<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Pakistan</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 22:49:04 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 22:49:04 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>توقع ہے پی آئی اے کو نئے مالکان اپریل سے چلائیں گے، مشیر نجکاری</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40280898/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;مشیر نجکاری محمد علی نے کہا ہے کہ توقع ہے قومی ایئر لائن کو نئے مالکان اپریل سے چلائیں گے اور نجکاری کے معاہدے کے تحت اس میں نئی سرمایہ کاری ہوگی۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;br&gt;ایک لائیو ٹیلی وژن نیلامی میں 75 فیصد حصص کے لیے عارف حبیب کارپوریشن کی قیادت میں قائم کنسورشیم سب سے بڑا بولی دہندہ قرار پایا، جو حکومت کی طویل المدتی تاخیر کا شکار حاملہ نجکاری کے لیے ایک اہم پیش رفت ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عارف حبیب کارپوریشن کی سربراہی میں ایک کنسورشیم (اتحاد)  پی آئی اے  کے 75 فیصد حصص کے لیے لائیو ٹیلی کاسٹ ہونے والی نیلامی میں سب سے بڑے بولی دہندہ کے طور پر ابھرا ہے، جو کہ ایئرلائن کی طویل عرصے سے التوا کا شکار نجکاری کے حوالے سے حکومت کے لیے  بڑی کامیابی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عارف حبیب کنسورشیم نے 135 ارب روپے (تقریباً 482.14 ملین ڈالر) کی پیشکش کی جو حکومت کی مقرر کردہ کم از کم قیمت یعنی 100 ارب روپے سے کہیں زیادہ ہے۔ یہ گزشتہ سال کی ناکام فروخت کے بعد ایک بڑی اور مثبت تبدیلی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیر اعظم کے مشیر برائے نجکاری محمد علی نے رائٹرز کو ایک آن لائن انٹرویو میں بتایا کہ  توقع ہے کہ قومی ایئرلائن کے نئے مالکان اگلے سال اپریل سے ایئرلائن کو چلائیں گے جس کے لیے ضروری منظوریوں کا حصول لازمی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اب یہ عمل نجکاری کمیشن بورڈ اور کابینہ کی حتمی منظوریوں کی طرف بڑھ گیا ہے جو چند دنوں میں متوقع ہے۔ معاہدے پر دستخط دو ہفتوں کے اندر ممکن ہیں اور 90 دن کے اندر مالی تصفیہ مکمل کیا جائے گا تاکہ ریگولیٹری اور قانونی شرائط پوری کی جا سکیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;محمد علی نے بتایا کہ حکومت کو ابتدائی طور پر تقریباً 10 ارب روپے نقد وصول ہوں گے اور حکومت کے پاس 25 فیصد حصص رہیں گے جس کی قیمت تقریباً 45 ارب روپے ہوگی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ معاہدہ صرف ملکیت کی منتقلی نہیں بلکہ ایئرلائن میں نئی سرمایہ کاری کے لیے ترتیب دیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;محمد علی نے کہا کہ ہم نہیں چاہتے تھے کہ ایسی صورتحال پیدا ہو کہ حکومت ایئرلائن فروخت کرے، رقم لے اور پھر کمپنی گرجائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جیتنے والے کنسورشیم میں کھاد بنانے والی کمپنی فاطمہ، نجی اسکول نیٹ ورک سٹی اسکولز اور رئیل اسٹیٹ فرم لیک سٹی ہولڈنگز لمیٹڈ بھی شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;محمد علی نے کہا کہ فوجی زیرِ انتظام گروپ فوجی فرٹیلائزر کمپنی نے بولی نہیں دی لیکن وہ جیتنے والے کنسورشیم میں شریک کے طور پر شامل ہوسکتی ہے کیونکہ خریدار کو دو پارٹنرز تک شامل کرنے کی اجازت ہے جن میں کنسورشیم پارٹنر یا غیر ملکی ایئرلائن شامل ہو سکتی ہے، بشرطیکہ وہ اہل ہونے کے معیار پر پورا اترے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ پارٹنرز کو شامل کرنے سے مالی طاقت میں اضافہ ہوگا اور عالمی ہوابازی کے ماہرین کی مہارت بھی لائی جا سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;آئی ایم ایف کا دباؤ&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;محمد علی نے کہا کہ اس بات کو یقینی بنانے کے لیے حفاظتی اقدامات کیے گئے ہیں، جن میں رکھے گئے ارنسٹ منی اور معاہدے پر دستخط کے وقت اضافی ادائیگی شامل ہیں تاکہ اگر معاہدہ مکمل نہ ہو تو حکومت دوسرے سب سے بڑے بولی دہندہ کی طرف منتقل ہوسکے ۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ملازمین کے بارے میں محمد علی نے کہا کہ خریدار کو لین دین کے بعد 12 ماہ تک تمام ملازمین برقرار رکھنے ہوں گے اور ان کے معاہدے میں کوئی تبدیلی نہیں کی جائے گی۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ حالیہ برسوں میں پی آئی اے کے عملے کی تعداد پہلے ہی کم ہو چکی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ فروخت بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کی سخت نگرانی میں ہے جس نے پاکستان پر زور دیا ہے کہ وہ سرکاری اداروں میں خسارے کو روکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;محمد علی نے کہا کہ پی آئی اے کی نجکاری آئی ایم ایف کے ساتھ پاکستان کی اصلاحاتی ساکھ کا اہم امتحان ہے اور خسارے والے سرکاری ادارے فروخت نہ کرنے کی صورت میں عوامی مالیات پر دوبارہ دباؤ پیدا ہو سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ معاہدے کو مکمل کرنا اصلاحات اور نجکاری کے عمل میں رفتار کا اشارہ ہوگا اور حکومت پی آئی اے کی فروخت کے بعد مستقبل میں ہونے والے لین دین کی منصوبہ بندی پر بھی کام کررہی ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>مشیر نجکاری محمد علی نے کہا ہے کہ توقع ہے قومی ایئر لائن کو نئے مالکان اپریل سے چلائیں گے اور نجکاری کے معاہدے کے تحت اس میں نئی سرمایہ کاری ہوگی۔</strong></p>
<p><br>ایک لائیو ٹیلی وژن نیلامی میں 75 فیصد حصص کے لیے عارف حبیب کارپوریشن کی قیادت میں قائم کنسورشیم سب سے بڑا بولی دہندہ قرار پایا، جو حکومت کی طویل المدتی تاخیر کا شکار حاملہ نجکاری کے لیے ایک اہم پیش رفت ہے۔</p>
<p>عارف حبیب کارپوریشن کی سربراہی میں ایک کنسورشیم (اتحاد)  پی آئی اے  کے 75 فیصد حصص کے لیے لائیو ٹیلی کاسٹ ہونے والی نیلامی میں سب سے بڑے بولی دہندہ کے طور پر ابھرا ہے، جو کہ ایئرلائن کی طویل عرصے سے التوا کا شکار نجکاری کے حوالے سے حکومت کے لیے  بڑی کامیابی ہے۔</p>
<p>عارف حبیب کنسورشیم نے 135 ارب روپے (تقریباً 482.14 ملین ڈالر) کی پیشکش کی جو حکومت کی مقرر کردہ کم از کم قیمت یعنی 100 ارب روپے سے کہیں زیادہ ہے۔ یہ گزشتہ سال کی ناکام فروخت کے بعد ایک بڑی اور مثبت تبدیلی ہے۔</p>
<p>وزیر اعظم کے مشیر برائے نجکاری محمد علی نے رائٹرز کو ایک آن لائن انٹرویو میں بتایا کہ  توقع ہے کہ قومی ایئرلائن کے نئے مالکان اگلے سال اپریل سے ایئرلائن کو چلائیں گے جس کے لیے ضروری منظوریوں کا حصول لازمی ہے۔</p>
<p>اب یہ عمل نجکاری کمیشن بورڈ اور کابینہ کی حتمی منظوریوں کی طرف بڑھ گیا ہے جو چند دنوں میں متوقع ہے۔ معاہدے پر دستخط دو ہفتوں کے اندر ممکن ہیں اور 90 دن کے اندر مالی تصفیہ مکمل کیا جائے گا تاکہ ریگولیٹری اور قانونی شرائط پوری کی جا سکیں۔</p>
<p>محمد علی نے بتایا کہ حکومت کو ابتدائی طور پر تقریباً 10 ارب روپے نقد وصول ہوں گے اور حکومت کے پاس 25 فیصد حصص رہیں گے جس کی قیمت تقریباً 45 ارب روپے ہوگی۔</p>
<p>یہ معاہدہ صرف ملکیت کی منتقلی نہیں بلکہ ایئرلائن میں نئی سرمایہ کاری کے لیے ترتیب دیا گیا ہے۔</p>
<p>محمد علی نے کہا کہ ہم نہیں چاہتے تھے کہ ایسی صورتحال پیدا ہو کہ حکومت ایئرلائن فروخت کرے، رقم لے اور پھر کمپنی گرجائے۔</p>
<p>جیتنے والے کنسورشیم میں کھاد بنانے والی کمپنی فاطمہ، نجی اسکول نیٹ ورک سٹی اسکولز اور رئیل اسٹیٹ فرم لیک سٹی ہولڈنگز لمیٹڈ بھی شامل ہیں۔</p>
<p>محمد علی نے کہا کہ فوجی زیرِ انتظام گروپ فوجی فرٹیلائزر کمپنی نے بولی نہیں دی لیکن وہ جیتنے والے کنسورشیم میں شریک کے طور پر شامل ہوسکتی ہے کیونکہ خریدار کو دو پارٹنرز تک شامل کرنے کی اجازت ہے جن میں کنسورشیم پارٹنر یا غیر ملکی ایئرلائن شامل ہو سکتی ہے، بشرطیکہ وہ اہل ہونے کے معیار پر پورا اترے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ پارٹنرز کو شامل کرنے سے مالی طاقت میں اضافہ ہوگا اور عالمی ہوابازی کے ماہرین کی مہارت بھی لائی جا سکتی ہے۔</p>
<p><strong>آئی ایم ایف کا دباؤ</strong></p>
<p>محمد علی نے کہا کہ اس بات کو یقینی بنانے کے لیے حفاظتی اقدامات کیے گئے ہیں، جن میں رکھے گئے ارنسٹ منی اور معاہدے پر دستخط کے وقت اضافی ادائیگی شامل ہیں تاکہ اگر معاہدہ مکمل نہ ہو تو حکومت دوسرے سب سے بڑے بولی دہندہ کی طرف منتقل ہوسکے ۔</p>
<p>ملازمین کے بارے میں محمد علی نے کہا کہ خریدار کو لین دین کے بعد 12 ماہ تک تمام ملازمین برقرار رکھنے ہوں گے اور ان کے معاہدے میں کوئی تبدیلی نہیں کی جائے گی۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ حالیہ برسوں میں پی آئی اے کے عملے کی تعداد پہلے ہی کم ہو چکی ہے۔</p>
<p>یہ فروخت بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کی سخت نگرانی میں ہے جس نے پاکستان پر زور دیا ہے کہ وہ سرکاری اداروں میں خسارے کو روکے۔</p>
<p>محمد علی نے کہا کہ پی آئی اے کی نجکاری آئی ایم ایف کے ساتھ پاکستان کی اصلاحاتی ساکھ کا اہم امتحان ہے اور خسارے والے سرکاری ادارے فروخت نہ کرنے کی صورت میں عوامی مالیات پر دوبارہ دباؤ پیدا ہو سکتا ہے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ معاہدے کو مکمل کرنا اصلاحات اور نجکاری کے عمل میں رفتار کا اشارہ ہوگا اور حکومت پی آئی اے کی فروخت کے بعد مستقبل میں ہونے والے لین دین کی منصوبہ بندی پر بھی کام کررہی ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40280898</guid>
      <pubDate>Thu, 25 Dec 2025 10:41:17 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/12/251027213958549.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/12/251027213958549.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
