔</p>
<p>اسحاق ڈار نے مزید کہا کہ جب تک کشمیر کا مسئلہ حل نہیں ہوتا، اس خطے میں دیرپا امن قائم نہیں ہو سکتا۔ انہوں نے کہا کہ بھارت نے پہلگام واقعے کے حوالے سے پاکستان پر بے بنیاد الزامات لگائے ہیں۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ حکومت کو پاکستان کو معاشی طاقت بنانا ہے اور وزیراعظم شہباز شریف ملک کو معاشی طور پر مضبوط اور مستحکم بنانے کی کوششیں کر رہے ہیں۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2025</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40280980</guid>
      <pubDate>Sun, 28 Dec 2025 11:51:50 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (فدا حسین)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/12/281142534dc2059.webp" type="image/webp" medium="image" height="1067" width="1600">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/12/281142534dc2059.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
