<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Business &amp; Finance</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 04 Jun 2026 01:28:15 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 04 Jun 2026 01:28:15 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>آئندہ سال بھی یورپی یونین کو سی فوڈ کی برآمدات بحال ہونے کا امکان کم</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40280911/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;ذرائع  کے مطابق  یورپی یونین (ای یو) کے ممالک کو پاکستان سے سمندری غذا (سی فوڈ) کی مکمل برآمدات آئندہ سال بھی بحال ہونے کا امکان نہیں ہے، کیونکہ یورپی یونین نے پاکستان کو اپنے 2026 کے انسپیکشن پلان  میں شامل نہیں کیا جس کا مطلب ہے کہ پابندی میں کم از کم ایک اور سال کی توسیع کر دی گئی ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یورپی یونین (ای یو) کے لیے پاکستان کی سی فوڈ کی برآمدات &lt;strong&gt;2007&lt;/strong&gt; سے معطل  ہیں، تاہم تاہم حکومتی اہلکار اب بھی اس امید میں ہیں کہ آئندہ سال، امکاناً پہلے سہ ماہی میں ای یو کی معائنہ ٹیم پاکستان کا دورہ کرسکتی ہے جس کے لیے متعدد اجلاس منعقد کیے جا چکے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ذرائع کے مطابق یورپی یونین  کے سال 2026 کے لیے مجوزہ معائنے کے منصوبے میں سمندری غذا کی سہولیات، بالخصوص کراچی فش ہاربر کی جانچ پڑتال کے لیے پاکستان کا نام شامل نہیں ہے۔ اس کے نتیجے میں، مزید سی فوڈ پروسیسنگ کمپنیوں کو فہرست میں شامل کرنے کی امیدیں دم توڑ گئی ہیں۔ تاہم، برآمد کنندگان اس صورتحال سے بڑی حد تک بے فکر یا غیر متاثر نظر آتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان فشریز ایکسپورٹ ایسوسی ایشن  کے سینئر وائس چیئرمین سعید فرید نے کہا ہے کہ پہلے سے ہی چار کمپنیاں یورپی یونین کے ممالک کو سمندری غذا برآمد کر رہی ہیں جبکہ دیگر اکثر کمپنیاں خود کو فہرست میں شامل کرانے کے لیے تیار نہیں ہیں، کیونکہ یورپی یونین کے قوانین انتہائی سخت ہیں اور ان پر مستقل عمل درآمد برقرار رکھنا مشکل ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے سندھ حکومت کی فش ہاربر کی دیکھ بھال اور ماہی گیری کے انتظام میں ناقص کارکردگی پر افسوس کا اظہار کیا اور کہا کہ اصل مسئلہ سرکاری شراکت داروں کی مؤثر معاونت کی کمی میں ہے جو ای یو معائنہ کے عمل کو آسان بنا سکیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سعید فرید نے بتایا کہ وقت کے ساتھ ماہی گیری کی پیداوار میں کمی واقع ہوئی ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>ذرائع  کے مطابق  یورپی یونین (ای یو) کے ممالک کو پاکستان سے سمندری غذا (سی فوڈ) کی مکمل برآمدات آئندہ سال بھی بحال ہونے کا امکان نہیں ہے، کیونکہ یورپی یونین نے پاکستان کو اپنے 2026 کے انسپیکشن پلان  میں شامل نہیں کیا جس کا مطلب ہے کہ پابندی میں کم از کم ایک اور سال کی توسیع کر دی گئی ہے۔</strong></p>
<p>یورپی یونین (ای یو) کے لیے پاکستان کی سی فوڈ کی برآمدات <strong>2007</strong> سے معطل  ہیں، تاہم تاہم حکومتی اہلکار اب بھی اس امید میں ہیں کہ آئندہ سال، امکاناً پہلے سہ ماہی میں ای یو کی معائنہ ٹیم پاکستان کا دورہ کرسکتی ہے جس کے لیے متعدد اجلاس منعقد کیے جا چکے ہیں۔</p>
<p>ذرائع کے مطابق یورپی یونین  کے سال 2026 کے لیے مجوزہ معائنے کے منصوبے میں سمندری غذا کی سہولیات، بالخصوص کراچی فش ہاربر کی جانچ پڑتال کے لیے پاکستان کا نام شامل نہیں ہے۔ اس کے نتیجے میں، مزید سی فوڈ پروسیسنگ کمپنیوں کو فہرست میں شامل کرنے کی امیدیں دم توڑ گئی ہیں۔ تاہم، برآمد کنندگان اس صورتحال سے بڑی حد تک بے فکر یا غیر متاثر نظر آتے ہیں۔</p>
<p>پاکستان فشریز ایکسپورٹ ایسوسی ایشن  کے سینئر وائس چیئرمین سعید فرید نے کہا ہے کہ پہلے سے ہی چار کمپنیاں یورپی یونین کے ممالک کو سمندری غذا برآمد کر رہی ہیں جبکہ دیگر اکثر کمپنیاں خود کو فہرست میں شامل کرانے کے لیے تیار نہیں ہیں، کیونکہ یورپی یونین کے قوانین انتہائی سخت ہیں اور ان پر مستقل عمل درآمد برقرار رکھنا مشکل ہے۔</p>
<p>انہوں نے سندھ حکومت کی فش ہاربر کی دیکھ بھال اور ماہی گیری کے انتظام میں ناقص کارکردگی پر افسوس کا اظہار کیا اور کہا کہ اصل مسئلہ سرکاری شراکت داروں کی مؤثر معاونت کی کمی میں ہے جو ای یو معائنہ کے عمل کو آسان بنا سکیں۔</p>
<p>سعید فرید نے بتایا کہ وقت کے ساتھ ماہی گیری کی پیداوار میں کمی واقع ہوئی ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40280911</guid>
      <pubDate>Thu, 25 Dec 2025 13:17:53 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (انور خان)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/12/2513145382fd50b.webp" type="image/webp" medium="image" height="400" width="600">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/12/2513145382fd50b.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
