<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Business &amp; Finance</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 19:00:14 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 19:00:14 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پاکستانی فرموں کو سعودی عرب میں کامیاب ہونے کے لیے کیا کرنا ہوگا؟</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40280845/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;قیصر نور نے بزنس ریکارڈر کو دیے گئے ایک خصوصی انٹرویو میں بتایا کہ  پاک سعودی کوریڈور صرف اسی صورت میں کامیاب ہوگی جب پاکستانی کمپنیاں عالمی معیارات کے مطابق کام کریں گی اور سعودی عرب کی قومی ترجیحات کے ساتھ خود کو مکمل طور پر ہم آہنگ کریں گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس مقصد کے لیے پاکستان کی افرادی قوت اور صلاحیتوں  کو سعودی عرب کے سرمائے، اداروں اور وژن 2030 کے عملی نظم و ضبط کے ساتھ جوڑنا ہوگا۔ واضح رہے کہ قیصر نور سعودی عرب کی آٹھ مختلف کمپنیوں کے بورڈ ممبر ہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وہ دی کنگ تھرو مائی آئس، وژن 2023 کنگڈم آف سعودی عربیہ کے عنوان سے ایک کتاب کے بھی مصنف ہیں۔ ان کے مطابق پاک سعودی اقتصادی و سرمایہ کاری کوریڈور جذبات  کے بجائے تزویراتی ہم آہنگی  کے ذریعے کامیاب ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سعودی عرب سرمائے کی قوت، ریگولیٹری استحکام اور طویل مدتی قومی منصوبہ بندی فراہم کرتا ہے جبکہ پاکستان 26 کروڑ سے زائد آبادی، مینوفیکچرنگ کی صلاحیت اور ٹیکنالوجی کا ٹیلنٹ پیش کرتا ہے۔ اس راہداری کی کامیابی کا دارومدار ادارہ جاتی شراکت داری، مستحکم پالیسیوں، مضبوط طرزِ حکمرانی اور شعبہ جاتی ترجیحات ہیں۔ جب منصوبے سعودی عرب کی قومی ترجیحات کے ساتھ ہم آہنگ ہوں گے اور پاکستان کام کے معیار اور بڑے پیمانے پر نتائج فراہم کرے گا تو یہ راہداری محض لین دین یا امداد  تک محدود رہنے کے بجائے پائیدار، تزویراتی (اسٹریٹجک) اور مستحکم بن جائے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے بتایا کہ سعودی عرب کیلئے کم از کم 8 شعبے انتہائی اہمیت کے حامل ہیں جن میں انفارمیشن ٹیکنالوجی سروسز، فنانشل ٹیکنالوجی، صحت اور دوائی سازی، تعمیرات اور انجینئرنگ، ٹیکسٹائل اور پائیدار مینوفیکچرنگ، زراعت اور غذائی تحفظ، لاجسٹکس اور سیاحت کی خدمات شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سعودی عرب کا وژن 2030 درج ذیل بڑے اہداف پر مبنی ہے: 2030 تک 150 ملین سیاحوں کی آمد، بجلی کی پیداوار میں 50 فیصد قابلِ تجدید توانائی  کا حصہ، 2.5 ٹریلین ڈالرز کے غیر استعمال شدہ معدنی وسائل کی تلاش اور غیر پٹرولیم معیشت میں اوسطاً 5 فیصد سالانہ ترقی۔ یہ تمام اہداف ان متعلقہ شعبوں میں طویل مدتی طلب  پیدا کرے گی۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full  sm:w-1/2  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://i.brecorder.com/large/2025/12/23142146b34b503.webp'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.brecorder.com/large/2025/12/23142146b34b503.webp'  alt='' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;قیصر نور نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستانی کمپنیوں کو محض برآمدات  پر انحصار کرنے کے بجائے وہاں مقامی موجودگی کے ذریعے سرمایہ کاری کرنی چاہیے۔ ان کی ترجیح مشترکہ منصوبوں ، مقامی مینوفیکچرنگ اور سعودی عرب کے اندر رہ کر خدمات کی فراہمی پر ہونی چاہیے جو وہاں روزگار کے مواقع پیدا کرنے اور ٹیکنالوجی کی منتقلی کے اہداف سے ہم آہنگ ہو۔ اس کے علاوہ کمپنیوں کے لیے ضروری ہے کہ وہ مالیاتی رپورٹنگ کے عالمی معیارات، مضبوط کارپوریٹ گورننس اور ماحولیاتی و سماجی ضوابط  کی مکمل پاسداری کریں۔&lt;/p&gt;
&lt;blockquote class="blockquote-level-1"&gt;
&lt;p&gt;قیصر نور کے مطابق جب منصوبے سعودی عرب کی قومی ترجیحات کے ساتھ ہم آہنگ ہوں گے اور پاکستان کام کے معیار اور بڑے پیمانے پر نتائج  فراہم کرے گا، تو یہ راہداری محض لین دین یا امداد پر مبنی تعلق کے بجائے پائیدار، تزویراتی (اسٹریٹجک) اور مستحکم بن جائے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;/blockquote&gt;
&lt;p&gt;سعودی عرب کی مارکیٹ کی کشش بیان کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سعودی عرب کی تاریخ میں بینکوں کے دیوالیہ ہونے کی شرح صفر ہے، یہاں پالیسیوں میں تسلسل اور استحکام پایا جاتا ہے اور یہ 3 کروڑ 65 لاکھ افراد کی ایک ایسی مقامی مارکیٹ ہے جس کی 60 فیصد آبادی 30 سال سے کم عمر پر مشتمل ہے اور ان کی قوتِ خرید میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے۔ یہ تمام عوامل قلیل مدتی تجارتی تعلقات کے بجائے طویل مدتی اور ضوابط کے پابند سرمایہ کاری کے ماڈلز کو زیادہ پرکشش بناتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پاکستان اور سعودی عرب کا اقتصادی تعاون کو مزید گہرا کرنے کا عزم&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ پاکستان میں سعودی سرمایہ کاری میں اضافہ رسک مٹیگیٹڈ (خطرات سے محفوظ) سرمایہ کاری کے ڈھانچوں، مخصوص صنعتی زونز اور خودمختار ضمانت یافتہ فریم ورکس کے ذریعے کیا جاسکتا ہے۔ پاکستان کو بڑے پیمانے پر نتائج دینے والے شعبوں جیسے توانائی کی منتقلی ، معدنیات، زراعت، صحت اور ڈیجیٹل انفرااسٹرکچر پر توجہ دینی چاہیے۔ پاکستان برآمدات، روزگار کی فراہمی، ٹیکس ریونیو اور ویلیو ایڈڈ مینوفیکچرنگ کے ذریعے زرمبادلہ کما سکتا ہے۔ سعودی عرب عالمی سطح پر اپنی خوراک کی سپلائی، معدنیات اور ترقی کرتی ہوئی مارکیٹوں کو محفوظ بنانے کے لیے سرمایہ لگا رہا ہے لہٰذا پاکستان کو پائیدار سرمائے کی آمد کو یقینی بنانے کے لیے شفاف گورننس، کرنسی کے تحفظ کا طریقہ کار اور طویل مدتی پالیسی کے تسلسل کی پیشکش کرنی ہوگی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اپنی کتاب دی کنگڈم تھرو مائی آئس پر پر تبصرہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ کتاب سعودی عرب کے وژن 2030 کے تحت تبدیلی پر ایک عملی نقطہ نظر پیش کرتی ہے۔ کتاب میں بتایا گیا ہے کہ وژن 2030 کے 93 فیصد اشاریے حاصل ہو چکے ہیں یا ٹریک پر ہیں، قومی تاریخ میں بینک فیلیر صفر رہی، 2024 میں 116 ملین زائرین کا ریکارڈ ہے اور 2030 تک 150 ملین سیاحوں کا ہدف مقرر ہے۔ اس کے علاوہ خواتین کی ورک فورس میں حصہ داری 35 فیصد سے زیادہ ہو گئی ہے، ڈیجیٹل بینکنگ میں تیزی سے ترقی ہوئی ہے اور  مقامی مینوفیکچرنگ کی جانب توجہ دی گئی ہے۔ ان کے مطابق کتاب کی اہمیت ذاتی تجربے کو ادارہ جاتی اصلاحات کے ساتھ جوڑنے میں ہے جو پالیسی سازوں اور سرمایہ کاروں کو سعودی عرب کی عالمی ترقی کا معتبر اور زمینی سطح کا منظر فراہم کرتی ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>قیصر نور نے بزنس ریکارڈر کو دیے گئے ایک خصوصی انٹرویو میں بتایا کہ  پاک سعودی کوریڈور صرف اسی صورت میں کامیاب ہوگی جب پاکستانی کمپنیاں عالمی معیارات کے مطابق کام کریں گی اور سعودی عرب کی قومی ترجیحات کے ساتھ خود کو مکمل طور پر ہم آہنگ کریں گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس مقصد کے لیے پاکستان کی افرادی قوت اور صلاحیتوں  کو سعودی عرب کے سرمائے، اداروں اور وژن 2030 کے عملی نظم و ضبط کے ساتھ جوڑنا ہوگا۔ واضح رہے کہ قیصر نور سعودی عرب کی آٹھ مختلف کمپنیوں کے بورڈ ممبر ہیں۔</strong></p>
<p>وہ دی کنگ تھرو مائی آئس، وژن 2023 کنگڈم آف سعودی عربیہ کے عنوان سے ایک کتاب کے بھی مصنف ہیں۔ ان کے مطابق پاک سعودی اقتصادی و سرمایہ کاری کوریڈور جذبات  کے بجائے تزویراتی ہم آہنگی  کے ذریعے کامیاب ہوگا۔</p>
<p>سعودی عرب سرمائے کی قوت، ریگولیٹری استحکام اور طویل مدتی قومی منصوبہ بندی فراہم کرتا ہے جبکہ پاکستان 26 کروڑ سے زائد آبادی، مینوفیکچرنگ کی صلاحیت اور ٹیکنالوجی کا ٹیلنٹ پیش کرتا ہے۔ اس راہداری کی کامیابی کا دارومدار ادارہ جاتی شراکت داری، مستحکم پالیسیوں، مضبوط طرزِ حکمرانی اور شعبہ جاتی ترجیحات ہیں۔ جب منصوبے سعودی عرب کی قومی ترجیحات کے ساتھ ہم آہنگ ہوں گے اور پاکستان کام کے معیار اور بڑے پیمانے پر نتائج فراہم کرے گا تو یہ راہداری محض لین دین یا امداد  تک محدود رہنے کے بجائے پائیدار، تزویراتی (اسٹریٹجک) اور مستحکم بن جائے گی۔</p>
<p>انہوں نے بتایا کہ سعودی عرب کیلئے کم از کم 8 شعبے انتہائی اہمیت کے حامل ہیں جن میں انفارمیشن ٹیکنالوجی سروسز، فنانشل ٹیکنالوجی، صحت اور دوائی سازی، تعمیرات اور انجینئرنگ، ٹیکسٹائل اور پائیدار مینوفیکچرنگ، زراعت اور غذائی تحفظ، لاجسٹکس اور سیاحت کی خدمات شامل ہیں۔</p>
<p>سعودی عرب کا وژن 2030 درج ذیل بڑے اہداف پر مبنی ہے: 2030 تک 150 ملین سیاحوں کی آمد، بجلی کی پیداوار میں 50 فیصد قابلِ تجدید توانائی  کا حصہ، 2.5 ٹریلین ڈالرز کے غیر استعمال شدہ معدنی وسائل کی تلاش اور غیر پٹرولیم معیشت میں اوسطاً 5 فیصد سالانہ ترقی۔ یہ تمام اہداف ان متعلقہ شعبوں میں طویل مدتی طلب  پیدا کرے گی۔</p>
    <figure class='media  w-full  sm:w-1/2  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://i.brecorder.com/large/2025/12/23142146b34b503.webp'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.brecorder.com/large/2025/12/23142146b34b503.webp'  alt='' /></picture></div>
        
    </figure>
<p>قیصر نور نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستانی کمپنیوں کو محض برآمدات  پر انحصار کرنے کے بجائے وہاں مقامی موجودگی کے ذریعے سرمایہ کاری کرنی چاہیے۔ ان کی ترجیح مشترکہ منصوبوں ، مقامی مینوفیکچرنگ اور سعودی عرب کے اندر رہ کر خدمات کی فراہمی پر ہونی چاہیے جو وہاں روزگار کے مواقع پیدا کرنے اور ٹیکنالوجی کی منتقلی کے اہداف سے ہم آہنگ ہو۔ اس کے علاوہ کمپنیوں کے لیے ضروری ہے کہ وہ مالیاتی رپورٹنگ کے عالمی معیارات، مضبوط کارپوریٹ گورننس اور ماحولیاتی و سماجی ضوابط  کی مکمل پاسداری کریں۔</p>
<blockquote class="blockquote-level-1">
<p>قیصر نور کے مطابق جب منصوبے سعودی عرب کی قومی ترجیحات کے ساتھ ہم آہنگ ہوں گے اور پاکستان کام کے معیار اور بڑے پیمانے پر نتائج  فراہم کرے گا، تو یہ راہداری محض لین دین یا امداد پر مبنی تعلق کے بجائے پائیدار، تزویراتی (اسٹریٹجک) اور مستحکم بن جائے گی۔</p>
</blockquote>
<p>سعودی عرب کی مارکیٹ کی کشش بیان کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سعودی عرب کی تاریخ میں بینکوں کے دیوالیہ ہونے کی شرح صفر ہے، یہاں پالیسیوں میں تسلسل اور استحکام پایا جاتا ہے اور یہ 3 کروڑ 65 لاکھ افراد کی ایک ایسی مقامی مارکیٹ ہے جس کی 60 فیصد آبادی 30 سال سے کم عمر پر مشتمل ہے اور ان کی قوتِ خرید میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے۔ یہ تمام عوامل قلیل مدتی تجارتی تعلقات کے بجائے طویل مدتی اور ضوابط کے پابند سرمایہ کاری کے ماڈلز کو زیادہ پرکشش بناتے ہیں۔</p>
<p><strong>پاکستان اور سعودی عرب کا اقتصادی تعاون کو مزید گہرا کرنے کا عزم</strong></p>
<p>انہوں نے کہا کہ پاکستان میں سعودی سرمایہ کاری میں اضافہ رسک مٹیگیٹڈ (خطرات سے محفوظ) سرمایہ کاری کے ڈھانچوں، مخصوص صنعتی زونز اور خودمختار ضمانت یافتہ فریم ورکس کے ذریعے کیا جاسکتا ہے۔ پاکستان کو بڑے پیمانے پر نتائج دینے والے شعبوں جیسے توانائی کی منتقلی ، معدنیات، زراعت، صحت اور ڈیجیٹل انفرااسٹرکچر پر توجہ دینی چاہیے۔ پاکستان برآمدات، روزگار کی فراہمی، ٹیکس ریونیو اور ویلیو ایڈڈ مینوفیکچرنگ کے ذریعے زرمبادلہ کما سکتا ہے۔ سعودی عرب عالمی سطح پر اپنی خوراک کی سپلائی، معدنیات اور ترقی کرتی ہوئی مارکیٹوں کو محفوظ بنانے کے لیے سرمایہ لگا رہا ہے لہٰذا پاکستان کو پائیدار سرمائے کی آمد کو یقینی بنانے کے لیے شفاف گورننس، کرنسی کے تحفظ کا طریقہ کار اور طویل مدتی پالیسی کے تسلسل کی پیشکش کرنی ہوگی۔</p>
<p>اپنی کتاب دی کنگڈم تھرو مائی آئس پر پر تبصرہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ کتاب سعودی عرب کے وژن 2030 کے تحت تبدیلی پر ایک عملی نقطہ نظر پیش کرتی ہے۔ کتاب میں بتایا گیا ہے کہ وژن 2030 کے 93 فیصد اشاریے حاصل ہو چکے ہیں یا ٹریک پر ہیں، قومی تاریخ میں بینک فیلیر صفر رہی، 2024 میں 116 ملین زائرین کا ریکارڈ ہے اور 2030 تک 150 ملین سیاحوں کا ہدف مقرر ہے۔ اس کے علاوہ خواتین کی ورک فورس میں حصہ داری 35 فیصد سے زیادہ ہو گئی ہے، ڈیجیٹل بینکنگ میں تیزی سے ترقی ہوئی ہے اور  مقامی مینوفیکچرنگ کی جانب توجہ دی گئی ہے۔ ان کے مطابق کتاب کی اہمیت ذاتی تجربے کو ادارہ جاتی اصلاحات کے ساتھ جوڑنے میں ہے جو پالیسی سازوں اور سرمایہ کاروں کو سعودی عرب کی عالمی ترقی کا معتبر اور زمینی سطح کا منظر فراہم کرتی ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40280845</guid>
      <pubDate>Tue, 23 Dec 2025 15:56:15 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (گوہر علی خان)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/12/231554533a5698d.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/12/231554533a5698d.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
