<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Pakistan</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 04 Jun 2026 18:42:37 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 04 Jun 2026 18:42:37 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پاکستان پائیدار و طویل مدتی معاشی ترقی کی راہ پر گامزن، محمد اورنگزیب</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40280866/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;وفاقی وزیرخزانہ  محمد اورنگزیب نے کہا کہ پاکستان ایک ایسے اہم موڑ  پر پہنچ چکا ہے جہاں میکرو اکنامک استحکام، مسلسل اصلاحات اور پالیسیوں کے تسلسل سے اعتماد بحال ہورہا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس سے معیشت استحکام کے مرحلے سے نکل کر برآمدات پر مبنی ترقی کی جانب منتقل ہورہی ہے جس سے مقامی اور عالمی سرمایہ کاروں کے لیے نئےامکانات کھل ہورہے ہیں اور ملک پائیدار و طویل مدتی معاشی ترقی کی راہ پر گامزن ہورہا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ یہ تبدیلی میکرو اکنامک استحکام، افراطِ زر میں کمی اور بیرونی ادائیگیوں کے توازن میں بہتری کی بدولت ممکن ہوئی ہے۔ حکومت اسٹرکچرل (ساختی) اصلاحات کے ذریعے برآمدات پر مبنی اور پیداواری صلاحیت پر منحصر ترقی کو فروغ دے رہی ہے اور چیلنجز کے باوجود اصلاحات کے تسلسل کو برقرار رکھے ہوئے ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ، زراعت، معدنیات، ٹیکنالوجی اور کلائمیٹ ریزیلینس (موسمیاتی تبدیلیوں کے خلاف مزاحمت) جیسے ابھرتے ہوئے شعبوں میں عالمی سرمایہ کاری کی بھرپور حوصلہ افزائی کی جا رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان خیالات کا اظہار وفاقی وزیر نے چند ہفتے قبل دیے گئے ایک جامع انٹرویو میں کیا، جسے اب یو ایس اے ٹوڈے اخبار میں پاکستان اسپیشل رپورٹ کے عنوان سے شائع ہونے والی 16 صفحات پر مشتمل ایک خصوصی اشاعت کے حصے کے طور پر شائع کیا گیا ہے۔ یہ خصوصی رپورٹ اخبار کے انٹرنیشنل ڈائریکٹر اور ان کے ساتھیوں کی ٹیم نے تیار کی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ جامع رپورٹ ملکی معیشت، ترقی اور سرمایہ کاری کے ابھرتے مواقع اور اہم پالیسی ترجیحات پر تفصیلی تبصرے، مضامین اور ماہرین کے خیالات پیش کرتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انٹرویو میں محمد اورنگزیب نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان مالی سال 2025 میں ایک نئی اور مستحکم پوزیشن کے ساتھ داخل ہوا ہے، جس کی نمایاں علامات میکرو اکنامک استحکام، بیرونی ادائیگیوں کے توازن میں بہتری اور ساختی اصلاحات  کے لیے پختہ عزم ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے اس بات پر بھی روشنی ڈالی کہ گزشتہ کئی سالوں میں پہلی بار پاکستان نے پرائمری مالیاتی سرپلس  اور کرنٹ اکاؤنٹ سرپلس دونوں حاصل کرلیے ہیں۔ یہ کامیابی خساروں کے بار بار آنے والے چکر سے مستقل چھٹکارے کی جانب ایک فیصلہ کن پیش رفت کی علامت ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ترسیلاتِ زر  کی بھرپور آمد نے اس معاشی بہتری میں کلیدی کردار ادا کیا ہے، جبکہ افراطِ زر (مہنگائی) 38 فیصد کی بلند ترین سطح سے تیزی سے کم ہو کر اب سنگل ڈیجٹ (یعنی 10 فیصد سے کم) کی سطح پر آ گئی ہے۔ غیر ملکی زرمبادلہ ذخائر بڑھ کر 14.5 ارب ڈالر سے تجاوز کر گئے ہیں، جو تقریباً ڈھائی ماہ کی درآمدات کے لیے کافی ہیں، اور شرحِ مبادلہ (روپے کی قدر) میں استحکام رہا ہے، جس سے سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال کرنے میں مدد ملی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;محمد اورنگزیب نے زور دیا کہ اگرچہ میکرو اکنامک استحکام ایک بنیادی ستون ہے، پائیدار ترقی اب بھی مرکزی چیلنج ہے۔ انہوں نے بتایا کہ گزشتہ مالی سال میں 2.7 فیصد کی اقتصادی ترقی مثبت ہونے کے باوجود تیزی سے بڑھتی ہوئی آبادی کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے ناکافی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماضی کے تجربات سے سبق حاصل کرتے ہوئے انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان شعوری طور پر صرف کھپت  اور قرضوں پر مبنی ترقی کے ماڈل سے ہٹ کر اب برآمدات پر مبنی  حکمت عملی کی جانب پیش قدمی کررہا ہے۔ انہوں نے وضاحت کی کہ موجودہ بجٹ میں ٹیکسیشن، بجلی و گیس کی قیمتوں اور سرکاری اداروں  میں ساختی اصلاحات کے ذریعے اس تبدیلی کی عکاسی کی گئی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ، دہائیوں سے جاری تحفظ پسندی کے خاتمے اور عالمی سطح پر مسابقت بڑھانے کے لیے وسیع پیمانے پر ٹیرف اصلاحات بھی کی جا رہی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وفاقی وزیر نے بتایا کہ پاکستان اپنی اقتصادی حکمت عملی کو عالمی طلب کے بدلتے رجحانات کے مطابق ڈھال رہا ہے اور آئی ٹی سروسز، ٹیکسٹائل اور زرعی برآمدات کو ایسے کلیدی شعبے کے طور پر شناخت کیا ہے جن میں مضبوط ترقی کی صلاحیت موجود ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ آئی ٹی برآمدات پہلے ہی چار ارب امریکی ڈالر سے تجاوز کر چکی ہیں اور مسلسل ریگولیٹری وضاحت اور بنیادی ڈھانچے کی ترقی کے ساتھ پانچ سال کے اندر دوگنی ہو سکتی ہیں۔ برآمد کنندگان کے لیے ٹیکس نظام کو آسان بنانے اور بیوروکریٹک رکاوٹوں کو کم کرنے کی کوششیں بھی جاری ہیں تاکہ طویل مدتی پیداواریت اور مقابلہ بازی کو فروغ دیا جا سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وسیع اصلاحاتی ایجنڈے سے متعلق محمد اورنگزیب نے کہا کہ ریاستی ملکیت کی کمپنیوں کی پرائیویٹائزیشن، ٹیرف کی لبرلائزیشن اور توانائی کے شعبے کی تنظیم نو ایسے گہرے مسائل کو حل کرنے کے لیے ڈیزائن کی گئی ہیں جو تاریخی طور پر پبلک فنانس پر دباؤ ڈالتی رہی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ یہ اصلاحات طویل المدتی وژن کا حصہ ہیں۔ انہوں نے ورلڈ بینک کے ساتھ دس سالہ کنٹری پارٹنرشپ فریم ورک کا حوالہ دیا، جو اپنی نوعیت کا پہلا فریم ورک ہے اور اقتصادی اصلاحات کے ساتھ ساتھ ماحولیاتی لچک اور آبادی کے انتظام پر زور دیتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ یہ اصلاحات ایک طویل مدتی وژن کا حصہ ہیں، جو ورلڈ بینک کے پاکستان کے ممکنہ ایسٹ ایشیا مومنٹ  کے اسسمنٹ کی بازگشت ہیں۔ انہوں نے ورلڈ بینک کے ساتھ دس سالہ کنٹری پارٹنرشپ فریم ورک کا حوالہ دیا، جو اپنی نوعیت کا پہلا فریم ورک ہے اور جس میں معاشی اصلاحات کے ساتھ ساتھ موسمیاتی لچک  اور آبادی کے انتظام پر زور دیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماحولیاتی لچک کے حوالے سے انہوں نے پاکستان کی کثیرالجہتی شراکت داروں کے ساتھ مشغولیت کو اجاگر کیا تاکہ بڑھتے ہوئے سیلاب اور خشک سالی کے خلاف تیاری کو مضبوط بنایا جا سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;باقی رہ جانے والے خطرات کا اعتراف کرتے ہوئے جن میں عالمی سطح پر اشیاء کی قیمتوں میں اچانک اتار چڑھاؤ، بیرونی قرضوں کا دباؤ اور سیاسی غیر یقینی صورتحال شامل ہیں، اورنگزیب نے جیو پولیٹیکل (جغرافیائی سیاست) اور اندرونی چیلنجز کے باوجود اصلاحات کے راستے پر گامزن رہنے کے حکومتی عزم کا اعادہ کیا۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ حالیہ معاشی فوائد کے تحفظ کے لیے نظم و ضبط، پالیسیوں میں تسلسل اور بین الاقوامی تعاون مرکزی اہمیت کے حامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سرمایہ کاروں کے لیے مواقع کی نشاندہی کرتے ہوئے وزیر نے زرعی شعبے، معدنیات اور کان کنی اور ابھرتی ہوئی ڈیجیٹل معیشت کو ترجیحی شعبوں کے طور پر اجاگر کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ ریگولیٹری فریم ورک کو اپ ڈیٹ کیا جا رہا ہے تاکہ جدت کی حمایت کی جا سکے اور خاص طور پر امریکہ سے سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی ہو اور تکنیکی تبدیلی کو پاکستان کے لیے ایک بڑا گیم چینجر قرار دیا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>وفاقی وزیرخزانہ  محمد اورنگزیب نے کہا کہ پاکستان ایک ایسے اہم موڑ  پر پہنچ چکا ہے جہاں میکرو اکنامک استحکام، مسلسل اصلاحات اور پالیسیوں کے تسلسل سے اعتماد بحال ہورہا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس سے معیشت استحکام کے مرحلے سے نکل کر برآمدات پر مبنی ترقی کی جانب منتقل ہورہی ہے جس سے مقامی اور عالمی سرمایہ کاروں کے لیے نئےامکانات کھل ہورہے ہیں اور ملک پائیدار و طویل مدتی معاشی ترقی کی راہ پر گامزن ہورہا ہے۔</strong></p>
<p>انہوں نے کہا کہ یہ تبدیلی میکرو اکنامک استحکام، افراطِ زر میں کمی اور بیرونی ادائیگیوں کے توازن میں بہتری کی بدولت ممکن ہوئی ہے۔ حکومت اسٹرکچرل (ساختی) اصلاحات کے ذریعے برآمدات پر مبنی اور پیداواری صلاحیت پر منحصر ترقی کو فروغ دے رہی ہے اور چیلنجز کے باوجود اصلاحات کے تسلسل کو برقرار رکھے ہوئے ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ، زراعت، معدنیات، ٹیکنالوجی اور کلائمیٹ ریزیلینس (موسمیاتی تبدیلیوں کے خلاف مزاحمت) جیسے ابھرتے ہوئے شعبوں میں عالمی سرمایہ کاری کی بھرپور حوصلہ افزائی کی جا رہی ہے۔</p>
<p>ان خیالات کا اظہار وفاقی وزیر نے چند ہفتے قبل دیے گئے ایک جامع انٹرویو میں کیا، جسے اب یو ایس اے ٹوڈے اخبار میں پاکستان اسپیشل رپورٹ کے عنوان سے شائع ہونے والی 16 صفحات پر مشتمل ایک خصوصی اشاعت کے حصے کے طور پر شائع کیا گیا ہے۔ یہ خصوصی رپورٹ اخبار کے انٹرنیشنل ڈائریکٹر اور ان کے ساتھیوں کی ٹیم نے تیار کی ہے۔</p>
<p>یہ جامع رپورٹ ملکی معیشت، ترقی اور سرمایہ کاری کے ابھرتے مواقع اور اہم پالیسی ترجیحات پر تفصیلی تبصرے، مضامین اور ماہرین کے خیالات پیش کرتی ہے۔</p>
<p>انٹرویو میں محمد اورنگزیب نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان مالی سال 2025 میں ایک نئی اور مستحکم پوزیشن کے ساتھ داخل ہوا ہے، جس کی نمایاں علامات میکرو اکنامک استحکام، بیرونی ادائیگیوں کے توازن میں بہتری اور ساختی اصلاحات  کے لیے پختہ عزم ہیں۔</p>
<p>انہوں نے اس بات پر بھی روشنی ڈالی کہ گزشتہ کئی سالوں میں پہلی بار پاکستان نے پرائمری مالیاتی سرپلس  اور کرنٹ اکاؤنٹ سرپلس دونوں حاصل کرلیے ہیں۔ یہ کامیابی خساروں کے بار بار آنے والے چکر سے مستقل چھٹکارے کی جانب ایک فیصلہ کن پیش رفت کی علامت ہے۔</p>
<p>ترسیلاتِ زر  کی بھرپور آمد نے اس معاشی بہتری میں کلیدی کردار ادا کیا ہے، جبکہ افراطِ زر (مہنگائی) 38 فیصد کی بلند ترین سطح سے تیزی سے کم ہو کر اب سنگل ڈیجٹ (یعنی 10 فیصد سے کم) کی سطح پر آ گئی ہے۔ غیر ملکی زرمبادلہ ذخائر بڑھ کر 14.5 ارب ڈالر سے تجاوز کر گئے ہیں، جو تقریباً ڈھائی ماہ کی درآمدات کے لیے کافی ہیں، اور شرحِ مبادلہ (روپے کی قدر) میں استحکام رہا ہے، جس سے سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال کرنے میں مدد ملی ہے۔</p>
<p>محمد اورنگزیب نے زور دیا کہ اگرچہ میکرو اکنامک استحکام ایک بنیادی ستون ہے، پائیدار ترقی اب بھی مرکزی چیلنج ہے۔ انہوں نے بتایا کہ گزشتہ مالی سال میں 2.7 فیصد کی اقتصادی ترقی مثبت ہونے کے باوجود تیزی سے بڑھتی ہوئی آبادی کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے ناکافی ہے۔</p>
<p>ماضی کے تجربات سے سبق حاصل کرتے ہوئے انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان شعوری طور پر صرف کھپت  اور قرضوں پر مبنی ترقی کے ماڈل سے ہٹ کر اب برآمدات پر مبنی  حکمت عملی کی جانب پیش قدمی کررہا ہے۔ انہوں نے وضاحت کی کہ موجودہ بجٹ میں ٹیکسیشن، بجلی و گیس کی قیمتوں اور سرکاری اداروں  میں ساختی اصلاحات کے ذریعے اس تبدیلی کی عکاسی کی گئی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ، دہائیوں سے جاری تحفظ پسندی کے خاتمے اور عالمی سطح پر مسابقت بڑھانے کے لیے وسیع پیمانے پر ٹیرف اصلاحات بھی کی جا رہی ہیں۔</p>
<p>وفاقی وزیر نے بتایا کہ پاکستان اپنی اقتصادی حکمت عملی کو عالمی طلب کے بدلتے رجحانات کے مطابق ڈھال رہا ہے اور آئی ٹی سروسز، ٹیکسٹائل اور زرعی برآمدات کو ایسے کلیدی شعبے کے طور پر شناخت کیا ہے جن میں مضبوط ترقی کی صلاحیت موجود ہے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ آئی ٹی برآمدات پہلے ہی چار ارب امریکی ڈالر سے تجاوز کر چکی ہیں اور مسلسل ریگولیٹری وضاحت اور بنیادی ڈھانچے کی ترقی کے ساتھ پانچ سال کے اندر دوگنی ہو سکتی ہیں۔ برآمد کنندگان کے لیے ٹیکس نظام کو آسان بنانے اور بیوروکریٹک رکاوٹوں کو کم کرنے کی کوششیں بھی جاری ہیں تاکہ طویل مدتی پیداواریت اور مقابلہ بازی کو فروغ دیا جا سکے۔</p>
<p>وسیع اصلاحاتی ایجنڈے سے متعلق محمد اورنگزیب نے کہا کہ ریاستی ملکیت کی کمپنیوں کی پرائیویٹائزیشن، ٹیرف کی لبرلائزیشن اور توانائی کے شعبے کی تنظیم نو ایسے گہرے مسائل کو حل کرنے کے لیے ڈیزائن کی گئی ہیں جو تاریخی طور پر پبلک فنانس پر دباؤ ڈالتی رہی ہیں۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ یہ اصلاحات طویل المدتی وژن کا حصہ ہیں۔ انہوں نے ورلڈ بینک کے ساتھ دس سالہ کنٹری پارٹنرشپ فریم ورک کا حوالہ دیا، جو اپنی نوعیت کا پہلا فریم ورک ہے اور اقتصادی اصلاحات کے ساتھ ساتھ ماحولیاتی لچک اور آبادی کے انتظام پر زور دیتا ہے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ یہ اصلاحات ایک طویل مدتی وژن کا حصہ ہیں، جو ورلڈ بینک کے پاکستان کے ممکنہ ایسٹ ایشیا مومنٹ  کے اسسمنٹ کی بازگشت ہیں۔ انہوں نے ورلڈ بینک کے ساتھ دس سالہ کنٹری پارٹنرشپ فریم ورک کا حوالہ دیا، جو اپنی نوعیت کا پہلا فریم ورک ہے اور جس میں معاشی اصلاحات کے ساتھ ساتھ موسمیاتی لچک  اور آبادی کے انتظام پر زور دیا گیا ہے۔</p>
<p>ماحولیاتی لچک کے حوالے سے انہوں نے پاکستان کی کثیرالجہتی شراکت داروں کے ساتھ مشغولیت کو اجاگر کیا تاکہ بڑھتے ہوئے سیلاب اور خشک سالی کے خلاف تیاری کو مضبوط بنایا جا سکے۔</p>
<p>باقی رہ جانے والے خطرات کا اعتراف کرتے ہوئے جن میں عالمی سطح پر اشیاء کی قیمتوں میں اچانک اتار چڑھاؤ، بیرونی قرضوں کا دباؤ اور سیاسی غیر یقینی صورتحال شامل ہیں، اورنگزیب نے جیو پولیٹیکل (جغرافیائی سیاست) اور اندرونی چیلنجز کے باوجود اصلاحات کے راستے پر گامزن رہنے کے حکومتی عزم کا اعادہ کیا۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ حالیہ معاشی فوائد کے تحفظ کے لیے نظم و ضبط، پالیسیوں میں تسلسل اور بین الاقوامی تعاون مرکزی اہمیت کے حامل ہیں۔</p>
<p>سرمایہ کاروں کے لیے مواقع کی نشاندہی کرتے ہوئے وزیر نے زرعی شعبے، معدنیات اور کان کنی اور ابھرتی ہوئی ڈیجیٹل معیشت کو ترجیحی شعبوں کے طور پر اجاگر کیا۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ ریگولیٹری فریم ورک کو اپ ڈیٹ کیا جا رہا ہے تاکہ جدت کی حمایت کی جا سکے اور خاص طور پر امریکہ سے سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی ہو اور تکنیکی تبدیلی کو پاکستان کے لیے ایک بڑا گیم چینجر قرار دیا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40280866</guid>
      <pubDate>Wed, 24 Dec 2025 12:24:44 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/12/241222353c5918c.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/12/241222353c5918c.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
