<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Business &amp; Finance</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 22:25:49 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 22:25:49 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>صرف ملکیت کی تبدیلی پی آئی اے کے 600 ارب روپے کے سابقہ قرضے کا مسئلہ حل نہیں کر سکتی، عاطف میاں</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40280961/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز (پی آئی اے) کی نجکاری کے باوجود یہ سودا قومی ایئرلائن سے وابستہ مالی بوجھ کے خاتمے کی علامت نہیں ہے۔ یہ بات معروف پاکستانی نژاد امریکی ماہرِ اقتصادیات اور پرنسٹن یونیورسٹی میں معاشیات کے پروفیسر عاطف میاں نے کہی۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عاطف میاں نے ہفتے کو اپنی ویب سائٹ عاطف میاں ڈاٹ کام پر لکھا کہ کچھ مبصرین اس فروخت پر اس طرح خوشیاں منارہے ہیں جیسے پی آئی اے  کی نجکاری سے مالی خسارہ خود بخود رک جائے گا۔ ایسا نہیں ہے ۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ تبصرے ان چند دنوں بعد سامنے آئے جب اے ایچ سی ایل کی قیادت میں بننے والے کنسورشیم نے پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز (پی آئی اے) کے 75 فیصد حصص (اسٹیک) حاصل کرنے کے لیے 135 ارب روپے کی سب سے بڑی بولی دے کر کامیابی حاصل کی۔ یہ بولی حکومت کی ابتدائی کم از کم مقررہ قیمت (100 ارب روپے) اور اس بنیادی قیمت (115 ارب روپے) سے بھی کہیں زیادہ تھی جس پر نیلامی کا آغاز ہوا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماہرِ اقتصادیات نے اس بات کی نشاندہی کی کہ حکومت نے ہولڈنگ کمپنی اب بھی اپنے پاس رکھی ہے جس کے ساتھ تقریباً 650 ارب روپے کے سابقہ خالص واجبات منسلک ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسرے لفظوں میں اس لین دین (سودے) کے نتیجے میں حکومت کو تقریباً 55 ارب روپے کی مالیت حاصل ہورہی ہے لیکن وہ ساتھ ہی تقریباً 650 ارب روپے کے پرانے واجبات (قرضے) بھی اپنے پاس رکھ رہی ہے۔ ان دونوں کا فرق نکالا جائے تو بیلنس شیٹ میں اب بھی تقریباً 600 ارب روپے کا خسارہ باقی بچتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عاطف میاں نے کہا کہ یہ منفی علامت (مائنس سائن) اہمیت رکھتی ہے اور اگر اس سرمائے کی اوسط لاگت کا محتاط اندازہ 10 فیصد بھی لگایا جائے تو اس پرانے قرضے کی ادائیگی (سود) کی مد میں سالانہ تقریباً 60 ارب روپے کے مالیاتی اخراجات آئیں گے۔ نجکاری ہو یا نہ ہو، حکومت ماضی کی بدانتظامیوں کی قیمت ادا کرتی رہے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم عاطف میاں نے اس بات کی نشاندہی بھی کی کہ اس لین دین (سودے) کو محض ظاہری کارروائی قرار دے کر مسترد نہیں کیا جانا چاہیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماہرِ اقتصادیات (عاطف میاں) نے کہا کہ ایک بدبین شخص ان اعدادوشمار کو دیکھ کر یہ نتیجہ نکال سکتا ہے کہ نجکاری صرف ڈوبتے جہاز کی کرسیاں ترتیب دینے (یعنی بے سود کام) کے مترادف ہے لیکن یہ بہت سخت تبصرہ ہوگا۔ یہ سودا درست سمت میں ایک قدم ہے: یہ آپریشنل ایئرلائن کے سر سے قرضوں کا بوجھ ہٹا دیتا ہے اور اسے ایک ایسی نئی انتظامیہ کے سپرد کرتا ہے جس کے پاس بہتر کارکردگی دکھانے کا محرک (انسنٹیو) موجود ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مزید کہا کہ حکومت اب بھی تقریباً 600 ارب روپے کے واجبات لے کر چل رہی ہے۔ پہلی بات یہ ہے کہ پچھلی غلطیوں کے سائے میں آج کے بہتر فیصلوں سے گریز نہ کیا جائے۔ ایئرلائن کو پرانے قرضوں کے بوجھ سے آزاد کرنا اور اسے مارکیٹ کے نارمل ماحول میں کام کرنے دینا ایک درست اقدام تھا، خواہ یہ پرانے بلوں (خسارے) کو ختم نہ بھی کرسکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسرا سبق یہ ہے کہ حکومت، درحقیقت، وسیع تر معیشت میں ایک حصے دار (شیئر ہولڈر) کی حیثیت رکھتی ہے۔ جب کمپنیاں ترقی کرتی ہیں تو حکومت ٹیکس نظام کے ذریعے اس میں شریک ہوتی ہے: زیادہ ملازمین کی تنخواہیں، زیادہ فروخت اور بالآخر منافع، یہ سب چیزیں حکومتی آمدنی میں اضافے کا باعث بنتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ نجکاری کے بعد بہترین صورت یہ نہیں کہ 600 ارب روپے غائب ہو جائیں بلکہ یہ ہے کہ ایک صحت مند ہوائی جہاز کا شعبہ اتنی تیزی سے بڑھے کہ وقت کے ساتھ اس قرض کو ادا کرنے میں مدد دے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عاطف میاں نے یہ بھی اجاگر کیا کہ تمام کوششوں کے باوجود ساختی خطرات اب بھی ایک اہم تشویش ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ پاکستان نے پہلے بھی نجکاری کی ہے،بینکنگ اس کا واضح مثال ہےتاہم آئندہ سالوں میں ترقی مستقل طور پر سست رہی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کا مطلب یہ نہیں کہ نجکاری ناکام ہوئی، بلکہ یہ ایک اہم نکتہ واضح کرتا ہے: ملکیت میں تبدیلی وسیع تر ماحول کی جگہ نہیں لے سکتی جو سرمایہ کاری، مسابقت، اور پیداواری صلاحیت کو فروغ دیتا ہو۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مزید کہا کہ اس ماحولیاتی نظام کے بغیر، نجکاری صرف ایک لین دین بن جاتی ہے، تبدیلی نہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز (پی آئی اے) کی نجکاری کے باوجود یہ سودا قومی ایئرلائن سے وابستہ مالی بوجھ کے خاتمے کی علامت نہیں ہے۔ یہ بات معروف پاکستانی نژاد امریکی ماہرِ اقتصادیات اور پرنسٹن یونیورسٹی میں معاشیات کے پروفیسر عاطف میاں نے کہی۔</strong></p>
<p>عاطف میاں نے ہفتے کو اپنی ویب سائٹ عاطف میاں ڈاٹ کام پر لکھا کہ کچھ مبصرین اس فروخت پر اس طرح خوشیاں منارہے ہیں جیسے پی آئی اے  کی نجکاری سے مالی خسارہ خود بخود رک جائے گا۔ ایسا نہیں ہے ۔</p>
<p>یہ تبصرے ان چند دنوں بعد سامنے آئے جب اے ایچ سی ایل کی قیادت میں بننے والے کنسورشیم نے پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز (پی آئی اے) کے 75 فیصد حصص (اسٹیک) حاصل کرنے کے لیے 135 ارب روپے کی سب سے بڑی بولی دے کر کامیابی حاصل کی۔ یہ بولی حکومت کی ابتدائی کم از کم مقررہ قیمت (100 ارب روپے) اور اس بنیادی قیمت (115 ارب روپے) سے بھی کہیں زیادہ تھی جس پر نیلامی کا آغاز ہوا تھا۔</p>
<p>ماہرِ اقتصادیات نے اس بات کی نشاندہی کی کہ حکومت نے ہولڈنگ کمپنی اب بھی اپنے پاس رکھی ہے جس کے ساتھ تقریباً 650 ارب روپے کے سابقہ خالص واجبات منسلک ہیں۔</p>
<p>دوسرے لفظوں میں اس لین دین (سودے) کے نتیجے میں حکومت کو تقریباً 55 ارب روپے کی مالیت حاصل ہورہی ہے لیکن وہ ساتھ ہی تقریباً 650 ارب روپے کے پرانے واجبات (قرضے) بھی اپنے پاس رکھ رہی ہے۔ ان دونوں کا فرق نکالا جائے تو بیلنس شیٹ میں اب بھی تقریباً 600 ارب روپے کا خسارہ باقی بچتا ہے۔</p>
<p>عاطف میاں نے کہا کہ یہ منفی علامت (مائنس سائن) اہمیت رکھتی ہے اور اگر اس سرمائے کی اوسط لاگت کا محتاط اندازہ 10 فیصد بھی لگایا جائے تو اس پرانے قرضے کی ادائیگی (سود) کی مد میں سالانہ تقریباً 60 ارب روپے کے مالیاتی اخراجات آئیں گے۔ نجکاری ہو یا نہ ہو، حکومت ماضی کی بدانتظامیوں کی قیمت ادا کرتی رہے گی۔</p>
<p>تاہم عاطف میاں نے اس بات کی نشاندہی بھی کی کہ اس لین دین (سودے) کو محض ظاہری کارروائی قرار دے کر مسترد نہیں کیا جانا چاہیے۔</p>
<p>ماہرِ اقتصادیات (عاطف میاں) نے کہا کہ ایک بدبین شخص ان اعدادوشمار کو دیکھ کر یہ نتیجہ نکال سکتا ہے کہ نجکاری صرف ڈوبتے جہاز کی کرسیاں ترتیب دینے (یعنی بے سود کام) کے مترادف ہے لیکن یہ بہت سخت تبصرہ ہوگا۔ یہ سودا درست سمت میں ایک قدم ہے: یہ آپریشنل ایئرلائن کے سر سے قرضوں کا بوجھ ہٹا دیتا ہے اور اسے ایک ایسی نئی انتظامیہ کے سپرد کرتا ہے جس کے پاس بہتر کارکردگی دکھانے کا محرک (انسنٹیو) موجود ہے۔</p>
<p>انہوں نے مزید کہا کہ حکومت اب بھی تقریباً 600 ارب روپے کے واجبات لے کر چل رہی ہے۔ پہلی بات یہ ہے کہ پچھلی غلطیوں کے سائے میں آج کے بہتر فیصلوں سے گریز نہ کیا جائے۔ ایئرلائن کو پرانے قرضوں کے بوجھ سے آزاد کرنا اور اسے مارکیٹ کے نارمل ماحول میں کام کرنے دینا ایک درست اقدام تھا، خواہ یہ پرانے بلوں (خسارے) کو ختم نہ بھی کرسکے۔</p>
<p>دوسرا سبق یہ ہے کہ حکومت، درحقیقت، وسیع تر معیشت میں ایک حصے دار (شیئر ہولڈر) کی حیثیت رکھتی ہے۔ جب کمپنیاں ترقی کرتی ہیں تو حکومت ٹیکس نظام کے ذریعے اس میں شریک ہوتی ہے: زیادہ ملازمین کی تنخواہیں، زیادہ فروخت اور بالآخر منافع، یہ سب چیزیں حکومتی آمدنی میں اضافے کا باعث بنتی ہیں۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ نجکاری کے بعد بہترین صورت یہ نہیں کہ 600 ارب روپے غائب ہو جائیں بلکہ یہ ہے کہ ایک صحت مند ہوائی جہاز کا شعبہ اتنی تیزی سے بڑھے کہ وقت کے ساتھ اس قرض کو ادا کرنے میں مدد دے۔</p>
<p>عاطف میاں نے یہ بھی اجاگر کیا کہ تمام کوششوں کے باوجود ساختی خطرات اب بھی ایک اہم تشویش ہیں۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ پاکستان نے پہلے بھی نجکاری کی ہے،بینکنگ اس کا واضح مثال ہےتاہم آئندہ سالوں میں ترقی مستقل طور پر سست رہی۔</p>
<p>اس کا مطلب یہ نہیں کہ نجکاری ناکام ہوئی، بلکہ یہ ایک اہم نکتہ واضح کرتا ہے: ملکیت میں تبدیلی وسیع تر ماحول کی جگہ نہیں لے سکتی جو سرمایہ کاری، مسابقت، اور پیداواری صلاحیت کو فروغ دیتا ہو۔</p>
<p>انہوں نے مزید کہا کہ اس ماحولیاتی نظام کے بغیر، نجکاری صرف ایک لین دین بن جاتی ہے، تبدیلی نہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40280961</guid>
      <pubDate>Sat, 27 Dec 2025 12:42:06 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/12/27122140205f51c.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/12/27122140205f51c.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
