<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Business &amp; Finance</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 22:40:08 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 22:40:08 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>بینکوں کی جانب سے نجی شعبے کو تقریباً 1.5 کھرب روپے کے قرضے فراہم کیے گئے، پی بی اے</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40280904/</link>
      <description>&lt;p&gt;پاکستان بینکس ایسوسی ایشن (پی بی اے) کی جانب سے پاکستان کی جاری معاشی بحالی میں بینکاری کے شعبے کے مضبوط کردار کو اجاگر کیا گیا اور موجودہ مالی سال کے دوران نجی شعبے کو فراہم کیے  گئے قرضوں میں ریکارڈ اضافے کے بارے میں بھی آگاہ کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایسوسی ایشن کے مطابق تجارتی بینکوں نے اب تک موجودہ مالی سال کے دوران نجی شعبے کو تقریباً 1.5 کھرب روپے کے قرض فراہم کیے جس کے نتیجے میں نجی شعبہ کی سیالیت میں نمایاں اضافہ ہوا اور بڑے پیمانے کی صنعت میں ترقی کی شرح 8.33 فیصد تک پہنچ گئی جو صنعتی پیداوار اور روزگار کے مواقع پیدا کرنے میں اس شعبے کے کلیدی کردار کی توثیق کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس بارے میں پاکستان بینکس ایسوسی ایشن کے چیئرمین  ظفر مسعود نے کہا تازہ ترین اعداد و شمار ایک واضح بنیادی معاشی حقیقت کو ظاہر کرتے ہیں کہ جب حکومتی قرضوں کے حصول میں کمی واقع ہوتی ہے تو بینک فوری اور مؤثر انداز میں  کاروبار، صنعت اور زراعت میں سرمایہ کاری کرتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ظفر مسعود نے مزید کہا بینکاری کے شعبے نے کامیابی کے ساتھ مالیاتی سیالیت کو حکومتی قرضوں سے پیداواری نجی معیشت کی جانب منتقل کیا ہے اور اسطرح موجودہ صنعتی بحالی کے لیے بنیادی محرک کا کردار ادا کیا ہے بینکاری کا شعبہ انتہائی سیال اور عمدہ دستیاب سرمائے کا حامل ہےجہاں  ڈپازٹس کی مالیت 35.1 کھرب روپے تک پہنچ چکی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان بینکس ایسوسی ایشن نے اس بات پر بھی زور دیا کہ قرضوں میں موجودہ اضافہ کوئی غیرمعمولی واقعہ نہیں بلکہ اس بات کی عکاسی ہے کہ جب اسٹرکچرل خرابیاں خصوصاً حکومت کی جانب سے اندرونی  ڈپازٹس پر حد سے زیادہ انحصارکم ہو جائیں تو بینکاری  کا شعبہ کس حد تک مؤثر کارکردگی دکھا سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان بینکس ایسوسی ایشن کے چیف ایگزیکٹو اور جنرل سیکریٹری، منیر کمال نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے  کہابینکاری  کاشعبہ ہمیشہ سے قرضوں کی  فراہمی کے لیے تیار رہا ہے،ضرورت اس امر کی ہے کہ ایک سازگار پالیسی ماحول، رسک شیئرنگ کے مؤثر فریم ورک، اور مارکیٹ پر مبنی ایسے نظام موجود ہوں جو نجی شعبے کو قرضہ فراہم کرنے کو پرکشش اور پائیدار بنائیں بینکوں پر صرف بڑے اداروں کو ترجیح دینے کی دیرینہ تنقید کا جواب دیتے ہوئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایسوسی ایشن نے اس بات پر زور دے کر کہا کہ  قرضوں کا حالیہ بہاؤ اُن شعبوں کیجانب ایک اسٹریٹجک تبدیلی کا عکاس ہے جنہیں ماضی میں فنانسنگ تک رسائی میں سب سے زیادہ مشکلات کا سامنا رہا ہے۔بینکاری  کے شعبے نے کامیابی کے ساتھ ریکارڈ سطح کی سیالیت چھوٹے اور درمیانے درجہ کے کاروباری اداروں اور زرعی شعبے کی جانب منتقل کی ہےجس سے اس بات کو یقینی بنایا گیا ہے کہ بہتر لیکویڈیٹی کے فوائد معیشت کے تمام طبقات تک پہنچیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان بینکس ایسوسی ایش نے ریگولیٹرز کے ساتھ شراکت کے عزم کی تصدیق کی تاکہ قرضوں  تک رسائی کو وسعت دی جاسکے اور خصوصی اقدامات کے ذریعے، خاص طور پر،چھوٹے اور درمیانہ درجہ کے کاروباری ادارے، رہائشی اسکیموں، زرعی ویلیو چین، لاجسٹکس، اور قابل تجدید توانائی پر بھی توجہ دی جا سکے ۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2025&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>پاکستان بینکس ایسوسی ایشن (پی بی اے) کی جانب سے پاکستان کی جاری معاشی بحالی میں بینکاری کے شعبے کے مضبوط کردار کو اجاگر کیا گیا اور موجودہ مالی سال کے دوران نجی شعبے کو فراہم کیے  گئے قرضوں میں ریکارڈ اضافے کے بارے میں بھی آگاہ کیا۔</p>
<p>ایسوسی ایشن کے مطابق تجارتی بینکوں نے اب تک موجودہ مالی سال کے دوران نجی شعبے کو تقریباً 1.5 کھرب روپے کے قرض فراہم کیے جس کے نتیجے میں نجی شعبہ کی سیالیت میں نمایاں اضافہ ہوا اور بڑے پیمانے کی صنعت میں ترقی کی شرح 8.33 فیصد تک پہنچ گئی جو صنعتی پیداوار اور روزگار کے مواقع پیدا کرنے میں اس شعبے کے کلیدی کردار کی توثیق کرتا ہے۔</p>
<p>اس بارے میں پاکستان بینکس ایسوسی ایشن کے چیئرمین  ظفر مسعود نے کہا تازہ ترین اعداد و شمار ایک واضح بنیادی معاشی حقیقت کو ظاہر کرتے ہیں کہ جب حکومتی قرضوں کے حصول میں کمی واقع ہوتی ہے تو بینک فوری اور مؤثر انداز میں  کاروبار، صنعت اور زراعت میں سرمایہ کاری کرتے ہیں۔</p>
<p>ظفر مسعود نے مزید کہا بینکاری کے شعبے نے کامیابی کے ساتھ مالیاتی سیالیت کو حکومتی قرضوں سے پیداواری نجی معیشت کی جانب منتقل کیا ہے اور اسطرح موجودہ صنعتی بحالی کے لیے بنیادی محرک کا کردار ادا کیا ہے بینکاری کا شعبہ انتہائی سیال اور عمدہ دستیاب سرمائے کا حامل ہےجہاں  ڈپازٹس کی مالیت 35.1 کھرب روپے تک پہنچ چکی ہے۔</p>
<p>پاکستان بینکس ایسوسی ایشن نے اس بات پر بھی زور دیا کہ قرضوں میں موجودہ اضافہ کوئی غیرمعمولی واقعہ نہیں بلکہ اس بات کی عکاسی ہے کہ جب اسٹرکچرل خرابیاں خصوصاً حکومت کی جانب سے اندرونی  ڈپازٹس پر حد سے زیادہ انحصارکم ہو جائیں تو بینکاری  کا شعبہ کس حد تک مؤثر کارکردگی دکھا سکتا ہے۔</p>
<p>پاکستان بینکس ایسوسی ایشن کے چیف ایگزیکٹو اور جنرل سیکریٹری، منیر کمال نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے  کہابینکاری  کاشعبہ ہمیشہ سے قرضوں کی  فراہمی کے لیے تیار رہا ہے،ضرورت اس امر کی ہے کہ ایک سازگار پالیسی ماحول، رسک شیئرنگ کے مؤثر فریم ورک، اور مارکیٹ پر مبنی ایسے نظام موجود ہوں جو نجی شعبے کو قرضہ فراہم کرنے کو پرکشش اور پائیدار بنائیں بینکوں پر صرف بڑے اداروں کو ترجیح دینے کی دیرینہ تنقید کا جواب دیتے ہوئے۔</p>
<p>ایسوسی ایشن نے اس بات پر زور دے کر کہا کہ  قرضوں کا حالیہ بہاؤ اُن شعبوں کیجانب ایک اسٹریٹجک تبدیلی کا عکاس ہے جنہیں ماضی میں فنانسنگ تک رسائی میں سب سے زیادہ مشکلات کا سامنا رہا ہے۔بینکاری  کے شعبے نے کامیابی کے ساتھ ریکارڈ سطح کی سیالیت چھوٹے اور درمیانے درجہ کے کاروباری اداروں اور زرعی شعبے کی جانب منتقل کی ہےجس سے اس بات کو یقینی بنایا گیا ہے کہ بہتر لیکویڈیٹی کے فوائد معیشت کے تمام طبقات تک پہنچیں۔</p>
<p>پاکستان بینکس ایسوسی ایش نے ریگولیٹرز کے ساتھ شراکت کے عزم کی تصدیق کی تاکہ قرضوں  تک رسائی کو وسعت دی جاسکے اور خصوصی اقدامات کے ذریعے، خاص طور پر،چھوٹے اور درمیانہ درجہ کے کاروباری ادارے، رہائشی اسکیموں، زرعی ویلیو چین، لاجسٹکس، اور قابل تجدید توانائی پر بھی توجہ دی جا سکے ۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2025</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40280904</guid>
      <pubDate>Thu, 25 Dec 2025 12:46:59 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ریکارڈر رپورٹ)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/12/25124351df9d1e3.webp" type="image/webp" medium="image" height="1080" width="1920">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/12/25124351df9d1e3.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
