<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Markets</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 22:09:33 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 22:09:33 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پاکستان میں ڈیجیٹل پیمنٹس کے بڑھتے ہوئے استعمال کے باوجود اعتماد کے مسائل موجود ہیں</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40280953/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;ماہرین کے مطابق فِن ٹیک کے تیزی سے پھیلاؤ کے باوجود پاکستان کا ڈیجیٹل پیمنٹس ایکو سسٹم پیچھے ہے کیونکہ کارڈ ٹرانزیکشنز اکثر ناکام ہو جاتی ہیں اور بین الاقوامی ادائیگیوں پر پابندیاں صارفین کے اعتماد کو کمزور کرتی ہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماہرین نے کہا کہ کاروبار بھی متاثر ہو رہے ہیں کیونکہ ادائیگی کے گیٹ ویز منتشر ہیں، ریگولیٹری رکاوٹیں موجود ہیں اور ڈیجیٹل ٹرسٹ کم ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یومائیکروفنانس بینک کے صدر اور سی ای او توران آصف نے بزنس ریکارڈر سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان کے ڈیجیٹل پیمنٹس منظرنامے میں معنی خیز پیش رفت ہوئی ہے، فِن ٹیک کا استعمال بڑھا ہے اور صارفین کی ڈیجیٹل لین دین کی شرح میں اضافہ ہوا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ آج کے اہم چیلنجز زیادہ تر اپنانے سے نہیں بلکہ غیر یکساں عملدرآمد اور محتاط رسک فریم ورک سے پیدا ہوتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نتیجہ کے طور پر صارفین کارڈ کی ناکامی بین الاقوامی ادائیگیوں تک محدود رسائی، غیر یکساں آن لائن قبولیت، اور سیکیورٹی خدشات کا سامنا کرتے ہیں، جبکہ کاروبار متعدد ادائیگی کے گیٹ ویز، طویل آن بورڈنگ پروسیس، اور ریگولیٹری غیر یقینی صورتحال سے نمٹتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آصف کا کہنا تھا کہ اب موقع عملی اور مرکوز بہتری میں ہے جو فوری نتائج دے سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;توران آصف کے مطابق ناکام ٹرانزیکشنز کو کافی حد تک کم کیا جا سکتا ہے اگر کارڈ جاری کرنے والے ادارے اور نیٹ ورک کے درمیان بہتر ہم آہنگی ہو اور رسک پر مبنی تھری ڈیز توثیق اپنائی جائے تاکہ صرف زیادہ خطرناک ٹرانزیکشنز کے لیے اضافی تصدیق درکار ہو۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ وسیع بین الاقوامی ادائیگی کی پابندیوں کے بجائے، مخصوص استعمال کے لیے فارن ایکسچینج کی حدیں (جیسے ای-کامرس، سبسکرپشن، تعلیم، اور فری لانسنگ) اختیار کی جائیں تو جائز سرگرمی کو فروغ دیا جا سکتا ہے، جبکہ خودکار رپورٹنگ کے ذریعے ریگولیٹری نگرانی بھی برقرار رکھی جا سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کارڈ کی قبولیت کو مضبوط بنانے کے لیے مقامی گیٹ ویز میں مرچنٹ اینیبلمنٹ بڑھائی جائے اور جب کوئی پسندیدہ پیمنٹ چینل دستیاب نہ ہو تو کارڈ، والٹس اور بینک ٹرانسفر کے درمیان اسمارٹ راؤٹنگ متعارف کرائی جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسی دوران، آصف نے کہا کہ صارفین کے اعتماد کو تیز تر تنازعات کے حل، واضح چارج بیک حقوق، ریئل ٹائم ٹرانزیکشن الرٹس، اور فراڈ سے بچاؤ کے اقدامات کی آگاہی کے ذریعے بڑھایا جا سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان اقدامات کے لیے نئی انفرااسٹرکچر کی سرمایہ کاری کی ضرورت نہیں، بلکہ پالیسی ہم آہنگی اور آپریشنل بہتری کافی ہے، اور یہ اقدامات اگلے 6–12 ماہ میں صارفین اور کاروبار دونوں کے لیے ڈیجیٹل پیمنٹس کے تجربے کو نمایاں بہتر بنا سکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جمیل عارف نے کہا کہ پاکستان کو ”گرینڈ بارگین“ کی ضرورت ہے تاکہ ہموار ڈیجیٹل پیمنٹ تجربہ ممکن ہو، جس میں ٹیکس کی اصلاح اور انفراسٹرکچر کی ہم آہنگی پر توجہ دی جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;ol&gt;
&lt;li&gt;پہلے، حکومت کو چھوٹے مرچنٹس کے لیے ڈیجیٹل ٹیکس شیٹر نافذ کرنا چاہیے، تاکہ پیچیدہ آڈٹس کے بجائے مقررہ ٹرن اوور ٹیکس کے ذریعے دستاویزات کے خوف کو کم کیا جا سکے اور پی ٹو ایم ( پرسن ٹو مرچنٹ) اپنانے میں آسانی ہو۔&lt;/li&gt;
&lt;li&gt;دوسرا، اسٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی ) کو اوپن بینکنگ اے پی آئیز لازمی کرنا چاہیے تاکہ فِن ٹیک کمپنیز صارف کے انٹرفیس کو منظم کریں اور بینک لیجر کا انتظام کریں۔&lt;/li&gt;
&lt;/ol&gt;
&lt;p&gt;جمیل عارف نے مزید کہا کہ صنعتی تعاون مرکزی فراڈ مینجمنٹ سسٹم قائم کرنے کے لیے ضروری ہے تاکہ صارفین کا اعتماد بحال ہو سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ موجودہ 3.5 ارب روپے کے راست سبسڈی ماڈل سے نظام کو ویلیو بیسڈ ماڈل میں منتقل کیا جائے، جہاں بینک مرچنٹ کے ڈیٹا کو کریڈٹ سکورنگ کے لیے استعمال کریں نہ کہ ٹرانزیکشن فیس چارج کریں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان کی ڈیجیٹل معیشت کی ترقی پر تبصرہ کرتے ہوئے، جمیل عارف نے کہا کہ “گم شدہ ریڑھ کی ہڈی” مسئلہ مرکزی سوئچ (راست) سے زیادہ کمرشل بینکوں اور انٹرنیٹ کنیکٹیویٹی جیسے “ایج نوڈز” کی کمزوری ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ مالی سال 25 میں ریٹیل ٹرانزیکشنز کے 88 فیصد حجم کو ڈیجیٹل چینلز نے کور کیا، لیکن ایکو سسٹم اب بھی نازک ہے؛ 2024 میں صرف انٹرنیٹ کے خلل کی وجہ سے معیشت کو تخمینہ لگ بھگ 1.62 ارب ڈالر کا نقصان ہوا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عارف نے بتایا کہ اس وقت اسکیل ایبلٹی پرانی بینکنگ سافٹ ویئر کی وجہ سے رکاوٹ کا شکار ہے، جو زیادہ کنکرنسی کے دوران کریش کر جاتا ہے اور گیگ اکانومی کی ریئل ٹائم ضروریات کو پورا نہیں کر پاتا۔ مزید برآں ” نقدی پر انحصار“ کلچر برقرار ہے کیونکہ ڈیجیٹل لوپ مرچنٹ لیول پر ٹوٹ جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ اصل اسکیل ایبلٹی کے لیے بینکنگ کورز کو کلاؤڈ نیٹیو سٹیکس میں اپ گریڈ کرنا اور 38 فیصد سالانہ ٹرانزیکشن حجم کے اضافے کو سپورٹ کرنے کے لیے مستقل کنیکٹیویٹی یقینی بنانا ضروری ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>ماہرین کے مطابق فِن ٹیک کے تیزی سے پھیلاؤ کے باوجود پاکستان کا ڈیجیٹل پیمنٹس ایکو سسٹم پیچھے ہے کیونکہ کارڈ ٹرانزیکشنز اکثر ناکام ہو جاتی ہیں اور بین الاقوامی ادائیگیوں پر پابندیاں صارفین کے اعتماد کو کمزور کرتی ہیں۔</strong></p>
<p>ماہرین نے کہا کہ کاروبار بھی متاثر ہو رہے ہیں کیونکہ ادائیگی کے گیٹ ویز منتشر ہیں، ریگولیٹری رکاوٹیں موجود ہیں اور ڈیجیٹل ٹرسٹ کم ہے۔</p>
<p>یومائیکروفنانس بینک کے صدر اور سی ای او توران آصف نے بزنس ریکارڈر سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان کے ڈیجیٹل پیمنٹس منظرنامے میں معنی خیز پیش رفت ہوئی ہے، فِن ٹیک کا استعمال بڑھا ہے اور صارفین کی ڈیجیٹل لین دین کی شرح میں اضافہ ہوا ہے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ آج کے اہم چیلنجز زیادہ تر اپنانے سے نہیں بلکہ غیر یکساں عملدرآمد اور محتاط رسک فریم ورک سے پیدا ہوتے ہیں۔</p>
<p>نتیجہ کے طور پر صارفین کارڈ کی ناکامی بین الاقوامی ادائیگیوں تک محدود رسائی، غیر یکساں آن لائن قبولیت، اور سیکیورٹی خدشات کا سامنا کرتے ہیں، جبکہ کاروبار متعدد ادائیگی کے گیٹ ویز، طویل آن بورڈنگ پروسیس، اور ریگولیٹری غیر یقینی صورتحال سے نمٹتے ہیں۔</p>
<p>آصف کا کہنا تھا کہ اب موقع عملی اور مرکوز بہتری میں ہے جو فوری نتائج دے سکتی ہے۔</p>
<p>توران آصف کے مطابق ناکام ٹرانزیکشنز کو کافی حد تک کم کیا جا سکتا ہے اگر کارڈ جاری کرنے والے ادارے اور نیٹ ورک کے درمیان بہتر ہم آہنگی ہو اور رسک پر مبنی تھری ڈیز توثیق اپنائی جائے تاکہ صرف زیادہ خطرناک ٹرانزیکشنز کے لیے اضافی تصدیق درکار ہو۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ وسیع بین الاقوامی ادائیگی کی پابندیوں کے بجائے، مخصوص استعمال کے لیے فارن ایکسچینج کی حدیں (جیسے ای-کامرس، سبسکرپشن، تعلیم، اور فری لانسنگ) اختیار کی جائیں تو جائز سرگرمی کو فروغ دیا جا سکتا ہے، جبکہ خودکار رپورٹنگ کے ذریعے ریگولیٹری نگرانی بھی برقرار رکھی جا سکتی ہے۔</p>
<p>کارڈ کی قبولیت کو مضبوط بنانے کے لیے مقامی گیٹ ویز میں مرچنٹ اینیبلمنٹ بڑھائی جائے اور جب کوئی پسندیدہ پیمنٹ چینل دستیاب نہ ہو تو کارڈ، والٹس اور بینک ٹرانسفر کے درمیان اسمارٹ راؤٹنگ متعارف کرائی جائے۔</p>
<p>اسی دوران، آصف نے کہا کہ صارفین کے اعتماد کو تیز تر تنازعات کے حل، واضح چارج بیک حقوق، ریئل ٹائم ٹرانزیکشن الرٹس، اور فراڈ سے بچاؤ کے اقدامات کی آگاہی کے ذریعے بڑھایا جا سکتا ہے۔</p>
<p>ان اقدامات کے لیے نئی انفرااسٹرکچر کی سرمایہ کاری کی ضرورت نہیں، بلکہ پالیسی ہم آہنگی اور آپریشنل بہتری کافی ہے، اور یہ اقدامات اگلے 6–12 ماہ میں صارفین اور کاروبار دونوں کے لیے ڈیجیٹل پیمنٹس کے تجربے کو نمایاں بہتر بنا سکتے ہیں۔</p>
<p>جمیل عارف نے کہا کہ پاکستان کو ”گرینڈ بارگین“ کی ضرورت ہے تاکہ ہموار ڈیجیٹل پیمنٹ تجربہ ممکن ہو، جس میں ٹیکس کی اصلاح اور انفراسٹرکچر کی ہم آہنگی پر توجہ دی جائے۔</p>
<ol>
<li>پہلے، حکومت کو چھوٹے مرچنٹس کے لیے ڈیجیٹل ٹیکس شیٹر نافذ کرنا چاہیے، تاکہ پیچیدہ آڈٹس کے بجائے مقررہ ٹرن اوور ٹیکس کے ذریعے دستاویزات کے خوف کو کم کیا جا سکے اور پی ٹو ایم ( پرسن ٹو مرچنٹ) اپنانے میں آسانی ہو۔</li>
<li>دوسرا، اسٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی ) کو اوپن بینکنگ اے پی آئیز لازمی کرنا چاہیے تاکہ فِن ٹیک کمپنیز صارف کے انٹرفیس کو منظم کریں اور بینک لیجر کا انتظام کریں۔</li>
</ol>
<p>جمیل عارف نے مزید کہا کہ صنعتی تعاون مرکزی فراڈ مینجمنٹ سسٹم قائم کرنے کے لیے ضروری ہے تاکہ صارفین کا اعتماد بحال ہو سکے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ موجودہ 3.5 ارب روپے کے راست سبسڈی ماڈل سے نظام کو ویلیو بیسڈ ماڈل میں منتقل کیا جائے، جہاں بینک مرچنٹ کے ڈیٹا کو کریڈٹ سکورنگ کے لیے استعمال کریں نہ کہ ٹرانزیکشن فیس چارج کریں۔</p>
<p>پاکستان کی ڈیجیٹل معیشت کی ترقی پر تبصرہ کرتے ہوئے، جمیل عارف نے کہا کہ “گم شدہ ریڑھ کی ہڈی” مسئلہ مرکزی سوئچ (راست) سے زیادہ کمرشل بینکوں اور انٹرنیٹ کنیکٹیویٹی جیسے “ایج نوڈز” کی کمزوری ہے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ مالی سال 25 میں ریٹیل ٹرانزیکشنز کے 88 فیصد حجم کو ڈیجیٹل چینلز نے کور کیا، لیکن ایکو سسٹم اب بھی نازک ہے؛ 2024 میں صرف انٹرنیٹ کے خلل کی وجہ سے معیشت کو تخمینہ لگ بھگ 1.62 ارب ڈالر کا نقصان ہوا۔</p>
<p>عارف نے بتایا کہ اس وقت اسکیل ایبلٹی پرانی بینکنگ سافٹ ویئر کی وجہ سے رکاوٹ کا شکار ہے، جو زیادہ کنکرنسی کے دوران کریش کر جاتا ہے اور گیگ اکانومی کی ریئل ٹائم ضروریات کو پورا نہیں کر پاتا۔ مزید برآں ” نقدی پر انحصار“ کلچر برقرار ہے کیونکہ ڈیجیٹل لوپ مرچنٹ لیول پر ٹوٹ جاتا ہے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ اصل اسکیل ایبلٹی کے لیے بینکنگ کورز کو کلاؤڈ نیٹیو سٹیکس میں اپ گریڈ کرنا اور 38 فیصد سالانہ ٹرانزیکشن حجم کے اضافے کو سپورٹ کرنے کے لیے مستقل کنیکٹیویٹی یقینی بنانا ضروری ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Markets</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40280953</guid>
      <pubDate>Fri, 26 Dec 2025 22:33:28 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (گوہر علی خان)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/12/26220039d321809.gif" type="image/gif" medium="image">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/12/26220039d321809.gif"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
