<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Business &amp; Finance</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 21:30:57 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 21:30:57 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ایف ٹی او کا غیر منقولہ جائیدادوں سے فرضی آمدن پر ٹیکس میں ریلیف دینے سے انکار</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40280932/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;وفاقی ٹیکس محتسب (ایف ٹی او) نے پنجاب میں غیر منقولہ جائیدادوں کے مالکان کو انکم ٹیکس آرڈیننس 2001  کے سیکشن 7 ای کے تحت فرضی آمدن پر عائد ٹیکس میں ریلیف دینے سے انکار کر دیا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس ضمن میں ایف ٹی او آفس نے نئے وفاقی ٹیکس محتسب کے عہدہ سنبھالنے سے قبل ایک حکم نامہ جاری کیا۔ یہ معاملہ معروف رئیل اسٹیٹ ماہر محمد احسن ملک کی جانب سے ایف ٹی او آفس میں اٹھایا گیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایف ٹی او کے حکم نامے کے مطابق شکایت اور ریکارڈ کے جائزے سے ظاہر ہوتا ہے کہ شکایت کنندہ نے اس فورم سے یہ ہدایت طلب کی تھی کہ سپریم کورٹ کی جانب سے دیے گئے عبوری ریلیف کا فائدہ پنجاب بھر کے تمام ٹیکس دہندگان کو دیا جائے، تاہم یہ مشاہدہ کیا گیا کہ سپریم کورٹ پاکستان اس معاملے پر تفصیلی اور جامع فیصلہ پہلے ہی جاری کر چکی ہے، جس میں ایف بی آر کے ممبر لیگل اور ممبر پالیسی بھی پیش ہوئے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لہٰذا ٹیکس حکام سپریم کورٹ کے مذکورہ فیصلے کی ہدایات پر عمل کرنے کے پابند ہیں اور اس فورم کی جانب سے مزید کسی ہدایت کی ضرورت نہیں۔ چونکہ یہ معاملہ حتمی فیصلے کے لیے تاحال معزز عدالت میں زیر سماعت ہے، اس لیے ایف ٹی او آرڈیننس 2000 کے سیکشن 9(2)(اے ) کے تحت اس دفتر کی جانب سے مزید کسی تحقیقات کی ضرورت نہیں۔ چنانچہ کیس نمٹا دیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;محمد احسن ملک نے ایف ٹی او کو بتایا کہ چونکہ وہ بھی ان ٹیکس دہندگان کی طرح ہیں جنہیں سپریم کورٹ نے پہلے ہی ریلیف دیا ہے، اس لیے آئین کے آرٹیکل 25 کی روح کے مطابق وہ بھی یکساں سلوک کے حق دار ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مزید مؤقف اختیار کیا کہ وہ ریلیف میں برابری چاہتے ہیں اور درخواست کی کہ ایف بی آر کو ہدایت دی جائے کہ ٹیکس سال 2025/2026 کے لیے سیکشن  7 ای کے تحت صرف 50 فیصد ٹیکس واجبات جمع کرائے جائیں، جب تک سپریم کورٹ میں زیر التوا مقدمے کا حتمی فیصلہ نہیں آ جاتا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;شکایت کنندہ نے یہ بھی استدعا کی کہ ایف بی آر کو پابند کیا جائے کہ وہ سپریم کورٹ کی جانب سے دیے گئے عبوری ریلیف کا فائدہ پنجاب بھر کے تمام ٹیکس دہندگان بشمول درخواست گزار کو دے، بقیہ 50 فیصد فرضی آمدن ٹیکس کی وصولی کے لیے کوئی جبری کارروائی نہ کی جائے اور کیس کے حالات کے مطابق کوئی اور مناسب ریلیف بھی فراہم کیا جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب آر ٹی او اسلام آباد نے تحریری جواب جمع کراتے ہوئے بتایا کہ اسلام آباد کیپیٹل ٹیریٹری میں کئی ٹیکس دہندگان رضاکارانہ طور پر سیکشن 7 ای کے تحت  ٹیکس واجبات ادا کر چکے ہیں۔ آر ٹی او کے مطابق سپریم کورٹ نے تمام ٹیکس دہندگان کو ہدایت دی تھی کہ وہ سیکشن سیون ای کے تحت واجب الادا ٹیکس کا 50 فیصد جمع کرائیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آر ٹی او اسلام آباد نے مزید بتایا کہ اب تک بقیہ 50 فیصد ٹیکس کی وصولی کے لیے کوئی جبری کارروائی نہیں کی گئی اور سپریم کورٹ کی ہدایات پر یکساں طور پر عمل کیا جا رہا ہے۔ سماعت کے دوران آر ٹی او کے نمائندے نے بھی مؤقف اختیار کیا کہ سپریم کورٹ کا حکم ہی بالادست ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;محمد احسن ملک نے مزید بتایا کہ سیکشن 7ای  کے خلاف ملک بھر کی تمام ہائی کورٹس میں آئینی درخواستیں دائر کی گئیں۔ سندھ ہائی کورٹ اور لاہور ہائی کورٹ کے ڈویژن بینچ نے ان درخواستوں کو مسترد کر دیا، جبکہ دیگر تمام ہائی کورٹس نے سیکشن 7 ای  کو غیر آئینی قرار دیا۔ اس کے نتیجے میں بلوچستان، خیبر پختونخوا اور اسلام آباد کیپیٹل ٹیریٹری میں سیکشن 7 ای  نافذ نہیں ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ سندھ ہائی کورٹ کے فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا گیا، جو تاحال زیر التوا ہے۔ سپریم کورٹ نے سندھ ہائی کورٹ کے فیصلے کو معطل نہیں کیا تاہم ٹیکس دہندگان کو عبوری ریلیف دیتے ہوئے ہدایت کی کہ وہ سیکشن 7 ای  کے تحت عائد ٹیکس کا صرف 50 فیصد جمع کرائیں، جبکہ بقیہ 50 فیصد حتمی فیصلے سے مشروط ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سپریم کورٹ نے مزید قرار دیا کہ اگر اپیل ٹیکس دہندگان کے حق میں فیصلہ ہوتی ہے تو جمع کرائی گئی رقم واپس کر دی جائے گی اور اگر فیصلے کے برعکس آیا تو باقی ٹیکس وصول کیا جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;محمد احسن ملک کے مطابق اس عبوری ریلیف کے باوجود ایف بی آر پنجاب میں ٹیکس دہندگان پر اس فیصلے کا یکساں اطلاق نہیں کر رہا، جس سے امتیازی سلوک اور مشکلات پیدا ہو رہی ہیں۔ انہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ ایف بی آر کا یہ طرز عمل وفاقی ٹیکس محتسب آرڈیننس 2000 کے سیکشن 2(3) کے تحت بدانتظامی کے زمرے میں آتا ہے کیونکہ یہ من مانی، غیر معقول اور امتیازی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم ایف ٹی او نے تمام دلائل اور حقائق کا جائزہ لینے کے بعد قرار دیا کہ چونکہ معاملہ سپریم کورٹ میں زیر سماعت ہے، اس لیے مزید کسی تحقیقات کی ضرورت نہیں اور کیس بند کیا جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بزنس ریکارڈر، 2025&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>وفاقی ٹیکس محتسب (ایف ٹی او) نے پنجاب میں غیر منقولہ جائیدادوں کے مالکان کو انکم ٹیکس آرڈیننس 2001  کے سیکشن 7 ای کے تحت فرضی آمدن پر عائد ٹیکس میں ریلیف دینے سے انکار کر دیا ہے۔</strong></p>
<p>اس ضمن میں ایف ٹی او آفس نے نئے وفاقی ٹیکس محتسب کے عہدہ سنبھالنے سے قبل ایک حکم نامہ جاری کیا۔ یہ معاملہ معروف رئیل اسٹیٹ ماہر محمد احسن ملک کی جانب سے ایف ٹی او آفس میں اٹھایا گیا تھا۔</p>
<p>ایف ٹی او کے حکم نامے کے مطابق شکایت اور ریکارڈ کے جائزے سے ظاہر ہوتا ہے کہ شکایت کنندہ نے اس فورم سے یہ ہدایت طلب کی تھی کہ سپریم کورٹ کی جانب سے دیے گئے عبوری ریلیف کا فائدہ پنجاب بھر کے تمام ٹیکس دہندگان کو دیا جائے، تاہم یہ مشاہدہ کیا گیا کہ سپریم کورٹ پاکستان اس معاملے پر تفصیلی اور جامع فیصلہ پہلے ہی جاری کر چکی ہے، جس میں ایف بی آر کے ممبر لیگل اور ممبر پالیسی بھی پیش ہوئے تھے۔</p>
<p>لہٰذا ٹیکس حکام سپریم کورٹ کے مذکورہ فیصلے کی ہدایات پر عمل کرنے کے پابند ہیں اور اس فورم کی جانب سے مزید کسی ہدایت کی ضرورت نہیں۔ چونکہ یہ معاملہ حتمی فیصلے کے لیے تاحال معزز عدالت میں زیر سماعت ہے، اس لیے ایف ٹی او آرڈیننس 2000 کے سیکشن 9(2)(اے ) کے تحت اس دفتر کی جانب سے مزید کسی تحقیقات کی ضرورت نہیں۔ چنانچہ کیس نمٹا دیا گیا۔</p>
<p>محمد احسن ملک نے ایف ٹی او کو بتایا کہ چونکہ وہ بھی ان ٹیکس دہندگان کی طرح ہیں جنہیں سپریم کورٹ نے پہلے ہی ریلیف دیا ہے، اس لیے آئین کے آرٹیکل 25 کی روح کے مطابق وہ بھی یکساں سلوک کے حق دار ہیں۔</p>
<p>انہوں نے مزید مؤقف اختیار کیا کہ وہ ریلیف میں برابری چاہتے ہیں اور درخواست کی کہ ایف بی آر کو ہدایت دی جائے کہ ٹیکس سال 2025/2026 کے لیے سیکشن  7 ای کے تحت صرف 50 فیصد ٹیکس واجبات جمع کرائے جائیں، جب تک سپریم کورٹ میں زیر التوا مقدمے کا حتمی فیصلہ نہیں آ جاتا۔</p>
<p>شکایت کنندہ نے یہ بھی استدعا کی کہ ایف بی آر کو پابند کیا جائے کہ وہ سپریم کورٹ کی جانب سے دیے گئے عبوری ریلیف کا فائدہ پنجاب بھر کے تمام ٹیکس دہندگان بشمول درخواست گزار کو دے، بقیہ 50 فیصد فرضی آمدن ٹیکس کی وصولی کے لیے کوئی جبری کارروائی نہ کی جائے اور کیس کے حالات کے مطابق کوئی اور مناسب ریلیف بھی فراہم کیا جائے۔</p>
<p>دوسری جانب آر ٹی او اسلام آباد نے تحریری جواب جمع کراتے ہوئے بتایا کہ اسلام آباد کیپیٹل ٹیریٹری میں کئی ٹیکس دہندگان رضاکارانہ طور پر سیکشن 7 ای کے تحت  ٹیکس واجبات ادا کر چکے ہیں۔ آر ٹی او کے مطابق سپریم کورٹ نے تمام ٹیکس دہندگان کو ہدایت دی تھی کہ وہ سیکشن سیون ای کے تحت واجب الادا ٹیکس کا 50 فیصد جمع کرائیں۔</p>
<p>آر ٹی او اسلام آباد نے مزید بتایا کہ اب تک بقیہ 50 فیصد ٹیکس کی وصولی کے لیے کوئی جبری کارروائی نہیں کی گئی اور سپریم کورٹ کی ہدایات پر یکساں طور پر عمل کیا جا رہا ہے۔ سماعت کے دوران آر ٹی او کے نمائندے نے بھی مؤقف اختیار کیا کہ سپریم کورٹ کا حکم ہی بالادست ہوگا۔</p>
<p>محمد احسن ملک نے مزید بتایا کہ سیکشن 7ای  کے خلاف ملک بھر کی تمام ہائی کورٹس میں آئینی درخواستیں دائر کی گئیں۔ سندھ ہائی کورٹ اور لاہور ہائی کورٹ کے ڈویژن بینچ نے ان درخواستوں کو مسترد کر دیا، جبکہ دیگر تمام ہائی کورٹس نے سیکشن 7 ای  کو غیر آئینی قرار دیا۔ اس کے نتیجے میں بلوچستان، خیبر پختونخوا اور اسلام آباد کیپیٹل ٹیریٹری میں سیکشن 7 ای  نافذ نہیں ہے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ سندھ ہائی کورٹ کے فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا گیا، جو تاحال زیر التوا ہے۔ سپریم کورٹ نے سندھ ہائی کورٹ کے فیصلے کو معطل نہیں کیا تاہم ٹیکس دہندگان کو عبوری ریلیف دیتے ہوئے ہدایت کی کہ وہ سیکشن 7 ای  کے تحت عائد ٹیکس کا صرف 50 فیصد جمع کرائیں، جبکہ بقیہ 50 فیصد حتمی فیصلے سے مشروط ہوگا۔</p>
<p>سپریم کورٹ نے مزید قرار دیا کہ اگر اپیل ٹیکس دہندگان کے حق میں فیصلہ ہوتی ہے تو جمع کرائی گئی رقم واپس کر دی جائے گی اور اگر فیصلے کے برعکس آیا تو باقی ٹیکس وصول کیا جائے گا۔</p>
<p>محمد احسن ملک کے مطابق اس عبوری ریلیف کے باوجود ایف بی آر پنجاب میں ٹیکس دہندگان پر اس فیصلے کا یکساں اطلاق نہیں کر رہا، جس سے امتیازی سلوک اور مشکلات پیدا ہو رہی ہیں۔ انہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ ایف بی آر کا یہ طرز عمل وفاقی ٹیکس محتسب آرڈیننس 2000 کے سیکشن 2(3) کے تحت بدانتظامی کے زمرے میں آتا ہے کیونکہ یہ من مانی، غیر معقول اور امتیازی ہے۔</p>
<p>تاہم ایف ٹی او نے تمام دلائل اور حقائق کا جائزہ لینے کے بعد قرار دیا کہ چونکہ معاملہ سپریم کورٹ میں زیر سماعت ہے، اس لیے مزید کسی تحقیقات کی ضرورت نہیں اور کیس بند کیا جاتا ہے۔</p>
<p>بزنس ریکارڈر، 2025</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40280932</guid>
      <pubDate>Fri, 26 Dec 2025 12:49:16 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (سہیل سرفراز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/12/2612343266e52ec.webp" type="image/webp" medium="image" height="521" width="870">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/12/2612343266e52ec.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
