<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Editorials</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 04 Jun 2026 01:52:40 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 04 Jun 2026 01:52:40 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پانی کا ہتھیار کے طور پر استعمال: خطے میں کشیدگی کا خطرہ</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40280913/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;رپورٹس کے مطابق بھارت کی جانب سے ہیڈ مرالہ کے مقام پر اچانک پانی کی بڑی مقدار چھوڑنے اور پھر دریائے چناب میں پانی کے بہاؤ کو کئی دنوں تک مسلسل 870 سے 1,000 کیوسک تک کم کر دینے کے عمل نے پاکستان میں شدید تشویش پیدا کر دی ہے۔ یہ صورتحال اس لیے بھی زیادہ سنگین ہے کیونکہ پانی کی اس بندش کا وقت گندم کی بوائی کے اہم سیزن کے عین مطابق ہے۔ پنجاب کے کسانوں کے لیے فصلوں کو پہلا پانی نہ دے پانے کی صورتحال ان کے روزگار اور ملک کے غذائی تحفظ  کے لیے براہِ راست خطرہ بن گئی ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حیران کن بات نہیں کہ اسلام آباد میں دفترِ خارجہ نے پانی کے بہاؤ میں ان اچانک تبدیلیوں کو شدید تشویش اور سنجیدگی کا معاملہ قرار دیا ہے۔ ایک ایسی زرعی معیشت میں جہاں لاکھوں افراد آبپاشی کے قابلِ بھروسہ چکر پر انحصار کرتے ہیں، دریاؤں کے بہاؤ میں اچانک تبدیلیاں فوری طور پر کم پیداوار، خوراک کی قیمتوں میں اضافے اور دیہی غریب طبقے کے لیے مزید مشکلات و عدم تحفظ کا باعث بن سکتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ترجمان دفترِ خارجہ  کا یہ موقف کہ پانی کی یہ نکاسی یکطرفہ طور پر اور پیشگی اطلاع یا ڈیٹا شیئرنگ (معلومات کے تبادلے) کے بغیر کی گئی، سندھ طاس معاہدے  کی بنیاد پر ضرب لگاتی ہے۔ یہ معاہدہ تعاون، شفافیت اور تنازعات کے حل کیلئے قائم کردہ ادارہ جاتی طریقہ کار پر مبنی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سندھ طاس معاہدے کو طویل عرصے سے دنیا کے پائیدار ترین آبی اشتراک کے معاہدوں میں سے ایک تسلیم کیا جاتا ہے، جس نے دونوں پڑوسیوں کے درمیان جنگوں اور طویل سیاسی کشیدگی کے باوجود خود کو برقرار رکھا ہے۔ اس معاہدے کی مضبوطی اس کی ایک پابند بین الاقوامی معاہدے کی حیثیت میں ہے، جو یکطرفہ اقدامات کو روکتا ہے اور تنازعات کو کمشنرز، غیر جانبدار ماہرین اور ثالثی کے ذریعے حل کرنے کی راہ دکھاتا ہے، لہذا انڈس واٹر کمشنر کے ذریعے بھارت سے رجوع کرنے کا پاکستان کا فیصلہ اس معاہدے کی لفظی اور معنوی روح کے عین مطابق ہے۔ طے شدہ طریقہ کار سے ہٹ کر دریاؤں کے بہاؤ میں کسی بھی قسم کی ہیرا پھیری اس ڈھانچے کو کمزور کرنے کا باعث بن سکتی ہے جس نے کئی دہائیوں سے پانی کے تنازعات کو کھلے تصادم میں بدلنے سے روکے رکھا ہے۔ تاہم، موجودہ تنازع کا تعلق بھارت کی حکمراں جماعت بی جے پی  کے اس رجحان سے ہے جس کے تحت وہ اندرونی سیاسی فائدے کے لیے پاکستان مخالف جذبات کو ہوا دیتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گزشتہ اپریل میں پہلگام میں دہشت گردی کے واقعے کے بعد سے، مودی حکومت کے سندھ طاس معاہدے کو التوا میں ڈالنے  کے فیصلے نے سرحد پار آبی نظم و نسق میں خطرناک حد تک غیر یقینی صورتحال پیدا کر دی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگرچہ ماہرین اس بات پر متفق ہیں کہ پاکستان کے حصے میں آنے والے تینوں مغربی دریاؤں کی مکمل ناکہ بندی مستقبل قریب میں تکنیکی طور پر ممکن نہیں ہے، تاہم دریا کے بالائی حصوں میں بنے ڈیموں کو اپنی مرضی سے بھرنے اور خالی کرنے کا عمل بہاؤ کی نچلی سمت (پاکستان) میں اہم نقصان پہنچا سکتا ہے۔ قابلِ ذکر بات یہ ہے کہ &lt;strong&gt;8 اگست 2025&lt;/strong&gt; کو اپنے فیصلے میں &lt;strong&gt;ثالثی عدالت&lt;/strong&gt;  نے اس طرح کے اقدامات کو &lt;strong&gt;پانی کا بطور ہتھیار استعمال&lt;/strong&gt; قرار دیا ہے اور اس بات کی دوبارہ تصدیق کی ہے کہ بھارت یکطرفہ طور پر اس معاہدے کو معطل نہیں کر سکتا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان نے اپنی طرف سے بارہا یہ انتباہ دیا ہے کہ پانی کو بطور ہتھیار استعمال کرنے کو &lt;strong&gt;اعلانِ جنگ&lt;/strong&gt; تصور کیا جائے گا، یہ ایک ایسا موقف ہے جو خطرات کی سنگینی کو انتہائی حد تک بڑھا دیتا ہے۔ ایک ایٹمی صلاحیت کے حامل خطے میں، جو پہلے ہی عدم اعتماد کا شکار ہے، پانی کے بہاؤ میں معمولی سی مداخلت بھی غلط فہمی اور کشیدگی میں اضافے  کے خطرے کو بڑھا دیتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;موجودہ صورتحال اس اشد ضرورت کو اجاگر کرتی ہے کہ دریاؤں کے انتظام و انصرام کو سیاست سے پاک کیا جائے اور باہمی تعاون کے طریقہ کار پر دوبارہ کاربند ہوا جائے۔ پانی کا متوقع بہاؤ، پیشگی اطلاع اور ڈیٹا کا شفاف تبادلہ کوئی احسان نہیں بلکہ بین الاقوامی قانون کے تحت لازم اور پابند ذمہ داریاں ہیں۔ ان کی پاسداری ناگزیر ہے۔ اس کا متبادل  یعنی اچانک رکاوٹوں کو معمول بنا لینا  پانی کو ایک مشترکہ وسائل کے بجائے ایک مستقل ”فلیش پوائنٹ“ (تنازع کی جگہ) میں بدل دے گا، جو خطے اور اس سے باہر امن و استحکام کے لیے نقصان دہ ہوگا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>رپورٹس کے مطابق بھارت کی جانب سے ہیڈ مرالہ کے مقام پر اچانک پانی کی بڑی مقدار چھوڑنے اور پھر دریائے چناب میں پانی کے بہاؤ کو کئی دنوں تک مسلسل 870 سے 1,000 کیوسک تک کم کر دینے کے عمل نے پاکستان میں شدید تشویش پیدا کر دی ہے۔ یہ صورتحال اس لیے بھی زیادہ سنگین ہے کیونکہ پانی کی اس بندش کا وقت گندم کی بوائی کے اہم سیزن کے عین مطابق ہے۔ پنجاب کے کسانوں کے لیے فصلوں کو پہلا پانی نہ دے پانے کی صورتحال ان کے روزگار اور ملک کے غذائی تحفظ  کے لیے براہِ راست خطرہ بن گئی ہے۔</strong></p>
<p>حیران کن بات نہیں کہ اسلام آباد میں دفترِ خارجہ نے پانی کے بہاؤ میں ان اچانک تبدیلیوں کو شدید تشویش اور سنجیدگی کا معاملہ قرار دیا ہے۔ ایک ایسی زرعی معیشت میں جہاں لاکھوں افراد آبپاشی کے قابلِ بھروسہ چکر پر انحصار کرتے ہیں، دریاؤں کے بہاؤ میں اچانک تبدیلیاں فوری طور پر کم پیداوار، خوراک کی قیمتوں میں اضافے اور دیہی غریب طبقے کے لیے مزید مشکلات و عدم تحفظ کا باعث بن سکتی ہیں۔</p>
<p>ترجمان دفترِ خارجہ  کا یہ موقف کہ پانی کی یہ نکاسی یکطرفہ طور پر اور پیشگی اطلاع یا ڈیٹا شیئرنگ (معلومات کے تبادلے) کے بغیر کی گئی، سندھ طاس معاہدے  کی بنیاد پر ضرب لگاتی ہے۔ یہ معاہدہ تعاون، شفافیت اور تنازعات کے حل کیلئے قائم کردہ ادارہ جاتی طریقہ کار پر مبنی ہے۔</p>
<p>سندھ طاس معاہدے کو طویل عرصے سے دنیا کے پائیدار ترین آبی اشتراک کے معاہدوں میں سے ایک تسلیم کیا جاتا ہے، جس نے دونوں پڑوسیوں کے درمیان جنگوں اور طویل سیاسی کشیدگی کے باوجود خود کو برقرار رکھا ہے۔ اس معاہدے کی مضبوطی اس کی ایک پابند بین الاقوامی معاہدے کی حیثیت میں ہے، جو یکطرفہ اقدامات کو روکتا ہے اور تنازعات کو کمشنرز، غیر جانبدار ماہرین اور ثالثی کے ذریعے حل کرنے کی راہ دکھاتا ہے، لہذا انڈس واٹر کمشنر کے ذریعے بھارت سے رجوع کرنے کا پاکستان کا فیصلہ اس معاہدے کی لفظی اور معنوی روح کے عین مطابق ہے۔ طے شدہ طریقہ کار سے ہٹ کر دریاؤں کے بہاؤ میں کسی بھی قسم کی ہیرا پھیری اس ڈھانچے کو کمزور کرنے کا باعث بن سکتی ہے جس نے کئی دہائیوں سے پانی کے تنازعات کو کھلے تصادم میں بدلنے سے روکے رکھا ہے۔ تاہم، موجودہ تنازع کا تعلق بھارت کی حکمراں جماعت بی جے پی  کے اس رجحان سے ہے جس کے تحت وہ اندرونی سیاسی فائدے کے لیے پاکستان مخالف جذبات کو ہوا دیتی ہے۔</p>
<p>گزشتہ اپریل میں پہلگام میں دہشت گردی کے واقعے کے بعد سے، مودی حکومت کے سندھ طاس معاہدے کو التوا میں ڈالنے  کے فیصلے نے سرحد پار آبی نظم و نسق میں خطرناک حد تک غیر یقینی صورتحال پیدا کر دی ہے۔</p>
<p>اگرچہ ماہرین اس بات پر متفق ہیں کہ پاکستان کے حصے میں آنے والے تینوں مغربی دریاؤں کی مکمل ناکہ بندی مستقبل قریب میں تکنیکی طور پر ممکن نہیں ہے، تاہم دریا کے بالائی حصوں میں بنے ڈیموں کو اپنی مرضی سے بھرنے اور خالی کرنے کا عمل بہاؤ کی نچلی سمت (پاکستان) میں اہم نقصان پہنچا سکتا ہے۔ قابلِ ذکر بات یہ ہے کہ <strong>8 اگست 2025</strong> کو اپنے فیصلے میں <strong>ثالثی عدالت</strong>  نے اس طرح کے اقدامات کو <strong>پانی کا بطور ہتھیار استعمال</strong> قرار دیا ہے اور اس بات کی دوبارہ تصدیق کی ہے کہ بھارت یکطرفہ طور پر اس معاہدے کو معطل نہیں کر سکتا۔</p>
<p>پاکستان نے اپنی طرف سے بارہا یہ انتباہ دیا ہے کہ پانی کو بطور ہتھیار استعمال کرنے کو <strong>اعلانِ جنگ</strong> تصور کیا جائے گا، یہ ایک ایسا موقف ہے جو خطرات کی سنگینی کو انتہائی حد تک بڑھا دیتا ہے۔ ایک ایٹمی صلاحیت کے حامل خطے میں، جو پہلے ہی عدم اعتماد کا شکار ہے، پانی کے بہاؤ میں معمولی سی مداخلت بھی غلط فہمی اور کشیدگی میں اضافے  کے خطرے کو بڑھا دیتی ہے۔</p>
<p>موجودہ صورتحال اس اشد ضرورت کو اجاگر کرتی ہے کہ دریاؤں کے انتظام و انصرام کو سیاست سے پاک کیا جائے اور باہمی تعاون کے طریقہ کار پر دوبارہ کاربند ہوا جائے۔ پانی کا متوقع بہاؤ، پیشگی اطلاع اور ڈیٹا کا شفاف تبادلہ کوئی احسان نہیں بلکہ بین الاقوامی قانون کے تحت لازم اور پابند ذمہ داریاں ہیں۔ ان کی پاسداری ناگزیر ہے۔ اس کا متبادل  یعنی اچانک رکاوٹوں کو معمول بنا لینا  پانی کو ایک مشترکہ وسائل کے بجائے ایک مستقل ”فلیش پوائنٹ“ (تنازع کی جگہ) میں بدل دے گا، جو خطے اور اس سے باہر امن و استحکام کے لیے نقصان دہ ہوگا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Editorials</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40280913</guid>
      <pubDate>Thu, 25 Dec 2025 13:36:58 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (اداریہ)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/12/25132211cb33dfd.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/12/25132211cb33dfd.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
