<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Business &amp; Finance</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 04 Jun 2026 01:01:35 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 04 Jun 2026 01:01:35 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>روپے کے مقابلے میں ڈالر مسلسل تنزلی کا شکار</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40280860/</link>
      <description>&lt;p&gt;انٹربینک مارکیٹ میں امریکی ڈالر روپے کے مقابلے میں مسلسل تنزلی کا شکار ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بدھ کو بھی ڈالر کے مقابلے میں روپیہ ایک پیسے  کی بہتری سے 280.20  روپے  پر بند ہوا۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full  sm:w-full  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://i.brecorder.com/primary/2025/12/24202518a4ecc54.webp'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.brecorder.com/primary/2025/12/24202518a4ecc54.webp'  alt='' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;یاد رہے کہ منگل کو مقامی کرنسی 280.21 روپے کی سطح پر بند ہوئی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بین الاقوامی سطح پر بدھ کو ڈالر دو دہائیوں سے زائد عرصے میں اپنی بدترین سالانہ کارکردگی کی جانب گامزن رہا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ سرمایہ کار یہ شرط لگا رہے ہیں کہ امریکی فیڈرل ریزرو کے پاس آئندہ سال شرح سود میں مزید کمی کی گنجائش موجود ہوگی، جب کہ اس کے برعکس دیگر کچھ ممالک (اسی طرح کے مرکزی بینک) شرح سود میں اضافے کے لیے تیار دکھائی دے رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایشیا میں تجارتی سیشن کے دوران ڈالر کمزور رہا اور امریکی جی ڈی پی کے مضبوط اعداد و شمار کے باوجود شرح سود کے منظرنامے پر کوئی اثر نہیں پڑا، جس کے نتیجے میں سرمایہ کارآئندہ سال تقریباً دو مزید فیڈرل ریزرو کٹ کو مدنظر رکھ رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مختلف کرنسیوں کے مقابلے میں ڈالر کی قدر گر کر ڈھائی ماہ کی کم ترین سطح 97.767 پر آ گئی ہے، اور یہ سال کے دوران 9.9 فیصد تک گرنے کی راہ پر ہے، جو کہ 2003 کے بعد سے اس کی سالانہ قدر میں سب سے بڑی کمی ہو گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکی ڈالر کا یہ سال غیر یقینی رہا، جس میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی غیر مستحکم محصولات کی پالیسیوں نے اس سال کے آغاز میں امریکی اثاثوں پر اعتماد کے بحران کو جنم دیا۔ فیڈرل ریزرو پر ان کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ نے بھی اس کی خودمختاری کے حوالے سے تشویش پیدا کی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے برعکس، یورو تین ماہ کی بلند ترین سطح 1.1806 ڈالر تک پہنچ گیا اور اس سال اب تک تقریباً 14 فیصد بڑھ چکا ہے جس سے یہ 2003 کے بعد اپنی بہترین کارکردگی کی جانب گامزن ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یورپی مرکزی بینک نے گزشتہ ہفتے شرح سود برقرار رکھی اور کچھ ترقی اور مہنگائی کے تخمینوں میں ترمیم کی جس سے قریبی مدت میں مزید ریلیف کے امکانات کم ہوگئے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاجر اس کے بعد پالیسی میں سختی کے ممکنہ امکانات کو معمولی سمجھ رہے ہیں جو آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ کے حوالے سے توقعات کی عکاسی کرتا ہے جہاں اگلے اقدام کے طور پر شرح سود میں اضافہ متوقع ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>انٹربینک مارکیٹ میں امریکی ڈالر روپے کے مقابلے میں مسلسل تنزلی کا شکار ہے۔</p>
<p>بدھ کو بھی ڈالر کے مقابلے میں روپیہ ایک پیسے  کی بہتری سے 280.20  روپے  پر بند ہوا۔</p>
    <figure class='media  w-full  sm:w-full  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://i.brecorder.com/primary/2025/12/24202518a4ecc54.webp'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.brecorder.com/primary/2025/12/24202518a4ecc54.webp'  alt='' /></picture></div>
        
    </figure>
<p>یاد رہے کہ منگل کو مقامی کرنسی 280.21 روپے کی سطح پر بند ہوئی تھی۔</p>
<p>بین الاقوامی سطح پر بدھ کو ڈالر دو دہائیوں سے زائد عرصے میں اپنی بدترین سالانہ کارکردگی کی جانب گامزن رہا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ سرمایہ کار یہ شرط لگا رہے ہیں کہ امریکی فیڈرل ریزرو کے پاس آئندہ سال شرح سود میں مزید کمی کی گنجائش موجود ہوگی، جب کہ اس کے برعکس دیگر کچھ ممالک (اسی طرح کے مرکزی بینک) شرح سود میں اضافے کے لیے تیار دکھائی دے رہے ہیں۔</p>
<p>ایشیا میں تجارتی سیشن کے دوران ڈالر کمزور رہا اور امریکی جی ڈی پی کے مضبوط اعداد و شمار کے باوجود شرح سود کے منظرنامے پر کوئی اثر نہیں پڑا، جس کے نتیجے میں سرمایہ کارآئندہ سال تقریباً دو مزید فیڈرل ریزرو کٹ کو مدنظر رکھ رہے ہیں۔</p>
<p>مختلف کرنسیوں کے مقابلے میں ڈالر کی قدر گر کر ڈھائی ماہ کی کم ترین سطح 97.767 پر آ گئی ہے، اور یہ سال کے دوران 9.9 فیصد تک گرنے کی راہ پر ہے، جو کہ 2003 کے بعد سے اس کی سالانہ قدر میں سب سے بڑی کمی ہو گی۔</p>
<p>امریکی ڈالر کا یہ سال غیر یقینی رہا، جس میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی غیر مستحکم محصولات کی پالیسیوں نے اس سال کے آغاز میں امریکی اثاثوں پر اعتماد کے بحران کو جنم دیا۔ فیڈرل ریزرو پر ان کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ نے بھی اس کی خودمختاری کے حوالے سے تشویش پیدا کی ہے۔</p>
<p>اس کے برعکس، یورو تین ماہ کی بلند ترین سطح 1.1806 ڈالر تک پہنچ گیا اور اس سال اب تک تقریباً 14 فیصد بڑھ چکا ہے جس سے یہ 2003 کے بعد اپنی بہترین کارکردگی کی جانب گامزن ہے۔</p>
<p>یورپی مرکزی بینک نے گزشتہ ہفتے شرح سود برقرار رکھی اور کچھ ترقی اور مہنگائی کے تخمینوں میں ترمیم کی جس سے قریبی مدت میں مزید ریلیف کے امکانات کم ہوگئے ہیں۔</p>
<p>تاجر اس کے بعد پالیسی میں سختی کے ممکنہ امکانات کو معمولی سمجھ رہے ہیں جو آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ کے حوالے سے توقعات کی عکاسی کرتا ہے جہاں اگلے اقدام کے طور پر شرح سود میں اضافہ متوقع ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40280860</guid>
      <pubDate>Wed, 24 Dec 2025 20:48:47 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ریکارڈر رپورٹ)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/12/24102043a6b6b4e.webp" type="image/webp" medium="image" height="768" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/12/24102043a6b6b4e.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
