<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Markets</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 19:00:35 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 19:00:35 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>کراچی کی سڑکوں پر جنوری 2026 سے 5 ڈبل ڈیکر بسیں چلانے کیلئے تیاریاں مکمل، حکام</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40280973/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;کراچی کی سڑکیں جنوری 2026 میں ڈیزل سے چلنے والی پانچ ڈبل ڈیکر اور مزید 34 الیکٹرک بسوں کو خوش آمدید کہنے کے لیے تیار ہیں۔ یہ بات سندھ حکومت کے حکام نے بزنس ریکارڈر کو بتائی ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چھ سے سات دہائیوں کے وقفے کے بعد، یہ ڈبل ڈیکر بسیں پاکستان کے اقتصادی مرکز اور دو بندرگاہوں والے شہر میں تیزی سے بڑھتی ہوئی آبادی کی سہولت کے لئے چلائی جائیں گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سندھ حکومت نے چین سے کل 39 بسیں درآمد کی ہیں جن میں پانچ ڈبل ڈیکر اور 34 الیکٹرک بسیں شامل ہیں، جس پر 3 ارب روپے لاگت آئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ بسیں اس وقت کراچی پورٹ اتھارٹی (کے پی ٹی) سے کلیئرنس حاصل کرنے کے عمل میں ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سندھ ماس ٹرانزٹ اتھارٹی (ایس ایم ٹی اے) کی منیجنگ ڈائریکٹر کنول نظام بھٹو نے بتایا ہے کہ ہم نے منصوبہ بنایا ہے کہ جیسے ہی بسیں پورٹ سے کلیئرنس حاصل کر لیں، یہ ڈبل ڈیکر بسیں شاہراہِ فیصل پر ماڈل کالونی سے ٹاور روٹ پر چلائی جائیں گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے وضاحت کی ہے کہ ڈبل ڈیکر بسوں میں تقریباً 115 تا 120 مسافروں کے بیٹھنے کی جگہیں ہیں۔ یہ اے سی (ایئر کنڈیشنڈ) بسیں ہیں۔ خوشگوار موسم میں بس کی اوپری چھت کھلی رکھی جا سکتی ہے، جبکہ دھوپ یا بارش کے دوران چھت اپنی جگہ پر رہ سکتی ہے۔ یہ بسیں ایک بھاری مسافر روٹ یعنی ماڈل کالونی سے ٹاور روٹ پر متعارف کرائی جا رہی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;blockquote class="blockquote-level-1"&gt;
&lt;p&gt;درآمدی قیمت کا بڑا حصہ کسٹمز اور دیگر درآمدی محصولات کی صورت میں ادا کیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;/blockquote&gt;
&lt;p&gt;وزیرِ ٹرانسپورٹ سندھ شرجیل انعام میمن نے نئے درآمد شدہ بسوں کو شہر کی سڑکوں پر باضابطہ طور پر چلانے کا منصوبہ بنایا ہے، جس کے لیے اس ہفتے یا آئندہ ہفتے ایک تقریب منعقد کی جائے گی، جو اعلیٰ صوبائی حکام کی دستیابی پر منحصر ہوگی، بتایا بھٹو نے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پانچ ڈیزل چلنے والی ڈبل ڈیکر بسیں پہلے مرحلے میں چلائی جائیں گی، کیونکہ صوبائی حکومت اگلے مرحلے میں شہر کے زیادہ بھیڑ والے روٹس کے لیے مزید بسیں درآمد کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کنول نظام بھٹو نے کہا کہ ”اس کے علاوہ، سندھ حکومت نئے روٹس پر ای وی بسیں چلائے گی، جن میں گلشنِ مئیمار سے ٹاور تک کے روٹس شامل ہیں، اور پیپلز بس سروس کو جلد ہی اپر سندھ کے چار نئے شہروں اور اضلاع یعنی حیدرآباد، خیرپور، سکھر اور شکارپور تک بڑھایا جائے گا۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کا مزید کہنا تھا کہ ” ہم یہ بھی غور کر رہے ہیں کہ اگلے مرحلے میں مزید ڈیزل سے چلنے والی ڈبل ڈیکر بسیں درآمد کی جائیں یا ای وی ڈبل ڈیکر بسیں لائی جائیں۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یاد رہے کہ شہر میں 1960 اور حتیٰ کہ 1970 کی دہائی تک ڈبل ڈیکر بسیں چلائی جاتی تھیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سینئر شہری نسیم احمد نے یاد دلایا کہ گجرات ٹرانسپورٹ کمپنی کبھی 1958 سے 1970 کے درمیان کراچی میں ڈبل ڈیکر بسیں چلایا کرتی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;بھاری درآمدی ٹیکسز&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سندھ حکومت نے 39 بسیں 3 ارب روپے کی لاگت سے درآمد کیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کنول نظام بھٹو نے مزید کہا کہ ” درآمد کی قیمت کا بڑا حصہ کسٹمز اور دیگر درآمدی ٹیکسز کی مد میں ادا کیا گیا“، اور اندازہ لگایا کہ یہ ٹیکسز درآمدی لاگت کے آدھے سے زیادہ حصے ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>کراچی کی سڑکیں جنوری 2026 میں ڈیزل سے چلنے والی پانچ ڈبل ڈیکر اور مزید 34 الیکٹرک بسوں کو خوش آمدید کہنے کے لیے تیار ہیں۔ یہ بات سندھ حکومت کے حکام نے بزنس ریکارڈر کو بتائی ہے۔</strong></p>
<p>چھ سے سات دہائیوں کے وقفے کے بعد، یہ ڈبل ڈیکر بسیں پاکستان کے اقتصادی مرکز اور دو بندرگاہوں والے شہر میں تیزی سے بڑھتی ہوئی آبادی کی سہولت کے لئے چلائی جائیں گی۔</p>
<p>سندھ حکومت نے چین سے کل 39 بسیں درآمد کی ہیں جن میں پانچ ڈبل ڈیکر اور 34 الیکٹرک بسیں شامل ہیں، جس پر 3 ارب روپے لاگت آئی۔</p>
<p>یہ بسیں اس وقت کراچی پورٹ اتھارٹی (کے پی ٹی) سے کلیئرنس حاصل کرنے کے عمل میں ہیں۔</p>
<p>سندھ ماس ٹرانزٹ اتھارٹی (ایس ایم ٹی اے) کی منیجنگ ڈائریکٹر کنول نظام بھٹو نے بتایا ہے کہ ہم نے منصوبہ بنایا ہے کہ جیسے ہی بسیں پورٹ سے کلیئرنس حاصل کر لیں، یہ ڈبل ڈیکر بسیں شاہراہِ فیصل پر ماڈل کالونی سے ٹاور روٹ پر چلائی جائیں گی۔</p>
<p>انہوں نے وضاحت کی ہے کہ ڈبل ڈیکر بسوں میں تقریباً 115 تا 120 مسافروں کے بیٹھنے کی جگہیں ہیں۔ یہ اے سی (ایئر کنڈیشنڈ) بسیں ہیں۔ خوشگوار موسم میں بس کی اوپری چھت کھلی رکھی جا سکتی ہے، جبکہ دھوپ یا بارش کے دوران چھت اپنی جگہ پر رہ سکتی ہے۔ یہ بسیں ایک بھاری مسافر روٹ یعنی ماڈل کالونی سے ٹاور روٹ پر متعارف کرائی جا رہی ہیں۔</p>
<blockquote class="blockquote-level-1">
<p>درآمدی قیمت کا بڑا حصہ کسٹمز اور دیگر درآمدی محصولات کی صورت میں ادا کیا گیا ہے۔</p>
</blockquote>
<p>وزیرِ ٹرانسپورٹ سندھ شرجیل انعام میمن نے نئے درآمد شدہ بسوں کو شہر کی سڑکوں پر باضابطہ طور پر چلانے کا منصوبہ بنایا ہے، جس کے لیے اس ہفتے یا آئندہ ہفتے ایک تقریب منعقد کی جائے گی، جو اعلیٰ صوبائی حکام کی دستیابی پر منحصر ہوگی، بتایا بھٹو نے۔</p>
<p>پانچ ڈیزل چلنے والی ڈبل ڈیکر بسیں پہلے مرحلے میں چلائی جائیں گی، کیونکہ صوبائی حکومت اگلے مرحلے میں شہر کے زیادہ بھیڑ والے روٹس کے لیے مزید بسیں درآمد کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔</p>
<p>کنول نظام بھٹو نے کہا کہ ”اس کے علاوہ، سندھ حکومت نئے روٹس پر ای وی بسیں چلائے گی، جن میں گلشنِ مئیمار سے ٹاور تک کے روٹس شامل ہیں، اور پیپلز بس سروس کو جلد ہی اپر سندھ کے چار نئے شہروں اور اضلاع یعنی حیدرآباد، خیرپور، سکھر اور شکارپور تک بڑھایا جائے گا۔“</p>
<p>ان کا مزید کہنا تھا کہ ” ہم یہ بھی غور کر رہے ہیں کہ اگلے مرحلے میں مزید ڈیزل سے چلنے والی ڈبل ڈیکر بسیں درآمد کی جائیں یا ای وی ڈبل ڈیکر بسیں لائی جائیں۔“</p>
<p>یاد رہے کہ شہر میں 1960 اور حتیٰ کہ 1970 کی دہائی تک ڈبل ڈیکر بسیں چلائی جاتی تھیں۔</p>
<p>سینئر شہری نسیم احمد نے یاد دلایا کہ گجرات ٹرانسپورٹ کمپنی کبھی 1958 سے 1970 کے درمیان کراچی میں ڈبل ڈیکر بسیں چلایا کرتی تھی۔</p>
<p><strong>بھاری درآمدی ٹیکسز</strong></p>
<p>سندھ حکومت نے 39 بسیں 3 ارب روپے کی لاگت سے درآمد کیں۔</p>
<p>کنول نظام بھٹو نے مزید کہا کہ ” درآمد کی قیمت کا بڑا حصہ کسٹمز اور دیگر درآمدی ٹیکسز کی مد میں ادا کیا گیا“، اور اندازہ لگایا کہ یہ ٹیکسز درآمدی لاگت کے آدھے سے زیادہ حصے ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Markets</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40280973</guid>
      <pubDate>Sat, 27 Dec 2025 21:36:22 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (سلمان صدیقی)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/12/272114099750182.webp" type="image/webp" medium="image" height="583" width="1280">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/12/272114099750182.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
