<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Pakistan</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 20:35:54 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 20:35:54 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>وزارت آئی ٹی کا آئندہ سال بڑے شہروں میں فائیو جی سروس متعارف کرانے کا اعلان</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40280875/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;وفاقی وزیر آئی ٹی و ٹیلی کام شزا فاطمہ خواجہ نے نے بدھ کو کہا کہ آئندہ مالی سال کی پہلی سہ ماہی میں پانچ شہروں بشمول کراچی، لاہور اور اسلام آباد میں فائیو جی سروس کا آغاز متوقع ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزارت آئی ٹی کے زیرِ اہتمام ایک ویبی نار سے خطاب کرتے ہوئے شزا فاطمہ نے کہا کہ فروری 2026 میں اسپیکٹرم کی نیلامی شیڈول ہے اور اس نیلامی کے تقریباً چھ ماہ بعد فائیو جی وفاقی دارالحکومت اور چاروں صوبائی دارالحکومتوں میں لانچ کیے جانے کی توقع ہے۔ فائیو جی ٹیکنالوجی تیز ڈیٹا اسپیڈ اور کم ترین لیٹنسی فراہم کرے گی۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ فروری کی نیلامی کے چار ماہ کے اندر فور جی ٹیکنالوجی کی خدمات (مزید بہتر انداز میں) متوقع ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے اس بات کا اعادہ کیا کہ نیلامی کا مطالبہ ٹیلی کام سیکٹر (مواصلاتی کمپنیوں) کی جانب سے آیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مزید کہا کہ اسپیکٹرم نیلامی کے لیے سفارشات بشمول بڈنگ ماڈل اور بنیادی قیمت وفاقی کابینہ کو پیش کردی گئی ہیں۔ آئی ٹی وزیر نے تصدیق کی کہ ان اہم فیصلوں کو آج کابینہ کی منظوری کے بعد حتمی شکل دے دی جائے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ایک روز قبل وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب کی زیرِ صدارت اقتصادی رابطہ کمیٹی نے پاکستان کی تاریخ کی سب سے بڑی اسپیکٹرم نیلامی کے لیے اہم سفارشات کی منظوری دی  جس سے ملک میں پہلی بار فائیو جی (5G) سروسز کے تجارتی آغاز کی راہ ہموار ہوئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ منظوری اسپیکٹرم ایڈوائزری کمیٹی کی تجاویز پر مبنی ہے جس کی صدارت بھی وزیرِ خزانہ نے کی تھی۔ یہ تجاویز اسٹیک ہولڈرز بشمول صارفین اور پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی کے ساتھ مشاورت اور اسپیکٹرم کی قیمتوں، ادائیگی کی شرائط اور نیلامی کے ڈیزائن سے متعلق بین الاقوامی اور علاقائی معیارات  کے جائزے کے بعد تیار کی گئی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا کہ ہم ڈیجیٹل پاکستان کے سفر پر ہیں اور اس سفر کو تیز کر رہے ہیں، اسپیکٹرم نیلامی اس سلسلے میں ایک اہم سہولت فراہم کرنے والا اقدام ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;شزا فاطمہ  نے پریس کانفرنس میں کہا کہ ای سی سی کا فیصلہ ایک اہم پالیسی رکاوٹ کو دور کرتا ہے اور اب یہ سفارشات وفاقی کابینہ کے سامنے حتمی منظوری کے لیے رکھی جائیں گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وفاقی کابینہ کی منظوری کے بعد، پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) ایک معلوماتی میمورنڈم جاری کرے گی جس کے ذریعے ٹیلی کام آپریٹرز کے ساتھ رسمی مشاورت اور مذاکرات کا آغاز ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;شزا فاطمہ  کے مطابق حکومت کا ہدف ہے کہ نیلامی جنوری کے آخر یا فروری کے پہلے ہفتے تک مکمل کر لی جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس منصوبے کے تحت تقریباً 600 میگا ہرٹز اسپیکٹرم نیلامی کے لیے پیش کی جائے گی، جو موجودہ 274 میگا ہرٹز کے علاوہ ہے جس سے یہ پاکستان کی تاریخ کی سب سے بڑی اسپیکٹرم نیلامی بن جائے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;1800 میگا ہرٹز اور 2300 میگا ہرٹز بینڈز کو چھوڑ کر باقی تمام فریکوئنسی بینڈز ملک میں پہلی بار نیلام کیے جائیں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ویبی نار سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے کہا کہ اسپیکٹرم نیلامی مؤثر طریقے سے انٹرنیٹ کی رفتار کو بہتر بنائے گی۔  نیلامی مکمل ہونے کے بعد ہم اس بات کو یقینی بنائیں گے کہ صارفین کے انٹرنیٹ کے تجربے میں نمایاں بہتری آئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;شزا فاطمہ نے کہا کہ فائیو جی ٹیکنالوجی کے تعارف کے بعد انٹرنیٹ کی رفتار یقینی طور پر بڑھ جائے گی، لیکن ہم فور جی کی رفتار کو بہتر بنانے کی کوشش بھی کریں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ 2026 کے وسط تک پاکستان میں انٹرنیٹ کی رفتار میں نمایاں بہتری دیکھنے کو ملے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ہم یہ بھی کوشش کر رہے ہیں کہ اچھا انٹرنیٹ ہائی ویز اور دور دراز علاقوں میں بھی دستیاب ہو۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>وفاقی وزیر آئی ٹی و ٹیلی کام شزا فاطمہ خواجہ نے نے بدھ کو کہا کہ آئندہ مالی سال کی پہلی سہ ماہی میں پانچ شہروں بشمول کراچی، لاہور اور اسلام آباد میں فائیو جی سروس کا آغاز متوقع ہے۔</strong></p>
<p>وزارت آئی ٹی کے زیرِ اہتمام ایک ویبی نار سے خطاب کرتے ہوئے شزا فاطمہ نے کہا کہ فروری 2026 میں اسپیکٹرم کی نیلامی شیڈول ہے اور اس نیلامی کے تقریباً چھ ماہ بعد فائیو جی وفاقی دارالحکومت اور چاروں صوبائی دارالحکومتوں میں لانچ کیے جانے کی توقع ہے۔ فائیو جی ٹیکنالوجی تیز ڈیٹا اسپیڈ اور کم ترین لیٹنسی فراہم کرے گی۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ فروری کی نیلامی کے چار ماہ کے اندر فور جی ٹیکنالوجی کی خدمات (مزید بہتر انداز میں) متوقع ہیں۔</p>
<p>انہوں نے اس بات کا اعادہ کیا کہ نیلامی کا مطالبہ ٹیلی کام سیکٹر (مواصلاتی کمپنیوں) کی جانب سے آیا ہے۔</p>
<p>انہوں نے مزید کہا کہ اسپیکٹرم نیلامی کے لیے سفارشات بشمول بڈنگ ماڈل اور بنیادی قیمت وفاقی کابینہ کو پیش کردی گئی ہیں۔ آئی ٹی وزیر نے تصدیق کی کہ ان اہم فیصلوں کو آج کابینہ کی منظوری کے بعد حتمی شکل دے دی جائے گی۔</p>
<p>یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ایک روز قبل وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب کی زیرِ صدارت اقتصادی رابطہ کمیٹی نے پاکستان کی تاریخ کی سب سے بڑی اسپیکٹرم نیلامی کے لیے اہم سفارشات کی منظوری دی  جس سے ملک میں پہلی بار فائیو جی (5G) سروسز کے تجارتی آغاز کی راہ ہموار ہوئی۔</p>
<p>یہ منظوری اسپیکٹرم ایڈوائزری کمیٹی کی تجاویز پر مبنی ہے جس کی صدارت بھی وزیرِ خزانہ نے کی تھی۔ یہ تجاویز اسٹیک ہولڈرز بشمول صارفین اور پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی کے ساتھ مشاورت اور اسپیکٹرم کی قیمتوں، ادائیگی کی شرائط اور نیلامی کے ڈیزائن سے متعلق بین الاقوامی اور علاقائی معیارات  کے جائزے کے بعد تیار کی گئی ہیں۔</p>
<p>وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا کہ ہم ڈیجیٹل پاکستان کے سفر پر ہیں اور اس سفر کو تیز کر رہے ہیں، اسپیکٹرم نیلامی اس سلسلے میں ایک اہم سہولت فراہم کرنے والا اقدام ہے۔</p>
<p>شزا فاطمہ  نے پریس کانفرنس میں کہا کہ ای سی سی کا فیصلہ ایک اہم پالیسی رکاوٹ کو دور کرتا ہے اور اب یہ سفارشات وفاقی کابینہ کے سامنے حتمی منظوری کے لیے رکھی جائیں گی۔</p>
<p>وفاقی کابینہ کی منظوری کے بعد، پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) ایک معلوماتی میمورنڈم جاری کرے گی جس کے ذریعے ٹیلی کام آپریٹرز کے ساتھ رسمی مشاورت اور مذاکرات کا آغاز ہوگا۔</p>
<p>شزا فاطمہ  کے مطابق حکومت کا ہدف ہے کہ نیلامی جنوری کے آخر یا فروری کے پہلے ہفتے تک مکمل کر لی جائے۔</p>
<p>اس منصوبے کے تحت تقریباً 600 میگا ہرٹز اسپیکٹرم نیلامی کے لیے پیش کی جائے گی، جو موجودہ 274 میگا ہرٹز کے علاوہ ہے جس سے یہ پاکستان کی تاریخ کی سب سے بڑی اسپیکٹرم نیلامی بن جائے گی۔</p>
<p>1800 میگا ہرٹز اور 2300 میگا ہرٹز بینڈز کو چھوڑ کر باقی تمام فریکوئنسی بینڈز ملک میں پہلی بار نیلام کیے جائیں گے۔</p>
<p>ویبی نار سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے کہا کہ اسپیکٹرم نیلامی مؤثر طریقے سے انٹرنیٹ کی رفتار کو بہتر بنائے گی۔  نیلامی مکمل ہونے کے بعد ہم اس بات کو یقینی بنائیں گے کہ صارفین کے انٹرنیٹ کے تجربے میں نمایاں بہتری آئے۔</p>
<p>شزا فاطمہ نے کہا کہ فائیو جی ٹیکنالوجی کے تعارف کے بعد انٹرنیٹ کی رفتار یقینی طور پر بڑھ جائے گی، لیکن ہم فور جی کی رفتار کو بہتر بنانے کی کوشش بھی کریں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ 2026 کے وسط تک پاکستان میں انٹرنیٹ کی رفتار میں نمایاں بہتری دیکھنے کو ملے گی۔</p>
<p>ہم یہ بھی کوشش کر رہے ہیں کہ اچھا انٹرنیٹ ہائی ویز اور دور دراز علاقوں میں بھی دستیاب ہو۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40280875</guid>
      <pubDate>Wed, 24 Dec 2025 14:13:32 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بصیر احمد)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/12/24135620851ecfb.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/12/24135620851ecfb.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
