<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Business &amp; Finance</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 04 Jun 2026 01:53:04 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 04 Jun 2026 01:53:04 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>گڈز ٹرانسپورٹرز نے ہڑتال ختم کرنے کے بعد کرایوں میں دگنا اضافہ کردیا</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40280924/</link>
      <description>&lt;p&gt;گڈز ٹرانسپورٹرز کی ہڑتال ختم ہونے کے ایک ہفتے بعد بھی کراچی کی بندرگاہ کے مختلف کنٹینر ٹرمینلز سے درآمد و برآمدی کنٹینرز کی نقل و حمل معمول پر نہیں آسکی ہے بلکہ صورتحال اب افراتفری کا شکار ہو چکی ہے جس نے کسی بھی احتجاج سے کہیں زیادہ بڑے بحران کو بے نقاب کردیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کراچی کسٹمز ایجنٹس ایسوسی ایشن کے جنرل سیکریٹری شیخ وقاص انجم کے مطابق ہڑتال کے دوران بندرگاہ پر رکے ہوئے ہزاروں کنسائمنٹس ترسیل کے لیے سڑکوں پر آنے سے ٹریفک منیجمنٹ سسٹم کی واضح کمزوریاں سامنے آگئی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ مال بردار ٹرکوں کی آمد سے بندرگاہ کے ناصرف اطراف کی سڑکوں پر ٹریفک دباو بڑھ گیا ہے بلکہ کیماڑی، گل بائی اور ماڑی پور سمیت بھاری ٹریفک کی گزرگاہوں پر بھی رش خوفناک حد تک بڑھ گیا ہے۔ ہڑتال ختم ہونے کے ایک ہفتہ گزر جانے کے باوجود کراچی کی شہری انتظامیہ ٹریفک کے بہاؤ کو منظم کرنے میں ناکام ثابت ہوئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;شیخ وقاص انجم کے مطابق مال کی ترسیل اور حصول کے لیے سب سے بڑے ٹرمینل ایس اے پی ٹی تک رسائی انتہائی مشکل ہوگئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے بتایا کہ ہڑتال ختم ہوتے ہی نقل و حمل کی ضرورت غیر معمولی طور پر بڑھنے سے شہر میں مال بردار ٹرکوں کی قلت پیدا ہوگئی ہے جس کے سبب اندرون شہر درآمدی و برآمدی مال کی ترسیل کے لیے فی ٹرک کرایہ 20 ہزار اور 30 ہزار سے بڑھ کر 50 ہزار سے 60 ہزار روپے کی سطح تک پہنچ گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے بتایا کہ بندرگاہوں میم قائم مختلف ٹرمینلز سے درآمدی کنٹینرز کی ڈلیوری میں تاخیر سے ٹریڈ سیکٹر کو بھاری ڈیمریج ڈیٹنشن چارجز کا سامنا ہے۔ ڈیمریج، ڈیٹنشن چارجز اور حالیہ زائد کرائے کاروباری لاگت میں خطیر اضافے کا باعث بن گئے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کراچی کسٹمز ایجنٹس ایسوسی ایشن نے ٹرانسپورٹرز سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ مفاد عامہ میں طے شدہ ریٹوں پر ٹریڈ سیکٹر کو باربرداری کے لیے ٹرکس فراہم کریں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2025&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>گڈز ٹرانسپورٹرز کی ہڑتال ختم ہونے کے ایک ہفتے بعد بھی کراچی کی بندرگاہ کے مختلف کنٹینر ٹرمینلز سے درآمد و برآمدی کنٹینرز کی نقل و حمل معمول پر نہیں آسکی ہے بلکہ صورتحال اب افراتفری کا شکار ہو چکی ہے جس نے کسی بھی احتجاج سے کہیں زیادہ بڑے بحران کو بے نقاب کردیا ہے۔</p>
<p>کراچی کسٹمز ایجنٹس ایسوسی ایشن کے جنرل سیکریٹری شیخ وقاص انجم کے مطابق ہڑتال کے دوران بندرگاہ پر رکے ہوئے ہزاروں کنسائمنٹس ترسیل کے لیے سڑکوں پر آنے سے ٹریفک منیجمنٹ سسٹم کی واضح کمزوریاں سامنے آگئی ہیں۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ مال بردار ٹرکوں کی آمد سے بندرگاہ کے ناصرف اطراف کی سڑکوں پر ٹریفک دباو بڑھ گیا ہے بلکہ کیماڑی، گل بائی اور ماڑی پور سمیت بھاری ٹریفک کی گزرگاہوں پر بھی رش خوفناک حد تک بڑھ گیا ہے۔ ہڑتال ختم ہونے کے ایک ہفتہ گزر جانے کے باوجود کراچی کی شہری انتظامیہ ٹریفک کے بہاؤ کو منظم کرنے میں ناکام ثابت ہوئی ہے۔</p>
<p>شیخ وقاص انجم کے مطابق مال کی ترسیل اور حصول کے لیے سب سے بڑے ٹرمینل ایس اے پی ٹی تک رسائی انتہائی مشکل ہوگئی ہے۔</p>
<p>انہوں نے بتایا کہ ہڑتال ختم ہوتے ہی نقل و حمل کی ضرورت غیر معمولی طور پر بڑھنے سے شہر میں مال بردار ٹرکوں کی قلت پیدا ہوگئی ہے جس کے سبب اندرون شہر درآمدی و برآمدی مال کی ترسیل کے لیے فی ٹرک کرایہ 20 ہزار اور 30 ہزار سے بڑھ کر 50 ہزار سے 60 ہزار روپے کی سطح تک پہنچ گیا ہے۔</p>
<p>انہوں نے بتایا کہ بندرگاہوں میم قائم مختلف ٹرمینلز سے درآمدی کنٹینرز کی ڈلیوری میں تاخیر سے ٹریڈ سیکٹر کو بھاری ڈیمریج ڈیٹنشن چارجز کا سامنا ہے۔ ڈیمریج، ڈیٹنشن چارجز اور حالیہ زائد کرائے کاروباری لاگت میں خطیر اضافے کا باعث بن گئے ہیں۔</p>
<p>کراچی کسٹمز ایجنٹس ایسوسی ایشن نے ٹرانسپورٹرز سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ مفاد عامہ میں طے شدہ ریٹوں پر ٹریڈ سیکٹر کو باربرداری کے لیے ٹرکس فراہم کریں۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2025</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40280924</guid>
      <pubDate>Fri, 26 Dec 2025 21:51:25 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (محمد علی)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/12/2611075982267f6.webp" type="image/webp" medium="image" height="768" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/12/2611075982267f6.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
