<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Pakistan</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 20:34:57 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 20:34:57 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>کابینہ نے کھاد کارخانوں کیلئے گیس مختص کرنے کی منظوری دے دی</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40280901/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;سرکاری ذرائع نے بزنس ریکارڈر کو بتایا کہ وفاقی کابینہ نے کھاد کے پلانٹس کے لیے گیس مختص کرنے کی منظوری دے دی ہے اور کھاد کی پیداوار کو ماری گیس پر مبنی الگ گیس سپلائی سسٹم میں منتقل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ فیصلہ مقامی سطح پر کھاد کی پیداوار کے طویل مدتی استحکام کو یقینی بناتا ہے، فوڈ سیکیورٹی کا تحفظ کرتا ہے، کسانوں کو قیمتوں کے اتارچڑھاؤ سے بچاتا ہے اور مجموعی معاشی استحکام کو تقویت دیتا ہے۔ کابینہ نے اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) کی طرف سے تجویز کردہ گیس مختص اور فراہمی کے انتظامات کی توثیق کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;منظور شدہ منصوبے کے تحت، غازیج/ شوال سے دریافت ہونے والی نئی ’آف اسپیک‘ (Off-spec) یا خام گیس کی تقسیم درج ذیل طریقے سے کی گئی ہے:فوجی فرٹیلائزر کمپنی (پورٹ قاسم) کو 104 ایم ایم سی ایف ڈی خام گیس ملے گی، جو 80 ایم ایم سی ایف ڈی پروسیسڈ گیس میں تبدیل ہو گی۔ فاطمہ فرٹیلائزر (شیخوپورہ) کو 68 ایم ایم سی ایف ڈی خام گیس اور 52 ایم ایم سی ایف ڈی پروسیسڈ گیس ملے گی۔ جبکہ ایگریٹیک (داؤد خیل) کو 50 ایم ایم سی ایف ڈی خام گیس اور 38 ایم ایم سی ایف ڈی پروسیسڈ گیس مختص کی جائے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مزید برآں، ایچ آر ایل سے پہلے جنکو-II کو مختص کی گئی زیادہ سے زیادہ 110 ایم ایم سی ایف ڈی گیس کو منسوخ کر دیا جائے گا، جبکہ زیادہ سے زیادہ 105 ایم ایم سی ایف ڈی گیس کو اینگرو فرٹیلائزر کے بنیادی پلانٹ ماری میں مختص کیا جائے گا۔ غازیج/شوال سے حاصل ہونے والی را گیس ماری گیس فیلڈ پر فراہم کی جائے گی۔ متعلقہ کھاد بنانے والی کمپنیاں گیس کی پروسیسنگ اور کمپریشن کی سہولیات نصب کریں گی تاکہ پروسیس شدہ گیس کو سُوئی کمپنیوں کے نیٹ ورکس کے ذریعے اپنے پلانٹس تک پہنچایا جاسکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کم بی ٹی یو اور کاربن ڈائی آکسائیڈ  کی زیادہ مقدار والی گیس کی پروسیسنگ کے لیے درکار سرمایہ کاری کا تخمینہ 200 ملین ڈالر سے زائد ہے جس کے تمام اخراجات مکمل طور پر کھاد کی صنعت خود برداشت کرے گی۔ ماری انرجیز کے ساتھ گیس کی خرید و فروخت کے دو طرفہ معاہدے کیے جائیں گے جبکہ ’ٹی پی اے رولز 2018‘ اور ’پاکستان گیس نیٹ ورک کوڈ‘ کے تحت ایس این جی پی ایل  اور ایس ایس جی سی کے ساتھ تھرڈ پارٹی رسائی کے انتظامات کیے جائیں گے۔ فوجی فرٹیلائزر (پورٹ قاسم) کو سپلائی کے لیے ’گیس سواپ‘ انتظامات کیے جائیں گے کیونکہ ایس ایس جی سی کا نیٹ ورک ماڑی فیلڈ تک پھیلا ہوا نہیں ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ پالیسی مداخلت کھاد کے شعبے کو درپیش ایک بڑے ساختی خطرے کا حل پیش کرتی ہے۔ اس فیصلے سے پہلے مقامی یوریا کی پیداواری صلاحیت کا تقریباً 32 فیصد حصہ جو سالانہ 20 لاکھ ٹن سے زائد بنتا ہے  گیس کی یقینی فراہمی نہ ہونے کی وجہ سے غیر یقینی صورتحال کا شکار تھا۔ بروقت کارروائی نہ ہونے کی صورت میں، ماری گیس فیلڈز کے ذخائر میں بتدریج کمی سے پیداواری خطرات مزید بڑھ جاتے، جس کے نتیجے میں ملک کو غیر مستحکم عالمی منڈیوں پر انحصار کرنا پڑتا اور ممکنہ طور پر سالانہ 2 سے 3 ارب ڈالر کا بھاری درآمدی بل ادا کرنا پڑتا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایسا نتیجہ غیر ملکی زرِمبادلہ  ذخائر اور ملکی کھاد کی قیمتوں پر شدید دباؤ ڈال سکتا تھا۔ کھاد کی صنعت نے پہلے ہی گیس انفرااسٹرکچر میں تقریباً 500 ملین امریکی ڈالر کی سرمایہ کاری کی ہے جس میں سے 300 ملین امریکی ڈالر دباؤ بڑھانے کے منصوبوں پر لگائے گئے اور اس فیصلے کے بعد مزید 200 ملین امریکی ڈالر کی سرمایہ کاری کا عزم کیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حکومت نے قابلِ پیش گوئی اور مخصوص گیس کی فراہمی کو یقینی بنا کر ان خطرات سے پہلے ہی نمٹ لیا ہے۔ یہ فیصلہ ملکی یوریا کی پیداوار کو بلا رکاوٹ جاری رکھنے، مارکیٹ میں فراہمی کو مستحکم کرنے، اور کسانوں کو بین الاقوامی معیار سے کافی کم قیمت پر کھاد کی دستیابی کو یقینی بنانے میں مددگار ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس پالیسی کی ایک نمایاں خصوصیت یہ ہے کہ سالانہ 2 سے3 ارب امریکی ڈالر کی درآمدات کو ملکی پیداوار سے بدل دیا جائے گا، اور یہ عمل بجٹ پر کسی مالی بوجھ کے بغیر ہوگا۔ ملکی پیداوار بڑے پیمانے پر درآمدات کی جگہ لے گی، غیر ملکی زرِمبادلہ کی بچت کرے گی اور قومی خزانے پر دباؤ نہیں ڈالے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کھاد کی صنعت نجی سرمایہ کاری جاری رکھے گی، جس میں پائپ لائنز، پروسیسنگ اور کمپریشن کی سہولیات، اور پلانٹ کی کارکردگی میں بہتری شامل ہے، تاکہ حاشیہ جاتی گیس کے ذخائر کو اعلیٰ قیمت والی زرعی پیداوار میں تبدیل کیا جا سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2025&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>سرکاری ذرائع نے بزنس ریکارڈر کو بتایا کہ وفاقی کابینہ نے کھاد کے پلانٹس کے لیے گیس مختص کرنے کی منظوری دے دی ہے اور کھاد کی پیداوار کو ماری گیس پر مبنی الگ گیس سپلائی سسٹم میں منتقل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔</strong></p>
<p>یہ فیصلہ مقامی سطح پر کھاد کی پیداوار کے طویل مدتی استحکام کو یقینی بناتا ہے، فوڈ سیکیورٹی کا تحفظ کرتا ہے، کسانوں کو قیمتوں کے اتارچڑھاؤ سے بچاتا ہے اور مجموعی معاشی استحکام کو تقویت دیتا ہے۔ کابینہ نے اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) کی طرف سے تجویز کردہ گیس مختص اور فراہمی کے انتظامات کی توثیق کی۔</p>
<p>منظور شدہ منصوبے کے تحت، غازیج/ شوال سے دریافت ہونے والی نئی ’آف اسپیک‘ (Off-spec) یا خام گیس کی تقسیم درج ذیل طریقے سے کی گئی ہے:فوجی فرٹیلائزر کمپنی (پورٹ قاسم) کو 104 ایم ایم سی ایف ڈی خام گیس ملے گی، جو 80 ایم ایم سی ایف ڈی پروسیسڈ گیس میں تبدیل ہو گی۔ فاطمہ فرٹیلائزر (شیخوپورہ) کو 68 ایم ایم سی ایف ڈی خام گیس اور 52 ایم ایم سی ایف ڈی پروسیسڈ گیس ملے گی۔ جبکہ ایگریٹیک (داؤد خیل) کو 50 ایم ایم سی ایف ڈی خام گیس اور 38 ایم ایم سی ایف ڈی پروسیسڈ گیس مختص کی جائے گی۔</p>
<p>مزید برآں، ایچ آر ایل سے پہلے جنکو-II کو مختص کی گئی زیادہ سے زیادہ 110 ایم ایم سی ایف ڈی گیس کو منسوخ کر دیا جائے گا، جبکہ زیادہ سے زیادہ 105 ایم ایم سی ایف ڈی گیس کو اینگرو فرٹیلائزر کے بنیادی پلانٹ ماری میں مختص کیا جائے گا۔ غازیج/شوال سے حاصل ہونے والی را گیس ماری گیس فیلڈ پر فراہم کی جائے گی۔ متعلقہ کھاد بنانے والی کمپنیاں گیس کی پروسیسنگ اور کمپریشن کی سہولیات نصب کریں گی تاکہ پروسیس شدہ گیس کو سُوئی کمپنیوں کے نیٹ ورکس کے ذریعے اپنے پلانٹس تک پہنچایا جاسکے۔</p>
<p>کم بی ٹی یو اور کاربن ڈائی آکسائیڈ  کی زیادہ مقدار والی گیس کی پروسیسنگ کے لیے درکار سرمایہ کاری کا تخمینہ 200 ملین ڈالر سے زائد ہے جس کے تمام اخراجات مکمل طور پر کھاد کی صنعت خود برداشت کرے گی۔ ماری انرجیز کے ساتھ گیس کی خرید و فروخت کے دو طرفہ معاہدے کیے جائیں گے جبکہ ’ٹی پی اے رولز 2018‘ اور ’پاکستان گیس نیٹ ورک کوڈ‘ کے تحت ایس این جی پی ایل  اور ایس ایس جی سی کے ساتھ تھرڈ پارٹی رسائی کے انتظامات کیے جائیں گے۔ فوجی فرٹیلائزر (پورٹ قاسم) کو سپلائی کے لیے ’گیس سواپ‘ انتظامات کیے جائیں گے کیونکہ ایس ایس جی سی کا نیٹ ورک ماڑی فیلڈ تک پھیلا ہوا نہیں ہے۔</p>
<p>یہ پالیسی مداخلت کھاد کے شعبے کو درپیش ایک بڑے ساختی خطرے کا حل پیش کرتی ہے۔ اس فیصلے سے پہلے مقامی یوریا کی پیداواری صلاحیت کا تقریباً 32 فیصد حصہ جو سالانہ 20 لاکھ ٹن سے زائد بنتا ہے  گیس کی یقینی فراہمی نہ ہونے کی وجہ سے غیر یقینی صورتحال کا شکار تھا۔ بروقت کارروائی نہ ہونے کی صورت میں، ماری گیس فیلڈز کے ذخائر میں بتدریج کمی سے پیداواری خطرات مزید بڑھ جاتے، جس کے نتیجے میں ملک کو غیر مستحکم عالمی منڈیوں پر انحصار کرنا پڑتا اور ممکنہ طور پر سالانہ 2 سے 3 ارب ڈالر کا بھاری درآمدی بل ادا کرنا پڑتا۔</p>
<p>ایسا نتیجہ غیر ملکی زرِمبادلہ  ذخائر اور ملکی کھاد کی قیمتوں پر شدید دباؤ ڈال سکتا تھا۔ کھاد کی صنعت نے پہلے ہی گیس انفرااسٹرکچر میں تقریباً 500 ملین امریکی ڈالر کی سرمایہ کاری کی ہے جس میں سے 300 ملین امریکی ڈالر دباؤ بڑھانے کے منصوبوں پر لگائے گئے اور اس فیصلے کے بعد مزید 200 ملین امریکی ڈالر کی سرمایہ کاری کا عزم کیا گیا ہے۔</p>
<p>حکومت نے قابلِ پیش گوئی اور مخصوص گیس کی فراہمی کو یقینی بنا کر ان خطرات سے پہلے ہی نمٹ لیا ہے۔ یہ فیصلہ ملکی یوریا کی پیداوار کو بلا رکاوٹ جاری رکھنے، مارکیٹ میں فراہمی کو مستحکم کرنے، اور کسانوں کو بین الاقوامی معیار سے کافی کم قیمت پر کھاد کی دستیابی کو یقینی بنانے میں مددگار ہے۔</p>
<p>اس پالیسی کی ایک نمایاں خصوصیت یہ ہے کہ سالانہ 2 سے3 ارب امریکی ڈالر کی درآمدات کو ملکی پیداوار سے بدل دیا جائے گا، اور یہ عمل بجٹ پر کسی مالی بوجھ کے بغیر ہوگا۔ ملکی پیداوار بڑے پیمانے پر درآمدات کی جگہ لے گی، غیر ملکی زرِمبادلہ کی بچت کرے گی اور قومی خزانے پر دباؤ نہیں ڈالے گی۔</p>
<p>کھاد کی صنعت نجی سرمایہ کاری جاری رکھے گی، جس میں پائپ لائنز، پروسیسنگ اور کمپریشن کی سہولیات، اور پلانٹ کی کارکردگی میں بہتری شامل ہے، تاکہ حاشیہ جاتی گیس کے ذخائر کو اعلیٰ قیمت والی زرعی پیداوار میں تبدیل کیا جا سکے۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2025</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40280901</guid>
      <pubDate>Thu, 25 Dec 2025 11:50:23 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (مشتاق گھمن)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/12/25112739b55853c.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/12/25112739b55853c.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
