<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Pakistan</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 22:24:27 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 22:24:27 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>کاروباری لاگت، کارگو میں تاخیر کو کم کرنے کے لیے بڑے پیمانے پر پورٹ اصلاحات کی جائیں، وزیراعظم</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40280885/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;وزیراعظم محمد شہباز شریف نے بدھ کے روز پورٹ حکام کو ہدایت کی ہے کہ کاروباری برادری کو سہولت فراہم کرنے اور قومی معاشی ترقی کو فروغ دینے کے لیے کارگو کے ” ڈویل ٹائم“ میں نمایاں کمی لائی جائے اور غیر ضروری لیبارٹری ٹیسٹنگ کا خاتمہ کیا جائے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بندرگاہوں کی ترقی سے متعلق نجی شعبے کے ورکنگ گروپ کے اعلیٰ سطح اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان کی بندرگاہیں معیشت کی ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہیں۔ انہوں نے ہدایت کی کہ مختلف بندرگاہی چارجز میں مزید کمی کی جائے تاکہ پاکستانی برآمدات عالمی منڈی میں زیادہ مسابقتی بن سکیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیراعظم نے یہ بھی ہدایت کی کہ سامان کی اندرونِ ملک ترسیل کو بہتر بنانے کے لیے بندرگاہوں سے ریل رابطہ اپ گریڈ کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ تمام بندرگاہوں، بالخصوص کراچی میں، ڈریجنگ اور توسیعی کام تیز کیے جائیں تاکہ بڑے بحری جہازوں کی آمد ممکن ہو سکے، اور بتایا کہ ان منصوبوں کے لیے ٹینڈرز پہلے ہی جاری کیے جا چکے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاخیر سے بچنے کے لیے وزیراعظم نے حکم دیا کہ ابتدائی کارگو ٹیسٹنگ کی لیبارٹریاں بندرگاہوں کے احاطے میں قائم کی جائیں اور غیر ضروری لیبارٹری ٹیسٹ ختم کیے جائیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;طویل عرصے سے بندرگاہوں پر پڑے لاوارث کارگو کے مسئلے سے نمٹنے کے لیے وزیراعظم شہباز شریف نے شفاف نیلامی نظام متعارف کرانے کی ہدایت کی۔ انہوں نے ایسے کارگو کے لیے مخصوص یارڈز قائم کرنے کا حکم دیا اور اس عمل کے انتظام کے لیے عالمی شہرت یافتہ کمپنیوں کی خدمات حاصل کرنے کی تجویز دی۔ جلد ہی ایک نیا ای بڈنگ سسٹم فعال ہو جائے گا، جس کے تحت ملک بھر سے شرکا دور بیٹھے لاوارث کارگو کی نیلامی میں حصہ لے سکیں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ورکنگ گروپ کے چیئرمین زیاد بشیر نے بندرگاہی اصلاحات سے متعلق ٹھوس سفارشات پیش کیں اور حکومت کے حالیہ اقدامات کو سراہا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز (پی آئی اے) کی شفاف نجکاری سے کاروباری برادری کا اعتماد نمایاں طور پر بحال ہوا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اجلاس کو بتایا گیا کہ قومی بندرگاہی ماسٹر پلان تیزی سے آگے بڑھ رہا ہے اور پورٹ کمیونٹی سسٹم پہلے ہی فعال ہو چکا ہے۔ مزید یہ کہ ایک بڑے ریلیف اقدام کے طور پر پورٹ قاسم پر بلک کارگو فیس میں حال ہی میں 50 فیصد سے زائد کمی کی گئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اجلاس میں وفاقی وزرا احسن اقبال، احد خان چیمہ، مصدق ملک اور دیگر سینئر سرکاری حکام نے شرکت کی۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>وزیراعظم محمد شہباز شریف نے بدھ کے روز پورٹ حکام کو ہدایت کی ہے کہ کاروباری برادری کو سہولت فراہم کرنے اور قومی معاشی ترقی کو فروغ دینے کے لیے کارگو کے ” ڈویل ٹائم“ میں نمایاں کمی لائی جائے اور غیر ضروری لیبارٹری ٹیسٹنگ کا خاتمہ کیا جائے۔</strong></p>
<p>بندرگاہوں کی ترقی سے متعلق نجی شعبے کے ورکنگ گروپ کے اعلیٰ سطح اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان کی بندرگاہیں معیشت کی ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہیں۔ انہوں نے ہدایت کی کہ مختلف بندرگاہی چارجز میں مزید کمی کی جائے تاکہ پاکستانی برآمدات عالمی منڈی میں زیادہ مسابقتی بن سکیں۔</p>
<p>وزیراعظم نے یہ بھی ہدایت کی کہ سامان کی اندرونِ ملک ترسیل کو بہتر بنانے کے لیے بندرگاہوں سے ریل رابطہ اپ گریڈ کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ تمام بندرگاہوں، بالخصوص کراچی میں، ڈریجنگ اور توسیعی کام تیز کیے جائیں تاکہ بڑے بحری جہازوں کی آمد ممکن ہو سکے، اور بتایا کہ ان منصوبوں کے لیے ٹینڈرز پہلے ہی جاری کیے جا چکے ہیں۔</p>
<p>تاخیر سے بچنے کے لیے وزیراعظم نے حکم دیا کہ ابتدائی کارگو ٹیسٹنگ کی لیبارٹریاں بندرگاہوں کے احاطے میں قائم کی جائیں اور غیر ضروری لیبارٹری ٹیسٹ ختم کیے جائیں۔</p>
<p>طویل عرصے سے بندرگاہوں پر پڑے لاوارث کارگو کے مسئلے سے نمٹنے کے لیے وزیراعظم شہباز شریف نے شفاف نیلامی نظام متعارف کرانے کی ہدایت کی۔ انہوں نے ایسے کارگو کے لیے مخصوص یارڈز قائم کرنے کا حکم دیا اور اس عمل کے انتظام کے لیے عالمی شہرت یافتہ کمپنیوں کی خدمات حاصل کرنے کی تجویز دی۔ جلد ہی ایک نیا ای بڈنگ سسٹم فعال ہو جائے گا، جس کے تحت ملک بھر سے شرکا دور بیٹھے لاوارث کارگو کی نیلامی میں حصہ لے سکیں گے۔</p>
<p>ورکنگ گروپ کے چیئرمین زیاد بشیر نے بندرگاہی اصلاحات سے متعلق ٹھوس سفارشات پیش کیں اور حکومت کے حالیہ اقدامات کو سراہا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز (پی آئی اے) کی شفاف نجکاری سے کاروباری برادری کا اعتماد نمایاں طور پر بحال ہوا ہے۔</p>
<p>اجلاس کو بتایا گیا کہ قومی بندرگاہی ماسٹر پلان تیزی سے آگے بڑھ رہا ہے اور پورٹ کمیونٹی سسٹم پہلے ہی فعال ہو چکا ہے۔ مزید یہ کہ ایک بڑے ریلیف اقدام کے طور پر پورٹ قاسم پر بلک کارگو فیس میں حال ہی میں 50 فیصد سے زائد کمی کی گئی ہے۔</p>
<p>اجلاس میں وفاقی وزرا احسن اقبال، احد خان چیمہ، مصدق ملک اور دیگر سینئر سرکاری حکام نے شرکت کی۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40280885</guid>
      <pubDate>Wed, 24 Dec 2025 17:01:55 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/12/24164936b158ba8.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/12/24164936b158ba8.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
