<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Editorials</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 23:00:35 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 23:00:35 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>کیا پی آئی اے کی فروخت کے بعد دیگر اداروں کی نجکاری کا عمل شروع ہوگا؟</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40280937/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;مالی طور پر انتہائی مضبوط گروپ عارف حبیب نے پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز (پی آئی اے) کے 75 فیصد حصص کی بولی جیت لی ہے  جس نے نجکاری کی فہرست میں شامل دیگر سرکاری اداروں کے لیے مقامی اور بین الاقوامی سطح پر سرمایہ کاروں کی دلچسپی کی راہ ہموار کر دی ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ عمل انتہائی شفاف تھا جو گزشتہ سال پی آئی اے کی نجکاری کی اس کوشش کے بالکل برعکس تھا جس میں صرف ایک بولی دہندہ (ایک ریئل اسٹیٹ ٹائیکون) نے حصہ لیا تھا اور انہوں نے یہ تک پوچھا تھا کہ کیا ادائیگی کے عوض زمین دی جاسکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بولی کی قیمت 135 ارب روپے تھی جو کہ روپے اور ڈالر کے موجودہ شرح مبادلہ کے مطابق نصف ارب ڈالر سے تھوڑی کم ہے، یہ حکومت کی مقرر کردہ 100 ارب روپے کی توسیعی  قیمت سے 35 فیصد زیادہ تھی، جس کے ساتھ گروپ نے آئندہ پانچ سالوں میں مزید 80 ارب روپے کی سرمایہ کاری کا عہد بھی کیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گروپ کو اگلے 90 دنوں کے اندر باقی 25 فیصد حصص خریدنے کا پہلے حق حاصل ہوگا، تاہم گروپ کے چیئرمین نے مختلف ذرائع ابلاغ میں کہا کہ فوجی فرٹیلائزر اور/یا مشرق وسطی کی ایئرلائنز کو شامل ہونے کی دعوت دی جائے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ ظاہر کرتا ہے کہ کامیاب بولی دہندہ جس کا ایئرلائن کی صنعت میں کوئی سابقہ تجربہ نہیں، دوسروں کے تجربے سے فائدہ اٹھانے کی خلوص نیت رکھتا ہے اور اس لیے اسے مکمل حمایت حاصل ہونی چاہیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس عمل کی کامیاب تکمیل اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ حکومت کی جانب سے بین الاقوامی مالیاتی فنڈ  کے ساتھ کیا گیا وہ عہد پورا ہو گیا ہے جس کا ذکر ’توسیعی فنڈ سہولت‘ کی دستاویزات کے دسمبر 2025 کے دوسرے جائزے میں کیا گیا تھا (اس حوالے سے اسٹاف لیول معاہدہ 15 اکتوبر 2025 کو طے پایا تھا)۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ (عہد) یہ تھا کہ ہم دسمبر 2025 کے آخر تک پی آئی اے  کی نجکاری کی تکمیل کی توقع رکھتے ہیں، ہم نے روزویلٹ ہوٹل کی نجکاری کیلئے متعدد اخراج کے اختیارات کے ساتھ ایک مشترکہ منصوبے  کے ڈھانچے کا انتخاب کیا ہے اور اب ہم اس لین دین کیلئے متبادل مالیاتی مشیر کی خدمات حاصل کرنے کے عمل کو حتمی شکل دے رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عارف حبیب گروپ نے ابتدائی طور پر 38 طیارے خریدنے اور بعد ازاں طلب کے مطابق مزید 27 طیارے حاصل کرنے کے ارادے کا اظہار بھی کیا ہے۔ تجارتی طیاروں کی قیمتیں مختلف ہوتی ہیں جن میں نیرو باڈی بوئنگ 737 میکس کی قیمت تقریباً 100 ملین ڈالر، ایئربس اے 320 کی تقریباً 110 ملین ڈالر اور ایئربس 350 کی قیمت 300 سے 400 ملین ڈالر کے درمیان ہے، البتہ رپورٹس بتاتی ہیں کہ تقریباً 50 فیصد تک رعایت اور لیزنگ کے اختیارات کی وجہ سے اصل (نیٹ) قیمتیں کافی کم ہوسکتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ ابھی تک واضح نہیں ہے کہ گروپ غیر ملکی زرِ مبادلہ (فارن ایکسچینج) ملک کے اندر سے فراہم کرنے کا ارادہ رکھتا ہے یا باہر سے، یہ ایک ایسا عنصر ہے جس کا اثر ملک کے زرمبادلہ ذخائر پر پڑے گا۔ بہر کیف، پی آئی اے ان 3 سفید ہاتھیوں میں سے ایک ہے، دیگر دو پاکستان اسٹیل اور پاکستان ریلوے ہیں، جنہیں چلتا رکھنے کے لیے ٹیکس دہندگان کے پیسوں سے سالانہ اربوں روپے کے بجٹ انجیکشنز (مالی امداد) کی ضرورت پڑتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پی آئی اے کے نئے مالکان کو دی جانے والی کسی بھی  مانیٹری یا مالیاتی مراعات کی تفصیلات عام عوام کے ساتھ شیئر نہیں کی گئی ہیں، تاہم یہ فرض کرنا غیر مناسب نہیں ہوگا کہ یہ معلومات آئی ایم ایف کے ساتھ ضرور شیئر کی جائیں گی، کیونکہ فنڈ کے جاری پروگرام سے متعلق دستاویزات میں کل سرمایہ کاری کے انخلات اور خصوصی سرمایہ کاری سہولت کونسل (ایس آئی ایف سی) کے ذریعے دی جانے والی کسی بھی مراعات کو شیئر کرنے کی ضرورت پر زور دیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس تناظر میں یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ پی آئی اے کی انتظامیہ پر سیلز ٹیکس وصول کرنے لیکن اسے سرکاری خزانے میں جمع نہ کرانے کا الزام عائد کیا گیا تھا جو کہ قانوناً ایک قابلِ سزا جرم ہے، تاہم یہ واضح ہے کہ نئے مالکان اس کوتاہی کے ذمہ دار نہیں ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عارف حبیب گروپ کا ارادہ نہ صرف طیارے خریدنے یا لیز پر لینے کا ہے بلکہ ممکنہ طور پر دیگر اشیاء بھی حاصل کرنے کا ہے تاکہ قومی ایئرلائن کی خدمات کو دیگر بین الاقوامی کیریئرز کے برابر لایا جا سکے، جس کے لیے بالواسطہ ٹیکسز کی ادائیگی کی ضرورت پڑ سکتی ہے اور اس حوالے سے مزید وضاحت کی توقع کی جانی چاہیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گروپ کے چیئرمین کی جانب سے یہ عظیم سرمایہ کاری کے عزائم قابل ستائش ہیں، تاہم یہ سرمایہ کاری زیادہ تر ملکی اندروانی راستوں کی متوقع بڑی طلب پر منحصر ہوگی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم غیر ملکی مسافروں کو متوجہ کرنے کے لیے ایئرلائن کو مزید خدمات فراہم کرنی ہوں گی جس سے بالواسطہ طور پر زرِ مبادلہ کی آمدنی میں اضافہ ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آخر میں یہ ایک عام معلوم حقیقت ہے کہ ترقی پذیر ممالک میں ڈِ انویسٹمنٹ یا فروخت کا عمل اکثر طویل اور پیچیدہ ہوتا ہے لیکن اس کے باوجود یہ توقع کی جاسکتی ہے کہ پی آئی اے کی فروخت کے بعد حکومت کی فہرست میں شامل دیگر اداروں کی نجکاری کا عمل بھی شروع ہو جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آخر میں یہ کہ یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ خاص طور پر ترقی پذیر ممالک میں حصص کی فروخت  یا ادارے کی مکمل فروخت  کا عمل اکثر طویل اور پیچیدہ ہوتا ہے؛ لیکن اس کے باوجود، یہ کافی حد تک ممکن ہے کہ پی آئی اے کی فروخت کے بعد حکومت کی فہرست میں موجود دیگر اداروں کی نجکاری کا عمل بھی تیزی سے آگے بڑھے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2025&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>مالی طور پر انتہائی مضبوط گروپ عارف حبیب نے پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز (پی آئی اے) کے 75 فیصد حصص کی بولی جیت لی ہے  جس نے نجکاری کی فہرست میں شامل دیگر سرکاری اداروں کے لیے مقامی اور بین الاقوامی سطح پر سرمایہ کاروں کی دلچسپی کی راہ ہموار کر دی ہے۔</strong></p>
<p>یہ عمل انتہائی شفاف تھا جو گزشتہ سال پی آئی اے کی نجکاری کی اس کوشش کے بالکل برعکس تھا جس میں صرف ایک بولی دہندہ (ایک ریئل اسٹیٹ ٹائیکون) نے حصہ لیا تھا اور انہوں نے یہ تک پوچھا تھا کہ کیا ادائیگی کے عوض زمین دی جاسکتی ہے۔</p>
<p>بولی کی قیمت 135 ارب روپے تھی جو کہ روپے اور ڈالر کے موجودہ شرح مبادلہ کے مطابق نصف ارب ڈالر سے تھوڑی کم ہے، یہ حکومت کی مقرر کردہ 100 ارب روپے کی توسیعی  قیمت سے 35 فیصد زیادہ تھی، جس کے ساتھ گروپ نے آئندہ پانچ سالوں میں مزید 80 ارب روپے کی سرمایہ کاری کا عہد بھی کیا ہے۔</p>
<p>گروپ کو اگلے 90 دنوں کے اندر باقی 25 فیصد حصص خریدنے کا پہلے حق حاصل ہوگا، تاہم گروپ کے چیئرمین نے مختلف ذرائع ابلاغ میں کہا کہ فوجی فرٹیلائزر اور/یا مشرق وسطی کی ایئرلائنز کو شامل ہونے کی دعوت دی جائے گی۔</p>
<p>یہ ظاہر کرتا ہے کہ کامیاب بولی دہندہ جس کا ایئرلائن کی صنعت میں کوئی سابقہ تجربہ نہیں، دوسروں کے تجربے سے فائدہ اٹھانے کی خلوص نیت رکھتا ہے اور اس لیے اسے مکمل حمایت حاصل ہونی چاہیے۔</p>
<p>اس عمل کی کامیاب تکمیل اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ حکومت کی جانب سے بین الاقوامی مالیاتی فنڈ  کے ساتھ کیا گیا وہ عہد پورا ہو گیا ہے جس کا ذکر ’توسیعی فنڈ سہولت‘ کی دستاویزات کے دسمبر 2025 کے دوسرے جائزے میں کیا گیا تھا (اس حوالے سے اسٹاف لیول معاہدہ 15 اکتوبر 2025 کو طے پایا تھا)۔</p>
<p>یہ (عہد) یہ تھا کہ ہم دسمبر 2025 کے آخر تک پی آئی اے  کی نجکاری کی تکمیل کی توقع رکھتے ہیں، ہم نے روزویلٹ ہوٹل کی نجکاری کیلئے متعدد اخراج کے اختیارات کے ساتھ ایک مشترکہ منصوبے  کے ڈھانچے کا انتخاب کیا ہے اور اب ہم اس لین دین کیلئے متبادل مالیاتی مشیر کی خدمات حاصل کرنے کے عمل کو حتمی شکل دے رہے ہیں۔</p>
<p>عارف حبیب گروپ نے ابتدائی طور پر 38 طیارے خریدنے اور بعد ازاں طلب کے مطابق مزید 27 طیارے حاصل کرنے کے ارادے کا اظہار بھی کیا ہے۔ تجارتی طیاروں کی قیمتیں مختلف ہوتی ہیں جن میں نیرو باڈی بوئنگ 737 میکس کی قیمت تقریباً 100 ملین ڈالر، ایئربس اے 320 کی تقریباً 110 ملین ڈالر اور ایئربس 350 کی قیمت 300 سے 400 ملین ڈالر کے درمیان ہے، البتہ رپورٹس بتاتی ہیں کہ تقریباً 50 فیصد تک رعایت اور لیزنگ کے اختیارات کی وجہ سے اصل (نیٹ) قیمتیں کافی کم ہوسکتی ہیں۔</p>
<p>یہ ابھی تک واضح نہیں ہے کہ گروپ غیر ملکی زرِ مبادلہ (فارن ایکسچینج) ملک کے اندر سے فراہم کرنے کا ارادہ رکھتا ہے یا باہر سے، یہ ایک ایسا عنصر ہے جس کا اثر ملک کے زرمبادلہ ذخائر پر پڑے گا۔ بہر کیف، پی آئی اے ان 3 سفید ہاتھیوں میں سے ایک ہے، دیگر دو پاکستان اسٹیل اور پاکستان ریلوے ہیں، جنہیں چلتا رکھنے کے لیے ٹیکس دہندگان کے پیسوں سے سالانہ اربوں روپے کے بجٹ انجیکشنز (مالی امداد) کی ضرورت پڑتی ہے۔</p>
<p>پی آئی اے کے نئے مالکان کو دی جانے والی کسی بھی  مانیٹری یا مالیاتی مراعات کی تفصیلات عام عوام کے ساتھ شیئر نہیں کی گئی ہیں، تاہم یہ فرض کرنا غیر مناسب نہیں ہوگا کہ یہ معلومات آئی ایم ایف کے ساتھ ضرور شیئر کی جائیں گی، کیونکہ فنڈ کے جاری پروگرام سے متعلق دستاویزات میں کل سرمایہ کاری کے انخلات اور خصوصی سرمایہ کاری سہولت کونسل (ایس آئی ایف سی) کے ذریعے دی جانے والی کسی بھی مراعات کو شیئر کرنے کی ضرورت پر زور دیا گیا ہے۔</p>
<p>اس تناظر میں یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ پی آئی اے کی انتظامیہ پر سیلز ٹیکس وصول کرنے لیکن اسے سرکاری خزانے میں جمع نہ کرانے کا الزام عائد کیا گیا تھا جو کہ قانوناً ایک قابلِ سزا جرم ہے، تاہم یہ واضح ہے کہ نئے مالکان اس کوتاہی کے ذمہ دار نہیں ہیں۔</p>
<p>عارف حبیب گروپ کا ارادہ نہ صرف طیارے خریدنے یا لیز پر لینے کا ہے بلکہ ممکنہ طور پر دیگر اشیاء بھی حاصل کرنے کا ہے تاکہ قومی ایئرلائن کی خدمات کو دیگر بین الاقوامی کیریئرز کے برابر لایا جا سکے، جس کے لیے بالواسطہ ٹیکسز کی ادائیگی کی ضرورت پڑ سکتی ہے اور اس حوالے سے مزید وضاحت کی توقع کی جانی چاہیے۔</p>
<p>گروپ کے چیئرمین کی جانب سے یہ عظیم سرمایہ کاری کے عزائم قابل ستائش ہیں، تاہم یہ سرمایہ کاری زیادہ تر ملکی اندروانی راستوں کی متوقع بڑی طلب پر منحصر ہوگی۔</p>
<p>تاہم غیر ملکی مسافروں کو متوجہ کرنے کے لیے ایئرلائن کو مزید خدمات فراہم کرنی ہوں گی جس سے بالواسطہ طور پر زرِ مبادلہ کی آمدنی میں اضافہ ہوگا۔</p>
<p>آخر میں یہ ایک عام معلوم حقیقت ہے کہ ترقی پذیر ممالک میں ڈِ انویسٹمنٹ یا فروخت کا عمل اکثر طویل اور پیچیدہ ہوتا ہے لیکن اس کے باوجود یہ توقع کی جاسکتی ہے کہ پی آئی اے کی فروخت کے بعد حکومت کی فہرست میں شامل دیگر اداروں کی نجکاری کا عمل بھی شروع ہو جائے گا۔</p>
<p>آخر میں یہ کہ یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ خاص طور پر ترقی پذیر ممالک میں حصص کی فروخت  یا ادارے کی مکمل فروخت  کا عمل اکثر طویل اور پیچیدہ ہوتا ہے؛ لیکن اس کے باوجود، یہ کافی حد تک ممکن ہے کہ پی آئی اے کی فروخت کے بعد حکومت کی فہرست میں موجود دیگر اداروں کی نجکاری کا عمل بھی تیزی سے آگے بڑھے گا۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2025</p>
]]></content:encoded>
      <category>Editorials</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40280937</guid>
      <pubDate>Fri, 26 Dec 2025 14:27:28 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (اداریہ)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/12/26134616ed74b6c.webp" type="image/webp" medium="image" height="400" width="700">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/12/26134616ed74b6c.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
