<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Pakistan</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 23:00:13 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 23:00:13 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پی آئی اے کی فروخت: نجکاری کمیشن نے بولی کی منظوری کے لیے سفارش کردی</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40280900/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;نجکاری کمیشن بورڈ (پی سی بورڈ) نے عارف حبیب گروپ کی سربراہی میں کنسورشیم کی جانب سے پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز کارپوریشن لمیٹڈ کے لیے دی گئی بولی کی سفارش کردی ہے تاکہ نجکاری سے متعلق کابینہ کمیٹی حتمی منظوری دے سکے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نجکاری کمیشن (پی سی) کے بورڈ کا اجلاس یہاں منعقد ہوا جس کی صدارت وزیرِاعظم کے نجکاری مشیر محمد علی نے کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;قبل ازیں ایک پریس کانفرنس میں مشیر محمد علی نے کہا کہ پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز کمپنی لمیٹڈ (پی آئی اے سی ایل) میں 10 ارب روپے نقد (7.5 فیصد حصہ) کے علاوہ، حکومت 45 ارب روپے کی ایکویٹی ویلیو (25 فیصد حصہ) برقرار رکھے گی۔ انہوں نے اس دعوے کو کہ حکومت کو اس معاہدے سے صرف 10 ارب روپے حاصل ہوں گے، گمراہ کن قرار دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیرِ اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس میں انہوں نے کہا کہ حکومت کو بولی کی آمدنی سے مجموعی طور پر 55 ارب روپے حاصل ہوں گے، جبکہ 125 ارب روپے پی آئی اے میں دوبارہ لگائے جائینگے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پی آئی اے کی نجکاری کا دفاع کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ قومی کیریئر کی کارکردگی 2009 کے بعد نمایاں طور پر خراب ہوئی اور گزشتہ دہائی میں اس نے 500 ارب روپے کے نقصانات کا سامنا کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے بتایا کہ پی آئی اے کبھی تقریباً 50 طیاروں کے بیڑے کے ساتھ کام کرتی تھی، لیکن موجودہ وقت میں صرف 17 سے 19 طیارے فعال ہیں  جبکہ 12 طیارے لیز پر ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مشیر نے کہا کہ پی آئی اے ہر سال تقریباً چار ملین مسافروں کے سفر کی سہولت فراہم کرتی ہے اور اس کے لینڈنگ اور روٹ رائٹس کو اس کے سب سے قیمتی اثاثے قرار دیا۔  انہوں نے اعتماد ظاہر کیا کہ نجکاری کے ذریعے اس کی کھوئی ہوئی  صلاحیت بتدریج بحال ہوگی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عارف حبیب کنسورشیم منگل کو پی آئی اے میں 75 فیصد حصص کے لیے ہونے والی نیلامی میں سب سے بڑی بولی دہندہ کے طور پر ابھر کر سامنے آیا، جس نے 135 ارب روپے کی بولی دی، جو حکومت کی مقررہ قیمت 100 ارب روپے سے تجاوز کرتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اب یہ عمل نجکاری کمیشن بورڈ اور کابینہ کی حتمی منظوری کی طرف بڑھ رہا ہے، معاہدے پر دستخط دو ہفتوں کے اندر متوقع ہیں اور ریگولیٹری اور قانونی شرائط پوری کرنے کے بعد 90 دن میں مالی تصفیہ مکمل ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مشیر برائے نجکاری نے واضح کیا کہ پی آئی اے کی جائیدادیں اس معاہدے کا حصہ نہیں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کو اس معاہدے سے 55 ارب روپے کا اقتصادی فائدہ حاصل ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مشیر نے بتایا کہ پی آئی اے کی نجکاری گزشتہ چھ ماہ کے دوران تمام متعلقہ فریقین کی انتھک کوششوں کے نتیجے میں مکمل ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ اس سلسلے میں وزیرِاعظم شہباز شریف، ڈپٹی وزیرِاعظم اسحاق ڈار، اور چیف آف آرمی اسٹاف و چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے رہنمائی فراہم کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیرِ اطلاعات و نشریات نے تاہم حکومت کے اس عزم کو دہراتے ہوئے کہا کہ خسارے والے سرکاری اداروں کی نجکاری کے عمل کو تیز کرنے کے لیے حکومت پرعزم ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2025&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>نجکاری کمیشن بورڈ (پی سی بورڈ) نے عارف حبیب گروپ کی سربراہی میں کنسورشیم کی جانب سے پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز کارپوریشن لمیٹڈ کے لیے دی گئی بولی کی سفارش کردی ہے تاکہ نجکاری سے متعلق کابینہ کمیٹی حتمی منظوری دے سکے۔</strong></p>
<p>نجکاری کمیشن (پی سی) کے بورڈ کا اجلاس یہاں منعقد ہوا جس کی صدارت وزیرِاعظم کے نجکاری مشیر محمد علی نے کی۔</p>
<p>قبل ازیں ایک پریس کانفرنس میں مشیر محمد علی نے کہا کہ پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز کمپنی لمیٹڈ (پی آئی اے سی ایل) میں 10 ارب روپے نقد (7.5 فیصد حصہ) کے علاوہ، حکومت 45 ارب روپے کی ایکویٹی ویلیو (25 فیصد حصہ) برقرار رکھے گی۔ انہوں نے اس دعوے کو کہ حکومت کو اس معاہدے سے صرف 10 ارب روپے حاصل ہوں گے، گمراہ کن قرار دیا۔</p>
<p>وزیرِ اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس میں انہوں نے کہا کہ حکومت کو بولی کی آمدنی سے مجموعی طور پر 55 ارب روپے حاصل ہوں گے، جبکہ 125 ارب روپے پی آئی اے میں دوبارہ لگائے جائینگے۔</p>
<p>پی آئی اے کی نجکاری کا دفاع کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ قومی کیریئر کی کارکردگی 2009 کے بعد نمایاں طور پر خراب ہوئی اور گزشتہ دہائی میں اس نے 500 ارب روپے کے نقصانات کا سامنا کیا۔</p>
<p>انہوں نے بتایا کہ پی آئی اے کبھی تقریباً 50 طیاروں کے بیڑے کے ساتھ کام کرتی تھی، لیکن موجودہ وقت میں صرف 17 سے 19 طیارے فعال ہیں  جبکہ 12 طیارے لیز پر ہیں۔</p>
<p>مشیر نے کہا کہ پی آئی اے ہر سال تقریباً چار ملین مسافروں کے سفر کی سہولت فراہم کرتی ہے اور اس کے لینڈنگ اور روٹ رائٹس کو اس کے سب سے قیمتی اثاثے قرار دیا۔  انہوں نے اعتماد ظاہر کیا کہ نجکاری کے ذریعے اس کی کھوئی ہوئی  صلاحیت بتدریج بحال ہوگی۔</p>
<p>عارف حبیب کنسورشیم منگل کو پی آئی اے میں 75 فیصد حصص کے لیے ہونے والی نیلامی میں سب سے بڑی بولی دہندہ کے طور پر ابھر کر سامنے آیا، جس نے 135 ارب روپے کی بولی دی، جو حکومت کی مقررہ قیمت 100 ارب روپے سے تجاوز کرتی ہے۔</p>
<p>اب یہ عمل نجکاری کمیشن بورڈ اور کابینہ کی حتمی منظوری کی طرف بڑھ رہا ہے، معاہدے پر دستخط دو ہفتوں کے اندر متوقع ہیں اور ریگولیٹری اور قانونی شرائط پوری کرنے کے بعد 90 دن میں مالی تصفیہ مکمل ہوگا۔</p>
<p>مشیر برائے نجکاری نے واضح کیا کہ پی آئی اے کی جائیدادیں اس معاہدے کا حصہ نہیں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کو اس معاہدے سے 55 ارب روپے کا اقتصادی فائدہ حاصل ہوگا۔</p>
<p>مشیر نے بتایا کہ پی آئی اے کی نجکاری گزشتہ چھ ماہ کے دوران تمام متعلقہ فریقین کی انتھک کوششوں کے نتیجے میں مکمل ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ اس سلسلے میں وزیرِاعظم شہباز شریف، ڈپٹی وزیرِاعظم اسحاق ڈار، اور چیف آف آرمی اسٹاف و چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے رہنمائی فراہم کی۔</p>
<p>وزیرِ اطلاعات و نشریات نے تاہم حکومت کے اس عزم کو دہراتے ہوئے کہا کہ خسارے والے سرکاری اداروں کی نجکاری کے عمل کو تیز کرنے کے لیے حکومت پرعزم ہے۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2025</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40280900</guid>
      <pubDate>Thu, 25 Dec 2025 11:24:18 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (وسیم اقبال)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/12/25110141b058fa6.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/12/25110141b058fa6.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
