<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Pakistan</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 04 Jun 2026 01:00:48 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 04 Jun 2026 01:00:48 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>جنگ بچوں کا کھیل نہیں ہے، صدر زرداری کا بھارت کو پیغام</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40280978/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;صدر زرداری نے کہا ہے کہ جب بھارت نے جارحیت کا سہارا لیا تو پاکستان نے بھرپور جواب دیا اور ہر شہری ملک کی خودمختاری کے تحفظ کے لیے پرعزم ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;صدر زرداری نے گڑھی خدابخش میں شہید بینظیر بھٹو کی 18 ویں برسی پر خطاب کرتے ہوئے بھارت کو کہا کہ جنگ کھیل نہیں ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;صدر زرداری نے کہا کہ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے بھارتی جارحیت کا بھرپور جواب دیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کے فیصلہ کن موقف کے بعد نئی دہلی کو احساس ہو گیا ہے کہ جنگ بچوں کا کھیل نہیں ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;صدر زرداری نے کہا کہ پاکستان کے کمانڈر انچیف نے ازلی دشمن کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بھارت کو جواب دیا۔  انہوں نے کہا کہ بھارت چار دن بھی تنازعہ کو برقرار نہیں رکھ سکا اور وزیراعظم نریندر مودی کو اب یہ سمجھنا چاہیے کہ جنگ کے لیے حوصلہ، عزم اور قربانی درکار ہوتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;صدر زرداری نے فیلڈ مارشل عاصم منیر کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ ان کی قیادت نے بھارت کو واضح اور بھرپور جواب دیا۔ انہوں نے کہا کہ آرمی چیف نے قوم کے ساتھ مضبوطی سے کھڑے رہ کر پاکستان کی خودمختاری کے تحفظ میں اہم کردار ادا کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;زرداری نے دعویٰ کیا کہ بین الاقوامی برادری اب پاکستان کے موقف اور قیادت کو تسلیم کررہی ہے اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی فیلڈ مارشل عاصم منیر کی تعریف کی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;صدر زرداری نے شہید بینظیر بھٹو کے قتل کے بعد کے حالات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ملک کو پاکستان کھپے کے نعرے سے بچایا گیا، جس نے افراتفری اور غیر یقینی صورتحال کو روکنے میں مدد دی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ بینظیر بھٹو کی قربانی نے پاکستان کے جمہوری سفر اور قومی اتحاد کو ایک نازک موقع پر مضبوط کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;صدر زرداری نے بھارت کے فوجی برتری کے دعووں کو چیلنج کرتے ہوئے کہا کہ صرف تعداد سے جنگ نہیں جیتی جاسکتی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ لڑنے کے لیے دل اور گردہ چاہیے،پاکستان اگر چاہتا تو مزید بھارتی طیارے مار گرا سکتا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے خبردار کیا کہ جو بھی پاکستان کی سرزمین کو میلی آنکھ (بدنیتی) سے دیکھے گا اسے منہ توڑ جواب دیا جائے گا، اور اس بات پر زور دیا کہ پاکستان امن کا خواہشمند ہے لیکن اپنا دفاع کرنے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;صدر زرداری نے کہا کہ ملک کی معیشت کو پچھلی حکومت نے نقصان پہنچایا تھا، لیکن اب معاشی بحالی کی کوششوں کے ساتھ عالمی برادری کے ساتھ تعلقات بھی بہتر ہورہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے اس بات کا اعادہ کیا کہ پاکستان جنگ کا شوقین نہیں لیکن جب بھی ملک کی خودمختاری کو خطرہ لاحق ہوا، اس کی مسلح افواج بھرپور اور فیصلہ کن جواب دینے کے لیے تیار ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایک ذاتی لمحہ شیئر کرتے ہوئے صدر نے کہا کہ تنازع کے دوران انہیں بنکر میں منتقل ہونے کا مشورہ دیا گیا تھا لیکن انہوں نے یہ کہتے ہوئے انکار کر دیا کہ لیڈر کبھی بنکرز میں نہیں مرتے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے یہ کہتے ہوئے اپنی بات مکمل کی کہ جب بھی مادرِ وطن پکارے گا، پاکستانی ملک کے لیے اپنی جانوں، صلاحیتوں اور وسائل کی قربانی دینے سے کبھی دریغ نہیں کریں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے  کہا کہ 2025 کے دوران بھارت کے خلاف حاصل ہونے والی فتح پاکستان کی سب سے بڑی کامیابی تھی، انہوں نے مزید کہا کہ ذوالفقار علی بھٹو نے اس ملک کو ایٹمی قوت بنایا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ بینظیر بھٹو کی شہادت کو 18 سال بیت چکے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ چاروں صوبوں سے جمع ہونے والے عوام دہشت گردوں اور ان کے قاتلوں کو سب سے مضبوط جواب ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ دنیا کو یہ پیغام ملتا ہے کہ بینظیر بھٹو اپنے چاہنے والوں کی محبت کے ذریعے آج بھی زندہ ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بلاول نے کہا کہ مئی میں بھارت کے خلاف پاکستان کی فتح پوری قوم کی فتح تھی اور اسے عالمی سطح پر تسلیم کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ گڑھی خدابخش سے وابستہ قربانیاں پاکستان کو ایٹمی طاقت بنانے میں مددگار ثابت ہوئیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مزید کہا کہ آصف علی زرداری نے سی پیک کی بنیاد رکھ کر چین کے ساتھ دوستی کو مضبوط کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;معاشی صورتحال پر بات کرتے ہوئے بلاول بھٹو نے کہا کہ ملک سیاسی اور اقتصادی چیلنجز کا سامنا کررہا ہے اور زور دیا کہ پیپلز پارٹی وفاقی مسائل کو اپنا سمجھتی ہے اور عوام کی راحت کیلئے پرعزم ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بلاول بھٹو زرداری نے پیپلز پارٹی کی قیادت میں چلائے جانے والے اقدامات پر روشنی ڈالی جن میں بینظیر انکم سپورٹ پروگرام، مفت صحت کی سہولیات، سندھ میں غریب خواتین کے لیے ہاؤسنگ اور زرعی اصلاحات شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بلاول نے زور دیا کہ بینظیر بھٹو کا آخری پیغام مصالحت تھا اور کہا کہ قومی بحرانوں پر قابو پانے کے لیے سیاسی انتہاپسندی کو ترک کرنا ضروری ہے۔ انہوں نے تمام سیاسی قوتوں سے اپیل کی کہ سیاست کو جمہوری حدود میں واپس لایا جائے اور قومی مفاد کو مدنظر رکھا جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بلاول نے کہا کہ پیپلز پارٹی ایک وفاقی جماعت ہے جو قومی اور صوبائی سطح پر خلوص کے ساتھ سیاست کرتی ہے اور مرکز کے مسائل اور مشکلات کو اپنا سمجھتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگر وفاقی حکومت کے لیے مالی وسائل کا مسئلہ ہے تو ایک محب وطن کی حیثیت سے میں چاہوں گا کہ اسے حل کیا جائے۔ پیپلز پارٹی کی اپنی سیاست اور تاریخ ہے، اور چاروں صوبوں کو جوڑنے والی زنجیر کے طور پر ہمیں یہ ذمہ داری زیادہ ہے کہ ہم مرکز کے مسائل کو حل کرنے کی کوشش کریں اور ساتھ ہی صوبائی حقوق کا تحفظ بھی کریں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ہم سمجھتے ہیں کہ صوبوں سے اختیار چھیننے کی کوششوں کے بجائے بہتر ہوگا کہ وفاقی حکومت صوبوں کو مزید ذمہ داریاں دے، ہم معیشت اور حکومت کے مسائل حل کرنے کے لیے مزید ذمہ داریاں سنبھالنے کے لیے تیار ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے ٹیکس صولی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ وفاقی حکومت کو صوبائی حکومتوں کے ساتھ مل کر کام کرنا چاہیے اور اس ضمن میں انہیں مزید ذمہ داریاں سونپنی چاہیے تاکہ ٹیکس کی وصولی میں اضافہ ہو۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ہم وفاقی بورڈ آف ریونیو سے بہتر ٹیکس وصول کریں گے اور آپ کے مالی بحران ختم کریں گے، حکومت کو بجلی کی سپلائی کے کاروبار سے بھی الگ ہونا چاہیے اور اسے صوبوں کے حوالے کر دینا چاہیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ ہم مرکز سے بہتر کام کریں گے، کئی دیگر طریقے ہیں جن کے ذریعے پیپلز پارٹی وفاقی حکومت کے ساتھ مل کر ان کے مسائل حل کرے گی۔ ہم سب کو مل کر پاکستان کے اقتصادی مسائل ختم کرنے چاہیے تاکہ عوام کے مالی مسائل حل ہو سکیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس سے قبل گڑھی خدابخش میں شہید محترمہ بینظیر بھٹو کی 18ویں برسی منانے کے لیے بڑے ہجوم نے شرکت کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یاد رہے کہ اسی دن 2007 میں بینظیر بھٹوراولپنڈی کے لیاقت باغ میں انتخابی ریلی سے خطاب کے دوران شہید ہو گئی تھیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دریں اثنا حکومت کے اعلیٰ سطح وفد نے ہفتے کو گڑھی خدابخش میں محترمہ بینظیر بھٹو شہید کی برسی کی تقریب میں شرکت کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وفد کی قیادت اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے کی، جس میں وزیراعظم کے مشیر رانا ثناء اللہ، وزیر برائے پارلیمانی امور ڈاکٹر طارق فضل چودھری اور ارکانِ قومی اسمبلی شامل تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وفد نے وزیراعظم شہباز شریف کی خصوصی ہدایت پر برسی کی تقریب میں شرکت کی اور پاکستان پیپلز پارٹی کی مرکزی قیادت سے ملاقات بھی کی۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>صدر زرداری نے کہا ہے کہ جب بھارت نے جارحیت کا سہارا لیا تو پاکستان نے بھرپور جواب دیا اور ہر شہری ملک کی خودمختاری کے تحفظ کے لیے پرعزم ہے۔</strong></p>
<p>صدر زرداری نے گڑھی خدابخش میں شہید بینظیر بھٹو کی 18 ویں برسی پر خطاب کرتے ہوئے بھارت کو کہا کہ جنگ کھیل نہیں ہے۔</p>
<p>صدر زرداری نے کہا کہ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے بھارتی جارحیت کا بھرپور جواب دیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کے فیصلہ کن موقف کے بعد نئی دہلی کو احساس ہو گیا ہے کہ جنگ بچوں کا کھیل نہیں ہے۔</p>
<p>صدر زرداری نے کہا کہ پاکستان کے کمانڈر انچیف نے ازلی دشمن کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بھارت کو جواب دیا۔  انہوں نے کہا کہ بھارت چار دن بھی تنازعہ کو برقرار نہیں رکھ سکا اور وزیراعظم نریندر مودی کو اب یہ سمجھنا چاہیے کہ جنگ کے لیے حوصلہ، عزم اور قربانی درکار ہوتی ہے۔</p>
<p>صدر زرداری نے فیلڈ مارشل عاصم منیر کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ ان کی قیادت نے بھارت کو واضح اور بھرپور جواب دیا۔ انہوں نے کہا کہ آرمی چیف نے قوم کے ساتھ مضبوطی سے کھڑے رہ کر پاکستان کی خودمختاری کے تحفظ میں اہم کردار ادا کیا۔</p>
<p>زرداری نے دعویٰ کیا کہ بین الاقوامی برادری اب پاکستان کے موقف اور قیادت کو تسلیم کررہی ہے اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی فیلڈ مارشل عاصم منیر کی تعریف کی ہے۔</p>
<p>صدر زرداری نے شہید بینظیر بھٹو کے قتل کے بعد کے حالات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ملک کو پاکستان کھپے کے نعرے سے بچایا گیا، جس نے افراتفری اور غیر یقینی صورتحال کو روکنے میں مدد دی۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ بینظیر بھٹو کی قربانی نے پاکستان کے جمہوری سفر اور قومی اتحاد کو ایک نازک موقع پر مضبوط کیا۔</p>
<p>صدر زرداری نے بھارت کے فوجی برتری کے دعووں کو چیلنج کرتے ہوئے کہا کہ صرف تعداد سے جنگ نہیں جیتی جاسکتی۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ لڑنے کے لیے دل اور گردہ چاہیے،پاکستان اگر چاہتا تو مزید بھارتی طیارے مار گرا سکتا تھا۔</p>
<p>انہوں نے خبردار کیا کہ جو بھی پاکستان کی سرزمین کو میلی آنکھ (بدنیتی) سے دیکھے گا اسے منہ توڑ جواب دیا جائے گا، اور اس بات پر زور دیا کہ پاکستان امن کا خواہشمند ہے لیکن اپنا دفاع کرنے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔</p>
<p>صدر زرداری نے کہا کہ ملک کی معیشت کو پچھلی حکومت نے نقصان پہنچایا تھا، لیکن اب معاشی بحالی کی کوششوں کے ساتھ عالمی برادری کے ساتھ تعلقات بھی بہتر ہورہے ہیں۔</p>
<p>انہوں نے اس بات کا اعادہ کیا کہ پاکستان جنگ کا شوقین نہیں لیکن جب بھی ملک کی خودمختاری کو خطرہ لاحق ہوا، اس کی مسلح افواج بھرپور اور فیصلہ کن جواب دینے کے لیے تیار ہیں۔</p>
<p>ایک ذاتی لمحہ شیئر کرتے ہوئے صدر نے کہا کہ تنازع کے دوران انہیں بنکر میں منتقل ہونے کا مشورہ دیا گیا تھا لیکن انہوں نے یہ کہتے ہوئے انکار کر دیا کہ لیڈر کبھی بنکرز میں نہیں مرتے۔</p>
<p>انہوں نے یہ کہتے ہوئے اپنی بات مکمل کی کہ جب بھی مادرِ وطن پکارے گا، پاکستانی ملک کے لیے اپنی جانوں، صلاحیتوں اور وسائل کی قربانی دینے سے کبھی دریغ نہیں کریں گے۔</p>
<p>پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے  کہا کہ 2025 کے دوران بھارت کے خلاف حاصل ہونے والی فتح پاکستان کی سب سے بڑی کامیابی تھی، انہوں نے مزید کہا کہ ذوالفقار علی بھٹو نے اس ملک کو ایٹمی قوت بنایا۔</p>
<p>بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ بینظیر بھٹو کی شہادت کو 18 سال بیت چکے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ چاروں صوبوں سے جمع ہونے والے عوام دہشت گردوں اور ان کے قاتلوں کو سب سے مضبوط جواب ہیں۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ دنیا کو یہ پیغام ملتا ہے کہ بینظیر بھٹو اپنے چاہنے والوں کی محبت کے ذریعے آج بھی زندہ ہیں۔</p>
<p>بلاول نے کہا کہ مئی میں بھارت کے خلاف پاکستان کی فتح پوری قوم کی فتح تھی اور اسے عالمی سطح پر تسلیم کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ گڑھی خدابخش سے وابستہ قربانیاں پاکستان کو ایٹمی طاقت بنانے میں مددگار ثابت ہوئیں۔</p>
<p>انہوں نے مزید کہا کہ آصف علی زرداری نے سی پیک کی بنیاد رکھ کر چین کے ساتھ دوستی کو مضبوط کیا۔</p>
<p>معاشی صورتحال پر بات کرتے ہوئے بلاول بھٹو نے کہا کہ ملک سیاسی اور اقتصادی چیلنجز کا سامنا کررہا ہے اور زور دیا کہ پیپلز پارٹی وفاقی مسائل کو اپنا سمجھتی ہے اور عوام کی راحت کیلئے پرعزم ہے۔</p>
<p>بلاول بھٹو زرداری نے پیپلز پارٹی کی قیادت میں چلائے جانے والے اقدامات پر روشنی ڈالی جن میں بینظیر انکم سپورٹ پروگرام، مفت صحت کی سہولیات، سندھ میں غریب خواتین کے لیے ہاؤسنگ اور زرعی اصلاحات شامل ہیں۔</p>
<p>بلاول نے زور دیا کہ بینظیر بھٹو کا آخری پیغام مصالحت تھا اور کہا کہ قومی بحرانوں پر قابو پانے کے لیے سیاسی انتہاپسندی کو ترک کرنا ضروری ہے۔ انہوں نے تمام سیاسی قوتوں سے اپیل کی کہ سیاست کو جمہوری حدود میں واپس لایا جائے اور قومی مفاد کو مدنظر رکھا جائے۔</p>
<p>بلاول نے کہا کہ پیپلز پارٹی ایک وفاقی جماعت ہے جو قومی اور صوبائی سطح پر خلوص کے ساتھ سیاست کرتی ہے اور مرکز کے مسائل اور مشکلات کو اپنا سمجھتی ہے۔</p>
<p>اگر وفاقی حکومت کے لیے مالی وسائل کا مسئلہ ہے تو ایک محب وطن کی حیثیت سے میں چاہوں گا کہ اسے حل کیا جائے۔ پیپلز پارٹی کی اپنی سیاست اور تاریخ ہے، اور چاروں صوبوں کو جوڑنے والی زنجیر کے طور پر ہمیں یہ ذمہ داری زیادہ ہے کہ ہم مرکز کے مسائل کو حل کرنے کی کوشش کریں اور ساتھ ہی صوبائی حقوق کا تحفظ بھی کریں۔</p>
<p>ہم سمجھتے ہیں کہ صوبوں سے اختیار چھیننے کی کوششوں کے بجائے بہتر ہوگا کہ وفاقی حکومت صوبوں کو مزید ذمہ داریاں دے، ہم معیشت اور حکومت کے مسائل حل کرنے کے لیے مزید ذمہ داریاں سنبھالنے کے لیے تیار ہیں۔</p>
<p>انہوں نے ٹیکس صولی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ وفاقی حکومت کو صوبائی حکومتوں کے ساتھ مل کر کام کرنا چاہیے اور اس ضمن میں انہیں مزید ذمہ داریاں سونپنی چاہیے تاکہ ٹیکس کی وصولی میں اضافہ ہو۔</p>
<p>ہم وفاقی بورڈ آف ریونیو سے بہتر ٹیکس وصول کریں گے اور آپ کے مالی بحران ختم کریں گے، حکومت کو بجلی کی سپلائی کے کاروبار سے بھی الگ ہونا چاہیے اور اسے صوبوں کے حوالے کر دینا چاہیے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ ہم مرکز سے بہتر کام کریں گے، کئی دیگر طریقے ہیں جن کے ذریعے پیپلز پارٹی وفاقی حکومت کے ساتھ مل کر ان کے مسائل حل کرے گی۔ ہم سب کو مل کر پاکستان کے اقتصادی مسائل ختم کرنے چاہیے تاکہ عوام کے مالی مسائل حل ہو سکیں۔</p>
<p>اس سے قبل گڑھی خدابخش میں شہید محترمہ بینظیر بھٹو کی 18ویں برسی منانے کے لیے بڑے ہجوم نے شرکت کی۔</p>
<p>یاد رہے کہ اسی دن 2007 میں بینظیر بھٹوراولپنڈی کے لیاقت باغ میں انتخابی ریلی سے خطاب کے دوران شہید ہو گئی تھیں۔</p>
<p>دریں اثنا حکومت کے اعلیٰ سطح وفد نے ہفتے کو گڑھی خدابخش میں محترمہ بینظیر بھٹو شہید کی برسی کی تقریب میں شرکت کی۔</p>
<p>وفد کی قیادت اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے کی، جس میں وزیراعظم کے مشیر رانا ثناء اللہ، وزیر برائے پارلیمانی امور ڈاکٹر طارق فضل چودھری اور ارکانِ قومی اسمبلی شامل تھے۔</p>
<p>وفد نے وزیراعظم شہباز شریف کی خصوصی ہدایت پر برسی کی تقریب میں شرکت کی اور پاکستان پیپلز پارٹی کی مرکزی قیادت سے ملاقات بھی کی۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40280978</guid>
      <pubDate>Sun, 28 Dec 2025 11:26:40 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (این این آئی)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/12/28112505329b77a.webp" type="image/webp" medium="image" height="768" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/12/28112505329b77a.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
