<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Business &amp; Finance</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 23:42:41 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 23:42:41 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>جولائی تا نومبر غیر ملکی معاونت 3 ارب ڈالر سے تجاوز کرگئی</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40280857/</link>
      <description>&lt;p&gt;رواں مالی سال 26-2025 کے پہلے پانچ ماہ کے دوران پاکستان کو ملنے والی غیر ملکی مالی معاونت 3 ارب امریکی ڈالر سے تجاوز کرگئی ہے۔ اس امداد میں دوطرفہ اور کثیر الجہتی قرضے، گرانٹس اور نیا پاکستان سرٹیفکیٹس میں کی جانے والی سرمایہ کاری شامل ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اقتصادی امور ڈویژن کی جانب سے نومبر میں جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق مجموعی غیر ملکی معاونت 314.50 ملین امریکی ڈالر رہی جس میں 164 ملین ڈالر کی دوطرفہ معاونت اور 150.48 ملین ڈالر کی کثیرالجہتی معاونت شامل ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جولائی تا نومبر مالی سال 2025-26 کے دوران دوطرفہ قرضوں اور گرانٹس کی مجموعی مالیت 807.64 ملین امریکی ڈالر رہی، جبکہ اسی عرصے میں کثیرالجہتی قرضوں اور گرانٹس کی مالیت 1.26 ارب امریکی ڈالر تک پہنچ گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جولائی تا نومبر دوطرفہ گرانٹس کی مجموعی مالیت 27.17 ملین امریکی ڈالر رہی۔ گرانٹس کی سب سے بڑی رقم چین سے موصول ہوئی جو 10 ملین امریکی ڈالر تھی، اس کے بعد جاپان سے 10.56 ملین امریکی ڈالر اور سعودی عرب سے 2.20 ملین امریکی ڈالر کی گرانٹس حاصل ہوئیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مالی سال 2025-26 کے پہلے پانچ ماہ کے دوران دوطرفہ قرضوں کی مجموعی مالیت 780.47 ملین امریکی ڈالر رہی۔ اس میں چین کے گارنٹی شدہ قرضے 119.77 ملین امریکی ڈالر، چین ہی سے 61.71 ملین امریکی ڈالر، ڈنمارک سے 71.15 ملین امریکی ڈالر، جرمنی سے 15.09 ملین امریکی ڈالر شامل ہیں جبکہ سب سے بڑا قرض سعودی عرب کی جانب سے پاکستان کے لیے تیل سہولت کے تحت 500 ملین امریکی ڈالر کی صورت میں حاصل ہوا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جولائی تا نومبر  کثیرالجہتی گرانٹس کی مجموعی مالیت 26.98 ملین امریکی ڈالر رہی جن میں سے 15.40 ملین امریکی ڈالر آئی بی آر ڈی، 8.18 ملین امریکی ڈالر آئی ڈی اے اور 2.72 ملین امریکی ڈالر آئی ایف اے ڈی سے موصول ہوئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسی عرصے کے دوران مجموعی دوطرفہ قرضے 1.26 ارب  ڈالر تک پہنچ گئے۔ اسلامی ترقیاتی بینک (آئی ایس ڈی بی) 383 ملین امریکی ڈالر کے ساتھ سب سے بڑا قرض دہندہ رہا، اس کے بعد آئی ڈی اے نے 343.15 ملین امریکی ڈالر، ایشیائی ترقیاتی بینک (اے ڈی بی) نے 242 ملین امریکی ڈالر، آئی بی آر ڈی نے 181.84 ملین امریکی ڈالر فراہم کیے جبکہ اسلامی ترقیاتی بینک نے مزید 50 ملین امریکی ڈالر اور آئی ایف اے ڈی نے 16.36 ملین ڈالر کے قرضے دیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مالی سال 2025-26 کے بجٹ تخمینوں کے مطابق کثیرالجہتی گرانٹس کی مالیت 63.72 ملین امریکی ڈالر رکھی گئی ہے جبکہ کثیرالجہتی قرضوں کا حجم 5.04 ارب امریکی ڈالر متوقع ہے۔ جولائی تا نومبر  نیا پاکستان سرٹیفکیٹس کے تحت 965.92 ملین امریکی ڈالر کی ادائیگیاں ہوئیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;زرمبادلہ  ذخائر کو مناسب سطح پر برقرار رکھنے کے لیے پاکستان نے 9 ارب امریکی ڈالر بطور ٹرم ڈپازٹ رکھے، جن میں سے 5 ارب امریکی ڈالر سعودی عرب نے فراہم کیے جب کہ 4 ارب امریکی ڈالر چین کے سیف ڈپازٹ کی صورت میں شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی جانب سے ایکسٹینڈڈ فنڈ فسیلٹی (ای ایف ایف) کے تحت فراہم کی جانے والی قرض سہولت اقتصادی امور ڈویژن یا وزارتِ خزانہ کے کھاتوں میں شامل نہیں کی جاتی، کیونکہ یہ بیلنس آف پیمنٹس (بی او پی) سپورٹ کے زمرے میں آتی ہے اور اس کا اندراج اسٹیٹ بینک کی بیلنس شیٹ میں کیا جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2025&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>رواں مالی سال 26-2025 کے پہلے پانچ ماہ کے دوران پاکستان کو ملنے والی غیر ملکی مالی معاونت 3 ارب امریکی ڈالر سے تجاوز کرگئی ہے۔ اس امداد میں دوطرفہ اور کثیر الجہتی قرضے، گرانٹس اور نیا پاکستان سرٹیفکیٹس میں کی جانے والی سرمایہ کاری شامل ہے۔</p>
<p>اقتصادی امور ڈویژن کی جانب سے نومبر میں جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق مجموعی غیر ملکی معاونت 314.50 ملین امریکی ڈالر رہی جس میں 164 ملین ڈالر کی دوطرفہ معاونت اور 150.48 ملین ڈالر کی کثیرالجہتی معاونت شامل ہے۔</p>
<p>جولائی تا نومبر مالی سال 2025-26 کے دوران دوطرفہ قرضوں اور گرانٹس کی مجموعی مالیت 807.64 ملین امریکی ڈالر رہی، جبکہ اسی عرصے میں کثیرالجہتی قرضوں اور گرانٹس کی مالیت 1.26 ارب امریکی ڈالر تک پہنچ گئی۔</p>
<p>جولائی تا نومبر دوطرفہ گرانٹس کی مجموعی مالیت 27.17 ملین امریکی ڈالر رہی۔ گرانٹس کی سب سے بڑی رقم چین سے موصول ہوئی جو 10 ملین امریکی ڈالر تھی، اس کے بعد جاپان سے 10.56 ملین امریکی ڈالر اور سعودی عرب سے 2.20 ملین امریکی ڈالر کی گرانٹس حاصل ہوئیں۔</p>
<p>مالی سال 2025-26 کے پہلے پانچ ماہ کے دوران دوطرفہ قرضوں کی مجموعی مالیت 780.47 ملین امریکی ڈالر رہی۔ اس میں چین کے گارنٹی شدہ قرضے 119.77 ملین امریکی ڈالر، چین ہی سے 61.71 ملین امریکی ڈالر، ڈنمارک سے 71.15 ملین امریکی ڈالر، جرمنی سے 15.09 ملین امریکی ڈالر شامل ہیں جبکہ سب سے بڑا قرض سعودی عرب کی جانب سے پاکستان کے لیے تیل سہولت کے تحت 500 ملین امریکی ڈالر کی صورت میں حاصل ہوا۔</p>
<p>جولائی تا نومبر  کثیرالجہتی گرانٹس کی مجموعی مالیت 26.98 ملین امریکی ڈالر رہی جن میں سے 15.40 ملین امریکی ڈالر آئی بی آر ڈی، 8.18 ملین امریکی ڈالر آئی ڈی اے اور 2.72 ملین امریکی ڈالر آئی ایف اے ڈی سے موصول ہوئے۔</p>
<p>اسی عرصے کے دوران مجموعی دوطرفہ قرضے 1.26 ارب  ڈالر تک پہنچ گئے۔ اسلامی ترقیاتی بینک (آئی ایس ڈی بی) 383 ملین امریکی ڈالر کے ساتھ سب سے بڑا قرض دہندہ رہا، اس کے بعد آئی ڈی اے نے 343.15 ملین امریکی ڈالر، ایشیائی ترقیاتی بینک (اے ڈی بی) نے 242 ملین امریکی ڈالر، آئی بی آر ڈی نے 181.84 ملین امریکی ڈالر فراہم کیے جبکہ اسلامی ترقیاتی بینک نے مزید 50 ملین امریکی ڈالر اور آئی ایف اے ڈی نے 16.36 ملین ڈالر کے قرضے دیے۔</p>
<p>مالی سال 2025-26 کے بجٹ تخمینوں کے مطابق کثیرالجہتی گرانٹس کی مالیت 63.72 ملین امریکی ڈالر رکھی گئی ہے جبکہ کثیرالجہتی قرضوں کا حجم 5.04 ارب امریکی ڈالر متوقع ہے۔ جولائی تا نومبر  نیا پاکستان سرٹیفکیٹس کے تحت 965.92 ملین امریکی ڈالر کی ادائیگیاں ہوئیں۔</p>
<p>زرمبادلہ  ذخائر کو مناسب سطح پر برقرار رکھنے کے لیے پاکستان نے 9 ارب امریکی ڈالر بطور ٹرم ڈپازٹ رکھے، جن میں سے 5 ارب امریکی ڈالر سعودی عرب نے فراہم کیے جب کہ 4 ارب امریکی ڈالر چین کے سیف ڈپازٹ کی صورت میں شامل ہیں۔</p>
<p>بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی جانب سے ایکسٹینڈڈ فنڈ فسیلٹی (ای ایف ایف) کے تحت فراہم کی جانے والی قرض سہولت اقتصادی امور ڈویژن یا وزارتِ خزانہ کے کھاتوں میں شامل نہیں کی جاتی، کیونکہ یہ بیلنس آف پیمنٹس (بی او پی) سپورٹ کے زمرے میں آتی ہے اور اس کا اندراج اسٹیٹ بینک کی بیلنس شیٹ میں کیا جاتا ہے۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2025</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40280857</guid>
      <pubDate>Wed, 24 Dec 2025 09:33:54 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (حمزہ حبیب)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/12/24092618862e1c3.webp" type="image/webp" medium="image" height="768" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/12/24092618862e1c3.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
